الٰہی بخش پنساری:اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا

(Ghulam Ibn-e-Sultan, Jhang)

 رخشِ حیات ازل سے پیہم رواں دواں ہے۔تقدیر کی منشا کے مطابق مظاہرِ فطرت جس انداز میں آج مرکزِ نگاہ بن رہے ہیں کل سیلِ زمان کے مہیب تھپیڑوں کی زد میں آنے کے بعد ان کی ہئیت بدل جائے گی اور کایا پلٹ جائے گی۔ اس عالمِ آب و گِل کے تمام مناظر اور ان کی ساری رنگینیاں اور رعنائیاں تاریخ کے طوماروں میں دب جائیں گی اور ہمیشہ باقی صرف اﷲ کا نام رہے گا ۔ ذاتی مصروفیات کے باعث چھے ماہ شہر سے باہر رہنے کے بعد جب میں گھر پہنچا توشہر خموشاں میں اپنے رفتگاں کو یاد کرنے اور دِل ِحزین کو ان کے درد سے آباد کرنے کا قصد کیا۔ اس مقصد کے لیے میں جھنگ کے تاریخی شہر جو اب طوفانِ نوح ؑ کی باقیات کی شکل اختیار کر چکا ہے ،کے جنوب میں واقع دو ہزار سال قدیم شہرِ خموشاں’’ فتح دریا‘‘ پہنچا ۔ایک نئی قبرکی لوحِ مزار پر درج یہ تحریر پڑھ کر میں دنگ رہ گیا :
’’ میں گناہ گار ہوں الٰہی بخش‘‘
حیف صد حیف شہر کے دیہات و مضافات میں مقیم پتھر کے زمانے کے ماحول میں زندگی کے دِن پورے کرنے والے لوگوں کا دیرینہ خدمت گاراور ضعیف سماجی کارکن الٰہی بخش پنساری جس نے اپنے غم کا بھید کبھی نہ کھولا اور اپنی نجی زندگی کے دکھوں کی سدا پردہ داری کی طویل بیماری کے دوران میں رازداری سے اپنی خودداری کا بھرم برقرار رکھتے ہوئے نہایت خاموشی سے کوہِ ندا کی صدا سُن کر ساتواں در کھول کر عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب سدھارگیا۔سال 1900میں دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان واقع ایک گاؤں دوآبہ سے کچھ دُور ایک جُھگی میں ایک جفاکش دہقان کے گھر جنم لینے والا اور زندگی بھر ستم کشِ سفر رہنے والا یہ درویش منش اور منکسر المزاج خادمِ خلق نے سال 2018 کے پہلے مہینے کے آخری دِن اس دنیا میں آخر ی سانس لی ۔ الٰہی بخش پنساری ایک خاک نشین، گم نام مگر بے حد نیک نام سماجی کا رکن تھا جس نے اپنی طویل زندگی میں ستائش اور صلے کی تمناسے بے نیاز رہتے ہوئے خلقِ خدا کی خدمت اور اصلاح ِمعاشرہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ایثار،خلوص ،دردمندی اوروفا سے مزین بے لوث محبت بھی گلاب کے سدا بہارپودے کے مانند ہے جس کی ہمہ گیر عنبر فشانیوں کاایک عالم گرویدہ ہے ۔ ہر خارکے ساتھ گلاب کے پر کشش پھولوں کی مہکار اور نکھار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گلوں کی عطر بیزی کا خزاں اور بہار کے موسم سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ علم بشریات کے ماہرین کا خیال ہے کہ زندگی کے ہراساں شب و روز میں پیہم ستم کشِ سفر رہنے والے صابر و شاکر لوگ آزمائش و ابتلا کے مہیب سناٹوں سفاک ظلمتوں میں بھی سرخ گلابوں کی مہک سے فیض یاب ہوتے رہتے ہیں ۔ قحط الرجال کے موجودہ دور میں ایسے مرہم بہ دست رہنے والے بے لوث سماجی کارکن اور مصلح کے اُٹھ جانے کی خبر سُن کر دِل بیٹھ گیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری بستیوں میں صبر و رضا اوراستغنا کے پیکر الٰہی بخش پنساری جیسی ہفت اخترہستیوں کاوجود اﷲ کریم کا بہت بڑا کرم اور انعام ہے ۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو رستگاری نہیں نوشتۂ تقدیر کی مزاحمت انسانی تدبیر کے بس سے باہر ہے ۔
اینگلو ورنیکلر امتحان پاس کرنے کے بعد نوجوان الٰہی بخش سال 1920میں دہلی پہنچا اور سات برس دہلی میں قیام کیا ۔دہلی میں طب یونانی کی تعلیم کے حصول میں جامعہ ملی اسلامیہ کے یونانی طبیہ کالج میں حکیم اجمل خان سے اکتساب فیض کیا۔ یہاں وہ دواخانہ میں بوتلوں کی صفائی ،معجونوں ،مربہ جات ،عرقیات اور شربت تیار کرنے کے کام میں دوسرے کارکنوں کی معاونت کرتا تھا ۔ دواخانہ حکیم اجمل خان کی انتظامیہ کی طرف سے ان خدمات کا اسے معقول معاوضہ ملتا تھا ۔اس کے ساتھ ہی وہ مختلف نسخہ جات کی تیاری میں بھی شریک رہتا تھا ۔دہلی میں قیام کے عرصے میں وہ باقاعدہ طبیب تو نہ بن سکا مگر پنسار کے کام میں زبر دست مہارت حاصل کر لی جسے عملی زندگی میں زادِ راہ بناکر وہ رزقِ حلال کما نے کے قابل ہو گیا۔ سال 1927میں جب حکیم اجمل خان نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا تو گھریلو پریشانیوں کے باعث الٰہی بخش طب کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں لوٹ آیا اور یہاں پنساری کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد الٰہی بخش پنساری نے وطن ِ عزیز کے جن ممتاز اطبا کے ساتھ معتبر ربط برقرار رکھا ان میں مولوی امیر الدین،نذر محمد انصاری ، خادم حسین ،علی محمد ،حکیم محمد سعید ،آفتاب احمد قرشی ،نیر واسطی ،ادریس بخاری ،محمد صدیق ،شیر محمد ،منیر حسین ،سجاد حسین،محمد شفیق ،محمد کفیل ،غوث احمد اور اﷲ بخش کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
جھنگ کی نواحی کچی آبادی دُھپ سڑی میں سال 1973میں دریائے چناب کا سیلاب پکی بربادی کاپیغام لایا ۔قیامت خیز سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں کچے گھروندے کھنڈر بن گئے اور فضا میں ہر طرف بڑی تعداد میں زاغ و زغن اور بُوم و شِپر منڈلانے لگے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں سیلاب زدگان کی بروقت امداد اور بحالی کے کاموں میں دردِ دِل رکھنے والے الٰہی بخش پنساری کے جن رفقا اور خدا ترس مخیر لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ان میں رجب الدین مسافر،عبدالحلیم ،امیر اختر بھٹی ،بختاور خان ،پہلوان تیلی، سجاد حسین ،سلطان خان ،شیر خان ، صابر انصاری ،منیر حسین، میرزارمضان اور نورا موہانہ شامل ہیں ۔الٰہی بخش پنساری کا تعلق ایک نچلے متوسط طبقے سے تھا۔اس نے شہر سے دُور ایک کچی آبادی میں سال 1950میں تھوڑی سی لاگت سے پنسار اور کریانہ کی ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔اس دکان کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں بازار سے ارزاں نرخ پر خشک جڑی بوٹیاں ، طب یونانی کے مجرب نسخوں کے مطابق تیار کی گئی ادویات اورروزمرہ استعمال کی گھریلو اشیا دستیاب تھیں۔ چھوٹے پیمانے پرکاروبار کاآغاز کرنے والی اس معمولی دکان کی غیر معمولی مقبولیت کا ثبوت یہ تھا کہ یہاں بڑے بڑے لوگ بھی جوق در جوق اشیائے ضرورت کی خریداری کے لیے آتے تھے ۔ جلد ہی ایک غریب شخص الٰہی بخش پنساری کا شمار دیہات کے انتہائی دیانت دارتاجروں میں ہونے لگا۔وہ اکثر یہ بات دہراتا کہ دانہ دانہ جمع کر کے خِرمن بنانے والے اس تلخ و تُند حقیقت سے شِپرانہ چشم پوشی کر لیتے ہیں کہ وہ دِن دُور نہیں جب ان کا یہ اندوختہ وقت بُرد ہو جائے گا اورغارت گروں کے ہاتھوں ہونے والی سوختہ سامانی کے نتیجے میں عبرت ناک تصویربن جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ الٰہی بخش پنساری بہت کم منافع لیتا بل کہ بعض اشیا پر تو نہ نفع نہ نقصان کی بنیاد پر فروخت کا سلسلہ جاری ر کھتا تھا ۔ اس کی دکان کے دروازے کے او پر ایک بورڈ لگاتھا جس پر جلی حروف میں لکھا تھا :
