دشت ظلمات اور ہاجرہ بے اماں ( پندرھویں قسط)

(Mona Shehzad, Calgary)

میری (ہاجرہ) آنکھ کھلی تو میں ہسپتال میں تھی، میرے سرہانے میری ماں اور تائی بیٹھی رو رہی تھی ، میں بھی امی اور تائی کے گلے لگ کر رو پڑی،امی اور تائی نے بتایاکہ میں شاہنور کو دریا میں بہتی ملی تھی،میں تین دنوں کے بعد ہوش میں آئی تھی۔ تھوڑی دیر میں اباجی بھی ،تایا جی، اور شاہنور کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے،ان کے شانے ڈھلکے ہوئے تھے۔اباجی بہت بوڑھے لگ رہے تھے ایسے لگتا تھا جیسے ان کی عمر ان بائیس تیئس دن میں کئی سال بڑھ گئی تھی۔ انھوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور بولا:۔
"دھی رانی! میں سجاول کو اپنانے پر تیار ہوں۔"
یہ سن کر مجھے اپنے اوپر گزری قیامت یاد آگئی۔ میں نے روتے روتے اپنے والدین کو سب روداد سچی سچی سنا دی۔ ساری بات سنتے ہی تایا جی اور شاہنور غصے سے پاگل ہوگئے۔ شاہنور نے سجاول کو قتل کرنے کی قسم کھالی، میں جانتی تھی شاہنور کے لیے میں چچا زاد سے زیادہ اس کی بہن کی طرح تھی۔اسی اثناء میں بڑے بھائی صاحب بھی آن پہنچے، حقیقت جان کر وہ بھی غم و غصے سے پاگل ہوگئے ۔میں نے اپنے سر بلند ویروں کی طرف دیکھا، میں نے اباجی کی طرف دیکھا وہ ایک ہارے ہوئے جواری لگ رہے تھے ۔ امی اور تائی امی تو بس ایسے لگتا تھا جیسے سکتے کا شکار تھیں ۔ایسے وقت میں لیڈی ڈاکٹر نے اندر آکر کہا:
"بھئی مبارک ہو آپ کی بہو ماں بننے والی ہے۔"
یہ الفاظ نہیں پگھلا ہوا لاوا تھا جو ہماری سماعتوں میں انڈیلا گیا تھا۔ بڑے بھائی صاحب اور شاہنور جو ابھی تک طیش سے پاگل ہورہے تھے۔دفعتا خاموش ہوکر بیٹھ گئے۔ کمرے میں ہو کا عالم تھا۔ ڈاکٹر کمرے کی صورتحال بھانپ کر فورا باہر چلی گئی ۔ اباجی اٹھ کر بولے:
"ہاجرہ تو یہ بچہ جنم نہیں دے گی۔"
میں تڑپ کر بولی:
"اباجی ! یہ معصوم گناہ کی پوٹ نہیں ہے۔ آپ نے ،بڑے تایا جی،چھوٹے تایا جی نے مل کر دس سالہ کی ہاجرہ کو اس درندے کے نکاح میں دیا تھا۔ میں ایک معصوم جان کا قتل ہرگز نہیں کرونگی، چاہے آپ میری جان لے لیں ۔"
بڑے بھائی صاحب نے اباجی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا:
"چاچا جی ! جہاں تک میرا خیال ہے ہاجرہ کی اس حالت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔ہم سجاول کو مجبور کرکے اس کو ہاجرہ کو اپنانے پر مجبور کردینگے۔"
میں بے اختیار چیخی:
بھائی صاحب! ایسا تو اب کبھی نہیں ہوسکتا ،میں نے اپنے کانوں سے تین طلاقیں سنی ہیں، مجھے اب جیتے جی وہ درندہ ہاتھ نہیں لگا سکتا، میں آپ لوگوں کے ہاتھوں مر جاونگی، مگر اس ہوس کے پجاری کے پاس نہیں جاونگی، جو مجھے کسی ردی شئے کی طرح برت کر مجھے کچرے کی ٹوکری میں ڈال گیا تھا۔اگر میں آبشار میں چھلانگ نہ لگاتی تو شاید آج آپ لوگوں کی عزت بازار حسن میں نیلام ہورہی ہوتی۔"
