عالمی یوم اساتذہ

(محمد نعیم شہزاد, لاہور)
اساتذہ معاشرے کے اہم ترین ارکان ہیں جو معاشرے کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

حضرتِ انسان اشرف المخلوقات کے اعلی منصب پر فائز ہے۔ ذرا غور تو کیا جائے کہ اس کا سبب کیا ہے۔ دنیا میں انسان سے بڑھ کر طاقت رکھنے والی مخلوقات موجود ہیں۔ فرشتے بھی ہیں جو کسی قسم کے نفسانی و انسانی عیب سے مبرا و مصفی ہیں دیگر مخلوقات میں بھی بہت سی اقسام کئی ایک پہلوؤں میں اس سے برتری حاصل کیے ہوئے ہیں مگر اشرف المخلوقات پھر بھی انسانیت کا شرف ہے۔ عقل اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہے اگر جمہوری اور روایتی نظری طریق کو مدنظر رکھیں تو نامعلوم نتیجہ کیا نکلے اور کوئی حشرات الارض یا وحشی درندہ عددی یا جسامتی قوت کی بنا پر سبقت لے جائے۔ اس ساری بحث سے صرف نظر کرتے ہوئے دین اسلام کی تعلیمات پر اعتماد کرنے میں ہی عافیت ہے۔ تو فرمان باری تعالی "لقد کرمنا بنی آدم" انسان کے شرف کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔

اب اس بہتری کو قرین عدل کن بنیادوں پر قرار دیا جائے تو اس کا معیار علم ہے۔ علم، وہ گرانقدر سرمایہ ہے جس نے آدمیت کو اس منصب پر فائز کیا۔ جب بات علم کی آتی ہے تو معلم اور متعلم بھی لازم و ملزوم ہو جاتے ہیں۔ اس کائنات میں سب سے بڑا اور اولین معلم خود مالک ارض و سما ہے۔ اسی کا دیا ہوا علم ہم آگے پھیلاتے ہیں۔ یہ علم فہم و ادراک، مشاہدات و الہامات اور وحی الہی کی صورت میں ہم تک پہنچتا ہے۔ انبیاء و رسل بھی ذات باری کی طرف سے معلم بن کر آئے جس کا ذکر معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے "انما بعثت معلما" فرما کر کیا۔

آج اساتذہ کا عالمی دن ہے۔ اس دن کی مناسبت سے تمام ان افراد کو ہدیہ تبریک پیش کرنا چاہوں گا جن کی شفقت اور رہنمائی میری اصلاح و کمال کی موجب ہے۔ اس جہان فانی میں ہم سب متمنی و مشکور ہیں پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جنھوں نے آ کر ہمیں جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکالا اور ایک روشن شاہراہ پر گامزن سفر کیا۔ ان کے بعد وہ اساتذہ جو ہماری زندگی کو سنوارتے ہیں احترام و عقیدت کے لائق ہیں۔ جیسا کہ حضرت اقبال اساتذہ کو والدین سے بڑھ کر عالی مرتبت گردانتے ہیں کہ والدین تو ہمیں آسمان سے زمین پر لانے کا ذریعہ ہیں مگر اساتذہ پھر سے ہمیں اوج ثریا تک پہنچا دیتے ہیں۔

فی زمانہ اساتذہ کے کردار کو داغ دار کرنے اور ان کی عملی زندگی میں عملداری کو نقصان پہنچانے کی بہت کوششیں جاری ہیں۔ کہیں اساتذہ کی کردار کشی کی جاتی ہے تو کہیں تعلیم کو کاروبار کہہ کر علم اور معلم کی حیثیت کو جھٹلایا جاتا ہے۔ دوسری طرف بعض اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے احوال بھی ابتر ہیں۔ جدیدیت کے جنون میں اپنی روایات کو روندنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ ہم شاندار علمی ورثہ کے امین اور باوقار روایات کے حامل معاشرے کے فرد ہیں۔ اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو ان باتوں کا بطور خاص التزام کرنا چاہیے۔

معاشرے میں بہتری اور ترقی کی روش اپنانے کے لیے ہمیں اساتذہ کے کردار کو تسلیم کرنا ہو گا اور انھیں ان کا جائز مقام ضرور دیا جانا چاہیے جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میرا آقا ہے۔ تو دوسری طرف اساتذہ کو بھی اپنے منصب اور مقام کا لحاظ کرنا چاہیے اور ایسا مثالی کردار ادا کرنا چاہیے جو قابل تقلید ہو نہ کہ قابل جراح و اعتراض۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد نعیم شہزاد

Read More Articles by محمد نعیم شہزاد: 138 Articles with 46257 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Oct, 2018 Views: 375

Comments

آپ کی رائے