کوئی بُرا نہیں قدرت کے کارخانے میں!

(Abdul Rehman Mir, Islamabad)

کہتے ہیں، نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں، کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت کے نزدیک کوئی چیز بری یا خراب نہیں ہے۔ یہ تو ہم ہیں جو ہر چیز میں کوئی نہ کوئی خامی اور برائی نکالنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ تبھی ہر چیز آپ اور میرے لیے بری یا خراب لگتی ہے۔آج میں نے اپنی سوچ پر نظر ثانی کرنے کی کوشش کی تو مجھے دنیا کی ہر چیز عجیب، خراب، نا مکمل، فضول، بے کار اور بری نظر آئی۔ یہاں تک کہ ہر شخص مجھے بد صورت، بد کردار، کرپٹ، برا، ظالم اور بے ایمان لگ رہا تھا۔ اسی لیے میں ہر کسی سے نفرت کرتا تھاکیونکہ مجھے کوئی بھی شخص پسند نہیں تھا۔کوئی شخص میرے نظرئیے کے مطابق نہیں۔ ہر کسی میں کوئی نہ کوئی خامی ہے۔کوئی بات کرنے کے سلیقہ سے عاری ہے تو کوئی کام کے رُموز و اوقاف سے نابلد ہے۔ بس سب کے سب فضول اور بے کار ہیں۔ ابھی میں نے مزید بولنا تھا کہ مصطفی اُٹھ کر چلا گیا۔ میں ایک گھنٹے سے اُنہیں اپنا نظریہ سمجھانے کی کوشش میں تھا مگر یہ لوگ فضول ہی فضول ہیں۔ نہیں معلوم تو کیا ہوا۔ یہ لوگ سننے کی بھی جرأت نہیں رکھتے۔ میں ہر وقت لوگوں کے بارے میں سوچتا رہتا تھا کہ یہ لوگ نکمے کیوں ہیں؟ ہر طرف نامکمل لوگ اور نا مکمل کام نظر آتا تھا۔ کوئی بھی ہم خیال اور راز دان سمجھنے کے لائق ہی نہیں تھا۔ میں ہمیشہ کوشش کرتا تھا کہ ہر کام میں خود کرلوں۔ اسی لیے ہر کسی پر نظر رکھتا تھا کہ وہ کام ٹھیک سے کر رہا ہے یا نہیں۔ میں کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرسکا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ اچانک مجھے دل کا دورہ پڑا اور کئی دن بستر مرگ پر پڑا رہا۔ اس دوران، میں دنیا کو مکمل طور پر بھول گیااور نہ ہی میں نے سوچنے کی کوشش کی۔ خدا خدا کر کے کئی مہینے بعد مجھے تندرستی مل گئی اور جب گھر سے پہلی بار باہر نکلا تو مجھے ہر چیز خوبصورت اور مکمل نظر آئی۔ جس جس کو میں نامکمل اور بے کار سمجھتا تھا۔ سب اپنے اپنے کاموں کو احسن طریقے سے نبھا رہے تھے۔ دنیا میں تبدیلی آچکی تھی۔ لوگوں کی باتیں سن کر ایسالگ رہا تھا کہ میں اس بیماری میں مر چکا ہوں اور میں خود کو جنت میں محسوس کر رہا تھا۔ جو لوگ مجھے بد کردار اور کرپٹ دکھائی دیتے تھے اب وہ مجھے ایماندار اور پاک دامن دکھائی دے رہے تھے۔ جنہیں دیکھ کر میری آنکھوں میں نفرت کا خون دوڑتا تھا، اب ان سے مل کر دل خوش رہنے لگا۔ میں دنیا کی ہر چیز کو دیکھتا گیا اور ہر چیز میں خوبصورتی اور سکون پایا۔ لوگوں سے میں اتنا متاثر ہوگیا کہ بس سب کو اپنا اُستاد سمجھنے لگا۔ ہر طرف جنت کا سماں نظر آنے لگا۔ بالآخر مجھے یقین ہوگیا کہ اس دنیا میں صرف میں ہی نکما اور بے کار ہوں۔ مجھ میں نہ بات کرنے کا سلیقہ تھا اور نہ کوئی کام ٹھیک سے کر سکتا تھا۔ مجھ میں نفرت، عداوت، کینہ پروری، بغض، فساد، جھگڑا، غیبت، لالچ، اور حرص جیسی برائیاں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ مجھ میں نہ کوئی قابلیت تھی اور نہ کوئی خاص صلاحیت، میں اس دنیا سے تنگ آچکا تھا۔ لوگ آتے گئے، کارواں بنتا گیا اور میں پیچھے رہ گیا۔ حالات سے تنگ آکر آخری اُمید کی کرن قرآن مجید میں نظر آئی۔ میں کلامِ پاک کا مطالعہ کرنے لگا، جاننا چاہتا تھا کہ اللہ نے صرف مجھے ہی مشکل میں کیوں رکھا؟ صرف مجھے ہی ناکام کیوں بنایا؟ مجھے ہی بے کار کیوں بنایا؟ میں کلام ِالٰہی سمجھنے میں مصروف تھا اور میں نے دیکھا:لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِیم۔ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔ یعنی ہم نے انسان کو شکل وصورت، قدوقامت، عقلی وذہنی قوتوں، قلبی وروحانی صلاحیتوں سے متصف کر کے پید ا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان سے زیادہ خوبصورت کوئی اور چیز پیدا نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے ان عظیم صفات سے متصف فرمایا۔ انسان عالم، بااختیار، باارادہ، متکلم، شنوا، بینا، مدبر اور حکیم ہے۔ اگر انسان کو بنظر ِغائر دیکھا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ صوری اور معنوی حسن وکمال میں کوئی چیز بھی انسان کی ہمسری کا دعوی نہیں کرسکتی۔ گراں قیمت حیوان، زو رآور جانور ہوائی اور آبی مخلوقات سب کی سب انسان کے سامنے سر افگندہ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کی جرأت نہیں کرسکتی۔ عظیم الجثہ ہاتھی سے ایک ہاتھی بان جس طرح چاہتا ہے کام لیتا ہے، چھ سات سال کا بچہ اونٹوں کی ایک قطار کو جدھر چاہتا ہے، لے کر چلا جاتا ہے۔ برق رفتار گھوڑے پر جب انسان سوار ہوتا ہے تو وہ اس کی مرضی کے مطابق عمل کرتا ہے۔ نوامیس فطرت کو وہ اپنی علمی قوت سے مسخر کر کے ان سے اپنی چاکری لے رہا ہے۔ عقل، فکر ونظر، قیاس واستنباط کی جو بینظیر قوتیں اسے بخشی گئیں ہیں کائنات کی کوئی چیز اس کی برابری نہیں کر سکتی۔ اس کے علم وعرفان کی رفعتوں کا تو یہ حال ہے کہ نوری فرشتے بھی اس کو سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہر جانور اپنی خوراک حاصل کرنے کے لیے اپنا سر زمین پر جھکاتا ہے، لیکن انسان کو اس کے لیے سر جھکانا نہیں پڑتا بلکہ اس کے ہاتھ کا لقمہ اُٹھا کر منہ میں ڈال لیتا ہے۔ اگر آپ کو انسان کے حسن و جمال پر شک ہے تو آئیں ایک واقعہ عرض کرتا ہوں: ایک شخص کو اپنی بیوی سے شدید محبت تھی۔انہوں نے اپنی بیوی سے کہا:اگر تم چاند سے زیادہ خوبصورت نہ ہو تو تجھے تین طلاقیں۔ اس نے جب اپنے خاوند کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو اُٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے خاوند سے پردہ کرلیا اور کہا کہ: تونے مجھے طلاق دے دی ہے۔ اب ہمارا ازدواجی تعلق منقطع ہوگیا۔ خاوندنے بڑی مشکل سے رات بسر کی، صبح سویرے ایک بزرگ کے پاس پہنچا اور اس واقعہ کی اطلاع دی اور بڑی گھبراہٹ اور ندامت کا اظہار کیا۔ بزرگ نے فقہاء کو اپنے دربار میں بلایا اور ان سے فتویٰ پوچھا۔ جتنے فقہاء حاضر تھے سب نے کہا کہ طلاق واقع ہوگئی ہے، لیکن ایک شخص خاموش بیٹھا رہا۔ بزرگ نے پوچھا:آپ کیوں چپ ہیں، کیوں کوئی بات نہیں کرتے تو وہ شخص بول اُٹھا:لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ حضور! اس ارشادِ الٰہی کے مطابق انسان سب چیزوں سے زیادہ حسین ہے اور کوئی چیز اس سے زیادہ حسین نہیں ہے۔ بزرگ نے اس پریشان خاوندسے کہا کہ اس شخص نے جو کہا ہے، درست کہا ہے، تم اپنی بیوی کے ساتھ رہ سکتے ہو اور اس کی بیوی کو بھی کہلا بھیجا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اس لیے اسے چاہیے کہ اپنے خاوند کے گھر آجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان باطن اور ظاہر میں، جمال میں، بناوٹ کی ندرت میں اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سے زیادہ حسین وجمیل ہے۔ فلاسفہ نے اسی وجہ سے انسان کو عالم اصغر کہا ہے۔انسان ہر لحاظ سے خوبصورت ہے۔ اب ہمیں لفظ خوبصورت کا مطلب سمجھنا ہے کہ اس کی حدیں کہاں جا کر ختم ہوتی ہیں۔حقیقت میں ہر چیز خوبصورت ہوتی ہے۔ بد صورت اور خراب صرف آپ اور میری سوچ ہو سکتی ہے جو ہر چیز پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اس میں خرابی اور برائی ڈھونڈنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔ منفی سوچ پر قابو پانے میں ہی آپ اور میری بھلائی ہے۔ یہی منفی سوچ اچھے بھلے شخص کر طعنہ دے دے کر اسے برباد کر دیتی ہے۔ اپنے عزیزوں کو شکوہ شکایت کر کر کے ان کا جینا حرام کردیتی ہے۔ بے سہاروں کی مدد کرنے کے بجاے نااہل، بے کار اور نکمے کے القابات دیتے ہوے ان کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے۔ بس اتنا کہنا چاہتا ہوں دنیا جسے اللہ نے بنایا، ہم نے اسے کھو دیا اور اپنی سوچ پر مبنی عجیب و غریب دنیا میں گم ہوگئے۔ خالقِ کائنات کی بنائی ہوئی خوبصورت دنیا کو دیکھنے کے لیے خوبصورت آنکھوں کی نہیں مگر خوبصورت نظروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Rehman Mir

Read More Articles by Abdul Rehman Mir: 30 Articles with 31471 views »
I am a poet, Columnist, writer, social Worker and a lecturer in English Language and Literature at University level. .. View More
11 Oct, 2018 Views: 716

Comments

آپ کی رائے