قاتلین امام حسین کا عبرتناک انجام

(Peer Owaisi Tabasum, Narowal)

اﷲ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ سیدنا امام حسین علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں اور اہل بیت رسول ﷺ کے حب دار کو محبوب رکھتے ہیں۔جبکہ دشمنانان آلِ رسول ﷺ مقہور ہیں۔ویسے کہاوت مشہور ہے جیسا کروگے ویسا بھرو گے۔ یہ کہاوت حقیقت کا روپ تب دھار لیتی ہے جبعبد الملک کے زمانۂ خلافت میں کوفہ پر مختار بن عبید ثقفی کو تسلط حاصل ہوا ۔ اس نے کہا میں قاتلین امام حسین سے ایک کو بھی دنیا میں چلتے پھرتے نہیں رہنے دوں گا۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو مجھ پر اﷲ و رسول ﷺ کی لعنت ہو ، پھر اس نے لوگوں سے کہا کہ مجھے ہر اس شخص کا نام و پتہ بتاؤجو حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کے مقابلے میں کربلا گیا تھا ۔لوگوں نے بتانا شروع کیا اور مختار نے ایک ایک کو قتل کرنا اور سولی پر لٹکانا شروع کر دیا ۔
ابن سعد کا قتل :مختار نے ایک دن کہا کہ میں کل ایک شخص کو قتل کروں گامیرے اس عمل سے تمام مومنین اور ملائکہ مقربین بھی خوش ہوں گے ۔ہیثم بن اسود نخعی اس وقت مختار کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ سمجھ گیا کہ عمرو بن سعد کل مارا جائے گا۔ مکان پر آکر اس نے اپنے بیٹے کو رات میں ابن سعد کے پاس بھیج کر اطلاع کر دی کہ تم اپنی حفاظت کا انتظام کرو۔مختار کل تمہیں قتل کرنا چاہتا ہے ۔مگر مختار چونکہ اپنے خروج کے ابتدائی زمانے میں ابن سعد سے نہایت ہی اخلاق کے ساتھ پیش آتا تھا اس لئے اس نے کہا مختار ہمیں نہیں قتل کریگا۔ دوسرے دن صبح کو مختار نے ابن سعد کو بلانے کیلئے آدمی بھیجا اس نے اپنے بیٹے حفص کو بھیج دیا ۔مختار نے اس سے پوچھا تیرا باپ کہاں ہے ؟ اس نے کہا وہ خلوت نشین ہو گیا ہے اب گھر سے باہر نہیں نکلتا ۔مختار نے کہا اب وہ رے ؔ کی حکومت کہاں ہے جس کے لئے فرزند رسول ﷺ کا خون بہایا تھا ۔اب کیوں اس سے دست بردار ہو کر گھر بیٹھا ہے ۔؟حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے دن وہ کیوں خانہ نشین نہیں ہوا تھا ؟۔مختارؔ نے اپنے کوتوال ابو عمرہ کو بھیجا کہ ابن سعد کا سر کاٹ کر لے آئے ۔وہ ابن سعد کے پاس گیا اور اس کا سر کاٹ کر اپنی قبا کے دامن میں چھپا کر مختارؔ کے پاس لایا اور اس کے سامنے رکھ دیا۔مختارؔ نے حفص سے پوچھا پہچانتے ہو یہ سر کس کا ہے ؟ اس نے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھی پھر کہا یہ میرے باپ کا سر ہے اور اب ان کے بعد زندگی میں کوئی مزا نہیں۔مختارؔ نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو اور تم زندہ بھی نہیں رہو گے پھر اسے بھی قتل کر ادیا اورکہا باپ کا سرامام حسین علیہ السلام کا بدلہ ہے اور بیٹے کا سرامام علی اکبر رضی اﷲ عنہ کا ۔ اگر چہ وہ دونوں ان کے برابر نہیں ہو سکتے ۔ خدا کی قسم اگر میں قریش کے تین دستے بھی قتل کرڈالوں تب بھی وہ سب امام حسین علیہ السلام کی انگلیوں کے برابر نہیں ہوسکتے ۔ پھر مختارؔ نے دونوں کے سر حضرت محمد بن حنفیہ رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دے ۔ (تاریخ طبری)
