ہر بیوقوف پردیسی کی ایک ہی کہانی

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

ہمارے ہاں کی لوئر اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ہر بیوقوف پردیسی کی ایک ہی کہانی ہوتی ہے ۔ واضح رہے کہ سارے پردیسی بیوقوف نہیں ہوتے کچھ بہت سمجھدار بھی ہوتے ہیں انہیں سوائے اپنے بیوی بچوں کے کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ ماں باپ بہن بھائیوں کی انہیں کوئی خاص پرواہ نہیں ہوتی ان کی پہلی ترجیح اپنی بیوی اور بچے ہوتے ہیں جو کماتے ہیں صرف ان پر لگاتے ہیں کبھی کبھار تھوڑا بہت احسان اپنے گھر والوں پر بھی کر دیتے ہیں ورنہ تو زیادہ تر ان کے آگے اپنے خرچوں اور تنگی کا ہی رونا روتے رہتے ہیں تاکہ وہ کسی فرمائش یا ضرورت بیان کرنے کے بارے میں سوچیں بھی نہیں ۔ اور انہیں اپنی پچھلی قربانیوں کا ذکر کر کے شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یعنی یہ خاصے عقلمند پردیسی ہوتے ہیں اور محدود تعداد میں پائے جاتے ہیں مگر اس وقت ہمارا موضوع یہ مٹھی بھر ناہنجار پردیسی نہیں بلکہ کثیر تعداد میں پائے جانے والے وہ مشرقی پردیسی ہیں جن میں بہت سی صفات و خصوصیات مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں
جن میں سرفہرست ماں باپ کو گھر بنا کر دینا ۔ بہن بھائیوں کی شادیاں کرنا
اور اگر کسی طرح خود اپنی بھی شادی ہو جائے تو بیوی کو گھر نہ بنا کر دینا اور اسے اپنے پورے گھر کی نوکرانی بنا کر رکھنا
اسے الگ سے کوئی خرچ نہ دینا اور اپنے والدین کا دست نگر بنا کر رکھنا
کسی گلے شکوے کے جواب میں ایثار و قربانی کے فضائل و مناقب بیان کرنا
اسے مستقبل کے بارے میں سبز نیلے پیلے باغ دکھانا
اور کوئی نیا پلاٹ یا دوکان اپنے ابا یا چھوٹے بھائی کے نام سے خریدنا
اپنوں کی سیان پتیوں کو سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہونا اور سادہ لوحیوں کے ریکارڈ توڑنا
پردیس میں گدھوں کی طرح محنت کرنے کے باوجود اکثر ہی پیٹ بھر کر کھانا تک نہ کھانا
اگر یورپ یا امریکہ میں ہیں تو عید والے دن بھی کام پر جانا
روکھی سوکھی کھانا ۔ موٹا جھوٹا پہننا
ایک آدھ ڈھنگ کے جوڑے میں کسی ہائی پروفائل جگہ پر یا کسی تقریب میں شریک ہو کر پوز مار کر تصویر کھنچوا لینا اور سارے پریوار کو زیارت کرانا جیسے یہاں کوئی بڑے شہزادہ گلفام لگے ہوئے ہیں
بیمار ہو جائیں کوئی چوٹ لگ جائے یا کوئی حادثہ پیش آ جائے تو گھر پر اطلاع نہ کرنا
اور اگر اس دوران گھر سے کال آ جائے تو چہک چہک کر باتیں کرنا کہ مزے میں ہوں
وہاں سے کوئی نئی فرمائش یا مطالبہ سن کر شیخی بگھارنا کہ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں آپ فکر ہی نہ کریں میں ہوں نا ۔ ابھی بھیجتا ہوں پیسے
حالانکہ موصوف چند روز پہلے ہی اپنی پوری تنخواہ گھر پر روانہ کر چکے ہیں اور اب اپنے اخراجات اوور ٹائم لگا کر یا پارٹ ٹائم جاب سے پورے کر رہے ہیں
ہر بیوقوف پردیسی تِیس تِیس سال بعد اپنے گھر والوں سے سنتا ہے کہ تم نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے؟
خود اپنی محنت سے بنائے ہوئے گھر سے بےدخل کیا جاتا ہے
عمر اور صحت کی پونجی گنوا کر خالی ہاتھ واپس جاتا ہے اور دو کوڑی کا ہو کر رہ جاتا ہے
ایک عبرتناک بڑھاپے اور المناک انجام سے دوچار ہوتا ہے
اور یہ سب دیکھنے سننے کے باوجود باقی کے پردیسیوں کو کچھ سبق نہیں ملتا
پردیسیو! بند کرو بیوقوف بننا ۔ آنکھیں کھولو اس سے پہلے کہ زندگی کی شام شروع ہو جائے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 167 Articles with 1012555 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2018 Views: 5228

Comments

آپ کی رائے