انسداد منشیات سیمینار

(Muhammad Nadeem Malik, )

گزشتہ چند سالوں سے معاشرے میں منشیات کا بڑھتاہوا رجحان ایک لمحہ فکریہ ہے خاص طور پر کالجز ،یونیورسٹیز منشیات کے فروش کا گڑھ بن چکی ہیں جس کے لیے خاص طور پر قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ نوجوان ہمارا آنیوالا کل ہیں۔سماج دشمن عناصر نے ان کچے ذہنو ں کو تر نوالہ سمجھ کر اپنا حملہ شروع کر رکھا ہے ۔نوجوان شروع میں شوقیہ سگریٹ اور شیشہ پینے سے آغاز کرتے ہیں پھر چرس شراب ہیروئن جیسی بری لت کا شکار ہوجاتے ہیں اور نشے کی اس دلدل میں صرف ایک نوجوان نہیں بلکہ اس کی ساری فیملی زندگی درگور ہوجاتی ہے ۔

گزشتہ دنوں مقامی گورنمنٹ کامرس کالج ڈسکہ میں انسداد منشیات سمینیار منعقد ہوا کالج پرنسپل جناب ندیم احمد چوہدری کی محبت و شفقت کے سائے تلے بطور مہمان سمینار میں مجھے بھی شرکت کاموقع ملا۔انسداد منشیات کے اس سمینار میں مقامی این جی اوز کے نمائندوں کے علاوہ اینٹی نارکوٹکس کے آفیسران نے بھی شرکت کی اور طالب علموں کو نشے کی بیماری ،اس کے محرکات اور بچاؤسے آگاہ کیا ۔

نشہ بھی دیگر نفسیاتی بیماریوں کی طرح ایک بیماری ہے ۔جس میں نشے کا مریض اپنے اردگرد سے اس حد تک بے خبر ہوجاتاہے کہ وہ رشتوں کا تقدس تک پامال کر دیتاہے ۔اسی لیے دنیا کے تمام مذاہب نے نشے کو حرام قرار دیاہے ۔میر ے خیال میں نشے کی چھوٹی بڑی بہت ساری اقسام ہیں ۔جن چھوٹی اقسام کو ہم اس ضمن میں شما رہی نہیں کرتے اس میں فی زمانہ فیس بک انٹر نیٹ موبائل ٹی وی ویڈیوگیمز کیفین ملے مشروب کو ک پیپسی چائے کافی سگریٹ ونسوار سپاری چرس شراب ہیروین شامل ہیں ۔زیر نظر مضمون میں ہم نشے کی بڑی اقسام کی وجوہات کو زیر بحث لائیں گے ۔اس ضمن میں سب سے اہم اور بنیادی سوال جو بنتاہے وہ یہ ہے کہ آخر انسان نشہ کرتا کیوں ہے ؟