’’ غریباں دی ہٹی : تھوڑا منافع تے حلا ل دی کھٹی ۔‘‘
ترجمہ: غریبوں کی دکان کا کمال تھوڑا منافع اور رزق ِحلال۔‘‘
معاشرتی زندگی میں باہمی لین دین اور رقوم کے ذریعے اشیا کی خرید وفروخت کو الٰہی بخش پنساری ایک ایسی فرحت بخش فعالیت سے تعبیر کرتا تھا جو زندگی کی حقیقی معنویت کی مظہر ہے۔اس کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص یا چیز کی قدر و منزلت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ اس شخص یا چیز کی گھر میں آمد کے بعد گھر کی صورت میں کیا تغیر و تبدل رونما ہوا ہے ۔ الٰہی بخش پنساری ایک درویش منش انسان تھا جس کے دِل میں انسانیت کے ساتھ خلوص اور دردمندی کے جذبات کُوٹ کُوٹ کر بھرے تھے ۔ پنسار کی دکان پر آنے والے ہر گاہک کو وہ صدقِ دِل سے سب کی صحت اور سلامتی کے لیے دعا کرتا اور نیکی کے کام کرنے کی تلقین بھی کرتا تھا۔وہ یہ بات اچھی طر ح جانتا تھا کہ اُس نے آنے والے کو کیا دیا ہے مگر یہ راز کسی کو معلوم نہ تھا کہ پنسار کی دکان پر آنے والوں نے اس معمر پنساری کی باتوں سے کیا سبق سیکھا اور کون سی نصیحت گِرہ میں باندھی ۔امر بالمعروف ،نہی عن المنکر اور حق گوئی و بے باکی سدا اس پنساری کا نصب العین رہا ۔اگر کوئی ملاقاتی اس پنساری کی دکان سے کوئی چیز خریدے بغیر تہی دامن چلاجاتا تو وہ کوئی ملال نہ رکھتا بل کہ اسے بھی دعا دیتا ۔مادی دور کی لعنتوں کے مسموم اثرات کو دیکھ کر الٰہی بخش پنساری دِل گرفتہ رہتا تھا۔وہ اس بات پر رنجیدہ تھا کہ حرص و ہوس کے روز افزوں کاروبار سے عیاشی ،فحاشی ، بے حسی اور تن آسانی عام ہو گئی ہے ۔سرود ِعیش کے رسیا آج کے نیرو جذبات ،احساسات،حسن و جمال،خلوص و مروت ،عہد و پیمان اورمہ جبینوں کے ارمان کو بکاؤ مال سمجھتے ہیں ۔جب کوئی مصلح ان کی عیش کوشی میں کوئی مزاحمت کرتا ہے تو وہ درندے روم کو نذرِ آتش کرکے خونریزی پر اُتر آتے ہیں اوراپنی دُھن میں مگن چین کی بانسری بجاتے ہیں ۔پنسار میں الٰہی بخش پنساری کی کامیابی کا راز گاہکوں کے اس پربے پناہ اعتماد میں پنہا ں تھا۔اس کی راست گوئی اور دیانت کی بنا پر سب اس پر اعتماد کرتے تھے ۔یہاں تک کہ نو وارد اور اجنبی گاہک بھی اس کی باتوں کا یقین کرتے اور کسی بھاؤ تاؤ کے بغیر بلا تامل اس کی دکان سے ضروری اشیا خریدتے تھے ۔ الٰہی بخش پنساری کی دکان پر آنے والے صارفین اور گاہک اس معمر پنساری کو اپنا محرم راز سمجھتے تھے۔ان سب کے ساتھ الٰہی بخش پنساری اخلاق اور اخلاص سے پیش آتا تھا۔پنسار کی دکان پر آنے والے گاہکوں کو وہ اپنا اہم ترین مہمان سمجھتا ۔دکان میں گاہکوں کے پینے کے لیے ٹھنڈے پانی کا گھڑا اور مٹی کا پیالہ ہر وقت موجود رہتا ۔وہ یہ بات زور دے کر کہتا تھا کہ یہ گاہک ہی ہیں جو ایک معمولی خوانچے والے کی غیر معمولی قدر افزائی کر کے اسے قسمت کا دھنی بنا دیتے ہیں ۔ اگرگاہک نہ آئیں تو اعلیٰ درجے کے سٹور بھی ویران ہو جائیں اور ان کے مالک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں ۔وہ خوش اخلاقی کو ایک نیکی قرار دیتااور بد اخلاقی ،دشنام طرازی کو ایک تاجر کے لیے ایسی نحوست سمجھتا تھا جوتمام کاروبار کو تہس نہس کر نے کا باعث بن سکتی ہے ۔
الٰہی بخش پنساری سمجھتا تھا کہ طوفانِ حوادث میں جی کا زیاں ایسا غیر دانش مندانہ فعل ہے جو زندگی کو مستقل نوعیت کے پچھتاوے کی بھینٹ چڑھا دیتاہے ۔ دنیا کی بے ثباتی اور کارِ جہاں کے ہیچ ہونے پر اُسے یقین تھا ۔وہ اکثر یہ بات دہراتا کہ پنسار کی دکان پر گزرنے والا ہر دِن جہاں اُس کے سیلانی مزاج ،سیرو سیاحت کی تمنا اور آزاد خیالی کی راہ میں سدسکندری بن کر حائل ہو جاتا ہے وہاں اُسے یہ پیغا م بھی دیتاہے کہ ایام سے لبریز پیمانۂ عمررفتہ رفتہ خالی ہو رہا ہے ۔ اس نے تلاطم خیز موجوں میں کشتیٔ جاں کو ساحلِ عافیت تک پہنچانے کے لیے مقدور بھر جد و جہد کی ۔ اُس کا کہنا تھا کہ اپنی تسبیحِ روز و شب کا دانہ دانہ شمار کرنے والوں اور اپنے ہر عمل کا احتساب کرنے والوں کا یہ چلن کس قدر اہم ہے کہ صحیح وقت پرصحیح فیصلہ کر لیاجائے ۔جب کوئی عاقبت نا اندیش شخص غلط وقت پرکوئی غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کے تباہ کن نتائج زندگی کی تما م رُتوں کو بے ثمر اور آہیں بے اثر کر دیتے ہیں ۔وہ اس بات پر زور دیتا کہ اپنی پریشاں حالی ،درماندگی اور مصائب و آلام کی داستان ہر ملاقاتی کے سامنے بیان کرنامصیبت سے کہیں بڑھ کر اذیت و عقوبت کا سبب بن جاتی ہے ۔ مفلسی کی تیر اندازی روح کوزخم زخم اور دِلِ حزیں کو کِرچی کِرچی کر دیتی ہے۔اس کا لرزہ خیز نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہاں خانۂ دِل میں نمو پانے والی سب تمنائیں اور اُمنگیں سر اُٹھاتے ہی سبزۂ نو دمیدہ کے مانند پامال ہو جاتی ہیں ۔ الٰہی بخش پنساری کی زندگی میں کئی سخت مقام آئے مگروہ اپنی زندگی کے سانحات کے بارے کچھ بتانے پر کبھی آمادہ نہ ہوا ۔اس نے ہمیشہ یہی کہا کہ جو صدمے مجھ پر گزرے ہیں اس کا احوال کیسے بیان کیا جائے ۔ دِل کے موسم وقف ِخزاں کیوں ہو جاتے ہیں ،ا س المیے کا تعلق الفاظ سے نہیں بل کہ احساس سے ہے ۔جس جگہ آگ جلتی ہے صرف وہی جگہ اس حدت اور تمازت کو محسوس کرتی ہے ۔دکھی انسانیت کے مصائب اور دردِ دِل کو محسوس کرنے کے لیے انسان کا درد آ شنا ہونا ضروری ہے شاید اسی لیے داغ ؔ نے کہا تھا :
؂ جو گزرتے ہیں داغ ؔ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں
معاشرتی زندگی کے تضادات ،ارتعاشات اور نشیب و فراز بھی عجب گُل کِھلاتے ہیں،اس دنیا میں بعض سادہ لوح مسخرے ایسے بھی مِل جاتے ہیں جس کے پس پردہ ان کی کور مغزی ،بے بصری اور ابلہ فریبیت ،بے ضرر سادگی،کج ادائی اور کم فہمی دیکھ کر ان کی حالتِ زار پرترس آ تا ہے ۔ اس کے باوجود بزِ اخفش قماش کے یہ ابلہ درپیش حالات سے غافل سادیت پسندی کے روگ میں مبتلا اِن شیخی خورے خردمندوں ،تعلّی کرنے و الے شاطر موقع پرستوں ،بد اندیش اور مشکوک نسب کے سفہا اور بد اندیش اجلاف و ارذال سے بہ ہر حال بہتر ہیں جو سد اانسانیت کے در پئے آزار رہتے ہیں ۔ موجودہ دور میں کینہ پرورحاسدوں اور لٹیروں نے ہر طرف اندھیر مچا رکھا ہے ۔وقت کے اس سانحہ کو کیا نام دیا جائے کہ اس بے حس معاشرے میں جاہل کو اس کی جہالت کا انعام ملنے لگا ہے۔ان تلخ حالات نے حساس انسانوں کو دوہرے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔وہ حالات کی سفاکی کو دیکھ کر کڑھتے ہیں اوراس کے بعد اصلاحِ احوال کے بارے میں سوچتے ہیں مگر ان کی آوا زصدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے ۔اپنے حریفوں کی حرماں نصیبی اور ہزیمت پربغلیں بجانااور اطمینان کی سانس لے کر لمبی تان کر سو جانا بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے طوطا چشم درندو ں کا وتیرہ بن جاتا ہے ۔ الٰہی بخش پنساری اپنے احباب کو یہ سمجھاتا کہ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ سادیت پسندوں کو تہس نہس کرنا بہت کٹھن کام ہے ۔ایک باؤلے سگِ راہ کی ہلاکت پر طمانیت کا اظہارخود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ اہل ِ جہاں کو حرص و ہوس باولے پن کے روگ میں مبتلا اُس خون آشام کتیا کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جو مستقبل قریب میں اس طرح کے کئی اور آوارہ ، خونخوار اورباؤلے سگان ِ راہ کو جنم دینے والی ہے ۔ معاشرتی زندگی میں اصلاح کے لیے ہر سماجی برائی کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا از بس ضروری ہے ۔ اس دنیا میں کوئی بھی شخص نا گزیر نہیں ہے اوراس دنیا کا نظام اسی طر ح چلتا رہے گا۔اس کے باوجود کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی دائمی مفارقت کے بعد الم نصیب پس ماندگان کی زندگی کا سفر تو افتاں و خیزاں کٹ ہی جاتا ہے مگراس جان لیوا صدمے اور الم ناک سانحہ کے بعد ان کا پورا وجود کِرچیوں میں بٹ جاتا ہے ۔ الٰہی بخش پنساری بھی کیا گیا کہ صحنِ چمن بہار کے دِنوں کے لیے اورگھرو ں کے آنگن صحت و راحت کے لیے ترس رہے ہیں ۔ الٰہی بخش پنساری کی تجارت کی قابل ذکر بات یہ تھی کہ وہ رزق ِ حلال کے حصول کو عبادت سے تعبیرکرتاتھا ۔وہ اس بات پرزوردیتا تھا کہ ہر انسان کی توجہ کا محور حصول رزق ہی ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ اکثر لوگ اول طعام اور بعد کلام کے قائل ہیں۔یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ ایثار،وفا ،خلوص ،درد مندی ،فکر و خیال کی ندرت اور خوابوں کی خیاباں سازیاں سب حصول رزق کی انتھک جد و جہد کے کرشمے ہیں ۔ مادی دور کی لعنتو ں نے یہ دِن دکھائے ہیں کہ اب تو روٹیاں ہی ہر مقام اپنے وجود کا اثبات کرتی ہیں ۔ جب کسی کے گھر میں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہ ہو تو اس قسم کی تکلیف دِہ عسرت انسان کو چرخے کی مال بنا دیتی ہے ۔ الٰہی بخش پنساری کو نظیر اکبر آبادی کی نظم ’’ روٹیاں ‘‘ بہت پسند تھی ۔رزقِ حلال کی بات چل نکلتی تو وہ یہ نظم ترنم سے پڑھتا جسے سامعین نہایت توجہ سے سنتے اورسر دُھنتے تھے :
؂ پُوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
یہ مِہر و مہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے
وہ سُن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے
ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سُورج ہیں جانتے
بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں
الٰہی بخش پنساری کے معتمد ساتھیوں میں ارشد رانا، احمد تنویر ،احمد بخش ناصر ،گدا حسین افضل ،شفیع ہمدم ، سجاد حسین ، شیر خان ، غلا م علی خان چین ، اسحاق ساقی ،ارشاد گرامی ،فیروز شاہ ،منیر احمد ، رانا سلطان محمود ، امیر اختر بھٹی، احمد بخش ( چونی والا حکیم ) ،اﷲ دتہ ( ایک آنے والا حجام ) شمیر خان ، فیض کریم،کبیر خان ،معین تابش ،کبیر انور ،حاجی حافظ محمد حیات،عبدالغنی( ظروف ساز) اور ادریس شاہ شامل تھے ۔اپنے ان رفقا کے ساتھ مِل کر وہ نہایت راز داری سے خدمت خلق کے کاموں میں مصروف رہتا اور اپنے خالق کا شکر ادا کرتا تھا ۔اپنے ان وفادار اور ہم راز دوستوں کے بارے میں وہ یہ بات زور دے کر کہتا تھا کہ یہ بات تو کسی کو معلوم نہیں کہ ہماری روح اور قلب کی ماہیت کیا ہے مگر یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ مخلص احباب اور معتمد رفقا کو قدر ت ِ کاملہ کی طرف سے جو حساس دِل ، روشن دماغ ، مقدر ،ذوقِ سلیم اور دِل بینا عطا ہوتا ہے ان کی نوعیت ایک جیسی ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ قریبی ساتھیوں میں فکر ہم آ ہنگی کو عملی زندگی میں سرمایۂ افتخار سمجھا جاتا ہے ۔ ایثار ،وفا اور بے لوث محبت کی تمناکو الٰہی بخش پنساری نے سدا راحت فزا سمجھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کا خیال تھا کہ اس تمنا کے ثمر بارہونے کے لیے سب سے پہلے انسان کو خود اپنی ذات میں ان اوصاف کی نمو پرتوجہ مرکوز کرنی چاہیے ۔ ایک بے آ ب و گیاہ ریگستان میں صحرانوردی کرنے والے سرابوں کے عذابوں کے فریب خوردہ آبلہ پا مسافرجب کسی سر سبز و شاداب نخلستان میں پہنچتے ہیں تو وہ وہاں انواع و اقسام کے پھولو ں اور خوش ذائقہ پھلوں کی فراوانی کے دل کش منظر دیکھ کر ششدر رہ جاتے ہیں ۔وہ طلوع ِصبح بہاراں کے نشاط انگیز تصور اور فریب ِ خیال سے اس قدر بے خود ی اور سرشاری محسوس کرتے ہیں کہ اس کے بعد آنے والی خزاں کے سیکڑوں مناظر اورسمے کے سم کے بھیانک ثمرکو فراموش کر دیتے ہیں ۔ یارا سازندہ اسی زمانے کا ایک اداکار تھا جس نے نصف صدی تک اپنے ہی تھیٹر میں گلوکاری اور اداکاری کے فن کا مظاہرہ کر کے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔یارا سازندہ اکثر الٰہی بخش پنساری کے پاس آتا اور اسے محر م راز سمجھ کر اسے اپنے حالِ دِل سے آ گا ہ کرتا تھا ۔ الٰہی بخش پنساری کا خیا ل تھا کہ عملی زندگی میں سٹیج کے اداکار کا کردار عام آدمی سے قطعی مختلف رہتا ہے ۔ عام آدمی زندگی کے نشیب و فراز کا معمولی ادراک رکھتا ہے اس کے بر عکس اداکار آئینہ ایام میں اپنی ہر ادا کی غیرمعمولی تفہیم پر اصرار کرتا ہے ۔ الٰہی بخش پنساری قید حیات اور بند ِ غم کو یکساں نوعیت کے احساس سے تعبیر کرتا تھا ۔ ا س کاخیال تھا کہ جب تک انسان کے دم میں دم ہے غم ِجہاں اس کے ساتھ رہتا ہے ۔ زنداں میں اپنے جنوں کی شورش ختم ہونے پر مطمئن ہو جانا خام خیالی ہے۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کی مثل کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ابھی سیکڑوں دور فلک آنے والے ہیں ۔ صیاد سے مانوس ہوجانے والے جب زندان کے در وا ہو نے کی خبر سنتے ہیں تو ساتھ ہی انھیں کسی اور عقوبت خانے میں محبوس ہونے کے بارے میں اطلاع ملتی ہے۔ بے بس و لاچار اسیروں اور فقیروں کی زنجیریں اور زندان بدلتے رہتے ہیں،ساری دنیا بدل سکتی ہے،بے ضمیروں کے وارے نیارے ہوتے ہیں مگرفقیروں کا حال کبھی نہیں بدلتا۔اس کاخیال تھا کہ منافقت ،بے وفائی اور بے مروّتی کا سبب معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور بد اعتمادی ہے ۔تقدیرکے ماروں اور فراموش کردہ انسانوں کے پاس مرہم بہ دست پہنچنا سدااس کا شعاررہا۔
نا ہنجار زاد ولُدھڑ بھی الٰہی بخش پنساری کا پڑوسی تھامگر وہ اس سے دُور ہی رہتا ۔آبائی پیشے کے اعتبار سے زادہ لُدھڑ خاکروب تھا،اس کے اسلاف چُوہڑکانہ میں کتے گھسیٹا کرتے تھے ۔جہالت کی خجالت نے زادو لُدھڑکو بے غیرتی اور بے ضمیری کی دلدل میں گرا دیا۔زاد لُدھڑ منشیات فروش اور جرائم پیشہ درندوں کے گروہ میں شامل ہو گیا۔ ڈکیتی کی ایک واردات میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں اس خطرناک ڈاکو کا جسم گولویں سے چھلنی ہو گیا ۔یہ سخت جان مُوذی مرنے سے تو بچ گیا مگر مستقل طور پر اپاہج ہو گیا ۔ ایک شام زادو لُدھڑ لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا پنسار کی دکان پر بیٹھے الٰہی بخش پنساری کے پاس پہنچا اور زار و قطار روتے ہوئے کہا:
’’ اس زندگی سے تو موت بہتر ہے ۔جس دِن میں ڈکیتی کی واردات میں شدید زخمی ہوا اُسی دِن میری بیوی ظلو نے بے وفائی کرتے ہوئے مجھے چھوڑ کر شاہی محلے میں اپنی ماں کے قحبہ خانے میں مستقل بسیرا بسیرا کر لیا ۔ یہ رذیل طوائف میر ی ساری جمع پُونجی بھی ساتھ لے گئی ۔اب تو میں کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا ہوں اور گھر میں فاقہ کشی کی نوبت آ گئی ہے ۔مفلسی ،معذوری اور بیماری نے مجھے بھکاری بننے پر مجبور کر دیا ہے ۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کل سے چاندنی چوک کے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بھیک مانگوں گا۔‘‘
الٰہی بخش پنساری نے زادو لُدھر کی باتیں توجہ سے سُنیں اور اُسے سمجھاتے ہوئے کہا:’’ عملی زندگی میں تمھاری بے راہ روی اور ناکامیوں نے تمھیں منہدم کر دیا ہے۔ بھیک مانگنے کے بارے میں مت سوچنا اس سے انسان خود اپنی نظروں میں گر جاتاہے ۔بھیک مانگنابہ ظاہر آسان نظر آتاہے مگر یہ بھی جان جوکھوں کا کام ہے ۔تم اپنی صلاحیتوں کو استعمال کر کے کوئی آسان سا کاروبار کر لو اور خوب پیسے کماؤَ‘‘
’’ اونہہ ! مصیبت کی اس گھڑی میں اب مجھے کاروبار کا مشورہ دیا جا رہا ہے ۔‘‘ زادو لُدھڑ نے بسورتے ہوئے کہا ’’ میری قسمت ایسی پھوٹی کہ اب میرے گھر میں پُھوٹی کوڑی تک باقی نہیں ۔ظلو پورے گھر میں جھاڑو پھیر کر نکلی ہے ۔ باواجی !پیسے کے بغیر کاروبارکیسے کیا جا سکتاہے؟‘‘
’’ پیسے کے بغیر بھی کاروبار کیا جا سکتاہے ۔‘‘ الٰہی بخش پنساری نے مسکراتے ہوئے کہا’’ تم جھاڑو بنا کر بیچنا شروع کر دو ۔ دریائے جہلم اور دریائے چناب کے دوآبہ میں واقع میلوں تک پھیلے ہوئے گھنے جنگل میں خود رو سر کنڈوں کو مفت کاٹ کر لاؤ ان کی سر سے تو جھاڑو بناؤ اور سر کنڈوں سے چقیں اور کچے گھروندوں اورجھگیو ں کی چھتوں میں استعما ل ہونے والی پتلیں تیار کرو۔‘‘
زادو لُدھڑ یہ بات سُن کراُچھل پڑا مگر دوسرے ہی لمحے وہ سر کھجاتے ہوئے ہرزہ سرا ہوا ’’خار دار جھاڑیو ں سے اٹے ہوئے اس گھنے جنگل میں تو بہت بڑ ی تعداد میں جنگلی سور ،بھیڑیے ،سانپ ،بچھو ،گیدڑ اور اژدہاپائے جاتے ہیں ۔ ان درندوں کے خوف سے اس علاقے کا کوئی بھی شخص ا س خطر ناک گھنے جنگل کا رخ نہیں کرتا ۔‘‘
’’ اپنے ابنائے جنس کو درندے پہچان لیتے ہیں اور انھیں کچھ نہیں کہتے ۔‘‘ الٰہی بخش پنساری نے زادو لُدھڑ کو دلاسادیتے ہوئے کہا’’جب درندے تمھیں جنگل میں سر کنڈے کاٹتے دیکھیں گے تووہ خوشی سے پھولے نہ سمائیں گے اور سب مل کر کہیں گے کہ زادو لُدھڑ تو ہمارے اپنے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ۔ خونخواردرندے تجھے جنگل میں بد حواسی پناہ دیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی گرگ زادہ اس کام میں تیرا ہاتھ بھی بٹائے۔‘‘
زاد و لُدھڑ نے اس مشورے پر عمل کیا اور سڑک کے ساتھ ایک خالی جگہ پر بیٹھ کر اس نے جھاڑو کی دکان بنا لی ۔ایک بڑ ے سے بورڈ پر یہ لکھا تھا ۔’’ زاد و لُدھڑ: ہو ل سیل جھاڑو مر چنٹ ‘‘ یہ کام چل نکلا اور شہر کا ہر خاک روب اپنے پرانے آشناکی دکان سے جھاڑو خریدتا ۔ جھاڑو کی کمائی سے آج زادو لُدھڑ کی پانچوں گھی میں ہیں ۔سنا ہے زادو لُدھڑ نے ایک بڑ ے شہر میں اپنا وسیع و عریض مکان بنا لیا ہے ۔ اس کے مکان پر جلی حروف میں’’ جاروب ہاؤس ‘‘ لکھا ہے ۔
اگرچہ الٰہی بخش پنساری روشن خیا ل شخص تھا مگرجب بھی وہ ایام گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی کرتا تو یہ گما ن گزرتاکہ وہ نا سٹلجیا کے عارضے میں مبتلا ہے۔ الٰہی بخش پنساری نے بڑے کٹھن حالات میں عملی زندگی کاآغاز کیا ۔اس کے والدین بچپن ہی میں اُسے داغِ مفارقت دے گئے ۔ وہ آہ بھر کر کہتا کہ زمانہ طفولیت کی یادیں بھی عجب راحت فزا ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اعضاکے اضمحلال اور عناصر کی بے اعتدالی کے کر ب ناک احساس کو ماند کردیتی ہیں۔ جس معاشرے میں حق گوئی و بے باکی ، صدق و صفا اور خلوص و دردمندی کو معیار وفا ٹھہرایا جائے گا وہاں حسن و جمال کو اوجِ کمال تک رسائی حاصل ہوتی ہے ۔ انسانیت کے وقار، سر بلندی اور ہمدردی کے لیے اُٹھنے والی ایک فغاں اور دعائے نیم شب برسوں کی تپسیا اور ریاضت سے کہیں بڑھ کر مقبول ثابت ہوتی ہے۔ الٰہی بخش پنساری یہ بات بر ملا کہتا کہ اپنے اسلاف کے تجربات کو پسِ پشت ڈال کر محض اپنے مشاہدات،مفروضو ں اور کوتاہ اندیشی پر مبنی نتائج پر انحصار کرنا بدعت اور قباحت سے آلودہ تعلّی کے سوا کچھ نہیں ۔ پالتو جانوروں اور پرندوں سے وہ بہت محبت کرتا تھا اس نے اپنے گھر میں جو پرندے پال رکھے تھے ان میں انسانوں کی طر ح بولنے والے طوطے ، کالے اور بُھورے رنگ کے تیتر ،بٹیر، جنگلی اور شہری کبوتر ،مرغیاں ،قمریاں چھوٹی اور بڑی بطخیں اور مور شامل تھے۔اگرچہ اس کا گھر بستی سے دُور ایک جنگل میں تھا مگر اس کے پالتو مور جب ناچتے تو یہ رقص دیکھنے کے لیے شائقین کا تانتا بندھ جاتا اور سب لوگ اس خوب صورت رقص کو دیکھ کر لطفٖ اندوز ہوتے تھے ۔ پرندے پالنے کے اپنے شوق کے بارے میں الٰہی بخش پنساری کہتا تھا کہ اُسے طائران خوش نوا کی خوش گوار ترین رفاقت پر ناز ہے ۔ یہ طیور اپنی دُھن میں مگن بڑی رازداری کے ساتھ اپنے دِل کی بات کہہ دیتے ہیں ۔ نہ سوالِ وصل نہ عرضِ غم ،نہ حکاتیں نہ شکایتیں ،نہ کدورتیں نہ ضرورتیں ،نہ نجاستیں نہ کثافتیں نہ تہوار کی پروا نہ خزاں و بہار کی تشویش ایک شان استغنا ہے جو ان پرندوں اور جانوروں کے روّیے سے عیاں ہے ۔ ان پالتو جانوروں اور طیور کی مصاحبت سے شکستہ دلوں کی تسکین کے متعدد امکانات پیدا ہوتے ہیں اور ایسی خوشی ملتی ہے جو اپنی مثا ل آپ ہے ۔ اس کائنات کی کوئی بھی شادمانی دلوں کے مرکز مہر ووفا ہو نے کی برابری نہیں کرسکتی۔ایسی خوشی تو ہنومان کو سنجیونی بوٹی والا پہاڑ اُٹھانے کے بعد بھی میسر نہ آ ئی ہو گی ۔ وہ شخص ناقابل برداشت حد تک سفلہ اورابلہ ہے جس کی سادیت پسندی کے باعث مصائب و آلام کے پاٹوں میں پسنے والے مجبور انسانوں کے لبوں سے مسکراہٹ عنقا ہوجاتی ہے ۔ الٰہی بخش پنساری اپنے تئیں خو ش قسمت سمجھتا کہ وہ طیورآوارہ میں شامل نہیں اس لیے دانہ و دام کے چنگل کی اُسے کوئی پروا نہیں ۔ حریت فکر کے مجاہد اُسے بہت پسند تھے جوحریت ضمیر سے جینے کی خاطر آزادیٔ اظہار کو اپنا شعار بناتے ہیں ۔
تجارت میں دیانت کو الٰہی بخش پنساری نے ہمیشہ ملحوظ رکھا۔اس کی رائے میں ایک دیانت دار تاجر کی ایمان داری سے جہا ں اس پیشے کی عزت و تکریم میں اضافہ ہوتاہے وہاں اس کے معجز نما اثر سے غربت و افلاس کے بیشے بھی کٹ جاتے ہیں۔ اس طر ح جرائم میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں خطرناک جرائم کے سوتے بھی غربت و افلاس ہی سے پُھوٹتے ہیں ۔جب معاشرے سے غربت و افلاس ،ناداری ،بیماری ،توہم پرستی اور سماجی برائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا تولوگ پریشاں حالی و درماندگی سے عبرت حاصل کریں گے اور اخوت ومساوات کا بُھولا ہوا سبق ازبر کر کے مفاسد کو زیرو ز کرنے کے قابل ہو جائیں گے ۔ اس نا تمام کائنات میں دما دم صدائے کن فیکوں سنائی دے رہی ہے اور یہاں زندگی کا بے آواز ساز انتہائی مختصر وقت کے لیے بجتا ہے ۔ الٰہی بخش پنساری یہ بات بر ملا کہتا کہ زندگی قادر مطلق کی دی ہوئی ایک بیش بہا نعمت ہے اسے حاسدوں کی ایذا رسانی ، دشمنوں کے لگائے ہوئے ناقابلِ اندمال زخموں، کینہ پر وراعدا کی طرف سے لگائے گئے تیرِ نیم کش کی خلش کو مرہم اور ہجوم یاس و ہراس کے روزنامچے کی صورت دینا دُوں ہمتی اور بزدلی کی دلیل ہے ۔انسانی دلِ و دماغ کو وہ جذبات و احساسات کے ایک ایسے معدن سے تعبیر کرتا تھاجس میں آرزوئیں ،اُمنگیں ،توقعات ،خواہشات ،حسرتیں ،حیرتیں،قوتیں جرأتیں ، ضیافتیں ،سخاوتیں ،عداوتیں ، کہاوتیں ،عہد وپیمان ،ارمان، عطا اور ایذا کی متاعِ بے بہا پنہا ں ہے ۔بصیرت سے متمتع لوگ لبِ اظہارپر تالے لگا کر دِل کے آئینے میں اس معدن کی تمام کیفیات کو دیکھنے اور سمجھنے کی استعداد رکھتے ہیں۔اپنے گھر کے آ نگن میں الٰہی بخش پنساری نے ایک باغیچہ لگا رکھا تھا ۔یہاں اس نے کئی گل بوٹے اُگا رکھے تھے جن کی دیکھ بھال کر کے وہ دلی سکون اور راحت محسوس کرتا۔ا س کے پالتو جانور اور طیور بھی اس باغیچے کے ساتھ چھوڑی گئی خالی جگہ میں موجود رہتے تھے ۔وہ اپنے ملاقاتیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتا کہ اثمار و سایہ دار اشجار اور بُور لدے چھتنا رساری مخلوق کو قدرت کاملہ کی نعمتوں کا احساس دلاتے ہیں ۔یاد رکھنا چاہیے کہ خزاں کے بعد موسمِ بہار کی آمد یقینی ہے ۔خزاں کے موسم میں خشک ٹہنیوں سے گرنے والے زرد پتے بھی یہی پیغا م دیتے ہیں کہ فصلِ خزاں میں جہاں سے شاخ ٹُوٹتی ہے بہار کی آمد کے بعد وہیں سے ایک نئی کونپل پُھوٹتی ہے ۔
وفات سے چند ماہ قبل عالمِ پیری میں جب الٰہی بخش پنساری کے اعضا مضمحل ہو گئے اور عناصر میں اعتدال نہ رہا تو علالت اور کم زوری کے باوجود وہ خدمت خلق کے کاموں میں بڑ ھ چڑھ کرحصہ لیتا رہا۔ الٰہی بخش پنساری با لعموم کالا لباس پہنتا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ عرقیات ،ادویات ،مشروبات اور مجربات کی تیاری میں کالا لباس داغ دھبوں سے محفوظ رہتا ہے ۔ انہی دنوں اس کے پڑوسی آسو اور رنگو نے جب اس ضعیف پنساری کو عرق گلاب کشید کرتے دیکھا تو تکلف کی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسو نے کہا :
’’ہم سمجھتے ہیں تم دِل کے ہاتھوں مجبور ہو کر دُکھی انسانیت کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہتے ہو مگر اب تو تمہارا دمِ آخریں بر سرِ راہ ہے اب تو تم صرف اﷲ ہی اﷲ کرو اور پنسار کی دکان بند کر کے چارپائی پر لیٹ کر آرام کرو ۔وہ طوطے جنھیں تم زندگی بھر چُوری کِھلاتے رہے اب کسی اور مکان کی منڈیر پر منڈلاتے دیکھے جا سکتے ہیں۔اپنے دِلِ بے تاب کو یہ حقیقت سمجھانے کی کوشش کرو کہ زمانے سے وفا اُٹھ گئی ہے اور ہر طرف اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ کا سماں ہے۔ہم نے دنیا دیکھی ہے ہم سب حالا ت جانتے ہیں کہ تم چراغِ آخرِ شب ہو ۔‘‘
رنگو نے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کہا ’’اپنے دِل کو سمجھاؤ کہ جان ہے تو جہان ہے ۔جن فاقہ کش مزدوروں ،دہقانو ں اور فقیروں کو تم مفت میں عرقیات ،ادویات ،مربہ جات اور معجونیں دیتے رہے اب کہا ں ہیں ؟ اپنے دِل کو سمجھانے کی کوشش کرو کہ فصلی بٹیرے دانہ چُگ کر لمبی اُڑان بھر جاتے ہیں ۔ہمیں سب معلوم ہے کہ تم اب چراغ سحری ہو ۔‘‘
