ارض وطن کا ہیرو کیپٹن عبدالسلام شہید رحمۃ اﷲ علیہ

(KhunaisUr Rehman, Rawalpindi)

مولانا امیر حمزہ صاحب حرمت رسول ﷺ کے سپاہی ہیں۔گزشتہ کئی دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں اور روزنامہ دنیا میں ہفتہ وار کالم بھی لکھ رہے ہیں ،یہی نہیں آپ کئی کتب کے مصنف بھی ہیں اور پاک فوج اور پاکستان کے خلاف سرگرم گروہوں کے حوالے سے بھی کافی معلومات رکھتے ہیں اور اس حوالے سے کتاب بھی لکھ چکے ہیں جس کو کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔مولانا امیر حمزہ صاحب فن خطابت میں بھی ماہر ہیں جو ایک مرتبہ ان کی تقریر سن لے ان کا دیوانہ ہوجاتا ہے۔گزشتہ سال قبل راولپنڈی تشریف لائے جی ایچ کیو کے قریب ٹینچ بھاٹہ کے علاقے میں ان کا خطبہ جمعہ تھامیں بھی ان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوگیا ساتھ ان کو گائیڈ بھی مل گیا جو راستے کی رہنمائی کرسکے۔نماز جمعہ کے بعد مسجد کے قریب ہی ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔وہیں موجود ساتھیوں نے ایک بزرگ کا تعارف کروایا ،یہ تھے محترم خالد جان صاحب جن کے لخت جگر کیپٹن عبدالسلام شہید نے اس ملک کے لئے لڑتے ہوئے جان دے دی ۔اسی دوران شہیدعبدالسلام کے والد محترم خالد جان صاحب امیر حمزہ صاحب سے اصرار کرنے لگے کہ میرے گھر چلیے انہوں نے فوری دعوت قبول کرلی۔اس کے بعد ہمارا رخ کمال آباد کی طرف تھا جہاں شہید کے والد ،والدہ اور بھائی مقیم تھے ۔شہید عبدالسلام کے گھر پہنچے وہیں ،شہید کے والد خالد جان صاحب نے امیرحمزہ صاحب کو بتایا کہ میرا بیٹا آپ کا بہت پرستار تھا اس کی ڈیوٹی جب راولپنڈی میں تھی وہ عید کی نماز آپ کے پیچھے ہی ادا کیا کرتا تھا اور جب بھی آپ راولپنڈی آتے آپ کا کوئی پروگرام ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔اسی دوران شہید کی والدہ بھی آن پہنچیں ساتھ شہید کے بھائی نے کیپٹن عبدالسلام شہید کی تصاویر بھی لاکر ہمارے آگے رکھ دیں۔شہید عبدالسلام کی والدہ مخاطب ہوئیں کہ عبدالسلام کی شہادت کے بعد مجھے خواب آیا ،آواز آتی ہے ،اﷲ کے رسول ﷺ نے آپ لوگوں کو دعوت پر بلایا ہے۔میں اور خالد صاحب وہاں پہنچے تو اتنا بڑا اور خوبصورت شامیانہ لگا تھا میں بیان نہیں کرسکتی۔ہماری گوشت جس میں شوربہ تھا ساتھ روٹیاں تھیں اس کے ساتھ تواضع کی گئی۔بہت حسین خوبصورت بچہ ہماری خدمت پر مامور تھا۔نبی مکرم ﷺ سفید چادر اوڑھے تشریف فرما تھے لیکن میں حضور ﷺ کا چہرہ مبارک تو نہ دیکھ پائی۔

شہید کے والد محترم بتانے لگے کہ ’’کیپٹن عبدالسلام 20ستمبر 1980ء کو قطر کے شہر (دوحہ)میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم قطر ہی میں حاصل کی۔ 1999ء میں گورنمنٹ کالج اصغرمال سے ایف ایس سی کیا۔ بچپن سے ہی افواج پاکستان کا حصہ بننے کا شوق تھا اور یہ شوق انہیں پاکستان آرمی میں لے آیا۔ 2003میں پاس آؤٹ ہو کر سگنل بٹالین میں شامل ہو گئے۔ 2009ء میں فرنٹیئر کور پشاور میں تبادلہ ہوا۔ 2009میں ہی ان کی شادی ہوئی۔ شادی کے 8 دن بعد ہی اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے اور اپنے فرائض کو اپنی ذاتی خوشی پر مقدم سمجھا۔ میرا بیٹا بڑا دلیر اور بہادر تھا۔ خارجی دہشت گردوں کے بارے میں وہ دینی بصیرت رکھتا تھا کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ دور جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی صاحب کا تھا، وہ پاک فوج کے سالار تھے۔گزشتہ 12برسوں میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے جو علاقے شدید متاثر ہوئے ان میں سوات‘ قبائلی علاقہ جات اور وزیرستان شامل ہیں۔ ان علاقوں پر پاک فوج کے آپریشن سے پہلے دہشت گردوں نے بہت حد تک اپنا تسلط قائم کر رکھا تھا۔ جنہیں پاک فوج اور قوم نے باہم مل کر ان علاقوں سے نکال باہر کیا۔ اب بھی پاک افواج کے جوان اور افسران شمالی وزیرستان میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور پورے ملک میں دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے برسرپیکار ہیں۔