خولی بن یزید کو قتل کے بعد جلا دیا گیا:خولیؔ وہ بد بخت انسان ہے جس نے امام عالی مقام امام حسین علیہ السلام کے سر انور کو جسم اقدس سے جدا کیا تھا ۔مختارؔ نے اپنے کوتوال ابو عمرہ کو چند سپاہیوں کے ساتھ اس کی گرفتاری کیلئے بھیجا ۔ ان لوگوں نے آکر خولیؔ کے گھر کو گھیر لیا ۔ جب اس بد بخت کو معلوم ہوا تو وہ ایک کوٹھری میں چھپ گیا اور بیوی سے کہہ دیا کہ تم لا علمی ظاہر کردینا کوتوال نے اس کے گھر کی تلاشی کا حکم دیا۔ اس کی بیوی باہر نکل آئی ۔اس سے پوچھا گیا کہ تمہارا شوہر کہاں ہے ؟ چونکہ جس وقت سے خولیؔ حضرت امام حسین علیہ السلام کا سر لایا تھا وہ اس کی دشمن ہو گئی تھی اس لئے اس نے زبان سے تو کہا مجھے معلوم نہیں وہ کہا ں ہے مگر ہاتھ کے اشارہ سے اس کے چھپنے کی جگہ بتا دی۔ سپاہی اس مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ سر پر ایک ٹوکرا رکھے ہوئے زمین سے چپکا ہوا ہے ۔اس کو گرفتار کر کے لا رہے تھے کہ مختارؔ کوفہ کی سیر کیلئے نکلا تھا راستہ میں مل گیا اس کے حکم سے خولیؔ کے گھر والوں کو بُلا کر ان کے سامنے شاہراہ عام پر قتل کیا گیا پھر اسے جلایا گیا اور جب تک اس کی لاش جل کر راکھ نہیں ہو گئی مختارؔ کھڑا رہا ۔(طبری)
شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے کیا گیا:مسلم بن عبد اﷲ ضیابی کا بیان ہے کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام کے مقابلے میں کربلا جانے والوں کو پکڑ پکڑ کر مختارؔ قتل کرنے لگا تو ہم اور شمر ذی الجوشن تیز رفتار گھوڑوں پر بیٹھ کر کوفہ سے بھاگ نکلے ۔مختارؔ کے غلام دربی نے ہمارا پیچھا کیا ۔ہم نے اپنے گھوڑوں کو بہت تیز ی سے دوڑایا لیکن ذربی ہمارے قریب آگیا ۔شمر نے ہم سے کہا تم گھوڑے کو ایڑدے کر ہم سے دور ہو جاؤ شاید یہ غلام میری تاک میں آرہا ہے ۔ ہم اپنے گھوڑے کو خوب تیزی سے بھگا کر شمر سے الگ ہو گئے ۔غلام نے پہنچتے ہی اس پر حملہ کر دیا ۔پہلے تو شمر اس کے وار سے بچنے کیلئے گھوڑے کو کاوادیتا رہا اور جب ذربی اپنے ساتھیوں سے دور ہو گیا تو شمر نے ایک ہی وار میں اس کی کمر توڑدی ۔جب مختارؔ کے سامنے ذربی لایا گیا اور اس کو واقعہ معلوم ہوا تو اس نے کہا اگر یہ مجھ سے مشورہ کرتا تو میں کبھی اسے شمر پر حملہ کرنے کا حکم نہ دیتا۔
