میرا پیغمبر ﷺ عظیم تر ہے

(Pir Muhammad Tabasum, Narowal)

اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرم ﷺ کو کمال صفات سے نوازا ۔ ان صفات کو اپنے تو اپنے بیگانوں نے بھی تسلیم کیا ۔ اغیار اور غیر مسلم تحقیق نے پیش نظر بعض صفاتِ رسول ﷺ کا تذکرہ کیا جو عاشقانِ رسول ﷺ کے لئے مژدۂ جانفزا ہے ۔کیونکہ غیر مسلم مصنفین و محققین کی نظر میں بھی سچ بولنے والے کیلئے مشکل ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بولے البتہ جھوٹے کیلئے سچ بولنا مشکل نہیں کہ اس نے اپنا کام نکالنا ہوتا ہے ۔وہ جھوٹ سے نکلے یا سچ سے میں نے اس اجنبی سے عنوان کیلئے قرآن کریم سے استدلال کیا ہے سورہ المنافقون میں منافقین کے اس قول کا ذکر کیا گیا ہے منافقین نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کی ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو اﷲ کا رسول ہے ‘‘ان کی یہ بات سچی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور اکرم ﷺ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں مگر ان کے جواب میں رب قدوس نے فرمایا :’’اﷲ گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں ‘‘منافقین ہیں تو جھوٹے مگر بات سچی کہہ گئے ۔جھوٹے اس لئے فرمایا گیا کہ ان کے دلوں میں یہ بات راسخ نہ تھی غیر مسلم مصنفین کی بھی یہی صورت ہے ۔تاریخ اور حالات نے انہیں سچ کہنے پر مجبور کر دیا ورنہ وہ اپنے دلوں میں حضور اکرم ﷺ سے نفرت اور بغض وافر رکھتے تھے (معاذ اﷲ ) بخاری شریف کی ایک حدیث مبارک سے بھی اس عنوان کی تائید ہوتی ہے ۔ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کو صدقہ کی کھجوروں پر نگرانی کا حکم دیا رات ایک شخص نے کھجوریں اُٹھائیں آپ نے پکڑ لیا تو اس نے منت سماجت کی اپنے کو مفلوک الحال غریب بتا کر جان بچائی ۔صبح حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو ئے تو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رات کے چور کا کیا بنا ۔سارا ماجرہ سنا دیا حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ رات پھر آئے گا۔ چنانچہ وہ رات پھر آیا آپ نے پکڑ لیا چور نے کہا مجھے چھوڑ دو میں تجھے وظیفہ بتاتا ہوں وہ پڑھ کر سوجایا کرو صبح کو پھر بارگاہ نبوی میں حاضری ہوئی۔حضور اکرم ﷺ نے پھر پوچھا کیا ہوا عرض کی حضور اس نے وظیفہ بتایا میں نے چھوڑ دیا ۔تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ۔تھا تو وہ جھوٹا مگر بات سچی کر گیا اسی ضابطہ کے پیش نظر ہم چند ایک غیر مسلم مورخین کی عبارات مختلف کتابوں سے اکٹھی کر کے ہدیہ قارئین کر رہے ہیں تاکہ عاشقانِ رسول ﷺ کے ایمان پر مزید بہار آئے۔ یاد رہے کہ اس مضمون کو ترتیب دینے میں سیرت النبی ﷺ کی مختلف کتابوں کے ساتھ ساتھ جلوۂ جاناں سے بھی استفادہ لیا گیا ہے ۔

عظیم الشان نظام:جب ہم اس زمانے پر غور کرتے ہیں جس میں پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی نبوت اور رسالت کا پرچم بلند کیا اور جس میں ایک ایسا کامل مجموعہ قوانین تیار کیا گیا ہے جو دنیا کی ملکی ، مذہبی اور تمدنی ہدایات کیلئے کافی ہے تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ ایسا عظیم الشان ملکی تمدنی نظام جس کی بنیاد کامل اور سچی آزاد ی پر ہے کس طرح قائم کیا گیا ہے پس ہم دل سے اقرار کرتے ہیں کہ اسلام ایک مجموعہ قوانین ہے جو ہر لحاظ سے بہتر ہے ۔(موسواوجیل کلو فل)

