عوام پر مہنگائی کا بڑھتا ہوا بوجھ

(Roshan Khattak, Peshawar)

 گذشتہ عام انتخابات میں پاکستانی عوام کا پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دینے اور مسندِ اقتدار تک پہنچانے کی سب سے بڑی وجہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی وہ تقاریر اور منشور تھا ،جس میں انہوں نے ایک نئے پاکستان اور واضح تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔عمران خان کی ساری کی ساری سیاست تبدیلی کے ایجنڈے سے جڑی ہو ئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ عوام نے عمران خان سے بہت سارے توقعات،امیدیں اور سہانے خواب دل و دماغ میں جڑ لئے۔عوام توقع کر رہی تھی کہ مسندِ اقتدار تک پہنچنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ہی عمران خان ایک ایسا اعلان کر دینگے ۔جس سے غریب عوام کو فوری ریلیف ملے گا مگر یہاں تو ’’ الٹی ہو گئیں سب تد بیریں،کچھ نہ دوا نے کام کیا ‘‘ ریلیف ملنے کی بجائے تکلیف مِلی۔بنیادی روزانہ کی اشیائے ضرورت کے ریٹ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔گیس کی قیمت میں اضافہ کرنے اور ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوا۔سینکڑوں درآمدی اشیاء پر ٹیکس میں اضافہ کرنے سے مہنگائی میں مزید تیزی آئی ۔دودھ پر پچیس فی صد،دہی پر بیس فی صد،پنیر پر پچاس فی صد،شہد پر تیس فی صد سرامیکس مصنوعات اور جوتوں پر چالیس فی صد اور اسی طرح دوسرے بے شمار چیزوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا۔

تحریکِ انصاف اگر انصاف کرتی تو اپنے وعدوں کو پورا کرتی اور مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف فراہم کرتی مگر افسوس صد افسوس کہ موجودہ حکومتی اقدامات سے غریب عوام کے مسائل کم ہو نے کی بجائے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔جس کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔شہری پریشاں حال ہیں۔وزیرخزانہ اسد عمر صاحب کا کہنا ہے کہ تین سال رن وے پر رہینگے اسکے بعد اڑان ہوگی گویا عوام
کو کہا جا رہا ہے کہ تین سال مزید صبر کرو۔پی ٹی آئی کے کسی ورکر سے موجودہ صورتِ حال کا تذ کرہ کریں تو وہ بھی صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ عوام بیچارے تو گذشتہ کئی سالوں سے صبر ہی صبر کر رہے ہیں اب صبر کرتے کرتے تھک چکے ہیں انہوں نے عمران خان کو اپنا مسیحا سمجھ کر ووٹ دیا مگر مسیحا نے اپنی پہلی جو Doseدی وہ بڑی کڑوی اور بے اثر نکلی۔

بقولِ شاعر ’’بہت دنوں سے میرے بام و در کا حصہ ہے۔میری طرح یہ اداسی بھی گھر کا حصہ ہے ‘‘یوں محسوس ہوتا ہے کہ مایوسی، پریشانی اور بڑھتی ہو ئی مہنگائی پاکستانی عوام کے مقدر کا حصہ بن گیا ہے۔جب وہ وزیرا عظم عمران خان کے زبانی یہ سنتے ہیں کہ پولیس اور بیو رو کریسی حکومت سے تعاون نہیں کر رہی ہے تو ان کے مایوسی میں مزید اضافہ ہو جاتاہے کیونکہ وزیراظم ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے وہ جو کرنا چاہے کر سکتا ہے اگر وہ پولیس یا بیو رو کریسی کو ٹھیک نہ کر سکے تو یقینا یہ ان کی نا اہلی سمجھی جائیگی۔حکومت کا یہ کہنا کہ سارے مسائل گزشتہ حکومت کے پیدا کردہ ہیں، ایسا کہنا بجا سہی، ایسا ہی ہو گا مگر آپ کا انتخاب اسی لئے تو کیا گیا ہے کہ آپ ملک لوٹنے والوں ، کرپشن کرنے والوں کو پھانسی پر چڑھائیں یا بقول آپ کے ان کے پیٹ پھاڑ کرکھا یاپیا ان سے نکالیں،عوام کو اس پر اعتراض نہیں ،عوام کو ریلیف چاہئیے ۔ان کو روزگار چاہئیے، ان کو دووقت کی دال روٹی چاہئیے، ان کے بچوں کو سستی اور معیاری تعلیم چاہئیے۔اب تو حجروں،مسجدوں اور چوپالوں میں یہ باتیں ہونے لگی ہیں کہ اگر غریب پاکستانیوں کے زخموں کا مداوا کرنے کی بجائے مہنگائی کا سونامی ہی لا نا تھا تو اس سے سے تو پھر پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کی حکومت ہی بہتر تھی۔عام آدمی کو وزیر اعظم عمران خان کی نیّت پر آج بھی کو ئی شک نہیں ،وہ یقینا پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں مگر انکو پاکستان کی اقتصادی صورتِ حال اتنی الجھی ہو ئی اور گھمبیر مِلی ہو ئی ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اسے کیسے سلجھایا جائے۔بوجہ ازیں وہ ابھی تک عوام کو ایسی گائیڈ لائن یا پالیسی بھی نہیں دے سکے کہ ان کا حو صلہ برقرار رہے اور کل کے انتظار میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے،ضمنی الیکشن کا نتیجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ پاکستان تحریکِ انصاف سے خو ش نہیں ہیں۔

بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ عمران خان مرّوجہ طریقہ کار بروئے کار لاتے ہوئے یا موجودہ قانون کے دائرے میں رہتے ہو ئے کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔انہیں موجودہ قانون میں بعض اہم تبدیلیاں لا کر پاکستان کی لو ٹی ہوئی دولت کو واپس لانا چاہئے۔

اگر صرف ایک سو پاکستانی لٹیروں کی دولت باہر ممالک سے عمران خان وطنِ عزیز میں واپس لانے میں کامیاب ہوجائے تو پاکستان کا تمام تر قرضہ واپس کیا جا سکتا ہے ۔مگر اس کے لئے انگلیاں ٹیڑھی کرکے گھی نکالنا پڑے گا، سیدھی انگلیوں سے گھی ہر گز نہیں نکلے گا۔

وزیراعظم عمران خان کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ عوام پر مہنگائی کا بڑھتا ہوا بوجھ ان پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کر رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے ایک ایسی ٹھوس اور جرات مندانہ پالیسی تیار کی جائے کہ پاکستان ہی سے باہر منتقل ہونے والا کھربوں کا سرمایہ پاکستان واپس لایا جائے۔ آئی ایم ایف یا دیگر ممالک سے لیا ہوا قرضہ پاکستان کو کبھی بھی اپنے پا ؤ ں پر کھڑا نہیں ہو نے دے گا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 263 Print Article Print
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 237 Articles with 122633 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More

Reviews & Comments

Language: