آئی ایس آئی پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے

(Tahir Durrani, )

اﷲ کریم نے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات بناکر دنیا کی تمام مخلوق پر فوقیت دی پھر بے شما ر نعمتوں کو انسان کے لیے پیدا فرمایا تا کہ وہ اِن سے لطف اندوز ہو سکے اور اپنی زندگی کو خوبصورت اور آسانی کے ساتھ گزار سکے۔ جیسے جیسے انسان ترقی کرتا گیااس کے ساتھ ساتھ مسائل بھی پیدا ہوتے گئے جس پر انسان نے اﷲ کی مدد اور عقل سلیم سے مسائل کے حل بھی تلاش کیے اور امن کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لایا۔پیارے آقا کریمﷺ نے تمام انسانوں کو برابر کا رتبہ دیا اور فرمایا۔ کسی انسان کو کسی دوسرے پر کوئی فوقیت نہیں اﷲ کے نزدیک زیادہ وہی ہے جو متقی اور پرہیز گار ہے۔آپ ﷺ نے رنگ، نسل قوم و فرقہ سب کی نفی کی اور کہا سب انسان برابر ہیں ۔انسانی حقوق میں سب سے پہلا اور بنیادی حق انسان کے جان و مال کی حفاظت اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت ہے ۔انسان کی جان سے بڑا اور قیمتی اثاثہ اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے ۔ ’’ جس نے ایک انسان کا قتل کیا گویا اُس نے پور ی انسانیت کا قتل کیا اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اُس نے پور ی انسانیت کی جان بچائی۔

پاکستان 14 اگست 1947ء کو معرض وجود میں آیا ، پہلے دن سے ہی بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اسے ختم کرنے کی منصوبہ سازی کر رہا ہے اور وقتاََ فوقتاََ جارحیت کا مظاہرہ بھی کرتا رہتا ہے اورلائن آف کنٹرول پر گولہ باری کر کے نہتے پاکستانیوں کو شہید بھی کرتا آرہا ہے جبکہ پاکستان آرمی کے جوان اس کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں ۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو ، بھارت ، اسرائیل ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو بالکل پسند نہیں اور وہ اسے نقصان پہنچانے کے لیے نئی نئی تراکیب استعمال کرتے آرہے ہیں ، آزادی کے ایک سال بعد ہی ایک ایسے ادارے کی اشد ضرورت محسوس کی گئی جو دشمن کی چالوں اور اُن کے ناپاک عزائم کی خبر لے سکے ۔ کیوں کہ دشمن کی چالوں سے خبردار رہنا اور دشمن کی خبر رکھنے کے لیے قرآن و سنت میں اسے بالکل جائز قرار دیا گیا ہے ، لہذا 1948 میں ایک ایسے ادارے کی تشکیل ہوئی جس کے بارے بھارتی ادارے ’’را‘‘ کے سابق چیف اے ایس دولت نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستانی کی خفیہ ایجنسی ’’آئی ایس آئی ‘‘ دنیا کی بہترین ایجنسی ہے ۔اور بطور پاکستانی ہمیں اپنے اس خفیہ ادارے پر ناز اور بھروسہ ہے کہ اس کے بہادر جوان پاکستان کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کی پراہ کیے بغیر مستعد کھڑے ہیں۔

دشمن کی خبر رکھنے کے بارے بے شمار واقعات ہیں ، دشمن کی جاسوسی کرنا قرآن و سنت کے مطابق درست ہے ، اسلام میں سراغ رساں ایجنسی کے سب سے پہلے سپہ سالار حضرت عمر بن خطاب ؓ ہیں ۔ جب نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیارے دوست یار غارحضرت ابوبکرصدیق ؓ غار ثور میں تھے تو سب بچوں میں سب سے پہلے یہ فریضہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے بیٹے حضرت عبداﷲ بن ابوبکر ؓنے سر انجا م دیا وہ دن بھر کافروں کی باتیں سنتے ان کے پروگرام اور مقاصد کی خبر آپﷺ کو دیتے اور عورتوں میں حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ کافر عورتوں کے بارے معلومات فراہم کرتیں ۔ایک اور واقع جنگ بدر کا آپ کی نذر کرتا ہوں جب نبی مکرم حضر ت محمد ﷺ بدر کے مقام پر پہنچے تو آپ جاننا چاہتے تھے کہ دشمن تعداد میں کتنے ہیں ؟ صحابہ کرام ایک چرواہے کو پکڑ کر آپﷺ کی خدمت میں لائے ۔ آپﷺ نے اس چرواہے سے دریافت کیا کہ کفار کی تعدادکے بارے کیا معلومات ہیں ؟ تب اُ س چرواہے نے کہا مجھے معلوم نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا ان کو کھاتے دیکھا وہ کیا کھاتے ہیں اُس نے بتایا وہ روزانہ 9-10 اونٹ ذبح کرتے اور کھاتے ہیں تب آپ ﷺ فرمایا ایک اونٹ 100 آدمیوں کے لیے ہوتا ہے لہذا 10 اونٹ مطلب کفار کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے۔