ذربی کو قتل کرنے کے بعد شمر کلتانیہ گاؤں میں پہنچا جو دریا کے کنارے واقعہ تھا ۔اس نے گاؤں کے ایک کسان کو بلا کر مارا پیٹا اور اسے مجبور کیا کہ میرا یہ خط مصعب بن زبیر کے پاس پہنچاو۔اس خط پر یہ پتہ لکھا تھا ۔شمر ذی الجوشن کی طرف سے امیر مصعب بن زبیر کے نام کسان اس کے خط کو لے کر روانہ ہوا۔راستہ میں ایک بڑا گاؤں آباد تھا جہاں کوتوال ابو عمرہ چند سپاہیوں کے ہمراہ جنگی چوکی قائم کرنے کیلئے آیا تھا۔ یہ کسان اس گاؤں کے ایک کسان سے مل کر شمر نے جو اس کے ساتھ زیادتی کی تھی اس کو بیان کر رہا تھا کہ ایک سپاہی ان کے پاس سے گزرا اس نے شمر کے خط اور اس کے پتہ کو دیکھا پوچھا کہ شمر کہاں ہے ؟ اس نے بتادیا۔ معلوم ہوا کہ پندرہ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ابو عمرہ فوراً اپنے سپاہیوں کو لئے ہوئے شمر کی طرف چل پڑا۔
مسلم بن عبد اﷲ کا بیان ہے کہ رات میں شمر کے ہمراہ تھا میں نے اس سے کہا بہتر ہے کہ ہم لوگ اس جگہ سے روانہ ہو جائیں اسلئے کہ ہمیں یہاں ڈر معلوم ہوتا ہے ۔اس نے کہا میں تین دن سے پہلے یہاں سے نہیں جاؤں گا اور تمہیں خوف غالباً مختارؔ کذاب کی وجہ سے ہے تم اس سے مرعوب ہو گئے ہو ہم جہاں ٹھہرے تھے وہاں ریچھ بہت زیادہ تھے ابھی زیادہ رات نہیں گذری تھی اور مجھے برابر نیند نہیں آئی تھی کہ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز آئی میں نے اپنے دل میں کہا ریچھ ہوں گے مگر جب آواز تیز ہو گئی تو میں اُٹھ کر بیٹھ گیا اپنی آنکھوں کو ملنے لگا اور کہا یہ ریچھوں کی آواز ہر گز نہیں ہو سکتی ۔اتنے میں انہوں نے پہنچ کر تکبیر کہی اور ہماری جھونپڑیوں کو گھیرے میں لے لیا ۔ہم اپنے گھوڑے چھوڑ کر پیدل ہی بھاگے وہ لوگ شمر پر ٹوٹ پڑے ۔جو پرانی چادر اوڑھے ہوئے تھا اور اس کے برص کی سفیدی چادر کے اوپر سے نظر آرہی تھی وہ کپڑے اور زرہ وغیرہ بھی نہیں پہن سکا اسی چادر کو اوڑھے ہوئے نیزے سے ان کا مقابلہ کرنے لگا ۔ابھی ہم تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ تکبیر کی آواز کے بعد ہم نے سنا کہ اﷲ نے خبیث کاخاتمہ کر دیا ۔ پھر ان لوگوں نے اس کے سر کو کاٹ کر لاش کو کتوں کیلئے پھینک دیا۔(طبری)
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کیلئے چھوڑ دیا گیا:عبد اﷲ بن دیا س جس نے محمد بن عمار بن یاسر کو قتل کیا تھا اس نے امام عالی مقام کے قاتلین میں سے مختارؔ کو چند آدمیوں کے نام بتا دیئے جن میں عبد اﷲ بن اسید جہنی ،مالک بن نُسیر بدّی اور حمل بن مالک محاربی بھی تھے یہ سب اس زمانہ میں قادسیہ میں رہتے تھے ۔ مختارؔ نے اپنے سرداروں میں سے ایک سردار مالک بن عمرہ نہدی کو ان کی گرفتاری کیلئے چند سپاہیو ں کے ساتھ بھیجا اس نے جا کر ان سب کو گرفتار کر لیا اور عشاء کے وقت لے کر مختارؔ کے پاس پہنچا۔مختارؔ نے ان لوگوں سے کہا اے اﷲ و رسول اور آل رسول کے دشمنو! حسین بن علی کہاں ہیں؟مجھے حسین کی زیارت کراؤ ظالمو! تم نے اس مقدس ذات کو قتل کیا جن پر نماز میں تمہیں درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا اﷲ آپ پر رحم کرے ہمیں ان کے مقابلے میں زبردستی بھیجا گیا تھا ہم جانے کیلئے راضی نہیں تھے ۔آپ ہم پر احسان کریں اور چھوڑ دیں۔مختارؔ نے کہا تم نے نواسۂ رسول پر احسان نہیں کیا ۔