اپنے خود غرض پڑوسیوں کی یہ باتیں سن کر الٰہی بخش پنساری نے مسکراتے ہوئے کہا ’’میں اپنے دِلِ ناداں کو اب کیسے سمجھاؤں ؟ایک سو اٹھارہ سال سے یہ اپنی اسی وضع پرقائم ہے اب میرا دِل تمھاری بتائی ہوئی بے سر و پا باتیں کیسے سمجھے گا؟تم نے ہمہ دانی کا جو دعویٰ کیا ہے یہی تمھاری نادانی کی دلیل ہے ۔‘‘
رنگو نے کفن پھاڑ کر جوا ب دیا ’’ جسے تم ہماری نادانی کا نام دے رہے ہو حقیقت میں وہ تمھاری سوختہ سامانی،ذہنی پریشانی اور گھر کی ویرانی کی دلیل ہے ۔ ہمیں ہماری نادانی کا طعنہ نہ دو اپنی بے سروسامانی پر غور کروجب تم مرو گے تو تمھارے گھر سے کفن کے پیسے نہیں نکلیں گے۔ تم نے تو پنسار کے اس کاروبار میں اپنی انفرادیت اور پہچان تک گنوا دی ہے ۔جوشخص اپنی ذات سے مخلص نہ ہو اس سے وفا کی توقع ہی عبث ہے ۔ تم نے زندگی بھر گھر پھونک کر تماشا دیکھااب لوگ تمھاری ناکا م ونامرادانہ زیست کا تماشا دیکھیں گے ۔‘‘
آسو نے بھی رنگو کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ’’ ان دنوں تم سیاہ پوش رہنے لگے ہو کیا تمھیں مرغانِ باد نماکی جدائی کا غم کھائے جا رہا ہے ؟جب سے تم نے کالا لباس پہننا شروع کیا ہے سب کو یقین ہو گیاہے کہ تمھارا ظاہر اور باطن یکساں ہے ۔سفاک ظلمتوں ،مہیب سناٹوں اور جان لیوا تنہائیوں میں ساتھ چھوڑ کر اپنی راہ لینے والے مفاد پرستوں؂ پر تین حرف بھیجو اور زندگی کے باقی دِن آرام سے گزارو۔‘‘
الٰہی بخش پنساری نے اب ترکی بہ ترکی جواب دیا’’میرے لیے یہ امر حد درجہ مسرورکن ہے جب تم جیسے بے بصر اور بے کمال لوگ مضحکہ خیز انداز میں میری عیب جوئی اور حرف گیری کرتے ہیں۔ عالمِ شباب میں تو میں نے الم نصیبوں او رجگرفگاروں سے عہد ِ وفا استوار رکھا اب اس پیرانہ سالی میں اُن سے بے وفائی کیسے کروں ؟ مفارقت دینے والی وہی ہستیاں حقیقت میں اپنے وجودکا اثبات کرتی ہیں جو آنکھ سے تو اوجھل ہو جاتی ہیں مگر دِل میں بس جاتی ہیں۔ تم جیسے چلتے پھرتے ہوئے مُردے جوزمین کا بوجھ بن چکے ہیں اُن کا سوگ منانے کے لیے میں سیاہ پوش ہو گیا ہوں ۔مظلوموں کی توہین ،تذلیل ،تضحیک اور بے توقیری کرنے والے تم جیسے درندوں کا ہاویہ میں استقبال کرنے کے لیے نمرود و فراعنہ کفش بر دوش کھڑے ہیں ۔ دُکھی انسانیت کی داد رسی ،پر اسرار واقعات اور بے لوث خدمات کے بارے میں سوچ کر جی کا زیاں نہ کرو ۔ان معا ملات کی تہہ تک پہنچنا تم جیسے ذہنی افلا س کے ماروں کے بس سے باہر ہے ۔‘‘
بعض اوقات حسن و رومان کے حیران کن فرمان بھی انسان کے لیے بلائے جان بن جاتے ہیں ۔ چنچل ،شوخ ، مہ جبین اور خوب سے خوب تر کی متلاشی حسیناؤں کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر عشاق جب بادل کا ہاتھ تھام کر کسی چاند کی خاطر ستاروں پر کمند ڈالنے کی ٹھان لیتے ہیں تو زمین کی کشش ثقل بھی ان کی بلند پرواز ی میں حائل نہیں ہو سکتی مگر جب مکر و فریب کی تیراندازی سے ان کے عزائم کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے تو وہ جس قعرِ مذلت میں گرتے ہیں وہاں ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا ۔ الٰہی بخش پنساری نے طالع آزما،مہم جُو ،موقع پرست اور ہوس کے اسیر لوگوں کی تصنع سے لبریز محبت کو کبھی لائق اعتنا نہ سمجھا۔ الٰہی بخش پنساری اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر یہ بات سب کو سمجھاتا کہ قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں حرص و ہوس ہی کو نشاطِ کار کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ۔ا س کے باوجود محبت کی برق رفتاریوں کے سامنے ترکی و تازی بھی ہیچ ہیں ۔ ہوس سے آلودہ محبت ایک ایسا دشت ِنامرادی ہے جس میں بڑے بڑے دانا اور قوت و ہیبت کے مالک حاکم بھی ہزیمت اُٹھاتے اور اِس شوق کی بھاری قیمت چُکاتے ہیں ۔الٰہی بخش پنساری اکثر سکندر اعظم کی داستانِ محبت دہراتا اور سب کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا کہ جب عالمی شہرت یافتہ فلسفی ارسطو کے ذہین شاگر دسکندر کو اپنی محبوبہ کی بے وفائی کا صدمہ سہنا پڑا تو باقی لوگ کس شمار میں ہیں ۔معاملے کی نزاکت ،لوٹوں اور لٹیروں کی طوطا چشمی ،ہوس پرستوں کی خست ،خباثت اور خجالت کو دیکھ کر اہلِ در د کو بے اختیار یہ کہنا پڑا کہ دنیا سے وفا ایسے غائب ہو گئی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔محبت کا یہ دستور تاریخ میں اس طرح مذکور ہے کہ سیماب طبیعت سکندر اعظم کو سمندر کی،تسخیر ، غواصی ،سمندر کی تہہ میں پائے جانے والے خزائن کو ساتھ لانے اور وہاں کے حالات کے بارے میں بہت تجسس تھا ۔ جب سکندر نے اپنی بیوی اور محبوبہ کو اپنی اس خواہش سے آ گاہ کیا تو اس عورت نے اپنے ایک دیرینہ آشنا اور امیر البحر کے مشورے سے شیشے کا ایک آ ب دوز نما ہوا بند مرتبان تیار کرایا۔ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق ایک بڑی کشتی سمندر میں کھڑی کر دی گئی شیشے کے مرتبان کو لمبی اورمضبوط آہنی زنجیرو ں سے باندھ دیا گیا ۔سکندر کی محبوبہ جو اس کی انتہائی معتمد رفیقۂ حیات اور محرمِ راز تھی خشمگیں نگاہوں سے نہایت پُر اسرار انداز میں اپنے محبوب شوہر کی اس انتہائی پُر خطربحری مہم جوئی کودیکھ رہی تھی ۔جب سکند ر شیشے کے ہوا بندمرتبان میں بیٹھ گیا تو شیشے کا مربتان سمندر میں اُتار ا گیا۔ شیشے کے اس آب دوز نما محفوظ اور پر آسائش مرتبان کی زنجیر سطح سمندر پر کھڑی کشتی میں سوار سکندر کی محبو ب بیوی نے مضبوطی سے اپنے نرم و نازک ہاتھوں میں تھا م رکھی تھی۔ سکندر نے وقتِ رُخصت اپنی رفیق ِ حیات اوروفادار محبوبہ کو رازدارانہ لہجے میں یہ تاکید کر دی تھی کہ کسی بھی صورت میں وہ شیشے کے مرتبان سے بندھی آہنی زنجیر کو نہ چھوڑے اور مقررہ وقت یا خطرے کی صورت میں زنجیر کھینچ کر اسے بلاتاخیر گہرے سمندر سے باہر نکالاجائے ۔سکندر کی محبوبہ یہ سُن کر ٹسوے بہانے لگی اور وعدہ کیا کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر زنجیر کی حفاظت کرے گی اور آخر ی سانس تک اپنے محبوب سے عہد وفا استوار رکھے گی اور تا بہ مقدور اپنے شوہر کا انتظار کرے گی ۔شیشے کے مرتبان کے سمندر میں اُترتے ہی سکندر کی محبوبہ نے اپنے ایک اور آشنا کوکشتی پر بلا لیا اور بند ِقبا سے بے نیاز ہو کر اس سے نئے سرے سے پیمانِ وفا باندھ کر زنجیر ہاتھ سے چھوڑ دی اور دونوں رنگ رلیوں میں مصروف ہو گئے ۔