من حیث القوم مزاج برہم, رواج گالیانہ!!!

(Bilal Shoukat, )

حسن نثار نے گالی بک دی,

حسن نثار یہ,

حسن نثار وہ,

حسن نثار کی ایسی کی تیسی,

حسن نثار بیپ بیپ ٹونٹ ٹونٹ!!!

جتنے بھی لوگ حسن نثار کی ویڈیو شیئر کررہے اور لکھ اچھا رہے ہیں بلکل شائستہ انداز بیاں لیئے لیکن سب معترضین 101% فیصد حسن نثار کے بھی باپ ہیں ان کاموں میں۔

فرق اتنا ہے کہ حسن نثار ایک برانڈ پرسنیلیٹی ہے, اس کا چہرا اور الفاظ بکتے ہیں ہاتھوں ہاتھ لہذا وہ آسان شکار ہے ورنہ جو جو ادھر زبان, تہذیب اور تمیز پر لیکچر دے رہے ہیں کبھی ایک دوسرے کے ساتھ اور پیٹھ پیچھے ان کے رویے اور القابات سن لیں تو کانوں کو ہاتھ لگالیں۔

منافقت پر مبنی معاشرے کے ہم باسی ہیں کہ ایک مشہور انسان نے وہی عامیوں والی زبان اور مزاج دکھایا تو فوراً ہمیں اخلاقیات اور تہذیب یاد آگئی ورنہ 20 کروڑ کے اس ملک میں کسی کی ماں بہن لفظی اور عملی بے عزتی سے محفوظ نہیں بشمول میرے, آپ کے اور ہم سب کے۔

کوئی سیاستدانوں کو ماں بہن کی گالی بکتا ہے,

کوئی فوج کو,

کوئی علماء کو,

کوئی عوام کو,

کوئی افسر شاہی کو,

کوئی حکومت وقت کو,

کوئی اپوزیشن کو,

کوئی مخالف مسلک والوں کو,

کوئی مخالف ذات والوں کو,

اور کوئی ذاتی دشمنی اور بغض کی بنیاد پر مخالف کی ماں بہن ایک کرتا ہے۔

او بھائی سستے دانشورو چھوڑ دو دوسرے کے کندھے پر چڑھ کر اپنی دکان چمکانا اور لات کھنچائی سے کسی کو گرانا۔

سب ہی اس حمام میں ننگے ہیں لہذا دوسرے کسی کے ننگ پر دانت نکوسنے اور سینہ کوبی کرنا بند کرو۔

مزاج اور رواج ہی اس ملک کے ہر بندے کا برہم اور گالیانہ ہے تو کیا ہم آف کیمرا مشہور ہستیوں سے کسی خراب صورتحال میں حدیث اور آیت سننے کے متمنی ہیں؟

کون انسان ہے جو یہاں حلفیہ کہے اللہ کی قسم کھا کر کہ اس نے زندگی میں آج تک کسی ایک نفس کو بھی ظاہراً یا باطناً وہ گالیاں نہیں بکی جو حسن نثار بک رہا تھا ویڈیو میں؟

مجھے یقین ہے کہ اگر ضمیر مردہ نہ ہوا تو ایک بھی انسان یہ حلف نہیں اٹھائے گا اور جو اٹھائے گا تو ہم حسن ظن سے کام لیکر تسلیم تو کرلیں گے لیکن اللہ تو سب جانتا ہے نا؟

میں اور آپ اگر واقعی ایسے کسی واقعے پر بے چین ہونے کا حق رکھتے ہیں اپنے تئیں تو وہ تب ممکن ہے جب ہم خود سچی توبہ کریں اور اس حرکت سے دور بھاگیں تاکہ ہمارا ایک صاف ستھرا امیج ابھر کر سامنے آئے۔

اس نے گالی بکی, فلاں یہ فلاں وہ کا راگ تب الاپنا جب خود اس حرکت کے مرتکب نہ رہو کبھی خلوت اور جلوت میں۔

حسن نثار کی ویڈیو کو وائرل کرنے والے سب احباب نے جب یہ دیکھی ہوگی تب ان کے منہ سے دو درجن مغضلات جھڑی ہونگی پر چونکہ وہ منہ سے ادا کیئے گئے تو ہمیں معلوم نہیں ورنہ کیا نیا کیا حسن نثار نے جو ہم نے کبھی نہیں کیا یا جانتے نہیں؟

یہ تو پھر مرد ہے چلو پھاڑ لو بل خواتین کی حرمت کی آڑ لیکر, میں نے اسی سوشل اور الیکٹرونک میڈیا حتی کہ این جی اوز اور سرکاری خاص کر پولیس محکمے میں خواتین کو یہ تو کچھ نہیں اس سے زیادہ اپڈیٹڈ گالیاں بکتے لائیو سنا ہے۔

لہذا جب کسی تمہاری ناپسندیدہ شخصیت, ادارے, مسلک, ذات برادری اور ملک کو گالی پڑے اور تم اینجوائے کرو تو لعنت کا پنجہ خود ہی منہ پر مار لو کہ تم بھی مہا وہ ہی ہو جو فقط دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت کے کردار کی عملی تصویر بنے پھرتے ہو۔

یہ منافقت اور دوغلا پن ہے ہمارے معاشرے میں کہ خود لباس پھاڑیں تو فیشن اور دوسرا لباس پھاڑے تو بلتکار۔

اس مہم کو میں تو سراسر احساس کمتری سمجھتا ہوں سستے دانشوروں کی جو خود دو چار لوگوں کو اپنی بات پر قائل نہیں کرسکتے تو کسی مشہور ہستی کی کوئی غلطی پکڑ کر بندوق سیدھی کرلیتے ہیں۔

باقی صلح جو اور باعمل مسلمان جس نے یہ حرکت نہیں کی کبھی بھی, وہ اس واقع پر قطعی نکتہ چینی نہیں کرے گا بلکہ کوشش کرے گا کہ حسن نثار کو مل کر یا لکھ کر بس نصیحت کرے کہ وہ ایسا نہ کرے اور جو اس کی عزت اچھال رہے ہیں ان کو بھی سمجھائے گا کہ پردہ داری اور حسن ظن سے کام لو۔

مومن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا داعی ہوتا ہے لہذا جو بات نیکی کے لحاظ سے معروف ہو گی وہ اس کی تبلیغ اور ترویج کے ساتھ تقلید کرے گا اور جو بری بات دیکھے گا اس کی تشہیر روکے گا اور اس کے متعلق سلجھے انداز میں متعلقہ انسان کو تبلیغ کرے گا کہ یہ غلط اور گناہ ہے لہذا اجتناب کرے۔

ہر انسان دوسرے کا آئینہ ہوتا ہے لہذا حسن نثار کو چھوڑو وہ تمہارا ہی عکس دکھا رہا ہے۔

ہاں اگر تم میں اتنی ہمت ہے کہ شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر خود کو گالیاں بک سکو, توہین کرسکو خود کی اور تنقیدی نشتر چبھو سکو خود کو تو لگے رہو حسن نثار کی مٹی پلیط کرنے میں کہ وہ بھی ایک انسان ہے اور انسان دوسرے انسان کا آئینہ ہے تو تم اس کو نہیں اپنے عکس کو کوس رہے ہو۔

شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔ ۔ ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Bilal Shoukat

Read More Articles by Bilal Shoukat: 7 Articles with 2468 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Oct, 2018 Views: 267

Comments

آپ کی رائے