ایک ناقابل فراموش دن

(محمد نعیم شہزاد, لاہور)
قومی زندگی میں مشکلات کا آنا کچھ بعید نہیں۔ ان مشکلات میں اعلی کردار اور اتحاد و ایثار قومی حیات کے دوام کا سبب بنتے ہیں۔

قدرتی آفات و بلیات زندگی کا حصہ ہیں۔ اچانک رونما ہونے والی یہ آفات ہمیشہ سے بڑے نقصانات کا باعث بنتی رہی ہیں۔ ماڈرن ٹیکنالوجی کے ظہور پذیر ہونے سے ہم اس قابل تو ہو گئے ہیں کہ ان آفات کے بارے میں قبل از وقت پیشین گوئی کی جاتی ہے مگر ان کو روکنا ہمارے بس میں نہیں ہے تاہم قبل از وقت اظلاع کا یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ ہم حفاظتی اقدامات کر لیتے ہیں اور نقصان سے بچنے کی حتی الامکان کوشش بھی کر لیتے ہیں۔ مگر آفت تو پھر آفت ہے ٹوٹتی ہے تو نقصان ضرور پہنچاتی ہے۔ امریکہ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی ان آفات کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔

آج سے 13 برس قبل پاکستان کے بعض علاقوں میں بھی ایک بدترین زلزلہ آیا۔ صوبہ پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 7.6 ریکٹر اسکیل کی شدت سے آنے والا زلزلہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور 2005ء میں دنیا کا چوتھا بڑا زلزلہ تھا۔

8 اکتوبر 2005 بمطابق 3 رمضان 1426 ہجری بروز ہفتہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سخت دن تھا۔ صبح کا وقت تھا اور یہ ایک مصروف کاروباری دن (working day) تھا۔ بچے ابھی سکولوں میں پہنچے ہی تھے کہ یکا یک زمین ایک بھونچال سے جنبش لینے لگی۔ ہولناک اور دل دوز آہ و بکا کے ساتھ ہلاکت و تباہی کے مناظر عام تھے۔ ہر کسی کو اپنی جان کے لالے پڑ گئےاور یہ پریشانی اور ابتلا کا وقت قیامت صغری سے کم نہ تھا۔ آن کی آن میں بلند و بالا عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں اور کہیں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔ کتنے ہی افراد ملبے تلے دب کر ابدی نیند سو گئے اور بعض کو کئی دن گزر جانے کے بعد ملبے سے زندہ سلامت نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ قریبا 86,000 – 87,351 افراد جاں بحق ہوئے۔ 69,000 – 75,266 افراد زخمی ہوئے۔ زلزلہ 2005ء تمام ادوار میں ہونے والے زلزلوں میں المیے کے لحاظ سے چودہواں بڑا زلزلہ تصور کیا جاتا ہے۔ صرف پاکستان میں 3.3 ملین لوگ بے گھر ہوئے۔ پہاڑی علاقے میں آنے والے زلزلے کے باعث بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس کی وجہ سے مواصلات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق 8 ملین سے زیادہ آبادی اس المیے سے متاثر ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق 5 ارب ڈالر کی مالیت کا نقصان ہوا، جو تقریباً 400 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ شدید زلزلے کے نتیجے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں آزاد کشمیر اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئیں، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل ہلاکتیں 74,698 تھیں۔ یہ ہلاکتیں 1935 میں ہونے والے کوئٹہ میں ذلزلے سے کہیں زیادہ تھیں۔ بھارتی جموں و کشمیر میں کل 1400 لوگ ہلاک ہوئے، جس کی تصدیق بھارتی حکومت نے کی۔ عالمی امدادی اداروں کے مطابق اس زلزلے میں کل 86,000 لوگ جاں بحق ہوئے لیکن اس کی تصدیق پاکستانی حکومت نے نہیں کی۔

کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کو پانچ مختلف جگہوں سے تاریخ میں پہلی بار کھول دیا گیا، تاکہ لوگوں کو بآسانی صحت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے۔ اسی تناظر میں دنیا بھر سے امدادی ادارے اور کارکن ابتدائی امداد پہنچانے یہاں پہنچے۔

یہ زلزلہ بروز ہفتہ پیش آیا، جو علاقہ میں عام دن تھا اور تقریباً سکول اس دوران کام کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے یہاں زیادہ ہلاکتیں سکولوں اور ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی بتائی جاتی ہے۔ زیادہ تر بچے منہدم ہونے والی سکول کی عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے۔ تفصیلی رپورٹوں کے مطابق شمالی پاکستان میں جہاں یہ زلزلہ رونما ہوا، تقریباً قصبے اور گاوں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ جبکہ مضافاتی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کوفی عنان نے 20 اکتوبر 2005 کو ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا،

"ایک دوسرا اور بڑے پیمانے پر المیہ رونما ہو سکتا ہے، اگر ابھی سے ہم نے اپنی تمام تر توانائیاں بچ جانے والوں پر مرکوز نہ کیں۔"

اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان جناب شوکت عزیز اور وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے متاثرین سے سرد موسم کی آمد سے پہلے ہی پہاڑی علاقوں سے نیچے میدانی علاقوں میں منتقل ہونے کی اپیل کی، کیونکہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے مواصلات کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا اور بگڑتے موسم کی وجہ سے امدادی اداروں اور کارکنوں کو متاثرین تک پہنچنے میں بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رھا تھا۔ حکومتی ادارے، غیر حکومتی تنظیمیں اور بعض غیر ملکی تنظیمیں ریسکیو اور ریلیف کے عمل کو جاری رکھے ہوئے تھیں۔ حالات مشکل اور راستے دشوار گزار تھے۔ متعدد مقامات تک تو ہیلی کاپٹر سے بھی رسائی ممکن نہ تھی۔ مگر سسکتی انسانیت کو تنہا چھوڑنا کیسے ممکن تھا۔ ایک واحد غیر سرکاری فلاحی ادارہ جس کی خدمات اس وقت سامنے آئیں وہ فلاح انسانیت فاونڈیشن تھا۔ جس کے ریسکیو اور ریلیف عمل کی سب سے بڑی خوبی نظم و ضبط، ہمہ جہتی اور ہر فرد تک رسائی تھا۔ اس تنظیم نے نہ صرف ملبے تلے سے لوگوں کو نکالا، انھیں طبی امداد مہیا کرنے کے لیے میڈیکل کیمپ اور فیلڈ ہسپتال قائم کیے بلکہ بے گھر افراد کی بحالی کے لیے خیمہ بستیاں قائم کیں اور ان میں لوگوں کو بنیادی ضروریات لباس، خوراک، بستر اور طبی سہولیات فراہم کیں۔ متاثرین تک امداد پہنچانے اور ان کی نقل و حرکت کے لیے دشوار گزار راستوں پر خچر استعمال کیے گئے اور جہاں یہ بھی ممکن نہ تھا وہاں پیدل یہ سہولیات فراہم کیں تو کہیں بوٹ سروس کے ذریعے متاثرین کو امداد پہنچاتے رہے۔ ان ہی غیر معمولی خدمات کی بنا پر اس تنظیم کو آج تک ملکی اور غیر ملکی حلقوں میں یاد رکھا جاتا ہے۔

قدرتی آفات کو روکنا تو ہمارے بس میں نہیں ہے مگر ایسے موقع پر باہمی اتحاد اور قربانی و ایثار کسی بھی قوم کی وجود کی بقا اور ترقی کے لیے از حد ضروری ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد نعیم شہزاد

Read More Articles by محمد نعیم شہزاد: 138 Articles with 46495 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2018 Views: 344

Comments

آپ کی رائے