صبر وتحمل اور تربیت!

(Anwar Graywal, Bahawalpur)

 ایشوز اٹھتے بھی بہت ہیں، اور اٹھائے بھی بہت جاتے ہیں۔ بہت سے واقعات رونما ہوجاتے ہیں اور بسا اوقات مختلف طاقتور اداروں یا لوگوں یا خود چینلز کی خواہش پر ظاہر کر دیئے جاتے ہیں۔ وقت کی رفتار کی تو کوئی حد ہی نہیں، اُدھر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سفر بھی برق رفتاری سے جاری ہے۔ ٹی وی چینلز دُور بینیں لگائے، گاڑیوں پر انٹینے سجائے، سرگرمِ عمل ہیں۔ نمائندگان خبریں سمیٹ رہے ہیں۔ دوسری طرف سیاست کی ہنڈیا ہمہ وقت چولہے پر ہی رہتی ہے، خبریں بنتی اور برآمد ہوتی رہتی ہیں۔ مگر وقت کی رفتار اس قدر تیز ہے، کہ ایک خبر کی ابھی گرد نہیں بیٹھتی کہ دوسری نمودار ہو جاتی ہے۔ کہاں گیا فالو اپ؟ کدھر رہ گیا فیڈ بیک؟ خبر کی تحقیق کون کرے؟ بعض اوقات تو بہت اہم واقعات بھی یوں دب جاتے ہیں، جیسے بڑے درخت کے نیچے چھوٹے پودے۔ واقعات کا پیش آنا اور اُن کوٹی وی یا میڈیا کے دیگر ذرائع سے کوریج ملنا ایک فطری بات ہے، مگر جس انداز سے بات کو اچھالا جاتا ہے، اور خود کسی بھی چینل کا نمائندہ جس قدر اپنی تمام تر توانائیاں سمیٹ کر ، اپنے پھیپھڑوں کا پورا زور صرف کرکے ، اپنے گلے کا امتحان لیتا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر پیچھے سکرین پر ہنگامہ ہے اور اس سے بڑھ کر اس پر روان کمنٹری نہ ہو، تو شاید خبر بے جان محسوس ہوتی ہے۔

گزشتہ دنوں سابق خادمِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو نیب پیشی پر لایا گیا تو جذباتی کارکنوں نے اپنے قائد کے حق میں خوب ہنگامہ کیا، میاں صاحب کو دھکے بھی لگتے دیکھے گئے، یقینا بے حد جذباتی ماحول تھا۔ کارکن گاڑی پر چڑھ گئے، پولیس انہیں کھینچتی رہی، مگر وہ ٹانگیں مارتے وہیں لیٹے رہنے پر مُصر رہے۔ حامی کہتے ہیں،بے گناہ ہیں، مظلوم ہیں، بے قصور ہیں۔ نیب کہتا ہے کہ ثبوت ہیں، گواہ ہیں، ملزم ہیں۔ عوام کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کیا ہے تو اس کا بدلہ ملنا چاہیے۔ مخالفین فیصلہ دیتے ہیں کہ جیل کی ہوا کھانی چاہیے۔ اوپر سے ایک بہت بڑی آفت سوشل میڈیا بھی ہے، جس میں کسی حد تک معلومات بھی ہوتی ہیں، مگر زیادہ تر جذبات کے اظہار کا ذریعہ ہی ہے، نہ مغلظات سے گریز ہے، نہ الزام تراشی سے احتیاط۔ ٹی وی وغیرہ دیکھنے والے عام ناظرین کسی بھی نیوز چینل کی زیادہ دیر تاب نہیں لا سکتے۔ پہلے خبر میں ہنگامہ دیکھنے میں آتا ہے اور اس کے بعد رہی سہی کسر ٹاک شوز نکال دیتے ہیں۔ پروگرام کے آغاز میں چند منٹ سکون کے ہوتے ہیں، پھر اینکر سمیت تمام لوگ بول رہے ہوتے ہیں۔ صرف بولنے پر ہی بات رک جاتی تو کوئی بات تھی، یہاں تووہ باقاعدہ چیخنے کے انداز میں دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں، اب تو نوبت دست درازی تک بھی آ جاتی ہے۔ ناظر کہاں تک اس ہنگامے کا نظارہ کرے؟ دراصل انہی مہمانوں نے باہر جا کر اپنی اپنی پارٹی کے کارکنوں کا سامنا بھی کرنا ہوتا ہے، یہاں دکھائی جانے والی کمزوری کی باہر جوابدہی ہوتی ہے۔

