یوسف حسن :خود بھی لوحِ خاک پر تصویر ہونا ہے مجھے

(Ghulam Ibn-e-Sultan, Jhang)

 ڈاکٹر غلام شبیر رانا
عالمی شہر ت کے حامل مایہ ناز ترقی پسند ادیب،نقاد ،محقق اورماہرتعلیم پروفیسر یوسف حسن نے بھی ہماری بزمِ ادب کو چھوڑ کر عدم کے کوچ کے لیے رخت سفر باندھ لیا ۔کالا گوجراں ( جہلم ) سے سال 1948میں طلوع ہونے والا علم و ادب کا وہ آفتاب جس کی ضیا پاشیوں سے سفاک ظلمتیں کافور ہوئیں ،چھبیس جون 2018کو راول پنڈی میں غروب ہو گیا ۔ یوسف حسن کے نظام تنفس میں ایسی خرابی پیدا ہو گئی تھی کہ ان کے پھیپھڑوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھااور گز شتہ چند ہفتے سے وہ ہولی فیملی ہسپتال راول پنڈی میں مصنوعی تنفس پرتھے ۔ ان کی نماز جنازہ مسلم ہائی سکول ،راول پنڈی میں ادا کی گئی جس میں ہر مکتبہ ٔ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے علاوہ ادیبوں ،اساتذہ ،طالب علموں اور عمائدین شہرکی بہت بڑ ی تعداد نے شرکت کی ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس یگانہ ٔ روگار فاضل کی دائمی مفارقت پر شہر کا شہر سوگوار تھا ۔جاگیردارانہ نظام کے پروردہ مافیا ، مفاد پرست عناصر کی انسان دشمنی ،سرمایہ دارانہ نظام کے بے رحمانہ استحصالی حربوں ،نو آبادیاتی دور کی شقاوت آمیز نا انصافیوں ،عالمی سامراج کی سازشوں اور نیو امپیریلزم کے خلاف یوسف حسن نے قلم بہ کف مجاہد کا کردار ادا کیا۔ اس نابغہ ٔ روزگارادیب کو اپنے عہد کے ارسطواور دائرۃ المعارف کی حیثیت حاصل تھی ۔ وہ شہر کی علمی و ادبی محافل میں شریک ہوتے اور اپنے اپنے عالمانہ خطبات میں وسیع المطالعہ نقاد ہونے کا ثبوت دیتے تھے۔ یوسف حسن کی پکار دراصل ضمیر کی للکار تھی جس نے جبر کے ایوانوں پر لرزہ طار ی کر د یا ۔ اپنے آبائی شہر سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد یوسف حسن نے جامعہ پنجاب،لاہور سے گریجو یشن کی اور گور نمنٹ کالج اصغر مال راول پنڈی میں تدریس اردو پر مامور ہوئے اور مسلسل تیس برس تک یہاں خدمات انجام دیں ۔یوسف حسن کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا اور انھوں نے ما رکسزم کا وسیع مطالعہ کیا تھا ۔ ان کا خیا ل تھا کہ ترقی پسند ادب میں اب وہ پہلی سی تابانی اور گل افشانیٔ گفتار عنقا ہے ۔ترقی پسند تحریک کی ادبی کامرانیوں کی داستانیں تاریخ کے طوماروں میں دب گئی ہیں اورسب کچھ وقت بُرد ہو چکا ہے۔ وہ اپنے اتالیق اور ممتاز شاعر اقبال کوثر کی بہت عزت کرتے تھے ۔ اپنے معتمد رفقا سے ملاقات کے دوران میں و ہ اقبال کوثر کا یہ شعر اکثر دہراتے تھے ۔
جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں
آج کل ہم ترے بارے میں بہت سوچتے ہیں

