نگاہ مصطفےٰ ﷺ تیری کیا بات ہے

(Peer Owaisi Tabasum, Narowal)

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ ھَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِیْ ھٰھُنَا فَوَا اللّٰہِ مَا یَخْفیٰ عَلٰی خُشُوْ عُکُمْ وَ رُکُوْعُکُمْ اِنِّیْ لَا رَاکُمْ مِنْ وَّرَآءِ ظَہْرِیْ۔’’حضرت ابو ہریر ہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا! کیا تم میرے سامنے کو دیکھتے ہو ،اس جگہ ، پس اﷲ تعالیٰ کی قسم ! مجھ پر تمہارے خشوع اور رکوع مخفی نہیں ہیں ۔بے شک میں البتہ تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔‘‘
(بخاری شریف جلد اول، صفحہ59،مسلم شریف جلد 2صفحہ180)
تشریح: اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اﷲ علیہ نے باب دلائل النبوۃ میں ذکر فرمایا ہے ۔حضور اکرم ﷺ نماز پڑھا کر فارغ ہوئے ،تو آپ ﷺنے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ! کیونکہ بعض افرادسے رکوع و خشوع میں کمی واقع ہوئی ،کہ اﷲ تعالیٰ کی قسم ! مجھ پر تمہارا رکوع و خشوع مخفی نہیں ہے ۔جیسے میں سامنے دیکھتا ہوں ویسے ہی میں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں ۔
بعض روایات میں رکوع و سجود کا ذکر ہے ،بعض میں ’’ظہری ‘‘ کی جگہ ’’بعدی‘‘ کا لفظ ہے ۔اس حدیث سے جس جگہ یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ امام اگر مقتدیوں میں کوئی غلطی ،کوتاہی دیکھے تو ان کو متنبہ کرنا چاہیے ۔اس جگہ حضور سید عالم ﷺ کا ادراک اور رویت عامہ یعنی ہر طرف دیکھنا ثابت ہوتا ہے ۔ آپﷺ آگے پیچھے ،اُوپر نیچے ،روشنی ،تاریکی میں یکساں دیکھتے ہیں ۔بعض حضرات نے اس سے مراد لیا ہے کہ طریق وحی یا الہام ان کے افعال پر آپﷺ کو مطلع کر دیا جاتا ہے ۔لیکن شارح بخاری نے ان کا رد فرمایا کہ ’’من وراء ظہری‘‘فرمانے کا کوئی مطلب نہ ہو گا ۔بلکہ آپ ﷺنے فرمایا ! کہ جمہور کا قول یہ ہے کہ آپ ﷺکا تمام اطراف کی طرف یکساں دیکھنا آپ کے خصائص و معجزات سے ہے ۔اسی لئے امام بخاری نے اس حدیث پاک کو ’’دلائل النبوۃ‘‘ کے باب میں بھی ذکر کیا ہے اور اس سے مذہب اشاعرہ کی تائید ہوتی ہے کہ وہ رویت میں آمنا سامنا ، جہت اور مکان کی شرط نہیں لگاتے اور نہ ہی عضوِ مخصوص آنکھ کی ۔
حضور اکرم ﷺ کے دیکھنے کی کیفیت:آپ ﷺ کا پیچھے دیکھنا ۔بعض فرماتے ہیں :کَانَتْ لَہٗ عَیْنٌ خَلْفَ ظَہْرِہٖ۔’’آپﷺ کے پیچھے کی جانب ایک آنکھ تھی جس کیساتھ اپنے پیچھے آپﷺ ہمیشہ دیکھتے تھے ۔‘‘
بعض فرماتے ہیں کہ :’’آپکے دونوں کندھوں کے درمیان سوئی کے ناکہ کی مثل دو(2) آنکھیں تھیں ،ان سے آپﷺ دیکھتے ، کوئی کپڑا وغیرہ حجاب نہ ہوتا۔‘‘ بعض فرماتے ہیں کہ :’’ان کے افعال سامنے کی دیوا رپر منقش ہو جاتے ،تو آپﷺ سر کی آنکھوں سے مشاہدہ فرمالیتے ۔‘‘
