جوتا دکھائی

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

جوتا چھُپائی ایک رسم ہوا کرتی تھی جس میں محبت سے جوتا چُھپایا جاتا ہے دولہا کا شائد ایک پیر کا اور مسجد کے باہر سے چُرایا جاتا ہے دو پیر اور پھر دو پیر ننگے پاوں چل کر "دوپہر کی دھوپ میں وہ تیرا ننگے پاؤں آنا " یاد کرا دیتے ہیں مگر یہ اس رسوای سے بہتر ہے جو جوتا کھا کر یا جوتا دکھا کر یا کسی پر جوتا پھینک کر ہوتی ہے اور منہ دکھای پر جوتا دکھائ کی نئ رسم متعارف کروای جا رہی ہے جو کسی پسندیدہ شخصیت کو ناپسندیدہ بنانے کی سازش بھی ہوسکتی ہے اور کسی مخالف کا کسی سے معاوضہ دے کر یہ نا پسندیدہ کام کروانا بھی ہوسکتا ہے اور اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ کسی کو اتنا شدید غصہ ہو اس شخصیت پر کہ وہ مجبور ہو جائے اس انتہائی اقدام پر جوتا پھینکنے کے بجاے اخلاقی مار بھی ماری جا سکتی ہے اور اگر کچھ پھینکنا ہی ہو تو پھول پھینکے جا سکتے ہیں اگر گملے کے ساتھ نہ ہوں
اور کوئی ایسی خبر اُچھالنا جوتا اُچھالنے سے بھی زیادہ خطرناک اور ہتک آمیز ہوسکتا ہے اور جسے جوتا اُچھالنا نہ آتا ہو وہ بھی سیکھ جاتا ہے اور جرائم کی خبریں بار بار دکھانا اور خوبصورت انداز سے دکھانا بھی کسی طور مناسب نہیں-

بہرحال کسی کی طرف جوتا اُچھالنا کچھ مناسب نہیں دِکھتا اور الفاظ کی شکل میں تو روز دِکھتا ہے میڈیا پر جو الفاظ کی شکل میں اُچھالا جاتا ہے ایک دوسرے کی طرف اور عزّتوں کو یوں سر عام اُچھالا جاتا ہے جیسے بلّے باز بال کو اُچھالتا ہے اور یہاں بھی چھکے کی طرح داد بھی وصول ہوتی ہیں اور بال کے بجاے فٹ بال بن جاتا ہے وہ آدمی جو کسی آنکھ میں کھٹک جائے یا مارنے والا کسی کی باتوں میں آکر بھٹک جائے خاص طور پر سوشل میڈیا پر کہ ہر ایک کی زد میں آے ہوے شخص یا فٹ بال کو ہر ایک اپنے حصہ کی ٹھوکر مارنا فرض سمجھتا ہے اور "گرتی ہوی دیوار کو ایک جوتا اور دو "پر عمل پیرا اور اس مہنگای کے دور میں بھی لوگ اپنے آپ کو ایک جوتے سے محروم کر لیتے ہیں یا پھر وہ دولہا کا ایک کھویا ہوا جوتا استعمال کر لیتے ہونگے -

جوتا پھینکنے والا تو ایک دفعہ پھینکتا ہے کسی وجہ سے مگر میڈیا میں وہ بار بار بار نظر آرہا ہوتا ہے اور پورا اوور over اور کرکٹ میچ کے کئ اوور مکمل ہو جاتے ہیں اور اس رسوائ کی یاد کو زہنوں میں تازہ کروایا جاتا ہے جو جلتی پر تیل کا کام کر کے بات دب جانے کے امکان کو ختم کر دیتا ہے -

کوی غصہ میں کہتا ہے کہ میں فلاں کو دو جوتے اور کوی دس ۔۔۔ اپنی اپنی حیثیت اور استطاعت کی بات ہے یا سوچ کی ہے کہ وہ سوچ جوتے سے آگے بڑھ نہیں پاتی اور اگر وہ لوگ چند جوتے اپنے اندر کے شیطان کو بھی مار لیا کریں اور اپنے سرکش نفس کو بھی ایک جوتا ہی دکھا دیں تو اس جوتا دکھای کی رسم کا خاتمہ بالخیر ممکن ہو جائے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 231 Articles with 86337 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Oct, 2018 Views: 239

Comments

آپ کی رائے