عملی زندگی میں تدریس، ادب اور سیاست ہی یوسف حسن کا اوڑھنا بچھونا رہا ۔ پروگریسو رائٹرز ایسو سی ایشن( PWA)کے مرکزی رہنماکی حیثیت سے یوسف حسن کی گراں قدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ راول پنڈی اور اسلام آباد کی نہایت موثر اور فعال تنطیم عوامی ورکرز پارٹی کے ایجو کیشنل سیکرٹری بھی تھے ۔بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اس جری ،فعال اور مستعد انقلابی دانش ور نے پاکستانی عوام میں ملکی حالات اور قومی مسائل کے بارے میں مثبت شعور و آگہی پیدا کرنے میں جو جرأت مندانہ کردار ادا کیا وہ اپنی مثال آ پ ہے ۔حریت فکر کے اس مجاہد نے مظلوم طبقے کو اس بات پر مائل کیا کہ وہ استحصال کا ہر انداز مسترد کردیں اور حریتِ ضمیر سے جینے کی راہ اپناتے ہوئے فسطائی جبر کے سامنے سپر انداز ہونے سے انکار کر دیں۔نمود و نمائش ،تعلّی اور خود ستائی سے یوسف حسن کو شدید نفر ت تھی۔ممتاز اشاعتی ادارہ ’’ گندھارا پبلشرز ‘‘یوسف حسن کی زیر نگرانی کام کرتا تھا۔اس اشاعتی ادارے کے زیر اہتمام متعدد علمی و ادبی کتب شائع ہوئیں مگر انھوں نے اختیار رکھنے کے باوجود اس ادارے کے زیر اہتمام اپنی کوئی کتاب شائع نہ کی ۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے وہ دل گرفتہ ہوجاتے اور یہی کہتے کہ وطن عزیز میں بے شمار با صلاحیت تخلیق کا رایسے ہیں جن کی تخلیقات کے مسودے وسائل کی عدم دستیابی کے باعث منصہٌ شہود پر نہیں آ سکتے اور ان کی تخلیقی کامرانیوں کا احوال تاریخ کے طوماروں میں دب جاتاہے ۔ اس موقع پر وہ را م ریاض کی سال 1977میں شائع ہونے والے شعری مجموعے ’’ پیڑ اور پتے ‘‘ کی اشاعت کا ذکرضرور کرتے اور جب یہ شعر پڑھتے تو سننے والوں کی آ نکھیں بھیگ بھیگ جاتیں ۔
شاید ہمارے بعد کوئی ہم کو پُوچھ لے
ہم نے بھی اپنے نام کا کتبہ لکھا لیا

