سوداگرانِ فن

(واجد نواز ڈھول , Bhakkar)
دولت کمانے کی خواہش نے ادب کی پرورش اور بڑھوتری پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ چنانچہ موجودہ دور کے مشاعرے بھی اسی رنگ میں نظر آتے ہیں، ایک طرف وہ شعراء ہیں جنہیں شاعری کی خداداد صلاحیت ملی ہے، جن کی شاعری مشاعروں کو اعتبار بخشتی ہے ۔ جن کے کلام میں ادب، فصاحت ، بلاغت ، قدامت ، جدت ، احوال سے مطابقت اور وہ تمام خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو ایک عمدہ کلام کا حصہ ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو فطری طور پر شاعر تو نہیں لیکن شوق کی تکمیل میں مگن رہتے ہیں۔ میری طرح اُن کے کلام میں ناپختگی ، عروض کی ناہمواری اور ردیف و قافیہ میں توازن نہیں ملتا ۔

نقشہ ضلع بھکر

دریاخان سے بھکر تک کا موٹر سائیکل پر سفر بظاہر آسان مگر حقیقت میں کافی پیچیدہ اور کٹھن ہے۔ ٹریفک کا بے ہنگم بہائو، ٹوٹی پھوٹی سڑک، متعدد مقامات پر گڑھے اور پھر رکشوں کی دھکم پیل ایک نارمل انسان کے لیے وقتی امتحان ثابت ہوتی ہیں۔ مگر اس امتحان میں اگر کئی سالوں سے بچھڑے کسی دوست سے ملاقات ہوجائے تو یقینا سفر کی تمام سختیاں سہل ہوجاتی ہیں۔ دریاخان سے بھکر واپسی پر ایک ایسے ہی بچھڑے ، اور ادب و سخن سے جنون کی حد تک لگائو رکھنے والے دوست سے ملاقات ہوگئی۔ ملتے ہی سرائیکی کے دو شعر سنا کر میرا سواگت کیا۔ بیس منٹ کی '' طویل '' ملاقات میں اُن کی طبعیت، مصروفیت اور ازواجی حال جاننے کے بعد اجازت طلب کی تو موصوف نے دودھ پتی چائے کا ایک کپ تھماتے ہوئے شکوہ کیا کہ آج کے دور میں عوام کا کم ہوتا ادبی ذوق اور شعراء کی غیر سنجیدگی انتہائی پریشان کن ہے۔ ارادہ تھا کہ علاقے میں مشاعرہ کروائوں مگر شعراء کی فیس اور عوام کی عدم دلچسپی دیکھ کر پیچھے ہٹ گیا۔

یہ بات میرے لیے کوئی نئی نہیں تھی۔ میں اس طرح کی بے شتر مہاری دیکھ چکا تھا۔ بھکر مشاعرہ پڑھنے کے لیے آنے والے شعراء کے ناز و نخرے اور فیس کی ڈیمانڈ ۔۔۔ الامان ۔۔۔ اتنے نخرے تو شاید نئی نویلی دلہن بھی نہیں کرتی ہوگی۔ دولت کمانے کی خواہش نے ادب کی پرورش اور بڑھوتری پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ چنانچہ موجودہ دور کے مشاعرے بھی اسی رنگ میں نظر آتے ہیں، ایک طرف وہ شعراء ہیں جنہیں شاعری کی خداداد صلاحیت ملی ہے، جن کی شاعری مشاعروں کو اعتبار بخشتی ہے ۔ جن کے کلام میں ادب، فصاحت ، بلاغت ، قدامت ، جدت ، احوال سے مطابقت اور وہ تمام خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو ایک عمدہ کلام کا حصہ ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو فطری طور پر شاعر تو نہیں لیکن شوق کی تکمیل میں مگن رہتے ہیں۔ میری طرح اُن کے کلام میں ناپختگی ، عروض کی ناہمواری اور ردیف و قافیہ میں توازن نہیں ملتا ۔ اور تیسری جماعت ان لوگوں کی ہے جنہیں قدرت نے آواز کا حسن بخشا ہے اور وہ قدرت کے اس عطیہ سے خاطر خواہ فائدہ اٹھارہے ہیں ۔ زبان کے اسلوب ، اس کی نزاکتوں سے ناواقفیت اور کلام کی خوبیوں اور خامیوں میں فرق نہ جاننے والے سامعین سے ان کو داد و تحسین بھی خوب ملتی ہے ۔