ان پر تمہیں رحم نہیں آیا ۔تم نے انہیں اور ان کے بچوں کو پیاسا رکھا پانی نہیں پینے دیا اور آج ہم سے احسان طلب کرتے ہو ۔پھر بدّی سے کہا تم نے حضرت امام حسین کی ٹوپی اتاری تھی ؟عبد اﷲ بن کامل نے کہا جی ہاں یہی وہ شخص ہے جس نے ان کی ٹوپی اتاری تھی ۔مختارؔ نے حکم دیا دونوں ہاتھ پاؤں کاٹ کر اس کو چھوڑ دیا جائے تاکہ اسی طرح تڑپ تڑپ کر یہ مر جائے چنانچہ اس کے حکم پر عمل کیا گیا ۔بدّی کے ہاتھوں اور پیروں سے خون کا دھارا بہتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔اس کے بعد جہنی اور محاربی کو قتل کر دیا ۔(طبری)
حکیم برہنہ کر کے تیروں کا نشانہ بنایا گیا:حکیم بن طفیل طائی وہ بد نصیب انسان ہے کہ جس نے کربلا میں حضرت عباس علمدار کے لباس و اسلحہ پر قبضہ کیا تھا اور امام حسین علیہ السلام کو تیر مارا تھا مختارؔ نے عبد اﷲ بن کامل کو اس کی گرفتاری کیلئے چند سپاہیوں کے ساتھ بھیجا وہ پکڑ کر اسے مختارؔ کی طرف چلا ۔حکیم کے گھر والے عدی بن حاتم کے پاس فریادی ہوئے کہ آپ مختارؔ سے سفارش کر کے اس کو چھڑادیں۔مختارؔ عدی کی بہت قدر کیا کرتا تھا وہ سفارش کیلئے مختارؔ کے پاس پہنچ گئے وہ عدی کے ساتھ عزت سے پیش آیا اور انہیں اپنے پاس بٹھایا ۔عدی نے اپنے آنے کی غرض بیان کی ۔مختارؔ نے کہا اے ابو ظریف !کیا آپ قاتلین حسین کیلئے بھی سفارش کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا حکیم پڑ جھوٹا الزام لگایا گیا ہے ۔مختارؔ نے کہا اچھا تو ہم اسے چھوڑدیں گے ۔
سپاہیوں کو راستہ میں معلوم ہوا کہ عدی مختارؔ کے پاس حکیم کی سفارش کیلئے گئے ہیں انہوں نے اپنے سردار ابن کامل سے کہا کہ مختارؔ عدی کی سفارش قبول کر لیں گے اور یہ خبیث بچ جائے گا حالانکہ آپ اس کے جرم سے بخوبی واقف ہیں ۔لہٰذا بہتر ہے کہ ہم ہی اس کو قتل کر دیں۔ ابن کامل نے انہیں اجازت دیدی ۔وہ لوگ حکیم کو ایک گھر میں لے گئے اس کی مشکیں بندھی ہوئی تھیں اسے ایک جگہ کھڑا کیا اور کہا تو نے حضرت عباس بن علی کے کپڑے اتارے تھے ہم تیری زندگی ہی میں تیرے سارے لباس اتارتے ہیں ۔چنانچہ ان لوگوں نے اسے بالکل ننگا کر دیا ۔پھر کہا تو نے حسین کو تیر مارا تھا ہم بھی تجھے تیروں کا نشانہ بناتے ہیں یہ کہہ کر انہوں نے تیروں سے مار مار کر اس کو ہلاک کر دیا۔ابن کامل نے آکر مختارؔ کو حکیم کے قتل کی اطلاع دی ۔مختارؔ نے کہا میرے پاس لائے بغیر تم نے اسے کیوں قتل کر دیا ؟دیکھو یہ عدی اس کی سفارش کیلئے آئے ہیں۔اور یہ اس بات کے اہل ہیں کہ ان کی سفارش قبول کی جائے ۔ابن کامل نے کہا آپ کے سپاہی میری بات نہیں مانے تو میں مجبور ہو گیا ۔عدی نے کہا اے دشمن خدا !تو جھوٹ بولتا ہے تو نے جانا کہ مختارؔ میری سفارش قبول کرلیں گے اس لئے تو نے اسے راستہ ہی میں قتل کر دیا اس کے علاوہ اور تجھے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ ابن کامل بھی عدی کو جواب میں برا بھلا کہنا چاہتا تھا مگر مختارؔ نے انگلی اپنے منہ پر رکھ کر اسے خاموش رہنے کی ہدایت کی ۔عدی مختارؔ سے خوش اور ابن کامل سے ناراض ہو کر چلے آئے ۔(طبری)
