جہیز.... ایک لعنت

(Zainab Rasheed, Karachi)
اسلام ایک مکمل دین ہے ۔۔۔ ایک ضابطہ حیات ہے۔۔۔ ہمارادین حکم دیتاہے۔۔۔ کہ نکاح کوآسان کرو۔۔۔ زناخود بخودکم ہوجائے گا۔۔۔ مگرافسوس ۔۔ یہاں معاملہ ہی دوسراہے۔۔۔ بیٹی کی شادی باپ کے لیے اتنامہنگاسودابنادیاگیاہے۔۔۔ کہ ایک غریب خود کوبیچ کربینچ کربھی اس کی قیمت ادانہیں کرسکتا۔۔
خداراہوش میں آئیں ۔۔۔ نکاح آسان بنائیں ۔۔۔جہیزکوئی رسم نہیں ۔۔۔ ایک لعنت ہے۔۔۔ خود بھی اس لعنت سے بچیں ۔۔ اوردوسروں کوبھی بچائیں

منظر(رشتے والی تصویرلڑکی کے رشتہ داروں کوتصویردکھاتے ہوئے۔۔۔ لڑکے کی ماں بھی ساتھ ہی ہے)
رشتہ والی:یہ دیکھئے بہن ۔۔۔ لڑکانہیں ہیراہے ہیرا۔۔۔ لاکھوں کماتاہے ۔۔۔ چراغ لے کربھی ڈھونڈوتونہیں ملے گاایسارشتہ ۔۔۔ اپنی بچی کی قسمت ہی سنورجائے گی ۔۔
لڑکی کی ماں تصویردیکھنے میں مگن ہوگی ۔۔ لڑکے کی ماں کھسرپھسرکے اندازمیں کچھ کہے گی ۔۔
لڑکے کی ماں :رقیہ آپا۔۔۔ وہ بات توکروناں ۔۔۔
رشتہ والی :ہاں ہاں کرتی ہوں
لڑکی کی ماں:کیاکہناچاہتی ہیں بہن ۔۔ بولیں ۔۔
رشتہ والی:وہ رشیدہ بہن ۔۔ بات یہ ہے کہ ۔۔۔ لڑکے کی کچھ شرطیں ہوں گی ۔۔
لڑکی کی ماں حیرانگی سے۔۔۔۔ جی ۔۔۔ مطلب ۔۔۔۔۔سمجھی نہیں
رشتہ والی:وہ بہن لگی لپٹی کی تومیری عادت نہیں ۔۔۔ ابھی سمجھاتی ہوں ۔۔۔ لڑکاجہیزمیں ایک گاڑی اوردس تولہ سونامانگ رہاہے۔۔۔
لڑکی کی ماں ۔۔۔۔ مگربہن آپ نے توکہاتھا۔۔۔ کہ سیونٹی موٹرسائیکل ۔۔۔ اوراب ۔۔۔ ہم غریب لوگ ہیں ۔۔ کیسے کریں گے یہ سب
لڑکے کی ماں جھنجھلاکر۔۔۔ رقیہ تم بھی کمال کرتی ہو۔۔ ۔۔ کہاں بھوکے ننگے لوگوں میں لے آئیں ہمیں ۔۔۔ میراتودم گھنٹنے لگاہے۔۔
وائس اوور
بیٹی خداکی رحمت ۔۔۔ نبی صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کاسلام۔۔۔ کہتے ہیں ۔۔۔ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ ماں باپ ۔۔۔ جن کی پہلی اولاد بیٹی ہوتی ہے ۔۔۔۔ مگرافسوس ہمارے ہاں ۔۔۔ بیٹی کوجہیزکے ترازومیں تولاجانے لگا۔۔۔ مردخود کوکتناہی خود دارسمجھتاہو۔۔ مگرخواہش رکھتاہے جہیزکی گاڑی میں گھومنے ۔۔۔ اورجہیزمیں ملے آرام دہ بسترپرسونے کی ۔۔۔
منظر(لڑکی کے ماں باپ پریشانی کے عالم میں گفتگوکرتے ہوئے
