مادیت پرستی

(Semab Ameer, )

از قلم عرق حیات
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کا دور مکمل طور پر مادیت پرستی میں جکڑا ہوا ہے
مادیت پرستی سے مراد مادی اشیاء سے لگاؤ,ظاہری عیش و عشرت کا دلدادہ ہونا
جب انسان کو مادی اشیاء سے محبت ہونے لگتی ہے اور دنیاوی لذتیں اس کو بھانے لگتیں ہیں تو مادیت پرستی اس کی نفسیات پر حاوی ہو جاتی ہے یہ انسان کی اپنی تخلیق کردہ نہیں ہوتی دراصل وہ جس ماحول میں رہ رہتا ہوتا ہے یہ سب اس کا نتیجہ ہے جس طرح کا ماحول,معاشرہ ہوتا ہے اسی قسم کے اثرات انسان پر مرتب ہوتے ہیں
مال جمع کرنا,بینک بیلنس بنانا,وسیع رقبے پر محیط گھر,لگژری گاڑیاں ان سب کی دھن ہر وقت سوار رہتی ہے,جن کے پاس یہ سب ہے وہ اس سے زیادہ کی کوشش میں ہیں ایسی ذہنیت کے مالک لوگ بہتر سے بہترین کی کوشش میں کچھ بھی کر سکتے ہیں,لیکن اپنے سے نچلے طبقے کے لوگوں کی مدد کرنے میں انکی کوئی دلچسپی نہیں.
اپنا مفاد,خودپرستی ہمہ وقت ذہنوں پر سوار ہے
مادیت پرستی اپنی جڑیں اس قدر مضبوط کر چکی ہے کہ ہماری سوچ صرف ظاہری شان و شوکت اور شکل و صورت تک ہی محدود ہو کر رہ گئی.
مثال کے طور پر اگر کسی کا اوڑھنا بچھونا اچھا ہے اور وہ مالی طور پر مضبوط ہے ہمارے لیے وہی قابل احترام ہے, پہلے پہل لوگوں کی پہچان ان کے کردار انکی سیرت سے کی جاتی تھی لیکن اب یہ پہچان ظاہری شان و شوکت سے کی جاتی ہے مالی طور مضبوط قابل احترام تو ہوتا ہی لیکن اب شکل و صورت کے حساب سے بھی لوگوں کی پہچان کی جاتی ہے.جس کے چہرے کے نقوش بہت خوبصورت, رنگت جس کی گوری وہی قابل نظر مانا جاتا ہے
مطلب مادہ پرستی کی انتہا ہے عجیب پیمانے ہیں اس کے لوگوں کی پہچان کے لیے, حقیقت ہے کہ بے جا خواہشات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں,انسان ان کا پیچھا کرتے کرتے نہیں تھک رہا
مادیت پرستی کی سب سے بڑی وجہ آخرت پر بے حد کمزور یقین,اور دین سے دوری ہے,دنیاوی لذتوں نے اپنا خول انسان پر پوری طرح چڑھا دیا ہے
روحانی اقدار اپنا دم توڑتی جا رہی ہیں,
مادیت پرستی کی وجہ سے معاشرہ عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے
احساس محرومی,ذہنی بے سکونی,عدم برداشت یہ سب اسی کی دین ہے
مادیت پرستی سے چھٹکارہ اسی صورت ممکن ہے کہ جب ہم خود کو بدلیں گے سادگی اور اعتدال پسندی کے درس پر عمل کریں , ہر حال میں شکر گزار بنیں
اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوچ کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے
جب تک ہم دوسروں کو دیکھ کر اپنی چادر سے باہر پاؤں رکھیں گے تب تک اس ناسور سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہم سکون سے زندگی گزار سکتے ہیں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Semab Ameer

Read More Articles by Semab Ameer: 5 Articles with 3793 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Oct, 2018 Views: 1634

Comments

آپ کی رائے