اسلامی تعلیمات:میں نے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی اس تعلیم کو بغور پڑھا ہے ۔ جو انہوں نے خلق خدا کی خدمت اور اصلاح اخلاق کیلئے دی ہے میری رائے ہے کہ اگر غیر مسلم بھی اسلام کی ہدایات پر عمل کرے تو وہ بہت کچھ ترقی کر سکتا ہے ۔میرے خیال میں موجودہ زمانہ میں سوسائٹی کی اصلاح کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ اسلام کی تعلیم کو رائج کیا جائے ۔ (پروفیسر ہوگ جرمن)

اسلامی انقلاب:عرب کے معاشرتی اور مذہبی حالات مختصر اً ایسے ہو گئے تھے عرب کا رخ بدل گیا ۔ انقلاب آگیا انقلاب بھی کیسا ؟ ایسا انقلاب کہ آج تک کسی سر زمیں پر نہیں آیا۔ مکمل ترین ، اچانک ترین اور سرتاپا غیر معمولی انقلاب (باسور تھ اسمتھ)

پیغمبر اسلام کی زندگی زمانہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکتی ہے اور دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ لوگ جو حضور اکرم ﷺ پر حملہ کرنے کے عادی ہیں۔دوہری جہالت میں مبتلا ہیں حضور اکرم ﷺ کی زندگی سادگی ،شجاعت اور شرافت کی تصویر تھی۔(مسزا ینی لبنٹ)

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے :قرآن تمام امور مذہبی ، تمدنی ، ملکی ، تجارتی، دیوانی ،فوجداری، وغیرہ کا ضابطہ ہے اور ہر ایک امر پر حاوی مذہبی عبادات سے لیکر جسمانی صحت، جماعت سے لیکر حقوق افراد تک ، اخلاق جرائم ، دینوی ، دینی سزاجزاو غیرہ تک کے عام احکام قرآن میں موجود ہیں اس میں اصول بھی ہیں جن کی بنا پر حکومت کی بنیاد پڑی اور اسی سے ملکی قوانین اخذ کیے جاتے ہیں اور روز مرہ کے مقدمات جانی اور مالی کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔قرآن ایک بے نظیر قانون ہدایت ہے ۔(جان ڈیون پورٹ)

اسلام کا پرچم:جس طرح دنیا میں اور بزرگ اپنے جلال اور بزرگی کا ایک مستحکم ستون قائم کر گئے ہیں اسی طرح محمد مصطفےٰ ﷺ بھی اپنی فضیلت کا ایسا جھنڈا کھڑا کر گئے ہیں کہ جو ہمیشہ کیلئے ان کی یادگار رہے گا یہی اسلام کا پرچم ہے جس کے نیچے اس وقت کروڑوں لوگ پناہ گزیں ہیں اور ان کے نام پر جان دینے کیلئے مستعد کھڑے ہیں (شری شر رہے پر کاش)

اسلام استقامت سکھاتا ہے :اسلام کی بنیاد قرآن پر ہے جو تمدن کا جھنڈا اڑاتا ہے جو تعلیم دیتا ہے کہ انسان جو نہ جانتا ہو اسے سیکھے جو حکم دیتا ہے کہ استقلال اور استقامت عزت نفس نہایت لازمی ہیں اس کی حیات شائستگی اور تمدن کی سب سے بڑی بنیاد ہیں ۔(ڈاکٹر ہئلر)

اسلام نے معیار اخلاق بلند کیا :ایک معمولی عقل و سمجھ کا انسان مسلمان بھی جہاں جاتا ہے محمد (ﷺ) کی تعلیمات اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور دوسروں پر ضرور اثر کرتی ہیں ۔صبح ، دوپہر ، اور شام کو اسلام کے حکم کا نعرہ اذان بلند ہوتا ہے اور وہ سر جو پہلے پتھروں اور حیوانوں کے آگے جھکا کرتے تھے اب خدائے واحد کے آگے جھکا کرتے ہیں اسلام نے بنی نوع انسان کے معیار اخلاق کو بلند کیا ۔(مسٹر جو زف تھا مسن)