بہرحال جیسے بھی ہو ،آپ ﷺآگے پیچھے یکساں دیکھتے تھے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ آپﷺ سر کی آنکھوں میں یہ قوت ہو کہ بیک وقت تمام اطراف میں دیکھیں اور علامہ کاظمی علیہ الرحمہ نے حدیث معراج میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ آپ ﷺ کے قلب اطہر میں دو (2) آنکھیں تھیں ،جس سے آپﷺ دیکھتے اور دو (2) کان تھے جس سے آپ ﷺ سنتے تھے ۔پھر تو یہ مسئلہ اور آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے کہ جیسا سر کی آنکھوں کا ادراک دائمی ہے ، اسی طرح قلبِ انور کی آنکھوں کا ادراک دائمی ہو گا۔
آپ ﷺ حا ضر نا ظر ہیں:۔اس حدیث میں لفظ خشوع ہے ، جو دل کی کیفیت کانام ہے تومعلوم ہوا کہ قلوب کی کیفیتیں بھی نگاہ مصطفٰےﷺسے پو شیدہ نہیں ہیں۔ایک روایت میں ہے : ’’بے شک میں اپنے پیچھے ایسے دیکھتا ہوں ،جیسا کہ آگے سے دیکھتا ہوں ‘‘
( دلائل النبوۃص277، زرقا نی علی المواہب ج4ص82)
ایک اور روایت میں ہے : حضر ت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فر ما تے ہیں ۔کَا نَ رَسُوْلُ ا للّٰہِ ﷺ یَرٰی فِی ا للَّیْلِ فِی ا لظُّلْمَۃِ کَمَا یَرٰ ی فِی ا لنَّھَا رِ۔’’حضور نبی اکرمﷺرات کے اندھیرے میں بھی ا یسا ہی دیکھتے جیسا کہ دن کی روشنی میں۔‘‘
(خصا ئص کبرٰی جلد اول ص61۔زرقانی جلدنمبر 4ص82)
ان روایات کے بعد علا مہ زر قانی علیہ الرحمہ فر ماتے ہیں:’’ پس معنی یہ ہے کہ آ پ کا روشن دن اور اندھیر ی رات میں دیکھنا برابر ہے، اس لئے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے آپ کو باطن کی اطلاع اور دل کی باتو ں کا پو را پوراادراک عطا فر مادیا تو ایسا ہی آ پ کی آنکھو ں کو بھی (ظاہر ی و با طنی)ادراک عطا فر ما دیا س،چنا نچہ آپ اپنے پیچھے بھی اسی طر ح دیکھتے ، جیسا کہ آ پ اپنے آگے سے دیکھتے تھے۔‘‘(زرقانی)
یہی وہ مبا رک و مقدس آ نکھیں ہیں ، جو سا ری کا ئنا ت کا مشا ہدہ فر مارہی ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ ارشا د فرماتا ہے:یٰٓاَ یُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَا ھِداً۔ ’’اے نبی !بے شک ہم نے آپ کو حا ضر و نا ظر بنا کر بھیجا ہے۔ ‘‘( الا حزا ب : پ23)
اس آیت کر یمہ میں حضور نبی کریمﷺ کو شا ہد فر ما یا اور شا ہد کے معنی ہیں حاضر و نا ظر ۔ امام راغب اصفہا نی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فر ما تے ہیں:اَلشُّھُوْدُوَ الشَّھَا دَۃُ الْحُضُوْرُ مَعَ الشَّھَا دَۃِ اِمَّا بِا لْبَصَرِاَوْ بِا لْبَصِیْرَۃِ۔’’شہود اور شہا دۃ کے معنی ہیں حا ضر ہونا مع نا ظر ہونے کے بصر کے سا تھ ہو ،یا بصیر ت کے سا تھ ۔‘‘