اپوزیشن تو زخم خوردہ ہوتی ہے، کہ شکست نے اس کے اعصاب پر کاری ضرب لگائی ہوتی ہے، خاص طور پر وہ اپوزیشن جس نے دہائیوں تک ملک یا صوبے پر حکومت کی ہو۔ تخت سے اترنا سیاست اور جمہوریت کے کھیل کا حصہ ہو سکتا ہے، مگر سوئے یار سے سفر سوئے دار تک ہو تو اور بھی تکلیف دہ اور سخت ہو جاتا ہے۔ اس لئے اپوزیشن کے دکھ کی سمجھ آتی ہے، مگر اس عالم میں اگر خود حکمران بھی اُسی لہجے میں بات کرنے لگیں تو مختلف ہے۔ جس کے پاس اقتدار ہے، اسے برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، وہ مقتدر ہے، صاحب اختیار ہے، وہ بھی اگر ’’سائل‘‘ سے جھگڑنے لگے گا، اور مخالف کو دبانے لگے گا، یا اُس کی کمزوری (اقتدار کے حصول سے ناکامی) پر طنز کے تیر چلائے گا، تو دونوں میں فرق کیا رہ جائے گا؟ حکمرانوں میں خوئے دلنوازی ہونی چاہیے، دلداری کا جذبہ ہو، تحمل کا عنصر ہو۔ کمزور مجبوری میں ہنگامہ کرتا ہے، اگر یہی کام بااختیار یا طاقتور فرد کرے گا تو اُسے مغرور قرار دیا جائے گا۔ و فاقی وزیر اطلاعات نے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جو دھماکہ خیز انٹری ڈالی، اس رویے پر قوم انگشت بدندان تھی۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ہر حکومت درست بات کرتی ہے اور ہر اپوزیشن کی بات غلط ہی ہوتی ہے، تو بھی حکمرانوں کو اپنا سچ (جسے سرکاری سچ بھی کہا جاتا ہے) دھیمے سُروں میں بیان کرنا چاہیے، جذبات کا جواب جذبات سے نہیں، اصول اور حکمت سے دیا جائے تو زیادہ مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ہاں البتہ اگر یہ سوال جواب کا سلسلہ کسی مقابلے کی کیفیت میں ہو، اور کامیابی یا ناکامی کو زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا جائے تو بات دوسری ہے۔

پاکستان میں سیاستدانوں کی کہانی عجیب ہے، ہر بڑی سیاسی پارٹی پر بُرا وقت آنے سے یقینا جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے، گزشتہ بہت سے الیکشنز میں اسی بیانیہ نے سب سے زیادہ زور پکڑا کہ دھاندلی ہوئی ہے اس لئے جمہوریت خطرے میں ہے، اگر خود جیت جائیں تو یہی اقوالِ زریں ہار جانے والی پارٹی جاری کرتی ہے۔ یہ کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایک دفعہ سیاستدان اقتدار میں جاتے ہیں، دوسری دفعہ جیل میں۔ وہاں سے انہیں دوبارہ سرٹیفیکیٹ مل جاتا ہے، اور پھر یہ اقتدار میں اور دوسرے جیل میں۔ ہمارے سیاستدان صحیح معانوں میں صورتِ خورشید جیتے ہیں، اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے۔ اور ہماری قوم ڈوبتے ، نکلتے اور ابھرتے سورجوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر خود کو ہلکان کر رہی ہے۔ تمام طبقات میں ٹھہراؤ کب آئے گا، تحمل اور برداشت کی کہانی کب شروع ہوگی، یہ معجزہ کیسے ہوگا؟ فی الحال کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ یقینا یہ کام تربیت سے ہوگا، مگر افسوس کہ یہ کام ابھی شروع نہیں ہوا، اس کے نتیجے کی توقع لگانے کا تو کوئی جواز نہیں بنتا، لیکن مایوسی سے بچ کر نیک گمانی کا تصور راسخ کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 251029 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Oct, 2018 Views: 402

Comments

آپ کی رائے