مقام عصر

(Maryam Arif, Karachi)

ام محمد عبداﷲ۔جہانگیرہ
صوفے پر نیم دراز بے دلی سے موبائل فون ہاتھ میں تھامے فیس بک پر آوارہ گردی کرتی میری انگلیاں اور آنکھیں تھک سی گئی تھیں۔ پچھلے دو دن سے بخار نے نڈھال سا کیا ہوا تھا۔ ساتھ والے کمرے سے بیگم اور بچوں کے درمیان ہونے والی چیخ و پکار اعصاب کو مزید مضمحل کر رہی تھی۔ میں بیزاری سے اٹھا اور آہستگی سے چلتا ہوا گھر سے باہر آگیا۔ مرکزی سڑک پر گاڑیوں کی لمبی قطار تھی۔ عجیب بے ہنگم شور تھا فضا میں۔ گاڑیوں سے برآمد ہوتے بے قرارر ہارن اور قسم قسم کے گانوں کی آوازیں، فقیروں کی صدائیں ٹافیاں اور غبارے بیچتے بچوں کی فریاد نما آوازیں۔ اف خدایا، کہیں سکون نامی کوئی چیز ہے دنیا میں۔ میں بائیں جانب ذیلی سڑک پر مڑ گیا۔ اﷲ اکبر اﷲ اکبر۔ اذان عصر کی گونج کھڑکھڑاتے لاؤڈ سپیکر سے ہوتی فضا میں مرتعش ہو رہی تھی۔ میں سٹرک کے کنارے کنارے چلنے لگا۔ یہاں مرکزی سڑک جیسا رش نہیں تھا۔ اکا دکا گاڑیاں نجانے کس سمت رواں تھیں۔ میں نے سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا۔ پرندوں کا ایک بڑا غول تیزی سے محو پرواز تھا۔ قطار در قطار اڑتے پرندے شاید اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے۔ وقت تیزی سے ڈھل رہا تھا۔ شام ہونے کو تھی۔

’’دیکھ کر صاحب‘‘۔ میں اپنے خیالوں میں گم کسی ریڑھی والے سے ٹکرا گیا تھا۔ ’’معاف کرنا، میں نے دیکھا نہیں‘‘۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے ریڑھی والے کی جانب دیکھا۔ نجانے کیا تھا اس کی آنکھوں میں۔ مجھے جھرجھری سی آگئی۔ عجیب وحشت سی تھی اس چہرے، ان آنکھوں میں۔ میری نظر ریڑھی والے سے ہوتی ہوئی ریڑھی پر آن ٹھہری۔ ٹاٹ کے نیچے برف کی سل پڑی تھی۔ جو تیزی سے پگھل رہی تھی۔ میں نے برف سے نظر ہٹا کر ریڑھی والے کی جانب دیکھا۔ مجھے لگا برف کی سل ہی نہیں وہ خود بھی اس برف کے ساتھ قطرہ قطرہ ہو کر پگھل رہا ہے،ضائع ہو رہا ہے۔ ’’آج ساری برف پگھل گئی صاحب‘‘۔ عجیب حسرت تھی اس کے لہجے میں۔ ’’دام نہ ملے‘‘۔

یعنی مطلق خسارہ، میں نے سوچا۔ برف والے کی ساری برف پگھل گئی۔ نفع تو کیا ہونا تھااصل سرمایہ بھی ڈوب گیا۔ آج اس کے گھر کا چولہا بھی جلے گا یا نہیں۔ میں نے ہمدردی سے سوچا۔ تمہارا تو بڑا نقصان ہو گیا بابا، میں نے اسے مخاطب کیا۔ اب کیا کرو گے؟’’کچھ کرے گا تو وہ جسے کچھ حاصل ہو گا۔ جس کا سب ڈوب گیا۔ اس نے کیا کرنا ہے بھلا‘‘؟ اس نے الٹا مجھ ہی سے سوال کر ڈالا۔ اس کے سوال پر میں گڑبڑا سا گیا۔ ریڑھی پر بڑی باقی ماندہ برف بھی تیزی سے پگھل رہی تھی۔