کمرے میں موجود سب اونچے شملوں والوں کے آج شملے نیچے ہوگئے تھے، میں ہنسی اور بولی:
"آج ہاجرہ بے اماں کیوں ہے؟ اس لیے کیونکہ ہاجرہ کی کوئی مرضی نہیں ہے۔ میرے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے ہیں کہ نکاح میں عورت کا ازن معلوم کرو، مگر ہمارے معاشرے میں عورت کے ازن کی اہمیت نہیں ہے۔ مجھےاسلام خلع کی اجازت دیتا ہے مگر میری مرضی سے خلع آپ سب کے لئے ناقابل برداشت ہے،ہاں اپنی مرضی سے میری منشاء کے بغیر مجھے خلع لینے پر آپ سب مجبور کرسکتے ہیں، جیسے اباجی مجھے زبردستی خلع کے لئے عدالت لیے جارہے تھے ۔اب اپنے کانوں سے طلاق سن کر مجھے آپ لوگ مجبور کررہے ہیں کہ میں سجاول کے ساتھ رہوں کیونکہ میں اس کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
اور جس دن دبائی ہوئی بیٹی پوچھے گی کہ میرا کیا قصور تھا؟
تو دبائی ہوئی بیٹیاں صرف اس زمانے کی نہیں تھیں ۔اس زمانے میں عرب بیٹیوں کو ریت میں دفن کردیتے تھے۔آج بھی آپ سب مل کر بیٹیوں کو زندہ دفن کررہے ہیں، کبھی روایات کی ریت میں، کبھی خاندانی وقار کی ریت میں ،کبھی اپنی جھوٹی غیرت کی ریت میں ۔خدارا "زندان" کا دروازہ کھولیں اور ہمیں "جینے" دیں۔"
پورے کمرے میں سکوت طاری تھا ۔کمرے میں میری ،امی اور تائی کی دبی دبی سسکیاں گونج رہی تھیں ۔بنت حوا آج ابن آدم سے شکوہ کناں تھی۔
میں ہسپتال سے تایا جی کے گھر لائی گئی ۔سجاول نے ہماری زمینیں اور گھر بیچ دیا تھا، وہ واقعی ہمیں سڑک پر لے آیا تھا۔ اس نے ہماری عزت،غیرت،انا ہر شئے کو داغدار کر دیا تھا۔میں نے واپس آکر اپنے اوپر گزری تمام افتاد اپنی ہمراز ڈائریوں میں لکھی ،مجھے پتا تھا کسی روز یہ ڈائریاں میری کہانی میری بانو اور فیضی کو سنائیں گی۔ میں اپنے آپ کو کمرے میں اوجھل رکھتی۔ دن بدن میں کمزور ہوتی جارہی تھی ۔آخرکار وہ رات بھی آگئی، میں تخلیق کے درد میں مبتلا تھی۔نماز فجر کے وقت اللہ تعالی نے رحمت کا دروازہ کھولا اور میں نے دو ننھی رونے کی آوازیں سنیں ۔دائی اماں نے کہا:۔
"ہاجرہ مبارک ہو اللہ نے جڑواں بیٹیاں دی ہیں ۔"
میری فصیل روح ہل گئی۔ مجھے بیٹیوں سے ڈر نہیں لگتا تھا بلکہ ان کے نصیبوں سے خوف آتا تھا۔ میں نے اپنی بیٹیوں کو سینے سے لگایا اور اللہ تعالی سے فریاد کی:
"یا اللہ ! میری بیٹیوں کو بے اماں نہ کرنا،ان کا واسطہ قدر دانوں سے کروانا ۔"
نہ جانے کہاں سے مجھ پر سکون وارد ہوگیا، میں گہری نیند سو گئی۔ خواب نگری کا دروازہ وا ہوا۔
میں نے دیکھا ایک حسین جوڑا باہوں میں باہیں ڈالے جارہا تھا۔ میرے دل کو القا ہوا یہ بانو اور فیضی ہیں ۔
دور سے دو خوبصورت بچیاں بھاگتی ہوئی آئیں اور ان کی گود میں چڑھ گئیں ۔میں جان گئی میری بیٹیاں کس کی گود میں پروان چڑھیں گی۔
(باقی آئندہ ☆☆☆)۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175567 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
08 Oct, 2018 Views: 398

Comments

آپ کی رائے