جب ثابت ہو ا کہ شا ہد کا معنی حا ضر و نا ظر ہے، اب دیکھئے آپ کس کس کے نا ظر ہیں؟اسی آیت کریمہ کے تحت تفسیر روح المعانی اور تفسیر جمل میں ہے:اِنَّااَرْسَلْنٰکَ شَا ھِدً ا عَلیٰ مَنْم بُعِثْتَ اِلَیْھِمْ تُرَا قِبُ اَحْوَا لَھُمْ وَتُشَا ھِدُ اَعْمَا لَھُمْ۔’’ہم نے آ پ کو حا ضر و نا ظر بنا کر بھیجا ان سب پر جن کی طرف آپ رسول بنا کر بھیجے گئے یاآپ ان کے احوا ل کی نگہبانی کرتے ہیں ، اور ان کے اعما ل کا مشا ہدہ فرماتے ہیں ۔‘‘
یہی مضمون تفسیر بیضا وی اور تفسیر مدارک اور تفسیر جلا لین میں بھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے آ پﷺ کس کس کی طر ف رسو ل بنا کر بھیجے گئے ؟ تو خو د حضور نبی اکرمﷺ ارشا د فرماتے ہیں:اُرْسِلْتُ اِ لَی ا لْخَلْقِ کَا فَّۃَ۔’’میں تما م مخلوق کی طرف رسو ل بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘(مسلم شریف)
جب ثا بت ہوا کہ آپ تما م مخلوق کی طر ف مبعوث ہوئے ہیں پچھلی تفا سیر سے معلوم ہوا کہ آ پ جس کی طرف مبعو ث ہوئے ، اس کے نا ظر بھی ہیں ۔ لہٰذا معلوم ہو ا کہ آپ تما م مخلوق کے نا ظر ہیں ۔ یہی معنی ہے آ پ کے حا ضر و ناظر ہو نے کا کہ آپﷺ اپنے رو ضۂ انور میں مو جود ہیں اور تما م مخلوق کے نا ظر ہیں۔اس معنیٰ میں ہم اہل سنت کا آ پکے حا ضر و ناظر ہو نے کا عقیدہ ہے ۔ یہ معنی نہیں ہے کہ آپ ہر جگہ موجود ہیں،تا ہم آپ مختا ر ہیں جہا ں چاہیں تشریف لے جائیں۔ حضرت عبداﷲ ابن عمر ر ضی اﷲ تعالیٰ عنہ فر ما تے ہیں کہ :
قَا لَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ رَفَعَ لِیَ الدُّ نْیَا وَاَنَا اَنْظُرُ اِلَیْھَا وَاِلٰی مَا ھُوْ کَا ئِنٌ فِیْھَا اِلَی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ کَاَ نَّمَا اَنْظُرُ اِلٰی کَفِّیْ ھٰذِہٖ ۔ ’’حضور انور ﷺنے فر ما یا بیشک اﷲ نے میرے لئے دنیا کے حجا بات اٹھادیئے ہیں تو میں دنیا اور جو کچھ اس میں قیا مت تک ہونے والا ہے سب کو ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے کہ اپنی ہتھیلی کو۔‘‘(زر قا نی ج8ص204)
حضرت ثوبان رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :’’رسو ل اﷲﷺنے فر ما یا بیشک اﷲ تعا لیٰ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ دیا (یعنی سمیٹ کر مثل ہتھیلی کر دیا ) یہا ں تک کہ میں نے زمین کے تما م مشا رق و مغا رب کو دیکھ لیا ( یعنی سا ری زمین کا مشاہدہ کر لیا )‘‘ (مسلم شریف )
ان روایا ت سے ثا بت ہوا کہ نگا ہ نبوت سے کا ئنات کی کوئی چیزپو شیدہ نہیں ہے ۔ قیا مت تک جو کچھ ہونے والا ہے، آ پ مثل کفِ دست دیکھ رہے ہیں ۔ حضو ر نبی اکر مﷺ نے ار شا د فر ما یا ’’کوئی چیز ایسی نہیں ہے ،جو ہونے والی ہو ، مگر میں نے اس کواس مقام پر دیکھ لیا ہے یہا ں تک کہ جنت و دوزخ کو بھی۔‘‘ (بخا ری ج 1 ص 18)