ان دیکھے خدا سے محبت:مسلم قوم کی ایک ناقابل فراموش خصوصیت یہ چھوڑ گئے کہ صرف ان دیکھے خدا سے محبت اور ہر معبود باطل سے نفرت۔(لامارٹن)

عربوں کی حالت بدل دی اسلام کے ذریعہ محمد مصطفےٰ ﷺ نے دس سال کے اندر ہی عربوں کو شدید ترین نفرتوں ، انتقامی جذبات لا قانونیت ، عورتوں کی ذلت ، سود خوری ، شراب نوشی اور انسانی قربانیوں سے نجات دلائی ۔(ڈاکٹر گبن)

سراپا رحمت و شفقت:ہر چند کہ بانی اسلام کی ذات والا صفات سراپا رحمت و شفقت تھی اگر بانی اسلام کے بس میں ہوتا تو خون کا ایک قطرہ بھی نہ گرنے پاتا غرض جو لڑائیاں ہوئیں نہایت مجبوری کی حالت میں ہوئیں اس عنوان کی تائید میں تحریر اس طرح ہے پیغمبر اسلام نے ایک جنگ بھی جارحانہ نہیں کی بلکہ ہر موقعہ پر مدافعانہ لڑائی لڑنے پر آپ ﷺ کو مجبور کیا گیا۔(سوامی برج نرائن)

وہ سچے مذہبی راہنما تھے:ممکن ہے یہ سوچا جائے کہ وہ آدمی جس نے بہت سی اور ہمیشہ قائم رہنے والی اصلاحات کیں اس کا خدائے مشن اس کے ذہن کی اختراع تھی او رکیا وہ جھوٹ کو جانتے بوجھتے نبھاتا رہا نہیں ہر گز نہیں۔ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ تو حقیقت میں سچے مذہبی روحانی احساسات کے حامل تھے جن کے سبب انہوں نے اپنے مشن کو انتہائی مستقل مزاجی بہت استقلال سے آگے بڑھادیا اور نہ اس کے جھٹلائے جانے کی پروا کی اور نہ اس کی راہ میں مصائب کی یہ سچائی یہ حق کی معرفت انہیں ابتدا سے انتہا تک حاصل رہی۔(ڈیون پورٹ)

ان کا مشن بے بنیاد نہ تھا:محمد ﷺکو بلا شک و شبہ اپنے مقصدکی سچائی پر یقین تھا ان کا مشن نہ تو بے بنیاد تھا اور نہ فریب دہی اور جھوٹ پر مبنی تھا بلکہ اپنے مشن کی تبلیغ کرنے میں نہ کسی لالچ یا دھمکی کا اثر قبول کیا او رنہ زخموں کی شدتیں ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکیں۔(ڈیون پورٹ)

دنیا کا سب سے بڑا انسان:دنیا کا سب سے بڑا نسان وہ ہے جس نے چند برس کی مختصر مدت میں ایک نئے مذہب ، ایک نئے فلسفے ایک نئی شریعت ایک نئے تمدن کی بنیاد رکھی ۔جنگ کا قانون بدل دیا اور ایک نئی قوم پیدا کی ایک نئی طویل مدت والی سلطنت قائم کر دی لیکن ان تمام کارناموں کے باوجود وہ امی اور ان پڑھ تھے وہ کون؟ محمد بن عبد اﷲ عرب اور اسلام کا پیغمبر (داد مجاعص)۔۔۔۔(نوٹ )امی کا معنی ان پڑھ یہ قدیمی اور جاہلانہ تصور ہے ۔

عظیم عقیدے کا مالک:عظیم محض اس لئے نہیں کہ وہ ایک روحانی پیشوا تھے ۔انہوں نے عظیم ملت کو جنم دیا اور ایک عظیم سلطنت قائم فرمائی بلکہ ان سب سے بڑھ کر ایک عظیم عقیدہ کا پر چار کیا اس کے علاوہ وہ اس لئے بھی عظیم تھے کہ وہ اپنے رب سے بھی مخلص اور وفادار تھے ۔(لیو ٹارڈ)

