دکھ کی زبان....... !

(Sami Ullah Malik, )

بہت مشکل ہے،بہت ہی مشکل،کہنے دیجیے ناممکن ہے۔ نجانے کیسے باکمال لوگ ہیں جویہ کہہ سکتے ہیں کہ جودل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے۔ کیسادعویٰ ہے یہ،نہیں میں رقم نہیں کرسکتا۔ جی صفحہ ٔجاں پررقم کرنے کی روشنائی الگ ہوتی ہے،زبان الگ ہوتی ہے۔ ہرایک کے بس کانہیں ہے۔ روگ ہے یہ،سوگ ہے یہ، کیسے رقم کردیں!کوئی افسانہ کہانی یانظم تھوڑی ہے جو کاغذ پرتحریرکردیں۔ دل پرگزری کیسے رقم کریں اوراس وقت تواوربھی مشکل ہوجاتاہے جب دل بھی اپنا نہ رہاہو۔کچھ بھی تونہیں رہے گابس نام رہے گااللہ کا،میں اسی لیے توپکارتارہتاہوں۔ الفاظ کی حرمت ہوتی ہے۔ ہم الفاظ کی بے توقیری کے مجرم ہیں۔اسی لیے لفظ اثرکھودیتاہے جب تک انسان خود اس کے ساتھ مخلص نہ ہو........... ادھورانہیں پوراکاپوراسالم وثابت۔ دکھ کورقم کریں کیسے؟

دکھ آنکھ میں پڑے ہوئے نوکیلے کنکرہیں،دل میں پیوست تیرہے،سینے میں دھنسی ہوئی انی ہے۔ دکھ نظرآتاہے چہرے پہ لکھاہوالیکن ہرایک کونہیں۔جودکھ کی زبان جانتاہو اور دکھ کی زبان ہرایک جانتانہیں ہے،دردکوکون بیان کرسکتاہے؟آپ کرسکتے ہوں گے،میں نہیں، بالکل بھی نہیں۔اداسی رقم کی جاسکتی ہے،پتانہیں؟روناچیخناماتم کرنادکھ کوبیان کرناہے کیا..........ہاں کچھ کچھ مکمل نہیں توبس یہ جومحسوسات ہیں ان کی زبان الگ ہے۔ آپ کوآتی ہے توتحریرکرنے کی کیاضرورت؟ تحریرمیں تونہیں آتادکھ۔ دردرقم نہیں کیاجاسکتا،اداسی احاطۂ تحریرمیں نہیں آسکتی،غم بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کتنابے بس ہے،اتنا کہ اپنی تکلیف کوبیان نہیں کرسکتا۔ جوبیان کرتاہے وہ ادھورہ ہوتا ہے اورپھرکیاضروری ہے کہ ہربات بیان کی جائے،آئینہ دکھایاجائے!پھرآپ اس وقت کیاکریں گے جب آئینہ دیکھنے سے انکاری ہوجائے،نظرآتے ہوئے کہے کچھ نظرنہیں آرہا۔یہ تودل کے معاملات ہیں۔

ان کی زبان کچھ اورہے توبس مجھے معاف رکھئے۔ دیکھ لیا آپ نے آگ وخون کارقص،وہ تودیکھتے رہتے ہیں۔ بے گناہوں کے لاشے ،لہو تازہ لہوآگ کے شعلے جدائی کاغم........آپ اسے بیان کرسکتے ہیں تومیں نے کب منع کیاہے،ضرورکیجیے۔مجھے معاف رکھئے،آپ سے کچھ نہیں کہنا۔خاموشی کی زبان سمجھتے ہیں آپ۔ نہیں سمجھتے تو اس میں میرا کیا دوش! میں آپ کیلئے دعاہی توکرسکتاہوں۔

تنہائی ہے دکھ ہیں اداسی ہے اورچارسوپھیلی ہوئے غم ہیں بادلوں کی طرح چھائے ہوئے،بھیڑہے اژدھام ہے اورپھربھی ہرایک اکیلاہے۔آسراکوئی چھپرنظر نہیں آتا کہ تھوڑی دیرسستالیں۔ ہر اک اپنے پسینے میں ڈوباہوا ،سڑک پرکھڑابے روزگارنوجوان اورسامنے سے پولیس اسکواڈ کے ساتھ سائرن بجاتی ہوئی پراڈومیں بیٹھاہوالیڈر،بیان ہی بیان،تقریریں ہی تقریریں،بینرزہی بینرز، مباحثہ اورٹاک شو،دانش وری ہرجگہ دیگوں میں پک رہی ہے جس کی سڑاندسے جینادوبھرہوگیا ہے۔قیمتی لباس میں مسکراتے ہوئے تجزیہ کار،غریبوں کوبیچ کھانے والے دلال،انسانی منڈی جس میں ہرشے برائے فروخت ہے۔ضمیر،جسم،قول اورفعل،بولوجی تم کیاکیاخریدوگے،آوازوں کاجنگل جس میں تنہاکھڑابے دست وپابندہ بشر۔ حکمرانی کی مے میں مدہوش زردار،یارومجھے معاف کرو میں نشے میں ہوں یوں کرلو،نہیں جناب ایساکرو،نہیں نہیں یہ کروجومیں کہتاہوں۔ کیاپہلی قومیں اس لئے تباہ وبربادنہیں ہوئیں کہ وہاں ایک ہی معاشرہ میں امیروں اورغریبوں کیلئے الگ الگ قانون تھے۔

کہیں میلہ ہے زندگی کااورکہیں برپاہے ماتم،ہرجگہ بھوک ناچ رہی ہے جسے خودکشی آسودہ کرتی ہے اورکہیں بتائی جارہی ہیں ترکیبیں انواع واقسام کے کھانوں کی،کہیں بچیاں منہ اندھیرے اپنے خواب دفن کرکے کام پرجانے کیلئےاسٹاپ پرکھڑی ہیں جنہیں من چلے اپنی جاگیرسمجھ بیٹھے ہیں اورکہیں ہے کیٹ واک،کہیں بدن چھپانے کیلئےڈھنگ کے کپڑے نہیں ہیں اورکہیں جسم دکھانے کیلئےفیشن ڈیزائننگ۔عجب گھڑی ہے،عجیب تماشا،میڈیاآزادہے اورہرخبرپرنظررکھے ہوئے اور خبرکیاہے کوئی بتاتانہیں ہے۔ہم ایک سجدہ گراں سمجھ بیٹھے،اب ہرجگہ سرسجدہ جائز ،ایک کو چھوڑاتوجہاں کے محتاج ہوگئے،ایک کی نہیں سنی تواب سب کی سننی پڑرہی ہے۔ایک کی نہیں مانی،اب زمانے بھرکی ماننی پڑتی ہے۔اسی ایک باب طلب سے نہیں مانگاتواب برادر عرب بھائیوں کے سامنے دست درزاہوناپڑگیااورخفیہ ناطے آئی ایم ایف سے بھی جاری،اس ایک کے شعائرکی توہین کی اب ہرجگہ مردودہیں۔ یہ سب کچھ کیادھراہمارااپناہے،اب تویہ فصل کاٹنی ہی پڑے گی ۔وہ ایک توہم پرہمیشہ مہربان رہاتوقدرنہ کی اوریاری لگائی عیاروں سے،مکاروں سے۔قصرسفیدکے فرعون کی نگاہ التفات کیلئے اقوام متحدہ کی راہداری میں کھڑے ہوگئے تاکہ اپنے عوام کونوید سنائی جاسکے کہ غلامی میں پھرقبول ہونے جارہے ہیں اوراسی قصرسفیدکے فرعون سے استدعا کی جارہی ہے کہ ہم افغانستان میں آپ کی مددکرنے کیلئے تیارہیں لیکن اپنے پالتودوست سے کہیں کہ ہماری مشرقی سرحدوں پردباؤکوختم کرے،ہم سے مذاکرات کیلئےایک قدم آگے بڑھے توہم دو قدم آگے بڑھ کرہاتھ تھامنے کیلئے بےتاب ہیں۔کیایہ وہ سب کچھ ابھی سے بھول گئے جس کیلئے یہ اپناگلاپھاڑپھاڑکرمطالبے کیاکرتے تھے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 455 Articles with 140181 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2018 Views: 338

Comments

آپ کی رائے