پروفیسر کلیم الدین احمد کی طرح یوسف حسن بھی اردو تنقید کے موجودہ معیار سے مطمئن نہیں تھے ۔ادبی تقریبات ،کتابوں کی رونمائی کے موقع پر پڑھے جانے والے مضامین کو وہ تنقید کے بجائے مدلل مداحی اور مختلف اغراض اور مقاصد کی خاطر کی گئی بے سروپا تعریف و توصیف ، انتہائی مبالغہ آمیز خوشامد اور قصیدہ نگاری کی ایک مہمل صورت سے تعبیر کرتے تھے ۔ تنقید کے سلسلے میں انھوں نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا کہ تخلیق ِ فن کے لمحوں میں تجربات ،احساسات ،جذبات اور جمالیاتی تصورات کو سائنسی اندازِ فکر کا آئینہ دار ہونا چاہیے ۔ اُنیسویں صدی کے وسط میں کارل مارکس اور اینگلز نے فلسفہ اور علم بشریات کے حوالے سے تاریخ ،معاشیات ،سیا سیات اور سماجی و معاشرتی نظام کے بارے میں جن خیالات کااظہار کیا انھیں سوشلسٹ ممالک میں بہت پزیر ائی ملی ۔یوسف حسن نے مارکسزم سے گہر ے ا ثرات قبول کیے اور مارکسزم کی پسندیدگی کو کبھی لائق اعتذار نہ سمجھا ۔ یوسف حسن نے ہنگری سے تعلق رکھنے والے مارکسی فلسفی گیورگی لوکاس (Gyorgy Lukas: 1885-1971)،اپنے عہد کے مشہوربر طانوی کمیونسٹ بِل وارن(Bill Warren: 1935-1978)اور امریکہ کے مارکسی ماہر معاشیات پال سویزے (Paul Sweezy:1910-2004)کے افکار پر جو تحقیق کی اسے ادبی دنیا میں قدر کی نگا ہ سے دیکھا گیا۔ یوسف حسن کا شمار وطن عزیز کے ان ممتاز دانش ورو ں میں ہوتا تھا جنھیں مارکسی افکار و فلسفے کی تشریح میں اختصاصی مہار ت حاصل تھی ۔فکر و فلسفہ کی گہرائی کو وہ تنقید کے ارفع معیار کے لیے نا گزیر سمجھتے تھے۔ محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے اُردو زبان کے ادیبوں سے یوسف حسن کو بہت محبت تھی۔یوسف حسن کے افکار،طرز ِعمل اور اسلوب کے بارے میں یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ وہ ایک عظیم انسان تھے۔ہر ملاقاتی کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے پیش آنے والے ا س با کمال تخلیق کار نے عجز و انکسار کے ساتھ زندگی بسر کی ۔ صبر و تحمل ،قناعت اور ایک شان ِ استغنا ان کے مزاج کا حصہ تھا۔ طالب علموں کی علمی اعانت کے لیے وہ ہمہ وقت مستعد رہتے تھے ۔
پاکستان کے ترقی پسند ادیبوں کے ساتھ یوسف حسن کے قریبی مراسم تھے ۔ان کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا اور اپنے مخلص احباب سے معتبر ربط اور غم گساری ان کا امتیازی وصف تھا۔ ان کے ممتاز رفقا میں بشیر سیفی،نثار احمد قریشی،ارشاد گرامی ،فیروز شاہ ،اسحاق ساقی ،احمد تنویر ،گدا حسین افضل ،احمد بخش ناصر ؔ،تنویر سپر ا،دانیا ل طریر،منیر احمد شیخ ،اسماعیل صدیقی،سید ضمیر جعفری ،کرنل محمد خان ،صدیق سالک ،شفیق الرحمٰن شامل تھے۔یوسف حسن نے نو آبادیاتی دور میں سجاد ظہیر اور ان کے ساتھیوں کی تخلیقات پر مبنی سال 1933میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعے ’’ انگارے ‘‘ کو ترقی پسند خیالات کا آئینہ دار سمجھا۔اس افسانوی مجموعے کو بر طانوی استعمار نے جنگل کے قانون کے تحت ضبط کر لیا ۔ ان کا خیا ل تھا کہ بر صغیر میں سال 1936میں ترقی پسند تحریک کا آغاز جہاں تاریخ کے مسلسل عمل کا نتیجہ تھا وہاں یہ اُس عہد کی اہم سیاسی ضرورت بھی تھی ۔ پہلی عالمی جنگ نے پوری دنیا کے حالات بدل دئیے ۔اس تباہ کن جنگ کے نتیجے میں عالمی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ، سیاسی، سماجی اور معاشرتی زندگی میں انقلاب آ گیا ۔