دشت ظلمات اور ہاجرہ بے اماں ( آخری قسط)

(Mona Shehzad, Calgary)

میں اور فیضی رو رہے تھے،ہماری شہزادی دشت ظلمات میں آبلہ پا اکیلی پھرتے پھرتے مر گئی تھی۔ فیضان نے میرے ہاتھ سے ڈائری لی اور بڑبڑایا :
"اگلے اندرجات شاہنور کی رائٹنگ میں ہیں، اس کا مطلب ہے کہ یہ ہاجرہ نے اسپتال میں شاہنور سے لکھوائے ہونگے۔"
فیضی نے اپنے آنسو صاف کئے اور پڑھنے لگا:
"میں(ہاجرہ ) ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ میری بچیاں میری جان تھیں ۔میں نے اپنی بیٹیوں کے نام دائمہ اور راعمہ رکھے ۔میں اپنی بچیوں کے لئے سانس لے رہی تھی، مگر درحقیقت میں گھٹ گھٹ کر مر رہی تھی ایک عورت کی نسوانیت کی اس سے بڑی تذلیل کیا تھی کہ اس کا شوہر اس کو ایک کھلونا سمجھ کر کھیلے اور پھر اس کو توڑ مروڑ کر کچرے کے ڈبے میں پھینک دے۔ میں دن میں کئی کئی بار غسل کرتی مگر میرے دماغ میں ناپاکی کا احساس رہتا،میں بار بار اپنے ہاتھ دھوتی مجھے لگتا تھا جیسے ہر شخص مجھے اچھوت سمجھتا ہو،میں گھر کے مردوں کے سامنے آنے سے احتراز کرتی،شاہنور اس وقت میں واقعی میرا بھائی ثابت ہوا،وہ مجھے اور میری بچیوں کو وقت دیتا، میں شاہنور کو بھی اپنے قریب نہ بیٹھنے دیتی ،وہ مجھے آپا آپا کہہ کر یقین دلاتا مگر میں اسے کہتی :
شاہنور مجھے چھو کر تم بھی اچھوت ہوجاوگے، دیکھو میں تو کوڑھی ہوں تم کو بھی کوڑھ لگ جائے گا۔"
مجھے راتوں کو خوفناک خواب آتے،میں دیکھتی کہ سجاول مجھ سے بچیاں چھین کر لے گیا ہے
میں ہنسنا بھولتی جارہی تھی۔
۔ایک روز اباجی کے اصرار پر میں ان کے ساتھ لاہور بچیوں کی شاپنگ کرنے گئی۔ ایک تنگ گلی میں کسی نے مجھے کھینچ کر کندھے پر ڈال لیا ،میں نے چیخنے کی کوشش کی تو میرے منہ پر کلوروفارم سے بھیگا ہوا رومال رکھ دیا گیا۔ مجھے ہوش آیا تو میں ایک تنگ و تاریک کمرے میں بستر پر پڑی تھی، باہر سے گھنگھروں کی آوازیں، گانے کی آوازیں زور و شور سے آرہی تھیں ۔میرے حسیات بیدار ہوگئیں، میں جان گئی تھی میں جسموں کی منڈی میں موجود تھی، مجھے یہاں تک لانے والا کون تھا، میں بخوبی واقف تھی۔ میرا عشق ،میری عبادت،میری ریاضت سب بیکار گئی تھی، میں سجاول کو" حیوان" سے "انسان" نہیں بنا سکی تھی۔ الٹا اس درندے کے خونی دانتوں اور پنجوں نے میری عصمت ،میری عزت نفس، میری انا ہر شئے کو داغدار کر دیا تھا ۔میری چادر کھینچنے والا،مجھے بے آبرو کرنے والا میرا اپنا سائیں تھا۔ کمرے کا دروازہ کھلا سجاول نشے میں ڈولتا، نائیکہ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا،نائیکہ مجھے دیکھ کر مسکرائی ،اس نے اپنی انگلیاں چٹخا کر میری بلائیں اتاریں اور بولی :
"ملک صاحب اس ہیرے کے میں آپ کو پچاس لاکھ دونگی۔"
سجاول غرایا:
"ننھی بی میں اسے پھر رفت بائی کے کوٹھے پر نہ لے جاو۔"
ننھی بی فورا بولی:
"ارےراجا ناراض کیوں ہوتے ہو، بس ستر لاکھ میں سودا پکا،"
میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے آپ کو نیلام ہوتا دیکھ رہی تھی ۔سجاول خباثت سے مسکرایا اور آنکھ دبا کر بولا:
"ستر لاکھ اور اس کی پہلی رات میری۔"
نائیکہ مسکراتی ،مٹکتی باہر چلی گئی، سجاول نے دروازے کو کنڈی لگادی۔ میرا دل وحشی گھوڑے کی طرح بھاگ رہا تھا، میں نے سجاول کو کہا:
"سجاول! اتنا ظلم مت کر کہ عرش کانپ جائے،میں تمھاری بیٹیوں کی ماں ہو، خدا کا خوف کرو مجھے ایسے داغدار مت کرو، تم ایک دن موت کو ترسو گے اور موت تم پر مہربان نہیں ہوگی۔"