عظیم الشان مصلح:محمد ﷺ ان عظیم الشان مصلحین میں سے ہیں جنہوں نے قوموں کے اتحاد کی بڑی خدمت کی ہے ان کے فخر کیلئے یہ بالکل کافی ہے کہ انہوں نے وحشی انسانوں کو نور حق کی جانب ہدایت کی اور ان کو اتحاد و صلح پسندی اور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرنے والا بنا دیا اور ان کی ترقی و تہذیب کیلئے راستے کھول دئیے اور حیرت انگیز یہ بات ہے کہ اتنا بڑا کام صرف ایک فرد واحد کی ذات سے ظہور پذیر ہوا۔(کانٹ نالٹائی روسی)

توحید کا مذہب:حضرت محمد ﷺ کا پھیلایا ہوا مذہب بالکل واضح اور صاف ہے اور وہ ایک جامع مانع عقیدہ ہے جو ایک ہی کتاب یعنی قرآن پاک پر مبنی ہے وہ سختی کے ساتھ توحید کا مذہب ہے ۔(ڈاکٹر کلارک)

عظیم معمار:حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نہایت عظیم المرتبت انسان تھے وہ ایک معمار تھے ۔انہوں نے اپنے زمانہ کے حالات کے مقابلہ کی فکر نہیں کی اور جو تعمیر کی وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ۔(میجر آرتھر گلسن)

وہ سچے رسول تھے :جہالت جس کا مظاہرہ اکثر و بیشتر مسیحوں کی طرف سے مسلمانوں کے مذہب کے بارے میں ہو تا رہتا ہے افسوسناک امر ہے محمد ﷺ اس وقت کی اقوام میں ایک خدا پر یقین رکھتے اور دوسرے خداوں کی نفی کرتے تھے انہوں نے دیانتداری اور دین داری اور پرہیز گاری کو کردار کا سر چشمہ قرار دیا ہر معاملہ میں عدل و توازن کی تلقین کی یہ تلقین ان کے دین کا حصہ تھی محمد ﷺ ایک روحانی قوت کے مالک تھے اور سچے رسول تھے مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں وہ خدا کے کلام سے ہم کلام ہوتے تھے اور سر چشمہ روحانیت سے ان پر وحی اترتی تھے ۔ (مسٹر لنڈے)

آپ کی زندگی کھلی کتاب ہے:یہ صحیح ہے کہ تاریخ کی روشنی میں ہم حیات مسیح کے کچھ واقعات دیکھ سکتے ہیں لیکن ان تیس سالوں سے کون پردہ اٹھائے گا جو انہوں نے نبوت سے پہلے گزارے ان کی گھر یلو زندگی کے بارے میں بھلا کیا جانتے ہیں کہ مسند نبوت پروہ بتدریج فائز ہوئے یا وحی پاکر یکدم خدائی مشن کے حامل بن گئے لیکن محمد ﷺ کے معاملے میں صورت بالکل مختلف ہے یہاں ہمارے پاس اندھیروں کی بجائے تاریخ کی روشنی ہے ۔یہاں ہر چیز دن کی روشنی میں جگمگا رہی ہے محمد ﷺ کی زندگی ہم جانتے ہیں ان کی ظاہری ،ان کی پوشیدہ ان کا بچپن ان کی جوانی ان کی اٹھان ان کے تعلقات ان کی عادتیں ابتدائی حالات اور پہلی وحی نازل ہونے تک کا لمحہ۔ اب تک ایسی کوئی معقول و مستندوجہ سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر اس کتاب کے خلاف کوئی شدید اعتراض کیا جائے ۔(باسور تھ اسمتھ)

عالم گیر اخوت:نبی عربی (ﷺ)اس معاشرتی اور بین الاقوامی انقلاب کے بانی ہیں جس کا سراغ اس سے قبل تاریخ میں نہیں ملتا انہوں نے ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھی جسے کرہ ارض پر پھیلنا تھا اور جس سے سوائے عدل اور احسان کے اور کسی قانون کو رائج نہیں ہونا تھا ان کی تعلیم تمام انسانوں کی مساوات باہمی تعاون اور عالم گیر اخوت تھی۔ (مسٹر سرو جنی نائیڈو)