نیزوں سے چھید چھید کر مارا گیا :بنی صدا کا ایک بد بخت جس کا نام عمرو بن صُبیح تھا وہ کہا کرتا تھا کہ میں نے امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کو تیر سے زخمی کیا ہے مگر کسی کو قتل نہیں کیا ہے سب لوگوں کے سو جانے کے بعدمختارؔ نے اس کی گرفتاری کیلئے سپاہیوں کو روانہ کیا ۔جب وہ ابن صُبیح کے مکان پر پہنچے تو وہ اپنے چھت پر بے خبر سو رہا تھا اور اس کی تلوار اس کے سر ہانے رکھی تھی سپاہیوں نے اسے گرفتار کر لیا اور اس کی تلوار پر قبضہ کر لیا وہ کہنے لگا اﷲ اس تلوار کا برا کرے یہ مجھ سے کس قدر قریب تھی اور اب کتنی دور ہو گئی ۔سپاہیوں نے رات ہی میں اسے مختارؔ کے سامنے پیش کیا ۔مختارؔ نے حکم دیا کہ صبح تک اسے قید میں رکھو پھر صبح کو دربار عام مختارؔ کے سامنے پیش کیا جب بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور ابن صبیح اس کے سامنے لایا گیا تو نہایت دلیری سے بھرے دربار میں کہنے لگا اے گروہ کفار و فجار!اگر اس وقت میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو تم کو معلوم ہو جاتا کہ میں بزدل اور کمزور نہیں ہوں اگر میں تمہارے علاوہ کسی اور کے ہاتھ سے قتل کیا جاتا تو یہ بات میرے لئے باعث مسرت ہوتی اس لئے کہ میں تم کو بد ترین مخلوق سمجھتا ہوں۔اے کاش! اس وقت میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو میں تھوڑی دیر تمہارا مقابلہ کرتا۔اس کے بعد ابن صبیح نے ابن کامل کی آنکھ پر ایک گھونسا مارا۔ابن کامل ہنسا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا کہ یہ شخص کہتا ہے کہ میں نے اہلبیت رسالت کو تیروں سے زخمی کیا ہے ۔تو اب اس کے بارے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ مختارؔ نے کہا نیزے لاؤ اور اسے نیزوں سے چھید چھید کر مارو ۔چنانچہ نیزوں سے مار مار کر اسے ہلاک کیا گیا۔(طبری)
قاتل کو زندہ جلادیا :بنی جنب کا ایک شخص جس کا نام زید بن رقاد تھا اس بد بخت نے حضرت عبد اﷲ بن مسلم بن عقیل کو تیر مارا تھا جو ان کی پیشانی میں لگا تھا ۔انہوں نے پیشانی کو بچانے کیلئے اس پر اپنا ہاتھ رکھ لیا مگر تیر ایسا لگا کہ ہاتھ بھی پیشانی کے ساتھ پیوست ہو گیا اور جب کوشش کے باوجود ان کا ہاتھ پیشانی سے جدا نہیں ہو سکا تو انہوں نے بارگاہ الہٰی میں دعا کی یا الہٰ العالمین !ہمارے دشمنوں نے جیسے ہمیں ذلیل کیا ہے تو بھی ان کو ایسے ہی ذلیل کر اور جس طرح انہوں نے ہمیں قتل کیا ہے تو بھی ان کو قتل کر۔ پھر زید بن رقاد نے ان کے پیٹ میں ایک تیر ماری جس سے وہ شہید ہو گئے ۔ابن رقاد کہا کرتا تھا کہ ان کے پیٹ کا تیر تو میں نے آسانی سے نکال لیا مگر جو تیر پیشانی پر لگا کوشش کے باوجود وہ نہیں نکل سکا۔