سجاول نے بھیانک قہقہہ لگایا اور بولا:
"ہاجرہ بی بی یہ خدا سے کسی اور کو ڈرانا، میں ملک سجاول علی خان ہوں ،زمانہ مجھ سے چلتا ہے، میں حاکم وقت ہوں،اس وقت کی طنابیں میرے ہاتھ میں ہیں ، تمھیں اب کوئی نہیں بچائے گا۔ "
میں نے ایک دم سے دوسرے دروازے سے باہر چھلانگ لگائی، سجاول میرے پیچھے قہقہے لگاتا آیا اور بولا:
رانی ! چوتھی منزل سے کہاں جاوگی؟
میں نے اس کے منہ پر تھوکا اور بالکونی سے بے خوف وِطر نیچے چھلانگ لگادی ۔میں نیچے سے گزرتی ایک گاڑی پر گری،میں اپنے ہی لہو میں ڈوب گئی،مگر مجھے یہ تسلی تھی کہ میں نے گدھ کو اپنا نیم مردہ جسم نوچنے گھسوٹنے نہیں دیا۔ میرے اردگرد بہت شور تھا۔ دور سے شاید پولیس کی گاڑیوں کے سائرن کئ آواز آرہی تھی۔ میرے ہوش جواب دے گئے تھے۔
جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال میں تھی،میرے سرہانے شاہنور بیٹھا تھا، وہ مجھے ہوش میں آتے دیکھ کر سسکا:
"آپا ! آپا۔"
میں بددقت بولی:
"میری ڈائریاں لاو اور بانو،فیضی کو خبر دے دو۔میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔"
وہ لمبا چوڑا میرا ویر سسک سسک کر رویا، وہ بولا":
"آپا میں سجاول کو کتے کی موت مارونگا اور اس کا گوشت کتوں کو کھلاونگا ۔"
میں نے تکلیف سے سر مارا اور پھٹی پھٹی آواز میں بولی:
"شاہنور مجھ سے وعدہ کرو تم ایسا کچھ نہیں کروگے ۔سجاول سے میرا رب ایسا انتقام لے گا کہ تم دیکھو گے۔سجاول کی خدائی ختم ہوجائے گی،وہ گلی محلوں میں بھیک مانگتا پھرے گا۔"
اس نے اثبات میں سر ہلایا، دوپہر تک وہ میری ڈائری لے آیا، اس نے بتایا کہ فیضان اور بانو آرہے ہیں ۔میری نظر بار بار دھندلا رہی تھی ۔میں عزرائیل کی منت کررہی تھی،مجھے بانو اور فیضی کے آنے تک زندہ رہنا تھا ۔ میں نے ٹوٹتی آواز اور سانس کے ساتھ آخری اندرجات اپنی ڈائری کے شاہنور کو لکھوا دیے، شاہنور اب فیضان اور بانو کو ائرپورٹ لینے گیا تھا۔اب میری نظر دروازے پر ٹکی تھیں ۔مجھے صرف اپنے پیاروں بانو اور فیضی کا انتظار تھا، مجھے پتا تھا، میری بچیاں ان کے سائے میں اچھے سے پلیں گی۔ میری بصارتیں جواب دے رہی تھیں، میری سانس اٹک رہی تھی،اچانک دروازے سے فیضان اور بانو داخل ہوئے ۔میں نے اللہ کا شکر ادا کیا،اب میری موت کا سفر آسان ہوگیا تھا۔ میں اب سکون سے مر سکتی تھی۔
فیضان ہذیانی انداز میں رو رہا تھا، یہ آخری اندراج ہاجو کی اپنی کٹی پھٹی رائٹنگ میں تھا۔
میں(بانو) اچانک اپنے حواس میں آگئی۔باہر سے فیضان کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔میں نے اپنے آنسو صاف کئے اور ڈائریاں الماری میں چھپا دیں۔مجھے پتا تھا فیضان کبھی بھی سجاول علی خان کو معاف نہیں کریگا، سجاول کا گناہ ہی اتنا بڑا تھا۔ میں نے منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے،لپ اسٹک فریش کی ،اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا،میں خود آج کل تخلیق کے مرحلے سے گزر رہی تھی۔ میں مسکراتے ہوئے لان کی طرف چل پڑی جہاں میرا سچا پیار فیضان علی خان میری گڑیا سی بیٹیوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ میں نے آسمان کی طرف منہ کیا تو مجھے ایسے لگا جیسے ہاجرہ بادلوں سے کھلکھلا کر ہنسی ہو۔
*(ختم شد)☆☆☆☆
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 179916 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
08 Oct, 2018 Views: 507

Comments

آپ کی رائے