28 مارچ 2011ء کو کیپٹن عبدالسلام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دہشت گردوں کے خلاف ایک آپریشن کے لئے نکلے۔ انہوں نے اس آپریشن میں نہ صرف دہشت گردوں کو مار بھگایا بلکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود اپنے قبضے میں کیا۔ کیپٹن عبدالسلام نے جرأت اور دلیری سے اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے کامیابی سے اپنا مشن مکمل کیا۔ مغرب کے بعد دہشت گردوں نے پھر حملہ کر دیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کمپاؤنڈ میں داخل ہو گئے جہاں آپ کو دہشت گردوں کے موجود ہونے کا شبہ تھا۔ اسی اثنا میں ایک مارٹر گولا اُنہیں لگا اور وہ شہید ہوگئے۔ خالد جان صاحب کہنے لگے اس نے دوستوں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ 29مارچ 2011ء کو گھر آئے گا۔ وہ اسی تاریخ کو گھر تو ضرور آیا مگر ہیلی کاپٹر میں آیا۔ اپنی خون آلود وردی میں آیا، اوپر پاکستان کا پرچم اوڑھے ہوئے آیا۔میرے بیٹے کے جنازے میں پاک فوج کے پانچ جرنیلوں نے شرکت کی ۔مجھ سے کہا گیا آپ شہید کو گاؤں لے جانا چاہیں گے یا یہیں شہداء کے قبرستان میں لیکن میں نے گاؤں لیجانے کی بجائے اپنے بیٹے کو شہداء کی بستی میں ہی دفن کرنے کو ترجیح دی ۔وہ کہنے لگے کہ میرے بیٹے کی شہادت کے بعد آس پاس کوئی قبر نہیں تھی ۔پانچ سال بعد عالم اسلام کے عظیم ہیرو فاتح روس جنرل حمیدگل رحمۃاﷲ علیہ بھی اس دنیا کو خیر آباد کہہ گئے اور ان کو میرے بیٹے کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔میں ایک تقریب میں جنرل صاحب کے صاحبزادے عبداﷲ حمید گل کو ملا اس کو بھی میں نے بتایا کہ میرے بیٹے کی شہادت کے بعد اس کے پہلو میں کو ئی قبر نہیں تھی لیکن اس کی شہادت کے پانچ سال بعد جنرل صاحب کو یہاں دفن کیا گیا۔میرے بیٹے کو پاک فوج کی طرف سے ’’تمغہ بسالت‘‘سے نوازا گیا اور اس کی طرف سے جو مراعات ملیں وہ میں نے شہید کی بیٹی کے نام کردیں اور جو رقم وغیرہ تھی اس سے چند مرلے کا گھر بنا کر ہم دونوں گزر بسر کررہے ہیں ساتھ چھوٹا سا مدرسہ بھی بنایا ہے جہاں محلے کی بچیوں کو دینی تعلیم دی جاتی ہے اور سلائی کڑھائی سکھائی جاتی ہے ۔مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے اس نے اسلام کیلئے ملک پاکستان کے لئے اپنی جان کا نذارانہ پیش کیا۔

قارئین!یہ وہ دور تھا جب کسی کو خوارج کے بارے میں اتنی معلومات نہیں تھیں ۔بہت کم لوگ تھے جو یہ جانتے نہیں تھے کہ دہشت گردوں گا اسلام سے کوئی تعلق ہے یا نہیں ۔کیپٹن شہید کے والد نے بھی بتایا کہ جب ان کا بیٹا شہید ہوا بہت سے لوگوں نے طعنے دیے کہ آپ کا بیٹا شہید نہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ لڑا۔لیکن آج سب کے سامنے حقیقت کھل گئی ہے کہ دہشت گرد بدترین لوگ ہیں ان کا اسلام کے نام سے کوئی تعلق نہیں ۔ان کے بارے تو نبی رحمت ﷺ نے بھی فرمایا مسلمانوں کو کافر کہیں گے خود کو مومن سمجھیں ۔دین اسلام کے امور ادا کریں گے یعنی قرآن کی تلاوت کریں گے ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔ان کو آپ ﷺ نے جہنم کا کتاقرار دیا ۔آج فتنہ تکفیر سے متعلق عوام کے سامنے جو حقیقت کھل کر سامنے آئی جو لٹریچر گھر گھر پہنچا اس کے لیے میں محسن پاکستان حافظ محمد سعید صاحب امیر جماعۃ الدعوۃ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مختلف کتابیں لکھیں اور عوام کو بتایا کہ پاکستان میں جہاد کے نام پر لڑنے والے جہادنہیں فساد پھیلا رہے ہیں۔

ان دہشت گردوں کے خلاف پاکستان ابھی بھی برسرپیکار ہے اﷲ تعالی جو اس معرکہ میں شہید ہوچکے ہیں ان کے درجات کو بلند فرمائے اور جو لڑ رہے ہیں ان کی مدد فرمائے اور ملک عظیم پاکستان کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے ۔آمین

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: KhunaisUr Rehman

Read More Articles by KhunaisUr Rehman: 28 Articles with 9763 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Oct, 2018 Views: 399

Comments

آپ کی رائے