زنجیر چھوٹتے ہی شیشے کا مرتبان تیزی سے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈُوبنے لگا۔ جہا ں دیدہ فاتح اور مہم جُوسکندر نے درپیش خطرے کو بھانپ لیا ۔گہرے سمندر میں بڑی بڑی وہیل مچھلیوں،سمندری شیروں اور آبی مخلوق کے شکستہ ڈھانچے تاریک نیلگوں پانی میں بِکھرتے دیکھ کر سکندر دنگ رہ گیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ یہاں ہر بڑی سمندری مخلوق جو کم زور آبی مخلوق کو نگل لیتی ہے اس کاانجام موت ہی ہے ۔ اپنی محبوبہ کی بے وفائی کے باعث اپنی یقینی موت کا لرزہ خیز اور اعصاب شکن تصور سکندرکے لیے جان لیوا روگ بن گیا تھا ۔اپنی جان بچانے کی آخری کوشش کے طور پر سب کچھ توڑ کر ہر چیز وہیں چھوڑ کر ،ذخیرہ کی گئی آکسیجن کو استعمال کر کے ٹُو ٹتی سانسوں کو جوڑ کر اور اپنی پوری قوت کو مجتمع کر کے سکندر ساحل پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔سکندر کی فریب کار ،پیمان شکن، شاطر و عیار محبوبہ نے خلاف توقع جب سکندر کو زندہ سلامت دیکھا تو مگر مچھ کے آنسو بہانے لگی اور عشوہ و غمزہ و ادا کے وار سے سکندر کوپِھرسے اپنی زلفِ گِرہ گیر کا اسیر بنا لیا۔سکندر جیسے عظیم فاتح اور بہت بڑے مہم جُو کے نام کے ساتھ بھی محبت کے فریب خوردہ کا دشنام جُڑا ہے ۔
واقفِ حال لوگوں کا قیاس ہے کہ شاید الٰہی بخش پنساری بھی عالمِ شباب میں کسی بے وفا محبوب کے تیرِ نیم کش کا نشانہ بنا ۔اس کے آگے جب بھی کوئی نوجوان اپنے کسی محبوب کا نام لیتا وہ اپنے دِل کو تھام لیتااور اس کی آنکھیں ساون کے بادلوں کی طر ح برسنے لگتیں۔وہ نو جوان کو یہی نصیحت کرتاکہ محبت کے دشت ِ پُر خار میں سوچ سمجھ کر قدم رکھنا چاہیے۔ذہن و ذکاوت ،فہم و فراست اور بصیرت و تدبر کی حدود و قیود ہیں مگر حامقت کی جولاں گاہ حد ِ ادراک سے باہر ہے ۔اس کائنات کی وسعت کے مانند حماقت کی نحوست کا صحیح انداز ہ لگانا مشکل ہے ،ایک فاتر العقل جنسی جنونی اور خبطی عاشق پے درپے ایک ہی غلطی دہراتا چلا جاتا ہے اور ہر بارنئے اور حیران کن نتائج کی توقع میں خجل ہوتا ہے ۔بے وفا اور ہر جائی محبوب پر جب ان کا بس نہیں چلتا تو اِن کی زبان چلنے لگتی ہے ۔
علم بشریات ،نفسیات اور فلسفہ کے مسائل میں الٰہی بخش پنساری نے ہمیشہ گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔وہ یہ بات زور دے کر کہتا تھا کہ وفا کی راحت حباب کے مانند لمحاتی نو عیت کی ہوتی ہے مگر بے وفائی کی اذیت سے قلب اور روح پر جو نا قابل اندمال گھاؤ لگتے ہیں ان کا درد تو نزع کے عالم میں بھی ساتھ نبھاتاہے ۔محبت جب حرص و ہوس سے آلودہ ہو جائے تو ایسی بے حسی پیدا ہو جاتی ہے جو دائمی نفرتوں اور روح فرسا حقارتوں کو جنم دیتی ہے۔پیمانِ وفا توڑ کر منھ موڑ کر جانے والوں کی طوطا چشمی کے نتیجے میں عاشقِ نا مراد کے دِل میں بے وفا محبوب سے جو نفرت پیدا ہوتی ہے وہ قبر میں بھی اس کے ساتھ جاتی ہے ۔بہ قول شاعر:
بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے
کوئی بے تا ب تہہِ خاک تڑپتا ہو گا
سماجی اور معاشرتی زندگی کے ارتعاشات اور علمِ بشریات پر الٰہی بخش پنساری کو کامل دسترس حاصل تھی ۔ عجز و انکسار کی مظہر سادہ زندگی اسے پسند تھی اسی وجہ سے وہ تصنع ،عیاشی اور فحاشی کا سخت مخالف تھا۔وہ اپنے ملاقاتیوں پر یہ واضح کر دیتا کہ قومی ترقی اور استحکام کے لیے عوامی فلاح و بہبود پر توجہ ضروری ہے ۔جس معاشرے میں غربت و افلاس نے پنجے گاڑ رکھے ہوں وہا ں عوام میں اپنے مستقبل کے بارے میں بے یقینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھنے لگتاہے ۔ ان حالات میں بد عنوانی ،استحصال اور دہشت گردی کا عفریت ہر سُو منڈلانے لگتاہے ۔ انسانیت کے وقار اور سر بلندی کے لیے کیے گئے ہر کام کو وہ ایک نیکی سے تعبیر کرتا تھا ۔ وہ ہر ظالم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتااور اس بات پر اصرار کرتا کہ جو بھی شخص ظلم سے نفرت نہیں کرتا اس کا کردار بہ جائے خود قابلِ نفرت اور لائق مذمت ہے ۔بادی النظر میں الٰہی بخش پنساری ایک معمولی بوریا نشین دکان دار تھا مگر زندگی کے تجربات ،مشاہدات اور سانحات نے اسے دلِ بینا عطا کر دیا تھا ۔اس کی فکر پرور اور بصیرت افروز باتیں دِل کو لگتی تھیں ۔وہ یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا کہ غم زدوں،الم نصیبوں،فاقہ کش انسانوں ، غریب مزدوروں ا وردہقانوں کی زندگی کے صبر آزما حالات کو بدلنا وقت کا اہم ترین تقاضاہے ۔اس کا خیا ل تھا کہ غربت وافلاس کے پاٹوں میں پسنے والے بے بس و لاچار انسانوں کی کُٹیا میں سامانِ خور و نوش اور دیگراشیائے ضرورت کی شدید کمی بلا شبہ افلاس کی ایسی صورت ہے جس کا مداوا مطلوبہ سامان کی رسد کو یقینی بنانے اور ضرورت مندوں کی حاجت روائی سے ممکن ہے ۔ افلاس کی ایک اور صورت جس نے تیسری دنیا کے ممالک کے کٹھ پُتلی حکمرانوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور جس کا ازالہ کسی صورت میں نہیں کیا جا سکتا وہ ذہنی افلاس ہے ۔اسی ذہنی افلاس نے تیسری دنیاکے پس ماندہ ممالک کے عوام کی آزادی کو بے وقار کر دیا ہے ۔اگرچہ ان پس ماندہ اور غریب ممالک کے باشندوں کے سر پر تو آزادی اور خود مختاری کاتاج سجا دیاگیاہے مگر اِن کے پاؤں میں قرضوں کی جو بیڑیاں ہیں وہ ان کے لیے مستقل نعیت کے احساس کم تری ، ذلت ،نحوست ،بے برکتی اور بے توقیری کا باعث بن گئی ہے ۔ الٰہی بخش پنساری وطن اور اہل ِ وطن سے قلبی وابستگی اور والہانہ محبت کو اپناسب سے بڑا اعزاز و امتیازسمجھتاتھا۔ وہ یہ بات ہمیشہ دہراتا کہ اپنے محسن کے لیے سپاس گزاری کے جذبات رکھنافکری تونگری کی لائق صدرشک و تحسین صورت ہے جب کہ محسن کشی اور احسان فراموشی ذہنی افلاس کی قابل نفرت مثال ہے۔ الٰہی بخش پنساری کو اس بات کا قلق تھا کہ ریا کی غم گساری ،برادرانِ یوسف جیساسلوک،آستین کے سانپوں کی سادیت پسندی،مفاد پرستی ،اقرباپروری اوراستحصال کے نتیجے میں انسانیت کو جو
ناقابلِ اندمال صدمے بر داشت کرنے پڑتے ہیں اور جو گہرے گھاؤ لگتے ہیں ان کے نتیجے میں زندگی کا پورا منظر نامہ ہی گہنا جاتاہے ۔ زندگی کے سرابوں کے غیر مختتم عذابوں میں جب کوئی بھی خضرِ راہ نہ مِلے توزندگی سے بیزار ی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے انتہائی نا مساعد حالات میں جب مظلوم انسانوں کے سینوں میں تمنائیں ،آرزوئیں ،اُمنگیں اور عہد و پیمان مات کھا کر رہ جائیں تو دُکھی انسانیت کی تہی دامنی اس قدر لرزہ خیز صورت اختیار کر لیتی ہے کہ سب بلائیں تمام ہونے کے بعد مرگِ نا گہانی کے انتظار میں ان کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں۔