مجھے بھی پتہ ہے آپ کو بھی پتہ ہے کہ سگریٹ پینے سے کینسر ہوجائے گا شرا ب پھیپھڑے گال دے گی ،ہیروین موت ہے ۔تو پھر ایک انسان جانتے بوجھتے اپنے لیے ایک سلگتی سسکتی موت کا انتخاب کیوں کرتاہے ۔وہ اپنے حواس سے بیگانہ کیوں ہوجانا چاہتاہے ۔اور زندگی جیسی عظیم نعمت کو کیوں ٹھوکر مارکر نشے کی ذلت آمیز وادی میں پاؤں رکھ دیتا ؟جس کا انجام بلا آخر ایک سسکتی موت ہے ۔میرے مشاہدے میں آیاہے کہ جولوگ دوسروں کو نشے سے بچنے کی تاکید وتلقین کرتے تھے وہ لو گ بھی میں نے اس انجام کا شکار ہوتے دیکھے ہیں ۔کیوں ؟آخر کار ناصح بھی اس کا شکار کیوں ہوگیا ۔جس طرح نشے کی کئی اقسام ہیں ایسے ہی نشیوں کی بھی کئی اقسا م ہیں جس طر ح دیگر عام جسمانی بیماریاں مثلا نزلہ زکام بخار سے لے کر پیپاٹائٹس کینسر ایڈز تک ہیں ایسے ہی نشے کی بیماری کی چھوٹی بڑ ی کئی اسٹیجز اور اقسام ہیں ۔لیکن ہمارا بنیادی سوال وہی بنتا ہے کہ بندہ نشے کا شکار کیوں ہوتاہے ؟نشیوں کی ایک قسم و ہ وشوقین نوجوان ہیں جو مست ماحول میں جینا چاہتے ہیں ۔جو محض وقتی انجوائے منٹ کی خاطر اس بری لت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔نشے کے عادی افراد کی ایک بڑی قسم بے چنی اینیگزائٹی کے مریض ہوتے ہیں خاص طو ر پر کالجز اور یونیورسٹیز کے طالب علموں کی ایک بڑی تعدا د بے چینی کا شکار ہوتے ہیں جس میں یونیورسٹی وکالجز کا ماحول امتحانات کا خوف اور سٹریس ،مشاہدے میں آیا ہے کہ بے چینی اور اضطراب کا شکارعموماًپڑھے لکھے اور حساس لوگ ہوتے ہیں جو معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کو دیکھ کر گھٹن کا شکار ہوجاتے ہیں ۔جس میں خاص طور پر معاشرتی رویے اور قریبی رشتوں کی بے حسی قابل ذکر ہے ۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ اپنوں کی بے حسی فرد کو نشے کی ذلت کی عمیق گہرائیوں میں پھینک دیتی ہے ۔دولت کی دوڑ نے انسان کو انسان سے دور کر دیاہے اور ہماری خوبصورت معاشرتی روایات کا امین وہ جذبہ جو دکھ در د کے وقت ایک دوسرے کا دارو بن جایا کرتا تھا اسے ہم نے کہیں گم کر دیا۔

نامور رائٹر اشفاق صاحب جب عید کے روز تھانے دار کو عید ملنے تھانے چلے گئے تو تھانے دار نے روتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہی نہیں آرہا کہ ہمیں بھی کوئی بغیر غرض اور مطلب کے عید ملنے آسکتاہے ۔ موجودہ دور میں خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبہ میں اور با لعموم دیگر شعبہ ہائے زندگی میں جو کمرشل ازم کی لہر آئی ہے۔ اُس نے پوری سوسائٹی کو متاثر کیا ہے اور بے حسی کی داستانیں رقم کی ہیں۔جو ہمارے معاشرے کو تیزی سے اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے ۔پھر ایک کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جو کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر کچھ کر نہیں سکتے اور نشہ شروع کر دیتے ہیں نوجوانوں میں بے چین اور اضطراب کی بڑی وجہ محبت میں ناکامی بھی ہے اور ایک کثیرتعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جومعلومات تور کھتے ہیں لیکن حقیقی علم سے نابلد ہیں ۔سب سے بنیاد ی چیز جو ہے وہ ہے اپنے پیشن سے دوری لفظ پیشن اپنے اندر وسیع معنی رکھتاہے آسان لفظوں میں سمجھ لیں کہ جس فطرت پر اﷲ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیاہے ا س سے دوری یاناو اقفیت ہے ۔ہماری فطرت مختلف ہنر وکمال کی صورت کوکتی ہے ۔اپنا اظہار کرتی ہے مثلا کوئی بائے برتھ انجینئر ہے اﷲ نے ٹیکنیکل ذہن دیا ہے کوئی بائے برتھ رائیٹر ہے شاعر ہے ڈاکٹر ہے ٹیچر ہے سیاستدان ہے یا پھر مبلغ ہے ۔تو ہم اپنے اس پیشن کو ڈسکور نہیں کر پاتے یا پھر اس پر عمل پیرا نہیں ہوپاتے جس کا نتیجہ بے چینی واضطرا ب کی صورت نکلتاہے اب یہا ں پر بڑا باریک نقطہ نکلتاہے ۔کہ ایک حوالے سے یہ اضطراب ہے توبڑا اچھا اگر اس کا مثبت استعمال کیاجائے جیسے غصہ اپنے اند بے پناہ طاقت رکھاہے اسی اطرح اضطراب بھی انسان کو کچھ بڑا کرنے پر مجبور کرتا ہے جیسے حضرت اقبا ل نے فرمایا کہ ـ’’تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں ــ‘‘ اب فرد اپنی لاعلمی اور ذہنی انتشار کی وجہ سے اور رہنمائی کی کمی کی وجہ سے اس کو مینج نہیں کر پاتا ۔اور نشے کی آغوش میں پناہ لینے پر مجبور ہوجاتاہے ۔گزشتہ سطور میں ہم لفظ پیشن کا ذکر کررہے تھے تو اپنے پیشن کو ڈسکور کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس کام کوکرتے ہوئے ہم زمان ومکاں سے بے خبر ہوجائیں ہمیں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہے وہی ہمارا شوق ہے پیشن ہے ۔