ماں :زینت کے ابا۔۔ بیٹی کودیکھاہے۔۔۔ سرمیں چاندی چمکنے لگی ہے۔۔۔ جوبھی آتاہے ۔۔۔ جہیزکے لیے بڑاسامنہ پھاڑدیتاہے۔۔۔چھوٹی بھی شادی کی عمرکوپہنچ رہی ہے۔۔۔
باپ:اللہ مالک ہے۔۔۔ میں نے آفس میں لون کی ایپلی کیشن لگائی ہے۔۔۔ انشااللہ جلد ہوجائے گا۔۔اس گھرکوبیچنے کے لئے بھی پراپرٹی ڈیلرسے بات کی ہے۔۔۔
ماں:مگرگھرنہ رہا۔۔ توہم جائیں گے کہاں ۔۔
باپ:اللہ کی زمین بہت بڑی ہے۔۔۔ مل ہئ جائے گاٹھکانہ
اتنے میں بڑی بیٹی کمرے میں داخل ہوگی
بیٹی:نہیں ابا؛؛ آپ ایساکچھ نہیں کریں گے ۔۔۔ نہ ہی لون لے کرخود پربوجھ ڈالیں گے ۔۔۔ نہ ہی یہ گھربکے گا۔۔
باپ:مگربیٹا۔۔۔ کوئی راستہ بھی تونہیں ہے۔۔
بیٹی:اباکیامیں نہیں جانتی ۔۔ آپ نے یہ چھوٹاساگھرونداکتنی محنت سے بنایاہے۔۔۔ میں ایسانہیں ہونے دوں گی ۔۔۔ اورہاں راستہ ہے میرے پاس ۔۔
ماں:کیساراستہ ۔۔۔
بیٹی:میں جاب کروں گی ۔۔۔
باپ:ایسانہیں ہوسکتا۔۔۔ دنیاتھوتھوکرے گی ہم پر۔۔ نہیں ابھی تیراباپ زندہ ہے
بیٹی:دنیا۔۔۔ ہمم۔۔۔ یہ دنیاتب کہاں تھی ۔۔ جب ایک کے بعد دوسرارشتہ دروازے پردھتکارکرلوٹ گیاتھا۔۔۔ اگریہ گھرنہ رہا۔۔۔ توکیادنیاہمیں ٹھکانہ دے گی ۔۔۔ نہیں ابانہیں ۔ ابادنیاکی نہیں سوچنی ۔۔۔
وائس اوور
ماں باپ کبھی کسی بیٹے کوبیٹی کہہ کرنہیں پکارسکتے ۔۔۔ مگرہاں بیٹی کوبیٹاضرورکہہ دیاجاتاہے۔۔۔ اوربات کچھ غلط بھی نہیں ۔۔ جب بھی باپ کے کاندھے جھکتے ہیں ۔۔۔ بیٹی ہی بیٹابن کراس کاسہارابنتی ہے۔۔۔
منظر(اچھے گھرمیں میاں بیوی بیٹھے ہیں ۔۔۔ بیٹی گھرمیں داخل ہوگی
بیٹی:اسلام وعلیکم
باپ:وعلیکم اسلام ۔۔ آگئی میری شہزادی ۔۔۔بڑی خوش نظرآرہی ہے۔
بیٹی:ابامیری پروموشن ہوگئی ہے۔۔ کمپنی نے مجھے تین مہینے کابونس بھی دیاہے۔۔ اباآپ ثمینہ کے سسرال والوں کوکہہ دو۔۔ کہ شادی کی تیاری کریں ۔۔۔ جومانگیں گے انہیں ملے گا۔۔۔۔
ماں :خوشی کے ساتھ غم کے ملے جلے جذبات۔۔
زینب عبدالرشید ,کراچی
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zainab Rasheed

Read More Articles by Zainab Rasheed: 3 Articles with 1372 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Nov, 2018 Views: 746

Comments

آپ کی رائے