وہ خدا کے سچے نبی تھے:سچے رسول میں ان علامتوں کا پایا جانا ضروری ہے کہ وہ ایثار نفس اور اخلاص نیت کی جیتی جاگتی تصویر ہو اور اپنے نصب العین میں یہاں تک محوہوکہ طرح طرح کی سختیاں جھیلے اور مصیبتیں برداشت کرنے اور ان کی اصلاح کیلئے اعلیٰ درجہ کی دانش مندانہ تدابیر سوچے اوران تدابیر کو قوت سے عمل میں لائے تو میں نہایت عاجزی سے اس بات کے اقرار کرنے پر مجبور ہوں کہ محمد ﷺ خدا کے سچے نبی تھے اور ان پر وحی نازل ہوتی تھے ۔(ڈاکٹر جے ڈبلیو لیئز)

مساوات کا پیکر:حضرت محمد ﷺ کا اخلاق وہی تھا جو ایک شریف عرب کا ہو سکتا ہے ۔آپ ﷺ امیر و غریب کی یکساں عزت کرتے تھے اور اپنے گردو پیش لوگوں کی خدمت کا بہت خیال رکھتے تھے ۔ (ماکس ڈاڈ)نوٹ:سوشلزم نہیں اسلام حقیقی مساوات کا علمبردار ہے ۔

سراپا شفقت و مروت:حضرت محمد ﷺ کو جتنا ستایا گیا اتنا کسی ہادی اور پیغمبر کو نہیں ستایا گیا ایسی حالت میں کیوں نہ محمد ﷺ کی بندوں کے ساتھ شفقت اور مروت اور رحم دلی کی داد دوں جنہوں نے خود تو ظلم و ستم کے پہاڑ اپنے سر پر اٹھائے مگر اپنے ستانے والے اور دکھ دینے والوں کواف تک نہ کہا بلکہ ان کے حق میں دعائیں مانگیں اور طاقت و اقتدار حاصل ہو جانے پر بھی کوئی ان سے انتقام نہیں لیا ۔ پیغمبر اسلام کو بے رحم انسان دکھلایا جائے اور خواہ مخواہ دوسروں کو نفرت دلائی جائے اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کی زندگی پر تنقید کرنے والے لوگوں نے اسلامی تاریخ اور بانی اسلام کی سیرت کا صحیح طور پر مطالعہ نہیں کیا بلکہ سنی سنائی اور بے بنیاد باتوں کو اساس بنا کر اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی اگر وہ اسلامی روایات کو سمجھ لیتے اور سچائی کے اظہار کیلئے اپنے اندر کوئی جرات و ہمت پاتے تو وہ یقینا اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے ۔ (بی ایس رندھاوا)

وہ خدا کی رحمت تھے:حضرت محمد ﷺ کا ظہور بنی نوع انسان پر خدا کی ایک رحمت تھا لوگ کتنا ہی انکار کریں مگر آپ کی اصلاحات سے چشم پوشی ممکن نہیں ہم بدھی لوگ حضرت محمد ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور انکا احترام کرتے ہیں۔(بدھ راہنما مانگ تونگ)

اسلام تلوار سے نہیں امن سے:ہم نے تلوار کا چرچا بہت سنا ہے اور مثال کے طور پر جہاد کا مسئلہ ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کی بقاؤ ترقی کا انحصار تلوار پر ہے ایسا کہنا خود اسلام کی تردید کرتا ہے ۔اس غلط اور شرانگیز عقیدے کے حامیوں نے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی زندگی کے واقعات کو بالائے طاق رکھ دیا ہے اور صداقت سے آنکھیں بند کر لی ہیں اسلام میں تلوار کی جو جگہ ہے وہ کسی مذہب میں نہیں ہو سکتی ہے ۔اسلام میں تلوار کا استعمال جائز ہے مگر صرف وہیں تک جہاں تک صداقت اور سچائی کیلئے ضرورت ہے اسلام میں امن و آشتی اور صلح و راستی تلوار سے کہیں بالا تر ہے اسلام تلوار کا نہیں امن کا پیغام ہے ۔(لالہ رام ورما ایڈیٹر اخبار تیج دہلی)