’’پاوئلوکویلہو‘‘کہتاہے جہاں تمہارا د ل ہے وہیں تمہارا خزانہ ہے ۔پس اس خوشی کے خزانے کو پانے کیلئے ضروری ہے ہم اپنے آپ کو جانیں اب جو لوگ جان نہیں پاتے یا جاننے کے بعد عمل پیرا نہیں ہوپاتے یہ لوگ بھی بلا آخر نشے کا شکارہوجاتے ہیں پھر ضمیر کی خلش جو اندر ہی اندر کچوکے لگاتی رہتی ہے ۔ انسان وقتی سکون کیلئے سگریٹ سلگا لیتاہے ۔اب یہ خلش پر منحصر ہے کہ سگریٹ سادہ سے کام چلے گا یا پھر بھرے ۔

سب سے بڑی وجہ انسان کی بے مقصدیت ہے جو اسے گمراہ کردیتی ہے آج کا انسان خود فراموشی کے ایسے دور میں داخل ہوگیاہے جہاں اس نے خود کو کھودیاہے ۔یہ ساری دنیا کو پانا چاہتاہے اس کائنات کے چھپے اسرار کو جاننا چاہتاہے مگر اپنے وجود کی سلطنت اور جہان ذات سے بے خبر ہوگیاہے ۔ زندہ رود میں جاوید اقبا ل لکھتے ہیں اقبال فرماتے ہیں کہ ’’میرے آباؤ اجداد اس سوچ میں دنیا سے چلے گئے کہ خدا کیاہے ۔اور میں اس فکر میں گم رہتاہوں کہ انسان کیاہے ۔‘‘

تو انسان نے اس شہر ذات کے اندر جھانکنا بند کردیاہے جس کے دروازے اندر کی طرف کھلتے ہیں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

’’کہ جان لو میں نے دلوں کا سکون اپنی یاد میں رکھا ہے ‘‘دوسر ی جگہ ارشادہے کہ ’’ اٹھتے بیٹھے لیٹتے کروٹ لیتے اﷲ کو یا دکرو ۔‘‘

جس کی صوفی بزر گ سلطان باہو نے اس طرح تشریح کی ہے

’’جو دم غافل سو دم کافر ‘‘پس ہمارے دل کا اپنے رب سے غافل ہوجانا ہی ہماری رو ح کی بیماری کا سبب بنا ہے اور ہمارا بیمار دل اور روح اپنی بے چینی اور تکلیف کو دور کرنے کیلئے وقتی سکون حاصل کرنے کے لیے مختلف نشوں کا شکا رہوجاتے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nadeem Malik

Read More Articles by Muhammad Nadeem Malik: 3 Articles with 1344 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Oct, 2018 Views: 296

Comments

آپ کی رائے