مختارؔ نے عبد اﷲ بن کامل کو اس کی گرفتاری کیلئے روانہ کیا ۔ابن کامل سپاہیوں کے ساتھ پہنچ کر اس پر ٹوٹ پڑا وہ بھی ایک بڑا بہادر آدمی تھا تلوار لے کر ان کا مقابلہ کیا ۔ابن کامل نے اپنے سپاہیوں سے کہا اسے نیزہ اور تلوار سے ہلاک نہ کرو بلکہ تیر اور پتھر سے مارو۔سپاہیوں نے اس قدر تیر اور پتھر مارا کہ وہ گر گیا ۔ابن کامل نے کہا دیکھو اگر جان باقی ہو تو اسے باہر لاؤ ۔چونکہ ابھی جان باقی تھی تو اسے باہر نکالا گیا ۔ابن کامل نے آگ منگا کر اسے زندہ جلا دیا۔(طبری)
ابن زیاد بد نہاد کا عبرتناک انجام:عبید اﷲ بن زیاد وہ بد نہاد انسان ہے جو یزید کی طرف سے کوفہ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا ۔اسی بد بخت کے حکم سے حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اہلبیت کو تمام ایذائیں پہنچائی گئیں یہی ابن زیاد موصل میں تیس ہزار فوج کے ساتھ اترا۔ مختارؔنے ابراہیم بن مالک اشتر کو اس کے مقابلہ کیلئے ایک فوج کو لے کر بھیجا ۔موصل سے تقریباً پچیس کلو میٹر کے فاصلے پر دریائے فرات کے کنارے دونوں لشکروں میں مقابلہ ہوا اور صبح سے شام تک خوف ناک جنگ رہی جب دن ختم ہونے والا تھا اور آفتاب قریب غروب تھا اس وقت ابراہیم کی فوج غالب آگئی ۔ابن زیاد کو شکست ہوئی اور اس کے ہمراہی بھاگے ۔ابراہیم نے حکم دیا کہ فوج مخالف میں سے جو ہاتھ آئے اس کو زندہ نہ چھوڑا جائے چنانچہ بہت سے ہلاک کئے گئے ۔ اسی ہنگامہ میں ابن زیاد بھی فرات کے کنارے محرم کی دسویں تاریخ 67ھ میں مارا گیا اور اس کا سر کاٹ کر ابراہیم کے پاس بھیجا گیا ۔ابراہیم نے مختار کے پاس کوفہ میں بھجوایا ۔مختار نے دار الامارت کوفہ کو آراستہ کیا اور اہل کوفہ کو جمع کر کے ابن زیاد کا سر ناپاک اسی جگہ رکھوایا جس جگہ اس مغرور حکومت و بندۂ دنیا نے حضرت امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک رکھا تھا مختار نے اہل کوفہ کو خطاب کر کے کہا اے اہل کوفہ ! دیکھ لو کہ امام حسین علیہ السلام کے خون نا حق نے ابن زیاد کو نہ چھوڑا ۔آج اس نامراد کا سر اس ذلت و رسوائی کے ساتھ یہاں رکھا ہوا ہے ۔چھ سال ہوئے ہیں وہی تاریخ ہے وہی جگہ ہے ۔خداوند عالم نے اس مغرور فرعون خصال کو ایسی ذلت و رسوائی کے ساتھ ہلاک کیا ۔اسی کوفہ اور اسی دار الامارت میں اس بے دین کے قتل و ہلاک پر جشن منایا جا رہا ہے۔ (سوانح کربلا )
روایات میں ہے کہ جس وقت ابن زیاداور اس کے سرداروں کے سر مختار کے سامنے لاکررکھے گئے تو ایک بڑا سانپ نمودار ہوا اس کی ہیبت سے لوگ ڈر گئے وہ تمام سروں میں پھرا جب عبید اﷲ بن زیاد کے سر کے پاس پہنچا تو اس کے نتھے میں گُھس گیا اور تھوڑی دیر ٹھہر کر اس کے منہ سے نکلا اس طرح تین بار سانپ اس کے سر کے اندر داخل ہوا اور غائب ہو گیا۔(نورالابصار)
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں ناؤ کاغذ کی کبھی چلتی نہیں