سیلِ زماں کے مہیب تھپیڑوں نے جنوبی ایشیا کا جغرافیہ ہی بدل ڈالا ۔علم و ادب پر بھی اس کے دُور رس اثرات مرتب ہوئے ۔یوسف حسن کا خیا ل تھا کہ اردو ادب میں وسعت نظر کے ابتدائی نقوش مولانا الطاف حسین حالی ؔ کے معرکہ آرا ’’ مقدمہ شعر و شاعری ‘‘ میں دکھائی دیتے ہیں ۔ا س کے بعد علامہ محمد اقبال اور سید فضل الحسن حسرتؔ موہانی کی شاعری میں اس کے واضح آثار ملتے ہیں ۔جہاں تک اردو نثر کا تعلق ہے پنڈت رتن ناتھ سرشارؔ اور میرزا ہادی رسوا ؔنے اس روایت کو تقویت بخشی ۔ ترقی پسند تحریک کو محض سوشلزم کی ترجمان سمجھنا صحیح نہیں بل کہ یہ تحریک نے نہ صرف روشن خیالی ،وسعت ِ نظر اور حقیقت پسندی کو پروان چڑھانے میں خضر ِ راہ ثابت ہوئی بل کہ عوام میں زندگی کے حقائق کے بارے میں مثبت شعور و آگہی کو مہمیز کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ اس تحریک کے اعجاز سے تخلیق ادب کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی روایت کو تقویت ملی۔اسی سلسلے کی ایک کڑی ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی تصنیف ’’ ادب اور زندگی ‘‘ ہے ۔ یوسف حسن ارد و زبان کے جن ممتا زادیبوں کی خدمات کے معترف تھے ان میں مولانا حسر ت موہانی، پریم چند ،قمر رئیس، عبد العلیم،مولوی عبدالحق ، جوش ملیح آبادی، سید سجاد ظہیر،رشید جہاں ،کیفی اعظمی اورسردار جعفری شامل ہیں ۔
زندگی کے آخر ی ایا م میں یوسف حسن نے ماورائی نفسیات میں گہری دلچسپی لی اور غیر معمولی نفسیاتی مظاہر کے بارے میں سوچنے لگے۔ان کے دیرینہ رفیق سجاد بخاری ، گدا حسین افضل اور احمد بخش ناصر ؔ نے بتایا کہ احباب کے ساتھ ملاقاتوں میں یوسف حسن اُن کے ساتھ ایک خاص تعلق ذہنی استوار کرلیتے تھے ۔وہ فکر و خیال کورو بہ عمل لاتے ہوئے ماد ی دور کی فعا لیتوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت،اپنے مشاہدات ،تجربات ،تاثرات،عالم نزع کی کیفیات اور کارِ جہاں کے ہیچ ہونے پر بے مدلل گفتگو کرتے اور سامعین ان سے بہت متاثر ہوتے تھے۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ جب وہ تناسخ اور مافوق الفطرت عناصر کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تو سامعین ششدر رہ جاتے اور ان کی رائے کو نوائے سروش پر محمول کرتے تھے ۔اپنی روشن ضمیر ی کے اعجا زسے وہ پیش بینی اور پیش آ گا ہی کی صلاحیت سے متمتع تھے۔ان کی انسان شناسی کا ایک عالم معترف تھا۔وہ انسان کے ظاہر کو دیکھ کر اس کی باطنی کیفیت کے بارے میں اپنی رائے دینے میں کبھی تامل نہ کرتے ۔آئینۂ ایام میں اپنی ہر ادا دیکھنے پر قادر اس فلسفی کوآنے والے دور کی دھندلی سی تصویر بھی دکھائی دینے لگتی تھی۔اکثر لوگ غائب شناسی کی اس حیران کن استعدا دکو ان کی علم نجوم اورقیافہ شناسی سے دلچسپی کا ثمر قرار دیتے۔یوسف حسن کا خیا ل تھا کہ جب شعور حقیقت اور فریب حقیقت کے مابین حد فاصل کے ادرا ک سے قاصر ہوجائے تو علامتی ابلاغ میں اسے اضافی حقیقت سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ان کی شاعر ی میں خوابوں کی خیابا ں سازیوں اور ان کی تعبیر کی تاثیر قار ی کو ایک نئے ماحول سے ا ٓشنا کرتی ہے ۔
آنکھوں میں ٹھہرا ہوا سپنا بکھر بھی جائے گا
رات بھر میں نیند کا نشہ اُتر بھی جائے گا
دِن کی چمکیلی صداؤں سے گریزاں رہ رو
شام کی سرگوشیاں سُن کر ٹھہر ہی جائے گا