تمہیں لگا صرف میرا نقصان ہوا؟ نقصان تو سب کا ہو رہا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں سب گھاٹے میں پڑے ہیں۔ اس نے قریب سے گزرتی مرسڈیز کی جانب اشارہ کیا۔ ’’مرسیڈیز والا نقصان میں‘‘؟، میں نے سوچا بڈھا سٹھیایا ہوا ہے شاید۔ اپنی عمر کے مقام عصرکو تو تم بھی پہنچے ہوئے ہو۔ اس نے میری کنپٹیوں کے سفید ہوتے ہوئے بالوں پر نگاہیں جمائیں۔ کچھ پایا اب تک کی عمر سے یا میری طرح سب گنوائے بیٹھے ہو؟ کیا کہہ رہے ہو بابا؟ مجھے الجھن سی ہونے لگی۔ اس کی نگاہیں دور آسمان پر زرد پڑتے سورج پر ٹک گئیں۔ جب دو فرشتے قبر میں ڈوبتے سورج کا یہ منظر دکھا کر پوچھیں گے تو کیا کہو گے بھلا؟ کیا کہوں گا؟ میں نے افق کے پار ڈوبتے ہوئے سورج میں سے کچھ کھوجنے کی کوشش کی۔

جب سوال ہو گا تیرا رب کون ہے؟ اس نے پوچھا۔ میرا رب؟ وہ رب جسے دنیا کے جھمیلوں میں میں بھولا ہوا ہوں، کہیں کھو چکا ہوں۔ میں مایوس ہوا۔ تیرا دین؟ میں نے برف والے بابا کی طرف دیکھا۔ دین کو سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی فرصت کسے ہے؟ میں ہونقوں کی طرح منہ کھولے کھڑا تھا۔ تیرا نبی کون ہے؟ میرا نبی۔ نبی کے ساتھ میرا کیا رشتہ ہے بھلا؟ کبھی کبھار کوئی نعت سن لینے تک کا؟ میرا جسم ایک بار پھر بخار کی حدت محسوس کرنے لگا تھا۔ میں بھی خسارے میں تھا۔ میرے وقت کی برف کا بھی بڑا حصہ پگھل چکا ہے۔ نجانے اختتام کی جانب جاتی اس زیست کے کتنے لمحے باقی ہیں؟ کیا میں بخار کی وجہ سے حساسیت ک شکار تھا؟ ہمارے قریب ایک گاڑی تیزی سے آ کر رکی تھی۔ اس کے چرچراتے ٹائروں نے جیسے خیالات کا تسلسل توڑ دیا تھا۔ بابا یہ برف کتنے کی دو گے؟ گاڑی سے برآمد ہونے والا شخص عجیب تیزی اور پریشانی کے عالم میں تھا۔ جلدی سے5 ہزار کا نوٹ اس نے اپنی جیب سے نکالا اور برف کا ٹکڑا اٹھا کر ایک چھوٹے سے کور میں رکھنے لگا۔ یہ ایک چھوٹے سے کور میں کوئی مہنگے انجکشن تھے جنہیں محفوظ رکھنے کے لیے برف کی ضرورت تھی۔ گاڑی جس تیزی سے رکی تھی اسی تیزی اسپیڈ پکڑتی نگاہوں سے اوجھل ہو چکی تھی۔

برف والے کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ تھی اور میری بے چینی سوا تھی۔ ’’تمہارا خسارہ تو نفع میں بدل گیا مگر میرا کیا ہو گا‘‘؟ میں نے اس سے سوال کیا۔ استغفار خسارے کو کم ہی نہیں ختم بھی کر سکتا ہے۔ جہاں کھڑے ہو، جیسے کھڑے ہو توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی جانب پلٹ جاؤ۔ عمر بیشتر گزر گئی ہے ابھی ساری نہیں گزری۔ جو لمحے رہ گئے ہیں انہیں کیش کر ڈالو۔ استغفار کہتے ہوئے پلٹ جاؤ۔میں استغفار کرتا، تیز تیز قدم اٹھاتا صرف گھر ہی کی نہیں اپنے رب کی جانب بھی پلٹ رہا تھا۔ اس امید کے ساتھ کہ فانی زیست کے باقی مانندہ لمحے شاید مجھے بھی برف والیکی برف کی مانند نفع دے جائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1232 Articles with 503232 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2018 Views: 311

Comments

آپ کی رائے