رحم و کرم کا عظیم مظاہرہ:انہوں نے اپنے لشکر و سپاہ کو ہر قسم کے خون خرابے سے روکا اور اپنے اﷲ کے سامنے انتہائی بندگی و اطاعت کا مظاہرہ کیا اور شکرانہ بجالائے (بمو قع فتح مکہ)لیکن دوسرے فاتحین کے وحشیانہ طرز عمل کے مقابلہ میں اسے بہر حال انتہا درجہ کی شرافت و انسانیت سے تعبیر کیا جائے گا ۔مثلاً صلیبیوں کے مظالم 1099ع فتح یروشلم کے موقعہ پر انہوں نے ستر ہزار سے زائد مسلمان مرد عورتوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتار ا وہ انگریز فوج نے صلیب کے زیر سایہ لڑتے ہوئے 1847ء میں افریقہ کے سنہری ساحل پر ایک شہر کو نذر آتش کر ڈالا محمد ﷺ کی فتح در حقیقت دین کی فتح تھی۔ سیاست کی فتح تھی انہوں نے ذاتی مفاد کی ہر علامت کو مٹا ڈالا اور ظالمانہ نظام سلطنت کو جزسے اکھاڑ ڈالا اور قریش کے مغرور ، متکبر اور سردار عاجزانہ گرونیں جھکائے مجرموں کی طرح کھڑے تھے تو محمد ﷺ نے ان سے پوچھا تمہیں مجھ سے کیا توقع ہے ؟ تو وہ بولے رحم والے سخی اے فیاض بھائی رحم ارشاد ہوا جاؤ آج تم سبھی آزاد ہو ۔ (آرتھر گلیمن)

اسلام کی اعتدال پسندی:مجھ کو کسی وقت یہ خیال بھی نہ ہوا کہ اسلام کی ترقی تلوار کی مرہون منت ہے بلکہ اسلام کی کامیابی رسول اﷲ ﷺ کی سادہ بے لوث ایفائے عہد اپنے اصحاب کی غیر معمولی صحابیت خدا پر پکا یقین اور ذاتی جرات و استقلال سے وابستہ ہے نبی کا کام کبھی آسان نہیں ہوتا اچھے اور دور رس طریقوں کو وضع کرنا یقینا آسان ہے لیکن ان پر عمل کرنا ہر ایک کاکام نہیں اور پھر جب کہ یہ عظیم الشان کام اپنے خاندان اور قبیلے سے شروع کرے جس کے لوگ اس کی زندگی کی کمزوریوں سے بھی واقف ہوتے ہیں ۔(ڈاکٹر اینڈ برمنگھم)

اعتراف عظمت:غیر مسلم مصنفین کا بر ا ہو جنہوں نے قسم کھائی ہے کہ قلم ہاتھ میں لیتے وقت عقل کو چھٹی دے دیا کریں گے اور آنکھوں پر تعصب کے پتھر رکھ کر ہر واقعہ کو اپنی نا سمجھی اور تعصب کے رنگ میں رنگ کر دنیا کے سامنے پیش کریں گے ۔آنکھیں چکا چوند ہو جاتی ہیں اور ان کے گستاخ اور کج رقم قلموں کو اعتراف کرتے ہی بنتی ہے کہ واقعی اس نفس کش پیغمبر نے جس شان استغناء سے دولت، عزت شہرت اور حسن کی طلسمی طاقتوں کو اپنے اصول پر قربان کیا وہ ہر کس و ناکس کا کام نہیں ۔(سوامی لکشمن رائے)

متعدد بیویاں نفسانی خواہش نہیں:حضور اکرم ﷺ کی کثرت ازدواج کے متعلق بہتان باندھا گیا ہے ۔ لیکن یہ محض غلط ہے بے شک (آپ ﷺ) نے کئی بیویاں کی تھیں مگر زمانے کے برے رواج کو مٹانے کیلئے اور لوگوں کو ترغیب دینے کیلئے کہ وہ بھی بیوہ ، کنواری ، لونڈی اور لا وارث عورتوں کو اپنے نکاح میں لائیں اور آپ کے نمونہ کی پیروی کریں آپ نے اپنی نفسانی خواہش کیلئے نکاح نہیں کیے آپ میں نفسانی خواہش کی کوئی بھی دلیل یا علامت نہیں پائی جاتی ۔(بی ایس کشالیہ ڈی ۔ای لنڈن)