پُر اسرار حالات میں اپنے خیالات ،تجربات،جذبات ،مشاہدات اور خاص ذہنی کیفیات کو اشعار کے قالب میں ڈھالتے وقت یوسف حسن نے جن علامات کا انتخاب کیا ہے وہ ان کے ذوقِ سلیم کی مظہر ہیں ۔یہ علامتیں ان کے لغوی معانی سے بالکل مختلف ہیں مگران سے اظہار و ابلاغ کے متعدد نئے در وا ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ان علامات کا مفہوم اس قدر وسیع اور قلب و رو ح کی گہرائی میں اُتر جانے والی اثر آفرینی سے معمور ہوتاہے کہ سنگلاخ چٹانوں ،جامد و ساکت مجسموں اور پتھروں سے بھی اپنی تاثیر کا لوہا منوا لیتا ہے ۔ اردو شاعری میں ایسی علامات کا استعمال کم کم دیکھا گیا ہے ۔ اپنی شاعری میں یوسف حسن نے جن علامات کا بے ساختہ اور بر محل استعمال کیا ہے ان میں آئینہ ،منڈیریں ،نظر ،خیمہ ،کاسہ ،دریا، خشت،کنارا،تیشہ،زنجیر ،خواب،دیوار ،در ،خاک ،شامل ہیں۔اپنی شاعری میں کئی تلمیحات اور ضر ب الا مثال کی مدد سے یوسف حسن نے موثر ابلاغ کو یقینی بنانے کی سعی کی ہے ۔یوسف حسن نے اپنی شاعری میں لبِ گہر فشاں ،کڑی کمان جیسی چال ،عنبر فشاں زلفوں یا تذکرۂ خجستہ ٔ آب و ہوا کو کبھی موضوع نہیں بنایا بل کہ دکھی انسانیت کے مصائب و آلام کی لفظی مرقع نگاری پر توجہ مرکوز رکھی۔
کیا رُوپ برس رہا ہے
ہر آئینہ ہنس رہا ہے
ویران ہیں سب منڈیریں
جی کیسا ترس رہا ہے
ہر نظر میں ہے اثاثہ اپنا
چا ک در چاک ہے خیمہ اپنا
چھوڑ بیٹھے ہیں فقیری لیکن
ابھی ٹُوٹا نہیں کاسہ اپنا
لِپٹے جاتے ہیں کناروں سے بھی
اور دریا پہ بھی دعویٰ اپنا
درِ خسر و پہ چلا ہے فرہاد
رہن رکھ آئے نہ تیشہ اپنا
کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے
گَرد میں گُم خواب کی تعبیر ہونا ہے مُجھے
خستہ دم ہوتے ہوئے دیوار و درسے کیا کہوں
کیسے خشت و خا ک سے تعمیر ہونا ہے مُجھے
یوسفؔ اپنے درد کی صورت گری کرتے ہوئے
خود بھی لوحِ خاک پر تصویر ہونا ہے مُجھے