فا ئدہ :جنت سا تو ں آ سما نو ں کے اوپر ہے اور دوزخ سا تو ں زمینو ں کے نیچے۔معلو م ہوا کہ نگاہ مصطفےٰﷺکی رسائی تحتُ الثّریٰ سے لیکر عر ش علیٰ تک ہے ، بلکہ اس سے بھی ورأالوریٰ تک ۔
جنگ مو تہ ، جو ملک شا م میں ہو رہی تھی ، اس کے سا رے حا لات حضور نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں ہی بیٹھے بٹھا ئے صحا بہ کرام کو بتائے ۔
(بخاری شریف ، مشکوٰۃ)
جب حضر ت یعلیٰ بن منبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنگ موتہ کی خبر لے کر حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حا ضر ہوئے تو آپ نے فرما یا :’’ جنگ کے تفصیلی حا لا ت پہلے میں تجھ کو بتا ؤ ں یا تو بتا ئے گا ؟ اس نے عر ض کیا آپ ہی بتا ئیں ۔آ پ نے جو کچھ وہا ں ہوا ، جو جو کسی پر گزرا ، جس جس طرح کوئی شہید ہوا ، سب تفصیلاًسنا دیا ۔ حضرت یعلیٰ رضی اﷲ تعا لیٰ عنہ نے سن کرکہا :اﷲ تعالیٰ کی قسم !آپ کے بیان اور اصل وا قعات میں سر موفرق نہیں ہے۔‘‘
( بیہقی،خصا ئص کبریٰ )
حضرت ابو ذر غفا ری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فر ما تے ہیں کہ حضور انور ﷺنے فر مایا: اِنِّیْ اَرٰی مَا لَاتَرَ وْنَ۔ بے شک میں دیکھتا ہوں ، جو تم نہیں دیکھتے ۔( تر مذی ۔ ابن ما جہ ۔ مشکوۃ)
دائمی ادراک: ان روایات سے حضور سید عا لم ﷺ کا تمام کائنا ت کو مشا ہدہ کرنا اور تحت الثّریٰ سے لے کر عر ش علیٰ تک دیکھنا ثابت ہو تا ہے۔ بعض حضرات اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ بطو ر معجزہ کبھی کبھی ہو تا تھا آ پ کا ادراک دائمی نہ تھا ، ان سے دریا فت یہ کر نا چاہیے کہ ان روا یا ت میں کو نسا لفظ ہے جو ادراک دائمی نہ ہو نے پر دلالت کر تا ہے۔ اپنے پاس سے قید لگا نے کا آ پ کو کس نے حق دیا ہے ؟ تما م خلق کا مشا ہدہ، یہ ایک نعمت ہے اور کیا کوئی محب اپنے محبوب کو نعمت دے کر واپس لے لیتا ہے ؟اﷲ تعالیٰ محب ہے، اورحضور اکرمﷺ اس کے محبوب ہیں ۔قانونِ محبت کے خلا ف ہے نعمت دے کر واپس لینا۔ویسے بھی اﷲ تعالیٰ کاار شا د گرامی ہے :’’لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَ زِیْدَ نَّکُمْ‘‘ ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں نعمت کو بڑھاؤ ں گا ۔‘‘کیا کوئی یہ تصور کر سکتا ہے کہ آپﷺ نے نعمت ملنے پر شکر نہ کیا ہو گا ؟
آپ ﷺتو فرماتے ہیں :اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرَا۔’’ کیامیں شکر گزا ر بندہ نہ بنوں؟‘‘جب آپ شکر گزار ہیں ، تو یقیناً یقیناًنعمت میں اضا فہ ہو گا ، نہ کہ نعمت واپس لے لی جا ئے۔ ثا بت ہوا کہ آپ ﷺکا یہ ادراک ہمیشہ کے لیے ہو تا تھا اور ہمیشہ کے لئے ہے۔ نیز قر آن کریم میں اﷲ تبا رک و تعا لیٰ ار شا د فر ما تا ہے : وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا’’قیا مت کے دن رسول تمہا رے حق میں گوا ہ ہوں گے ۔‘‘
