دوزخ

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)

بہشت سے ذہن میں ایسی جگہ آتی ہے جہان ذہنی آسودگی اور جسمانی راحت میسر ہو اور اگر حالات اس کے بر عکس ہوں تو اس کو دوزخ کہیں گے۔ مگر آگ جو خوف اور دہشت کا منظر ذہن میں لا سکتی ہے اس کے ذکر کے بغیر دوزخ ادھوری ہی رہتی ہے۔ جو اذیت خاص طور پر زندہ انسان کو آگ میں جلانے سے پیدا ہوتی ہے اس سے بڑھ کر اج تک کوئی اذیت دریافت نہ ہو سکی ۔

ایک وقت تھا جب سیاسی اور مذہبی مخالفین کو کھولتے ہوئے تیل میں زندہ پھینک کر کلیجے ٹھنڈے کیے جاتے تھے ، پھر مگر انسان نے دریافت کر لیا کہ زندہ انسان کو آگ کے جلتے الاو میں پھینک دینے سے جو اذیت اور کرب دیا جا سکتا ہے وہ ہر قسم کی اذیت اور کرب سے فزوں تر ہے۔ ایک زندہ انسان کو آگ کے بڑے الاو میں پھینک دینا ایسی سزا تھی کہ اس سے زیادہ اذیت ناک اور کرب انگیز موت ممکن ہی نہ تھی اور انسان کے اس عمل پر اللہ نے اپنی کتابوں میں دکھ کا اظہار کیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ اور علم و تحقیق اور تجربے نے انسان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ وہ ایسے ْ کرب ْ اور ْ بلا ْ دریافت کر چکا ہے جن سے گذارا جائے تو ْ اذیت ْ آگ میں جلائے جانے سے دو چند ہو جاتی ہے۔الفاظ ذہنی ْ کرب ْ کو بیان تو کر سکتے ہیں مگر ْ کرب ْ کے درد کو صرف محسوس ہی کیا جا سکتا ہے اور جب ذہنی ْ کرب ْ میں مبتلاء کر کے اور جسمانی ْ بلا ْ میں گھیر کر ایک زندہ انسان کو ذبح کر دیا جاتا ہے تو ْ اہل ادراکْ اس ْ کربلا ْ پر خون کے آنسو روتے ہیں۔

مگر یہ بات بھی پرانی ہو چکی ، وقت کے ساتھ انسان کے علم و تحقیق نے وہ معرکہ سر لیا ہوا ہے کہ اب ایک ہی وقت میں ایسے حالات پید ا کر دیے جا سکتے ہیں جس میں ْ آگ میں جلنے ْ ذہنی و جسمانی ْ کربلا ْ کے ساتھ ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ انسان کے انفرادی اعضاء ایسے حالات سے گذارا جائے کہ اس کا لوں لوں چٹخ اٹھے ۔ اور یہی کچھ کشمیر اور فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں ہو رہا ہے ، جہاں ہر روز انسانیت کو کند چھری سے ذبح کیا جاتا ہے ۔ سسکتی ، مظلوم، قہر زدہ انسانیت پراب توبھار ت اور اسرائیل کے اندر سے بھی ْ بس یا ظلم ْ کی صدا بلند ہونا شروع ہو گئی ہے مگر آفرین ہے مسلمانوں کے بے حس حکمرانوں پر جن کی آنکھوں پر ْ چمک ْ کی پٹی بندھی ہے اور ان کی رگوں میں دوڑنے والا خون بے رنگ ہو چکا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 104 Articles with 57505 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Oct, 2018 Views: 167

Comments

آپ کی رائے