اس شاعری میں حرفِ صداقت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔کہیں مسرت و شادمانی کی فراوانی ہے تو کہیں حیرت و حسرت ،یاس و الم کی نوحہ خوانی کی فضا قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے ۔یوسف حسن کی مستحکم شخصیت اس شاعری میں جلوہ گر ہے ۔جب ان کے جذبات،احساسات اور تجربات وادی ٔ خیال کا رخ کرتے ہیں تو وہاں الفاظ کے خوش رنگ دامنوں میں اشعار کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اس شاعری میں اظہار و ابلاغ کے نئے آفاق قاری کو جہانِ تازہ کی نوید سناتے ہیں۔ تخلیق ِ فن کے لمحوں میں جو مقصد تخلیق کار کے پیشِ نظر رہتا ہے وہ یہ ہے کہ مہیب سناٹوں اور سفاک ظلمتوں میں جب کوئی امید بر نہ آئے تو تزکیۂ نفس کی کوئی صورت تلاش کی جائے ۔

یوسف حسن نے تاریخ ،علم بشریات ،نفسیات ،فلسفہ ،تنقید اور تحقیق سے متعلق موضوعات میں گہری دلچسپی لی ۔یوسف حسن کو اس بات پر قلق تھا کہ بر صغیر سے نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد جب اس خطے میں آزادی کی صبحِ درخشاں طلوع ہوئی تو منزلوں پر اُن موقع پرست مہم جُو عناسر نے غاصبانہ قبضہ کر لیا جو جد و جہد آزادی کے صبر آزما مراحل میں کبھی شریکِ سفر ہی نہ تھے ۔ چڑھتے سورج کے پجاری اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے طالع آزما اور مہم جُو عناصر نے عام آدمی کو آزادی کے ثمرات سے محروم کرنے میں کوئی کسر اُ ٹھا نہیں رکھی ۔ اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہو گا کہ علمی،ادبی،تہذیبی اور ثقافتی مظاہر کو بھی مفاد پرست استحصالی عناصر نے نہایت بے دردی سے اپنے ذاتی مفادات کے تابع بنا کرہمیں اقوامِ عالم کی صف میں تماشا بنا دیا ہے ۔ طالع آزما اور ابن الوقت مفاد پرستوں کی بے بصری اور کو ر مغزی کا لرزہ خیز نتیجہ یہ نکلا کہ علم وا دب کو بھی بازار میں عام فروخت ہونے والی ا جنا س کا درجہ دیا جانے لگا۔حریت فکر کے مجاہد اور جری تخلیق کار کی حیثیت سے یوسف حسن نے سدا حرفِ صداقت لکھنے پر اصرار کیا۔ تخلیق ادب میں مقتدر حلقوں کی مداخلت کو وہ سخت نا پسند کرتے تھے ۔پاکستان میں بہت سی علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں اس لیے تخلیق ادب میں ر و نما ہونے والے تہذیبی و ثقافتی عوامل اور متعدد تخلیقی رجحانات قابل توجہ ہیں ۔ چار ہزار سال قدیم روایات کی حامل پنجابی زبان کی کلاسیکی شاعری کے وہ بہت بڑے مداح تھے ۔خاص طور پر سلطا ن باہو، بابا فرید ، بلھے شاہ ،خواجہ غلام فرید ،علی حیدر ،وارث شاہ ،شاہ حسین اورمیاں محمد بخش کا کلام انھیں بہت پسند تھا ۔ بر صغیر کی علاقائی زبانوں میں پنجابی زبان اظہار و ابلاغ کے اعتبار سے بہت ثروت مند ہے ۔اس زبان کی انفرادیت اور وسعت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے واحد افعال کی تعداد دو ہزار پانچ سو(2500) ہے ۔جہاں تک اُردو زبان کا تعلق ہے اس کے واحد افعال تین سو پچاس (350) ہیں ۔عالمی کلاسیک کے مقامی زبانوں میں تراجم کو وہ افادیت سے لبریز فعالیت قرار دیتے تھے ۔ ان کا خیا ل تھا کہ پاکستان میں بولی جانے والی بڑی زبانوں میں عالمی ادب کی نمائندہ تخلیقات کے تراجم وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔وہ اردو اور پنجابی زبان کے شعرا کو تنقیدکا بنیا د گزار قرار دیتے اور ان کی مساعی کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتے تھے۔یوسف حسن نے تحقیق اور تنقید میں دیانت ،ریاضت اور قوت ارادی کو رو بہ عمل لانے پر زور دیا۔جب ایک نقاد افکارِ تازہ کی مشعل تھام کر سفاک ظلمتوں کو کافور کرتے ہوئے جہانِ تازہ کی جستجو میں اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے تو تخلیقِ ادب میں نئے امکانات پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ اردو زبان میں قدیم تذکروں سے اپنے سفر کا آغاز کرنے کے بعد اردو تنقید نے جو مسافت طے کی ہے وہ حد درجہ غیر امید افزا ہے ۔

اپنی شاعری میں یوسف حسن نے اپنی زندگی کے تجربات کی نہایت خلوص ،دیانت اور دردمندی سے لفظی مرقع نگاری کی ہے ۔اس شاعری میں ایک ایسے زیرک تخلیق کار کی شخصیت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے جس نے رنگ ،خوشبو اور حسن و خوبی کے جملہ استعارے دل کش اشعا رکے قالب میں ڈھال کر ید بیضا کا معجزہ دکھایا ہے ۔ یہ اشعار اس طائر خوش نوا کے مانند ہیں جس کی پرواز سرحدِ ادراک سے بھی آگے جاری رہتی ہے ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ قلبی وابستگی اور والہانہ محبت کے جذبات کی امین اس سدا بہار شاعری کی باز گشت لمحے نہیں بل کہ آنے والی صدیاں بھی سنتی رہیں گی ۔ بعض اوقات یہ دیکھ کر حیر ت ہوتی ہے کہ مجموعہ ٔ خیال جو بہ ظاہر فرد فردنظر آتا ہے کس خوش اسلوبی سے تشکیک اور بے یقینی کے پیدا کردہ موہوم اندیشوں کو گرد گرد اُٹھا لے جاتا ہے ۔
اُسی حریف کی غارت گری کا ڈر بھی تھا
یہ دِل کا درد مگر زادِ راہ گزر بھی تھا
اسی کھنڈر میں میرے خواب کی گلی بھی تھی
گلی میں پیڑ بھی تھا پیڑ پر ثمر بھی تھا
مجھے کہیں کا نہ رکھا سفید پوشی نے
میں گرد گر د اُٹھا تھا تو معتبر بھی تھا