حضور انور ﷺ تما م امت کے گواہ ہیں ، اس لئے ضروری ہوا کہ حضورانور ﷺ قیا مت تک کے ا متیو ں اور ان کے احوا ل واعمال کو دیکھ کر گوا ہی دیں گے ۔ گو گواہی اگر چہ سن کر بھی دی جا تی ہے، لیکن گواہی میں اصل یہ ہے کہ دیکھ کر گواہی دی جائے اور کامل گواہ وہی ہوتاہے جو واقعہ کو دیکھ کر گواہی دے۔ اﷲ اﷲ !حضور اکرمﷺ ایسے گواہ ہیں کہ روز محشر اپنی امت کی گواہی دیں گے ۔ آ خر ت میں انبیا ء سا بقین کی گواہی دیں گے۔میدان محشر میں جب کفا ر انبیا ء کرام علیہم السلام کی ہر حجت و دلیل کا انکا ر کر دیں گے تو انبیا ء کرام علیہم السلام کا واحد سہا را حضور اکرم ﷺ کی شہا دت ہو گی کیسا عجیب وقت ہوگا،جب کفار نبیو ں کو جھٹلائیں گے اور سب نبیوں کی نگا ہیں حضورﷺ کے چہر ۂ اقدس کی طرف لگی ہوئی ہو ں گی ۔ اس وقت حضور انور ْ ﷺاٹھیں گے اور انبیا ء کرام علیہم السلام کے حق میں گوا ہی دیکر ان کی صدا قت پر مہر لگا دیں گے ۔اﷲ تعالیٰ ارشاد فر ما تاہے:فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھٰؤُلَآءِ شَھِیْدًا’’وہ کیسا سماں ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور ان تمام گواہو ں پر آپﷺ کی شہادت لائیں گے ۔ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ گواہی سن کر بھی ہو جاتی ہے ،جب آپ ﷺنے اﷲ تعالیٰ کی ذات وصفات کی گواہی دیکھ کر دی ہے تو امت کے احوال کو دیکھ کر گواہی دیں گے ۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا۔کی تفسیر میں فرماتے ہیں:ترجمہ:۔’’یعنی تمہارے رسول ﷺ تمہارے اوپر گواہ ہیں۔‘‘کیونکہ وہ نور نبوت سے ہر دین دار کے دین پر مطلع ہیں کہ وہ میرے دین کے کس درجہ پر پہنچا ہوا ہے اور اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے اور جس حجاب کی وجہ سے وہ دین میں ترقی نہ کر سکا وہ کونساہے ؟ پس وہ تمہارے گناہوں اور ایمان کے درجات اور تمہارے اچھے برے اعمال اور اخلاص و نفاق کو پہچانتے ہیں۔ ‘‘
حضور نبی کریم ﷺ کے گواہ ہو نے کی بحث میں یہ بات بالکل بے غبار ہو کر سامنے آگئی کہ حضوررحمت عالم ،رسول محتشم ﷺ میں ہر چیز کو ہر جہت سے دیکھنے کی صفتِ دائمی ہے ۔ وہ جب حیات ظاہری سے اس کائنات پر جلوہ افروزہوئے ،اس وقت بھی سب کو دیکھ رہے تھے اوراب جبکہ قبر انور میں ہیں ، اب بھی سب کو ملاحظہ فرمارہے ہیں ۔
اﷲ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں قرآن و حدیث کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Peer Owaisi Tabasum

Read More Articles by Peer Owaisi Tabasum: 85 Articles with 92587 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Oct, 2018 Views: 983

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