معاشرہ اور عورت کا مقام‎

(Farhat Parveen, )

ہمارے مذہب اسلام میں بیٹی کا مقام ہے کہ بیٹیاں اﷲ تعالی کی بہت بڑی رحمت ہیں، جب ایک بیٹی کا وجود دنیا میں قدم رکھتا ہے تو ماں باپ اور خاندان والے اس ننھی پری کا پرتپاک استقبال کرتے ہیں،جشن منائے جاتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں، وہ ننھی پری ماں باپ کی آنکھوں کا تارہ اور دل کا سکون ہوتی ہے، اسے بے حد لاڈپیار اور نازوں سے پالا جاتا ہے، ماں باپ اس ننھی پری کو یہ احساس دیتے ہیں کہ اسے دنیا کی ہر خوشی مہیا کریں گے،اس کے نزدیک کسی غم کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے اور اس کی زندگی کو جنت بنا دیں گے۔

پھر وہ ننھی پری زندگی کا ایک قدم آگے بڑھاتی ہے اور بچپن سے جوانی میں قدم رکھتی ہے ، اپنی زندگی کا سب سے اہم شادی کا فیصلہ بھی ماں باپ کو سونپ دیتی ہے اس یقین کے ساتھ کہ والدین اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں اس کی زندگی کا بہترین فیصلہ کریں گے،وہ لڑکی مستقبل کے سہانے خواب سجانے شروع کر دیتی ہے کہ ایک دن اس کے خوابوں کا شہزادہ آئے گا اور اسے اپنی دلہن بنا کر ساتھ لے جائے گا، اس کے خوابوں کو تعبیر حاصل ہوگی اور وہ ایک خوشحال ازدواجی زندگی بسر کرے گی اور خوشی خوشی رخصت ہو کر سسرال روانہ ہو جاتی ہے۔

پھر وہ زندگی کا دوسرا قدم آگے بڑھاتی ہے اور لڑکی سے عورت کا رتبہ پاتی ہے مگر اس کے خواب اس وقت چکناچور ہو جاتے ہیں جب اس کی سوچ کے برعکس شریک حیات اور سسرال والے ملتے ہیں، شوہر اس کی قدر نہیں کرتااور اس کی حیثیت ایک بے کار شے کی طرح ہو کر رہ جاتی ہے۔

شادی کے چند سال بعد ہی وہ زندگی کا ایک قدم مذید آگے بڑھاتی ہے اور اﷲ تعالی اسے ماں کے اعلی درجے پر فائز کر دیتا ہے، بچوں کو سنبھالنا شوہر کی ذمہ داریاں اور ساس سسر کی خدمت اس کے فرائض میں شامل ہو جاتے ہیں مگر عورت اپنی ہمت سے تمام ذمہ داریاں نبھانے کی بھرپور کوشش کرتی ہے مگر اس وقت اس پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے جب اسے بانجھ پن یا صرف بیٹیاں پیدا کرنے کے جرم میں طلاق کادھبہ ماتھے پر لگا کر واپس ماں باپ یا بہن بھائی کے گھر بھیج دیا جاتا ہے مگر اس کے سر سے آسمان اور پیروں تلے زمین اس وقت کھسک جاتی ہے جب اس پر یہ تلخ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس کے خونی رشتے بھی اسے بدنامی کے خوف سے اپنانے سے انکار کر دیتے ہیں۔

جس خاندان کی عزت کی خاطر وہ سسرال کے ظلم و جبر سہتی رہی وہی لوگ اسے مورد الزام ٹہرا رہے ہوتے ہیں، اس عورت کو جس وقت اپنوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے ، سہارے کی ضرورت ہوتی ہے وہی لوگ اسے طعنہ کشی کا نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں، دھتکار رہے ہوتے ہیں اور گھر اجڑنے کا سارا الزام اس عورت پر لگا دیا جاتا ہے جو کہیں بھی قصوروار نہیں تھی۔

ہر طرف سے مایوسی کا شکار ہونے والی عورت خود کو بہت مشکل سے سنبھالتی ہے اور خود کو مضبوط بناتی ہے تاکہ دنیا کا ڈٹ کر سامنا کر سکے مگر ہمارا معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے۔

مرد کیسے برداشت کرے کہ ایک عورت اس کے شانہ بشانہ چلے اور اگر ہمارے معاشرے کے مردوں کو یہ علم ہو جائے کہ عورت طلاق یافتہ یا بیوہ ہے تو وہ عورت مردوں کے لیئے بہترین شکار ہے اور ہر مرد یہ کوشش کرتا ہے کہ کسی نا کسی طرح اس عورت کو اپنے قابو میں کرے اور اپنے نفس کو تسکین بخشے۔

عورت معاشرے کو تو بھگت رہی ہوتی ہے مگراس کے اپنے بھی اس عورت کی زندگی اجیرن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے دوسروں کی سنی سنائی باتوں میں آ کراپنے ہی گھر کی بیٹی کو اس ظالم دنیا میں تن تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے، وہ عورت اپنی ہمت اور لگن سے آگے بڑھتی ہے اور اپنی الگ دنیا بسا لیتی ہے مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ ایک نیا کردار اس عورت کی زندگی میں آنے کے لیئے منتظر ہوتا ہے۔

ایک مرد جو اس عورت کو سہانے خواب دکھاتا ہے اسے اپنی محبت کا یقین دلاتا ہے کہ اسے بیوی بنا کر عزت سے دنیا میں اعلی مقام عطا کرے گا جس کی وہ حقدار ہے اور عورت پھر سے ایک مرد کے جھانسے میں آ جاتی ہے اور دوسری شادی کا فیصلہ کر لیتی ہے اس امید پر کہ زندگی اب کے بار دھوکہ نہیں دے گی مگر ہمارا معاشرہ جو اپنی تکلیف کو تکلیف اور دوسروں کی تکلیف کو ڈرامہ سمجھے وہ کیسے ایک عورت کو سکون اور خوشی مہیا کر سکتا ہے اس لیئے ہمارے معاشرے کے لوگ پھر سے نت نئے طریقوں سے اس عورت کے بسے بسائے گھر کو توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور عورت بے بسی سے پہلے سے بھی زیادہ اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور موت کی آغوش میں پہنچ کر ہی اسے سکون حاصل ہوتا ہے۔

عورت جو کہ بیٹی کی صورت میں باعث رحمت، بیوی کی صورت میں بہترین خزانہ اور ماں کی صورت میں پاؤں تلے جنت ہے مگر لوگ بھول جاتے ہیں کہ جیسا کریں گے ویسا بھریں گے، بھول جاتے ہیں اس احتساب کو جو اﷲ تعالی خود لیتاہے جسے مکافات عمل کہتے ہیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farhat Parveen

Read More Articles by Farhat Parveen: 5 Articles with 2058 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 505

Comments

آپ کی رائے