فلسفہ ،نفسیات ، ادب ،سیاست ،عمرانیات اور علم بشریات کے امتزاج سے یوسف حسن نے جو منفر اسلوب اپنایا وہ ان کی پہچان بن گیا۔معاشرے کے پس ماندہ اور مفلوک الحال طبقے کے ساتھ انھوں نے جو عہدِ وفا استوار کیا زندگی بھر اسی کو علاجِ گردشِ لیل و نہار سمجھتے ہوئے اُس پر عمل پیرا رہے ۔ ارض ِ وطن اور اہلِ وطن کے ساتھ والہانہ محبت اور قلبی وابستگی یوسف حسن کا بہت بڑا اعزاز و امتیاز سمجھا جاتا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ وہ خاک ِوطن کے ہر ذرے اور ہر فرد سے ٹُوٹ کر محبت کرتے تھے ۔انسانیت کے وقار اور سر بلندی کے لیے انھوں نے انتھک جد و جہد کی ۔انسانی ہمدردی کا جذبہ ان کی شخصیت کا نمایاں ترین وصف تھا۔زندگی کی اقدار عالیہ اور درخشاں روایات کے تحفظ کے لیے انھوں نے مقدور بھر سعی کی اسی وجہ سے ان کا شمار اپنے عہد کے مصلح فلسفیوں میں ہوتا ہے ۔ یوسف حسن کی وفات کی خبر سن کر ان کے دیرینہ رفیق اور مداح پروفیسر غلام قاسم خان نے زار و قطار روتے ہوئے کہا:
’’ ایامِ گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی کر ر ہا تھاکہ یوسف حسن کے ساتھ گزرنے والے مہ و سال کا خیا ل آ گیا ۔وہ تو ہمیں دائمی مفارقت دے گیا مگر اس جان لیوا سانحہ پر ماضی نے جو حال کیا ہے اُسے دیکھ کر یہ محسوس ہوتاہے کہ یہ مستقبل کو دیمک کے مانند چاٹ کر خاک کے ڈھیر میں بدل دے گا۔‘‘
پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طر ح تیری یادیں
جس سمت نظر اُٹھی آواز تیر ی آئی

یوسف حسن کے جہا ں سے اُٹھ جانے کی ہونے سے دِل بیٹھ گیا ۔ ان کے نہ ہونے کی ہونی دیکھ کر روح زخم زخم اور دِل کِرچی کِرچی ہوگیا۔ اس مفکر اور فلسفی ادیب کی الم ناک وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پُر نہ ہو سکے گا ۔ایسے با کمال او رنایاب فاضل اب کہاں ملیں گے ؟اﷲ حاٖفظ یوسف حسن!
ڈھونڈو گے اگرمُلکوں مُلکوں مِلنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسر ت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Ibn-e-Sultan

Read More Articles by Ghulam Ibn-e-Sultan: 266 Articles with 275168 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Nov, 2018 Views: 903

Comments

آپ کی رائے
تمھارے بعد کہاں وہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے تمھارا جواب لائے گا
میرے بھائی سجاد حسین چھے جولائی دو ہزار سترہ کے بعد سے ہم بھی یاد رفتگاں کے اسیر ہیں۔جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آے بل کہ ان کی یادیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
By: Ansa Kausar Perveen Rani, Silence City on Nov, 12 2018
Reply Reply
7 Like
I like and appreciate the thought provoking articles of Dr G.Shabbir Rana .The memories presented in this article are very important .We remember departed souls by reading these valuable articles.
By: Sajjad Hussain , Fateh Darya on Nov, 12 2018
Reply Reply
6 Like