پوری دنیا پاکستان کے جوہری اثاثوں کی مخالف ہے اور خاص طور پر بھارت کو پاکستان کا جوہری پروگرام کسی صورت ہضم نہیں ہو رہا ۔ بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہمارے آئی ایس آئی کے جوان ہر وقت ہر لمحہ ہوشیار رہتے ہیں اور وہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی سرحدوں کی حفاظت کے لیے تیار کھڑے ہیں ۔ کسی بھی ملک کے تحفظ کی ضمانت اس کے ادارے ہوتے ہیں پاکستان کا خفیہ ادارہ آئی ایس آئی ایک سروے رپورٹ کے مطایق دنیا کا بہترین اور نمبر ون ادارہ ہے ، مغربی دنیا ہو یا امریکہ سب کے پاس جدیدترین ٹیکنالوجی موجود ہے بے شمار وسائل جب کہ پاکستان کے پاس محدود وسائل ہونے کے باوجود ہمارا خفیہ ادارہ آنکھوں میں رڑکتا رہتا ہے ، یقین مانیں اگرخدانخواستہ اس ادارے کو کچھ ہو جاتا ہے تو پاکستان کی بقا ء بھی خطر ے سے خالی نہیں ۔اس ادارے کے جوان اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ سر گرم ہو کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کھڑے رہتے ہیں اور دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیتے ہیں چاہے انہیں اپنی جان کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑ جائے ۔

2014-2015 کی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی کو دنیا کی بہترین ایجنسی میں شمار کیا گیا، امریکہ بھارت کو پاکستان کی یہ کامیابی کہاں ہضم ہو سکتی ہے ۔امریکہ جنگی پہلوان کے طور پر ماناجاتا ہے اور کسی محاذ پر ہار نہیں مانتا وہ بھی آئی ایس آئی کی افغانستان کی پہلی اور دوسری جنگ میں آئی ایس آئی کے کردارکا معترف ہے۔1990ء میں کراچی آپریشن میں بڑے بڑے دہشتگردوں کو جہنم کا ایندھن بنانے کاسہرا بھی ہمارے اسی ادارے کو جاتا ہے ، کبھی ہم نے سوچا ، شمالی علاقہ جات کے بلند اور آسمانوں کو چھوتے ، نوکیلے پہاڑوں پر جب دہشتگردوں نے قبضے جمالیے اودہشتگردی کی جنگ میں نہتے شہریوں کو قتل کرنے کاسلسلہ شروع ہوا تو ہمارے اسی ادارے نے اپنی خفیہ ٹیم کے ذریعے ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی پھر ان کو واصل جہنم کیا اور آج پاکستان میں امن کی شمع روشن ہوئی ۔ شائد آپ کو یاد ہو گا 26 جون 1979 ء کہوٹہ لیبارٹریز کی حفاظت پر مامور ہمارے آئی ایس آئی کے وہ جوان جنہوں نے دو غیر ملکی باشندوں کو پکڑ کر پاکستان کا ایٹمی پروگرام بچایا تھا۔ایٹمی پاور کسی بھی ملک کی امن اور ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور الحمداﷲ پاکستان ایک ایٹمی پاور ہے اور دنیا جانتی ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان دنیا کی سپر پاور بن کر ابھرے گی ۔

1979 ء میں کہوٹہ لیبارٹریز کے باہر دو لوگ کیمرہ کی مدد سے تصاویر بنا رہے تھے وہ کبھی ادھر کبھی ادھر جار ہے تھے کہ ڈیوٹی پر مامور ہمارے نوجوانوں نے محسوس کیا کوئی گڑ بڑ ہے جوانوں کی چھٹی حس نے کام کیا ہو سکتا ہے یہ جاسوس ہوں لہذا وہ ان کو پکڑ کر لے آئے ۔بھارت ، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک پاکستان کے ایٹمی پروگرا م پر نظریں ٹکائے ہوئے تھے اور وہ کسی صورت اس منصوبہ کو ناکام کرنا چاہتے تھے ۔پکڑے گئے دونوں لوگوں سے پوچھ گوچھ سے معلوم ہوا اُن میں سے ایک ’’لیوگودریرس فرانس کا سفیر ہے جبکہ دوسرا فرانسیسی سفارتخانے کا اعلیٰ آفیسر اور دونوں امریکی سی آئی اے کے ایجنٹ تھے ۔دہشتگردی کی جنگ میں امن کی بحالی میں ہمارے اس ادارے کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن بھارت ہے اور اس کے سابق چیف اے ایس دولت بھی پاکستان کے اس خفیہ ادارے کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکتا اُس نے کہا دنیا کی بہترین ایجنسی جی بی تھی جبکہ پاکستان کی آئی ایس آئی ہے۔ اس کے بہادر سپوتوں نے ہمیشہ وطن عزیز کی حفاظت کے لیے اپنے مقدس لہو کو مادر وطن پر قربان کیا۔ آج جب ہم اخبارات اور ٹی وی پر سیاسی مداریوں کی بڑھکیں سنتے ہیں اور وہ ہمارے ان مقدس اداروں کے بارے منفی پراپیگنڈہ کرتے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے ۔ وہ پاکستا ن کی عوام اور افواج پاکستان کے درمیان خلا پیدا کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ، وہ اپنی ریٹنگ بڑھانے اور اپنے آقاؤں سے آشیر باد حاصل کرنے کے لیے ہمارے اس ادارے کو جو پاکستان کے ماتھے کا جھومر اور ہمارے سر کا تاج ہے کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں جس کی کوئی بھی محب وطن شہری ہر گز اجازت نہیں دیتا ۔ یہ اپنا چورن بیچنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں لیکن اب پاکستان کی عوام میں شعور بیدار ہو چکا ہے یہ اپنی ڈگڈگی بجا کر پاکستانیوں کے دلوں سے افواج پاکستان اور اس کے ادارے کی محبت اور عقیدت نہیں نکا ل سکتے۔
پاک فوج زندہ باد ، پاکستان پائندہ باد
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Tahir Tabassum Durrani

Read More Articles by M Tahir Tabassum Durrani: 52 Articles with 25931 views »
Freelance Column Writer
Columnist, Author of وعدوں سے تکمیل تک
Spokes Person .All Pakistan Writer Welfare Association (APWWA)
Editor @ http://paigh
.. View More
24 Oct, 2018 Views: 709

Comments

آپ کی رائے