خود کو ٹیکنالوجی کا عادی نہ بنائیں

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

دن بدن سائنس اور ٹیکنالوجی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہی کی بدولت نت نئی ایجادات ہماری زندگیوں کا حصہ بن رہی ہیں۔ یہ ساری ایجادات انسان کی سہولیات کے لئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایجادات کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ افسوس ہم ایسے معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں صرف فوائد دیکھے جاتے ہیں ۔ جب کوئی ایجاد معاشرے کا حصہ بنتی ہے تو وہاں اس کے فوائد کے ساتھ نقصانات اور بالخصوص اس کے استعمال سے متعلق ذمہ داران کے لئے ہدایات بھی ساتھ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور جب معاشرے میں کمپیو ٹر کا استعمال وارد ہوا تو اس کے ساتھ والدین اور اداروں کو اس کے استعمال سے متعلق ہدایات دی گئیں کہ اس کے زیادہ استعمال سے بصارت پر فرق پڑ سکتا ہے ، اس سے وقت کا زیاں ممکن ہے ، جہاں کمرے میں رکھا جائے تو اس کی سکرین کا رُخ دروازے کی جانب رکھیں تا کہ والدین اور دیگر یہ آسانی سے دیکھ سکیں کہ بچے یا ملازمین کمپیوٹر پر کون سا کام کر رہے ہیں ، بجلی کے استعمال کے حوالے سے مناسب ہدایات ، کمپیوٹر کا مستقل عادی بننے سے گریز اور ایسی بے شمار مفید ہدایات دی گئیں تاکہ کمپیوٹر کے فوائد زائل نہ جائیں۔ بدقسمتی سے جب بھی کوئی نئی ایجاد ہمارے معاشرے کا حصہ بنتی ہے تو ہم صرف اس کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہیں اور نقصانات سے چشم پوشی کی روش رکھتے ہیں۔ ہم اس کے استعمال کی ہدایات میں بالکل دل چسپی نہیں رکھتے۔ یوں ٹیکنالوجی ہمیں دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیتی ہے۔ ٹیکنالوجی بے شک انسان کی سہولت کے لئے ہوتی ہے لیکن ہم اس کے اتنا عادی ہو جاتے ہیں کہ تن آسان اور سست و کاہل بن جاتے ہیں۔

چلیں ، چند اور سادہ مثالوں سے اس کو سمجھنے کی کو شش کرتے ہیں۔ میرے والد بزرگوار (مرحوم ) چار جماعت تک پڑھے تھے۔ اُن کو ریاضی ٹھیک ٹھاک آتی تھی۔ وہ لمبی چھوڑی جمع تفریق کلکولیٹر کے مقابلے تیز ی سے کرتے اور اس میں درستگی پائی جاتی۔ ہم نے والد بزرگوار کو کلکو لیٹر استعمال کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ اس کے برعکس ہم اتنے ذہنی و جسمانی طور پر سہل پسند ہو چکے ہیں کہ مشینوں کے بغیر حساب کتاب نہیں کرتے۔ اگر کبھی ذہن کو استعمال کرکے جمع تفریق کر لی تو جواب پہ اعتبار نہیں ہوتا اور موبائل یا کمپیوٹر میں کلکو لیٹر سے ضرور پڑتال کرتے ہیں۔ آج کل کمپیوٹر اور اس کے ساتھ سافٹ وئیر انڈسٹری نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اَب جنرل سٹوروں اور دکانوں میں بزنس سافٹ وئیر استعمال ہوتے ہیں۔ بار کوڈ ریڈر سے تعداد اور قیمت کمپیوٹر میں اِن پُٹ اور سیکنڈوں میں انوائس پرنٹ ہوجاتی ہے۔نہ ہی ہاتھ سے لکھنے اور ذہن سے جمع ضرب کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور تو چھوڑیں ، گاہک نے ایک ہزار کا نوٹ دیا تو کمپیوٹر پر موجود شخص اس کے بقایاجات کے لئے بھی سافٹ وئیر کا سہارا لیتا ہے۔

پہلے دفاتر میں سٹینو ٹائپسٹ ہوا کرتے تھے جو اپنی مہارت سے ٹائپ کے بٹنوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ اُن کی ٹائپنگ سپیڈ اور الفاظ کی درستگی کمال کی ہوا کرتی تھی۔ اَب اُن کی جگہ تقریباً کمپیوٹر آپریٹر لے چکے ہیں۔ اگرچہ اُن کی سپیڈ ٹھیک ہے لیکن اُن کی ہجوں میں غلطیاں زیادہ ہوتیہیں کیوں کہ اُن کو پتہ ہے کہ کمپیوٹر خود گرائمر اورہجوں میں غلطیوں کی نشان دہی کر دیتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آپریٹر وں کے اکثر ہجے ہمیشہ غلط رہتے ہیں اور وہ خود ذہن اور یاداشت پہ بوجھ نہیں ڈالتے کہ ہر لفظ کے ہجے یاد رکھیں۔ یہ تجربہ کرکے دیکھ لیں کہ کسی کمپوزر کو کارڈ ، لیٹر پیڈ ، پوسٹر یا پینافلیکس بنانے کو دیں۔ پرنٹنگ سے قبل جب پروف دیکھیں تو درجنوں غلطیاں موجود ہوں گی۔ یہ سب ٹیکنالوجی کی وجہ سے عدم دل چسپی کے کرشمے ہیں۔

ذرا موبائل فون کی مثال دیکھیں۔ گزشتہ روز چند گھنٹوں کے لئے موبائل فون معطل رہی۔ اتفاقاً اس سے ایک دن قبل ہم دوستوں نے مل کر لنچ کا پروگرام بنایا تھا لیکن سروس کی معطلی کی وجہ سے ہمارا رابطہ ایک دوسرے سے نہیں ہو پایا۔ البتہ ہر ایک دوست نے کوشش کی کہ آپس میں فیس ٹو فیس ملاقات ہوجائے اور لنچ کا پروگرام ترتیب و تکمیل پا جائے لیکن ایسا ممکن نہ ہوا اور مجبوراً پروگرام ملتوی کرنا پڑا۔ اگلے دن جب دوست مل بیٹھے تو ایک ہی بات تھی کہ اگر موبائل فون بند ہوجائیں تو ہمارا رابطہ کٹ جائے گا۔ ہمیں نوے کی دہائی کے وہ دن یاد آنے کے ساتھ ستانے لگے جب ہم دوست بغیر موبائل فونوں کے ایک جگہ اکھٹے ہوتے ، ایک دوسرے سے ملتے رہتے ( بغیر ملاقات طے ہوئے )اور ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ رہتے ۔ پس ان ایجادات نے ہمیں نہ صرف سہل پسند بنالیا ہے بلکہ ہم سے جسمانی و ذہنی صلاحیتیں چھین لی ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 124398 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Oct, 2018 Views: 955

Comments

آپ کی رائے