الٰہی بخش پنسار ی سے مل کر زندگی سے پیار ہو جاتاتھا۔اس کی زبان سے جو لفظ نکلتے وہ گنجینۂ معانی کا طلسم ثابت ہوتے تھے ۔ وہ اپنی طویل زندگی کی کوتاہیوں او رغلطیوں کا ذکر کرتا تو اُس کی آنکھیں بھیگ بھیگ جاتیں ۔کئی بار ایسا محسوس ہوتاکہ و ہ روزمرہ زندگی کے معمولات کی لفظی مرقع نگاری کرتے ہوئے کسی خاص عکس ،عکسی اشیا ،نقول کے مجموعے ،زندگی کے مختلف رُوپ اورسوانگ کے مجموعے کی یا تو تمسیخ کر رہاہے یا کوئی ایسی چیز جو بادی النظر اپنا حقیقی وجود رکھتی ہے اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہارکر رہاہے۔اس کے تکلم کا ہر سلسلہ وہم و گمان کے سرابوں سے نجات دلا کر زندگی کی حقیقی معنویت کو اُجاگر کرنے کا وسیلہ ثابت ہوتا اور ہر حال میں زندگی کے تلخ حقائق کے احساس و اِدراک پر مائل کرتا تھا۔انسانی ذہن کی گہرائی تک پہنچ کر وہ فکر و خیال اور خرد کی گتھیاں سلجھانے پر کامل دسترس رکھتاتھا۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وہ باتیں جوسائنسی نفسیات میں لاینحل ، نا قابل فہم اور ناقابلِ یقین سمجھی جاتی ہیں الٰہی بخش پنسار ی ہتھیلی پر سرسوں جما کر سب عقدے وا کر دیتا۔جب کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا کوئی مصیبت زدہ شخص الٰہی بخش پنسار ی کے پاس مشورے کے لیے آتا تو وہ ارتکازِ توجہ کے ذریعے اُس شخص کے ساتھ پُر اسرار انداز میں ایک ذہنی تعلق استوار کر لیتا ۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص نہ جانے کس جہاں میں کھو جاتا اور ہپنا ٹزم یا مصنو عی طور پر طاری کی گئی لمحاتی غنودگی کے زیر اثر الٰہی بخش پنسار ی کے سامنے بلا جھجھک سب رازاُگل دیتا اور وہاں موجودخلقِ خدا دیکھتی کی دیکھتی رہ جاتی ۔ الٰہی بخش پنسار ی دِ ل کو ایک سمندر یا دریا قرار دیتاتھا جس کی گہرائی کا صحیح اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں۔ حیات و کائنات کے بارے میں وہ کئی اہم اور بنیادی اصولوں کا حوالہ دیتا تھا ۔ان میں اس کی توجہ زیادہ تر تجریدی تصورات پر مرکوز رہتی ۔وہ زمان و مکان ، وجود ،خود آ گہی ،شناخت ،حیات ِ جاوداں اور ستیز کے بارے میں بات کرتا تو سامعین اس کی فکر پرور اور خیال افروز گفتگو سن کر حیرت زدہ رہ جاتے ۔ الٰہی بخش پنسار ی کے احباب کی متفقہ رائے تھی کہ اس ضعیف پنساری کے نحیف و ناتواں جسم میں عقابی رو ح سما گئی تھی یہی وجہ ہے کہ اُس کی بلند پروازی کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہا۔ وہ عام آدمی کے لیے راحت اور مسرت کا متلاشی رہا اور کبھی اپنے لیے عیش و عشرت کی تمنا نہ کی ۔زندگی گزارنے کا اس کا اپنا منفرد انداز تھا وہ کسی کی تقلید کا قائل نہ تھا ۔ جس بے حس معاشرے میں چربہ ساز ،سارق ،جعل ساز ،کفن دُزد اور بھونڈی نقالی کی قبیح رسم چل نکلے وہاں ہیرے جواہرات اور کندن کے پارکھ کہا ں ملیں گے ؟خو د ستائی اور خود نمائی سے الٰہی بخش پنسار ی ہمیشہ نا خوش و بیزار رہتا تھا ۔و ہ ان عوارض کو افراد کے خلجان اور خفقان کی انتہائی کریہہ صورت سمجھتا تھا ۔ انتہائی نا مساعد اورغیر امید افزا حالات کے باوجود الٰہی بخش پنسار ی نے پنسار کو کبھی اپنی بے لو ث خدمت کا اشتہار نہ بننے دیابل کہ نیکی کر دریا میں ڈال کی عملی تصویر بن کر وقت گزارا۔ سادگی ،خلوص اور بے لوث محبت کو اس کی مستحکم اور ہر دِل
عزیزشخصیت کی تعمیر میں کلیدی مقام حاصل ہے ۔اس نے ثابت کر دیا کہ کردار کی عظمت وراثت میں نہیں ملتی بل کہ اس کے لیے خونِ جگر اورطویل ریاضت کی احتیاج ہے ۔ اس کی زندگی میں ٹھہراؤ اور جمود عنقا تھا وہ ہر لحظہ نیا طُور نئی برقِ تجلی کا قائل تھا۔خدمت ِخلق اور اصلاحِ معاشرہ کے کاموں میں مقصدیت کی رفعت نے اس کے کرادر کی کی عظمت کو چار چاند لگا دئیے تھے ۔اس کے نہ ہونے کی ہونی دیکھ کر کلیجہ منھ کو آتا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Ibn-e-Sultan

Read More Articles by Ghulam Ibn-e-Sultan: 265 Articles with 259680 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2018 Views: 1092

Comments

آپ کی رائے
عمدہ تحریر ہے ،اسلوب موثر اور دل کش ہے ۔مصنف نے بڑی دیانت اور خلوص سے یہ خاکہ لکھا ہے ۔میں اس پنساری کی وضع داری سے ہت متاثر ہوا ہوں۔
By: Rana Sultan Mehmud, Tando Muhammad Khan on Mar, 13 2020
Reply Reply
17 Like
آنکھوں سے جوئے خوں ہے رواں دل ہے داغ داغ
دیکھے کوئی بہارَ گلستان آرزو
چھے جولائی دو ہزار سترہ کے بعد سے دل ویراں ہے ۔جان آرزو اور ایمان آرزو نے دائمی مفارقت دی ۔
By: Shabbir, Jhang on Nov, 03 2018
Reply Reply
21 Like
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونون ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم
تمھاری یادوں کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمھیں یاد کرنے لگتے ہیں
دو ہزار سترہ کا سال اور چھے جولائی کا دن روح کو زخم زخم کر گیا اور میں کرچیوں میں بٹ گیا۔
جو بھی بچھڑے ہیں کب ملے ہیں فرا ز
پھر بھی تو انتظار کر شاید
By: GS Rana , Doaba on Nov, 02 2018
Reply Reply
21 Like
Thi s ketch is very interesting .Writer has presented detailed information about a trader .
By: Sajjad Hussain , Fateh Darya on Oct, 25 2018
Reply Reply
21 Like
I agree with this wise opinion.Writer has tried to highlight the character of an ordinary shopkeeper in an extraordinary way.Wonderful style and discourse .
By: Ansa Kausar Perveen , Fateh Darya on Oct, 28 2018
21 Like
You left the city on 6th July 2017.Since then we miss you .May God Almighty give us courage to remain in peace .Your comments remind us about your wisdom and talent .It is possible that some one wil write on you as well but still it is difficult to express the real feeling and emotions in words .
By: G.S Rana , Doaba near Kot Isa Shah on Oct, 27 2018
21 Like