مختار کا دعویٔ نبوت:مختار نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے قاتلین کے بارے میں بڑا شاندار کارنامہ انجام دیا لیکن آخر میں وہ دعویٔ نبوت کر کے مرتد ہو گیا ۔(العیاذ باﷲ تعالیٰ)کہنے لگا کہ میرے پاس جبریل امین آتا ہے اور مجھ پر خدائے تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتا ہے میں بطور نبی مبعوث ہوا ہوں ۔حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو جب اس کے دعویٔ نبوت کی خبر ملی تو آپ نے اس کی سر کوبی کیلئے لشکر روانہ فرمایا جو مختار پر غالب ہوا اور ماہ رمضان67ھ میں اس بد بخت کو قتل کیا ۔(تاریخ الخلفاء)
قاتلین امام حسین پر طرح طرح کے عذاب:جو لوگ حضرت امام حسین علیہ السلام کے مقابلے میں کربلا گئے اور ان کے قتل میں شریک ہوئے ان میں سے تقریباً چھ ہزار کو فی تو مختار کے ہاتھوں ہلاک ہوئے اور دوسرے لوگ طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوئے ۔علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ان میں سے کوئی نہیں بچا کہ جس نے آخرت کے عذاب سے پہلے اس دنیا میں سزا نہ پائی ہو ان میں سے کچھ تو بُری طرح قتل کئے گئے کچھ اندھے اور کوڑھے ہوئے اور کچھ لوگ سخت قسم کی آفتوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو ئے ۔
حضرت ابو الشیخ فرماتے ہیں کہ ایک مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے آپس میں یہ باتیں کر رہے تھے کہ حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کے قتل میں جس نے بھی کسی طرح کی کوئی مدد کی وہ مرنے سے پہلے کسی نہ کسی عذاب میں ضرور مبتلا ہوا ۔ایک بڈھا جو اسی مجلس میں تھا اس نے کہا میں نے بھی مدد کی تھی مگر میں کسی عذاب میں نہیں مبتلا ہوا ۔اتنا کہنے کے بعد وہ چراغ درست کرنے کیلئے کھڑا ہوا تو اس کی آگ نے بڈھے کو پکڑلیا اس کا پورا بدن جلنے لگا وہ آگ آگ چلاتا رہا یہاں تک کہ دریائے فرات میں کود پڑا مگر آگ بجھی نہیں اور وہ اسی میں جل کر ہلاک ہو گیا ۔ اسی قسم کا ایک واقعہ امام سدی سے بھی منقول ہے ۔انہوں نے فرمایا خدا کی قسم میں نے اس کو دیکھا وہ اس طرح جل رہا تھا جیسے کوئلہ ۔(صواعق محرقہ)
اور امام واقدی سے روایت ہے کہ ایک شخص جو لشکر یزید کے ساتھ تھا مگر اس نے کسی کو قتل نہیں کیا تھا واقعۂ کربلا کے بعد وہ اندھا ہو گیا ۔اس سے اس کا سبب دریافت کیا گیا ۔اس نے کہا میں نے رسول اﷲ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ وہ آستین مبارک چڑھائے ہوئے اور ہاتھ میں ننگی تلوار لئے ہوئے کھڑے ہیں۔حضور ﷺ کے سامنے ایک چمڑا بچاہوا ہے وہاں دس قاتلین حسین ذبح کئے ہوئے پڑے ہیں جب آپ کی نگاہ مجھ پر پڑی تو بہت لعنت ملامت کی اور خون میں ڈبو کر ایک سلائی میری آنکھوں میں پھیر دی اسی وقت سے میں اندھا ہوگیا۔(صواعق محرقہ)
