گدھا

(ABDUL BARI, Muzzafar Garh)

گدھا ایک مشہور و معروف جانور ہے گدھے کو عربی میں’’ حمار‘‘،فارسی میں خر اور انگلش میں Donkey کہتے ہیں ویسے گدھے کو جو مرضی کہ لیں اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ رہتا تو وہ گدھا ہی ہے ۔گدھے عام طور پر بے وقوف ہوتے ہیں اور خاص طور پر وہ ـ’’گدھے ‘‘ ہی ہوتے ہیں جو گدھا بے وقوفی کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو اُسے اصطلاح میں ’’کھوتا‘‘ کہتے ہیں ویسے گدھوں سے زیادہ یہ اصطلاح انسانوں کے لیئے استعمال کی جاتی ہے جبکہ بعض انسانوں کے لیئے تو ’’خر دماغ ‘‘کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے

آپ گدھے سے دشمنی رکھیں یا نہ رکھیں گدھے کو آپ سے دشمنی ضرور ہوتی ہے وہ جانتا ہے کہ آپ اُس سے’’گدھوں ‘‘کی طرح کام لیں گے اس لیئے وہ آپ کو پرے رکھنے کی ہر ممکن کوشش ضرور کرتا ہے۔
گدھے خوشی اور ناراضگی کا اظہار ایک ہی طریقے سے کرتے ہیں یہ پتہ چلانا مشکل ہوتا ہے کہ گدھا اس وقت خوشی کا اظہار کر رہا ہے یا ناراضگی کاــ!ایسی کیفیت میں وہ بے قابو ہو جاتا ہے اُلٹی سیدھی ٹانگیں چلاتا ہے مشہور زمانہ ’’ڈھینچوں ڈھینچوں‘‘کی آواز نکالتا ہے اور حسب ضرورت ’’دولتیاں ‘‘بھی مارتا ہے۔ایسے موقع پر اگر گدھا آپ کو دولتی رسید کر دے تو یہ تعین کرنا آپ کا کام ہے کہ وہ اس وقت خوش ہے یا ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے؟

گدھے اگر کسی ریڑھی میں جتے ہوئے ہوں تو ایک سمت میں چلتے رہتے ہیں اور اگر گدھا رسی تڑوا کر بھاگ جائے تو اسے پکڑنا نہ صرف مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ پتہ چلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اس طرف آ رہا ہے یا جا رہا ہے

گدھوں کو جب تک تنہا رکھا جائے تو وہ ٹھیک رہتے ہیں دوسرے گدھوں کو دیکھتے ہی وہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔اب نجانے وہ ایک دوسرے کو اپنی دکھ بھری داستانیں سناتے ہیں یا انسانوں کی طرف سے کیئے گئے مظالم پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں مگر ایک بات ضرور ہے کہ اس موقع پر انسان ان سے خائف ضرور ہو جاتا ہے۔

گدھا گھاس کھاتا ہے مگر’’کوئی اسے گھاس نہیں ڈالتا‘‘۔گدھوں کو اگر کوئی چیز سدھا سکتی ہے تو وہ ڈنڈا ہے۔آپ لاکھ زور لگا لیں اپنی بات نہیں منوا سکتے مگر ڈنڈا دیکھتے ہی وہ سیدھا ہو جاتا ہے۔

گدھوں کو بے کار ہرگز مت جانیں یہ بہت کام کے ہوتے ہیں اور پاکستانی عوام کی ’’خر خوراکی‘‘ کی بدولت آج کل ویسے بھی ان کی بہت مانگ ہے اور خطرہ ہے کہ کہیں یہ نا پید نہ ہو جائیں ۔

گدھے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک جنگلی گدھے دوسرا گھریلو گدھے۔ جنگلی گدھے تو ہم نے نہیں دیکھے البتہ گھریلو گدھوں سے سبھی واقف ہیں ہمیں تو آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گدھا ایک پالتو جانور ہے یا فالتو جانور ہے ۔اگر آپ ایک گدھے کو دیکھ لیں تو سمجھ لیں کہ آپ نے سارے گدھے دیکھ لیئے ہیں کیونکہ سبھی گدھے ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ممکن ہے کہ ایسا بھی ہو آپ کسی گدھے کو دیکھ کر کہیں کہ یہ گدھا تو میں نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے اور ہو سکتا ہے کہ گدھا بھی آپ کے بارے میں یہی سوچ رہا ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ABDUL BARI
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Oct, 2018 Views: 396

Comments

آپ کی رائے