مذکورہ بالا تین قسموں میں پہلی قسم ہی درحقیقت مشاعروں کی جان ہے اور ان سے ہی زبان وادب کی پہچان ہے۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں، لیکن تیسری قسم کے لوگ زبان وادب اور شاعری کے مجرم ہیں اور مشاعروں کو ان کے وجود سے صاف ستھرا رکھنے کی ضرورت ہے۔لوگوں کے سامنے اچھا ادب اور اچھا کلام ہی پیش کیا جانا چاہیے اور صاحب کلام کو اپنا کلام خود پیش کرنا چاہیے، لوگ سنتے سنتے اس بات کو سمجھنے لگیں گے اور اس طرح لوگوں میں اچھا ذوق پیدا ہوسکے گا۔
وہ مشاعرے جو عام طور پر دیہاتوں میں منعقد کئے جاتے ہیں ان میں نہ ادب کی خدمت کا جذبہ ہوتا ہے اور نہ لوگوں کی بھیڑ ادب سیکھنے آتی ہے، بلکہ مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ ایسے مشاعروں سے ادب کا نقصان ہوتا ہے اور لوگوں کے ادبی ذوق میں خرابی آتی ہے۔چوں کہ عام لوگوں میں اخبارات اور ادبی رسائل کے مطالعہ کارجحان ختم ہوچکا ہے اس لیے ان کو مشاعروں میں پیش کیا جانے والا ادب راس نہیں آتا، خرافات ان کی دلچسپی کا سامان ہوچکے ہیں۔عوام کے مزاج کو بدلنے کے لئے گائوں میں ادبی مجلسیں منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے عام لوگوں میں مطالعہ کا شوق ہوگا اور وہ اچھے ادب اور اچھی شاعری کی طرف راغب ہوں گے۔

وہ مشاعرے جو بیرون ملک میں منعقد کئے جاتے ہیں ان میں سامعین کی اکثریت باذوق اورادب نواز ہوتی ہے۔ وہ اچھے کلام کو ہی سننا پسند کرتے ہیں ورنہ خاموش رہتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر اشرف کمال ( شعبہ اردو گورنمنٹ کالج بھکر ) کے سفرنامہ ترکی کا مطالعہ کریں تو آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ وہ لوگ حقیقی معنوں میں ادب نواز نمازی ہیں، ایک شاعر، ادیب اور لکھاری کا احترام کرتے ہیں اور اُن کا کلام کتنے ذوق سے سنتے ہیں۔

مشاعروں کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ جو جتنا نامور شاعر ہے اس کا '' ہدیہ '' یعنی فیس بھی اتنی بھاری ہوتی ہے۔بڑی فیس لینا عیب نہیں لیکن ہربار کی حاضری میں پرانا کلام پیش کرنا اور وہ بھی بغیر فرمائش کے، بڑی بے ادبی ہے۔ بڑے شعراء یہ جرم بڑی جرات کے ساتھ کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے پہلی بار یہ کلام پیش کررہے ہیں۔جب معتبر شعراء ایسی حرکتوں پر اتر آئیں تو متشاعر حضرات کو معاف ہی کردینا چاہیے۔

ان تمام پہلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات بے تکلف کہی جاسکتی ہے کہ موجودہ دور میں مشاعروں کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ اصلی شاعری پیش کی جائے اوراصل شاعروں ہی کو دعوت سخن دی جائے تب جاکر ادب کے باب میں ان مشاعروں کی افادیت قائم ہوسکتی ہے ورنہ سب وقت گذاری ہے۔
یہی سوداگرانِ فن سے کہنا ہے ظفر مجھ کو
غزل کو چند سکوں کے عوض بیچا نہیں جاتا

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: واجد نواز ڈھول

Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 57 Articles with 43429 views »
i like those who love humanity.. View More
21 Oct, 2018 Views: 741

Comments

آپ کی رائے