اور حضرت علامہ ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ یزید کے لشکر کا وہ سپاہی کہ جس نے حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کے سر مبارک کو اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکا یا تھا کچھ دنوں کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ اس کا چہرہ بہت زیادہ کالا کیسے ہو گیا ؟اس نے کہا جس روز میں نے حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کے سر کو اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکایا اسی روز سے ہر رات کو دو آدمی میرے پاس آتے ہیں اور مجھے پکڑ کر ایسی جگہ پر لے جاتے ہیں جہاں بہت سی آگ ہوتی ہے مجھے منہ کے بل اُس آگ میں ڈال کر نکالتے ہیں ۔اس وجہ سے میرا منہ اتنا زیادہ کالا ہو گیا ہے ۔راوی کا بیان ہے کہ وہ شخص بہت بُری موت مرا۔(صواعق محرقہ)
روایات میں ہے وہ بد بخت جس نے حضرت علی اصغر رضی اﷲ عنہ کے حلق میں تیر مارا تھا وہ اس مصیبت میں گرفتارہوا کہ اس کے پیٹ کی طرف ایسی سخت گرمی پیدا ہوئی کہ گویا آگ لگی ہے اور پیٹھ کی طرف ایسی سردی کہ خدا کی پناہ ۔اس حالت میں اس کے پیٹ پر پانی چھڑکتے ،برف رکھتے اور پنکھا جلتے مگر ٹھنڈک پیدا نہ ہوتی اور پیٹھ کی طرف آگ جلا کر گرمی پہنچانے کی کوشش کرتے مگر کچھ فائدہ نہ ہوتا اور وہ پیاس پیاس چلاتا تو اس کیلئے ستواور دودھ لایا جاتا لیکن پانچ گھڑا بھی اس کو پلایا جاتا تو وہ پی لیتا اور پھر بھی پیاس پیاس چلاتا رہتا یہاں تک کہ اسی طرح پیتے پیتے اس کا پیٹ پھٹ گیا۔ (صواعق محرقہ)
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ محاضرات و محاورات میں تحریر فرماتے ہیں کہ کوفہ میں چیچک کی بیماری ایک سال ایسی ہوئی کہ جو لوگ حضرت امام حسین علیہ السلام کو قتل کرنے کیلئے گئے تھے ڈیڑھ ہزار اولاد ان کی چیچک سے اندھی ہوگئی ۔(نور الابصار)
حاکم میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول اﷲ ﷺ کے پاس وحی بھیجی کہ میں نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے عوض ستر ہزار کو مارا اور اے محبوب تمہارے نواسے کے عوض ستر ہزار اور ستر ہزار یعنی ایک لاکھ چالیس ہزار کو ماروں گا۔(خصائص کبریٰ)
چنانچہ بہت سے لوگوں کو مختار کے ہاتھوں مارا اور بے شمار لوگوں کو طرح طرح کی مصیبتوں اور آفتوں سے ہلاک کیا اور پھر کئی ہزار عباسی سلطنت کے بانی عبد اﷲ سفاح کے ہاتھوں مارے گئے اس طرح وعدۂ الہٰی پورا ہوا اور کل ایک لاکھ چالیس ہزار مارے گئے ۔
لہٰذا ثابت ہوا ظلم کا بدلہ ظلم ہے ۔ظالم کی حمایت بھی ظلم ہے ۔جبکہ محبت آلِ رسول ﷺ سامان نجات دنیاوی و اخروی ہے ۔اﷲ تعالیٰ قاتلین اہل بیت کو دنیا کی طرح آخرت میں بھی رسوا کرے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Peer Owaisi Tabasum

Read More Articles by Peer Owaisi Tabasum: 85 Articles with 89015 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Oct, 2018 Views: 752

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