نظام مصطفےٰ ﷺ:محمد ﷺ نے جو اپنا مذہبی نظام قائم فرمایا نہ وہ صرف یہ کہ ان کے ساتھیوں کی عقل و فہم کے مطابق تھا اور اس ملک میں پائے جانے والے رسم و رواج اور ان کے ساتھیوں کے جذبات سے ہم آہنگ تھا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ عام انسانی حالات و نظریات سے بھی ایسی مناسبت رکھتا تھا کہ جس کے نتیجے میں تمام انسانوں کی نصف آبادی نے اسے قبول کیا اور یہ سب کچھ چالیس سال سے بھی کم عرصہ میں ہو گیا ۔ (کاؤنٹ ڈی بولین)

پیرو پیغمبر:عرب کو یہی نور اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لایا عرب کو اسی کے ذریعہ پہلے پہل زندگی ملی بھیڑوں بکریوں کو چرانے والے لوگ جو ازل سے صحراؤں میں بے کھٹکے بے روک ٹوک گھومتے پھرتے تھے کہ پیروپیغمبر ان کی طرف بھیجا گیا ایک پیغام کے ساتھ جس پر وہ ایمان لا سکتے تھے اور پھر سب نے دیکھا کہ جو کسی کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہ رکھتے تھے ۔ دنیا بھر کے لئے قابل ذکر بن گئے ۔(کارلائل)

عظیم کامیاب راہنما:قارئین میں سے ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو تعجب ہو کہ میں نے دنیا جہاں کی موثر ترین شخصیات میں محمد ﷺ کو سر فہرست کیوں رکھا ہے اور مجھ سے وجہ طلب کریں گے حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں صرف وہی ایک انسان ایسے تھے جو دینی و دنیاوی دونوں اعتبار سے غیر معمولی طور پر کامران و کامیاب و سرفراز ٹھہرے۔(بارٹ میخائل)

بے مثال شخصیت:ہادی عرب کو ایک ساتھ تین چیزوں کے قائم کرنے کا مبارک موقعہ ملا و طنیت ،اصلاح اعمال ،مذہب تاریخ دنیا میں اس قسم کی دوسری کوئی مثال نہیں دکھائی دیتی۔(ریو رینڈ)

عظیم انسان:وحشی جنگجو عربوں کو وحدت کی لڑی میں پروکر ایک زبردست قوم کی صورت میں کھڑا کر دینے کیلئے ایک عظیم انسان کا ظہور ہوا اندھی تقلید کے کالے پردے پھاڑ کر اس نے تمام قوموں کے دلوں پر واحد خدا کی حکومت قائم کی وہ انسانی لعل کون تھا ۔(محمد ﷺ)(پنڈت شیو نرائن)

معزز قارئین:غیر مسلم مصنفین و محققین نے پیغمبر اعظم رسول محتشم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی سیرت و کردار کے مختلف پہلوؤں پر اپنی تحقیقی رائے دے کر دنیا پر واضح کر دیا کہ انسانیت کو معراج دینے والے اور بنی آدم کی سرداری کے حقیقی حقدار پیغمبر اسلام ﷺ ہیں ۔آپ ﷺ نے جانی دشمنوں کو معاف فرما دیا ۔ انتشار زدہ قوم کو اتحاد کی لڑی میں پرو دیا ۔ آج ملت اسلامیہ کو بھی اپنے پیغمبر ﷺ کی انہی تعلیمات پر عمل کر کے دنیا میں اتحاد و اتفاق کا پرچم بلند کر کے نعرہ لگانا ہو گا۔ ’’میرا پیغمبر ﷺ عظیم تر ہے۔‘‘

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pir Muhammad Tabasum

Read More Articles by Pir Muhammad Tabasum: 40 Articles with 28772 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Nov, 2018 Views: 471

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