خوردنی تمباکو کا بڑھتا ہوا استعمال اور اس کے نقصانات

(Asmara chaudhry, )

آصفہ اکرم ( شعبہ ابلاغ عامہ ۔ وفاقی اردو یونیورسٹی)
پاکستان میں منہ کا کینسر انسانوں کو لاحق ہونے والا دوسرا بڑا مرض ہے،جو بد قسمتی سے پاکستان میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے،اس کی بڑی وجہ ملک میں گٹکا،مین پوری اورمیٹھی چھالیہ کی کھلے عام فروخت ہے، گزرشتہ دنوں قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے گٹکا اور ماوا فروخت کرنے والوں کے خلاف تابڑ توڑ کاروائیاں کی گئیں کئی افراد کو گرفتار کر کے مقدمات بھی درج کئے گئے اور گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے لیکن تاحال کراچی کے مختلف علاقوں میں گٹکا ، مین پوری اور دوسری مضر صحت اشیاء کی فروخت ہو رہی ہیں،جب اس بارے میں ان مضر صحت اشیاء کو استعمال کرنے والے افراد سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پابندی سے فرق صرف اتنا پڑا ہے کے ان تمام اشیاء کے دام بڑھ گئے ہیں، پان کے کیبن والے ان اشیاء کو کیبن میں بیچنے کے بجائے باہر بیچتے ہیں اور پکڑے جانے کے ڈر سے صرف اپنی جان پہچان کے لوگوں کو فروخت کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق منہ کے سرطان کی بڑی وجہ سب میو فا ئبرسس نامی بیماری ہے،جس کی وجہ سے منہ کا اوپر والاجبڑا اور نیچے والا جبڑاسکڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔یہاں تک کہ دونوں جبڑے مل جاتے ہیْں اور مریضوں کے لئے ٹھوس غذا کھانامحال ہو جاتا ہے اور وہ صرف مائع غذا یعنی دودھ یا جوس کااستعمال کرسکتا ہے۔اس بیماری سے 16سے 20سال کی عمر کے نوجوان ذیادہ متاثر ہورہے ہیں۔اس کی اہم وجہ نوجوانوں میں چھالیاں اور گٹکے وغیرہ کا بے دریغ استعمال ہے گٹکا چونکہ کم قیمت اور با آسانی جنرل اسٹور،پان کے کھوکے وغیرہ پر دستیاب ہوتا ہے اس وجہ سے نوجوانوں میں گٹکے،ماوے اور تمباکو کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) کی ایک تین سالہ جامع سائنٹیفک اسٹڈی کے مطابق گٹکا،پان اور نسواروغیرہ میں کاپر،سیسہ،لوہا،قلعی،جست،کرومیم،میگنیزاکسائیڈاور زنک وغیرہ کافی زیادہ مقدار میں شامل ہوتا ہے،چھالیہ،سپاری،مین پوری،ماوا،پان اور میٹھی سپاری وغیرہ کے 250 مختلف نمونوں میں زہریلی دھاتیں بھی پائی گئی ہیں۔

گٹکے چھالیہ اور مین پوری کا سب سے بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ اس کا سب سے ذیادہ اثرمعدے ،منہ اور خوراک کی نالی پر ہوتا ہے،کیونکہ یہ کئی گھنٹے منہ میں رہتی ہیں،اس لئے اس میں موجودکیمیکلزمعدے کی تیزابیت،بھوک کی کمی اور حتی کہ منہ اور زبان کے کینسر کا باعث بنتے ہیں۔گٹکا،مین پوری ،تمباکواور چھالیہ کے استعمال سے سستی،مدہوشی اور متلی کی شکایت عام ہو تی ہے،بعض افراد تو اعصابی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں،یہ تمام چیزیں جس میں گٹکا، مین پوری،چھالیہ،تمباکو وغیرہ شامل ہیں ایک نشے کی طرح ہیں اوراس کے عادی افراد آہستہ آہستہ ان کی مقداربڑھاتے جاتے ہیں،جس سے ان افراد کی صحت متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے اور پھرجب تک وہ اپنے نشے کااستعمال نہ کرلیں ان کا سر چکراتا ہے اور شدید سر درد بھی ہوتا ہے،ان تمام چیزوں کامسلسل استعمال vision cells کو کمزور کر دیتا ہے،جس سے آہستہ آہستہ بینائی کمزور ہوتی جاتی ہے۔

کینسر کے مرض کی شروعات منہ کے دیگر حصوں میں بن جانے والے ذخم ہیں،جس کے باعث منہ پوری طرح نہیں کھلتا یہ زخم گٹکا، تمباکو، پان چھالیہ اور مین پوری کے کھانے سے منہ کے اندرونی حصوں خصوصاً حلق میں ذخم بن جاتے ہیں۔ان ذخموں کا باقاعدگی سے علاج نہ ہو اور چھالیوں وغیرہ کا استعمال ترک نہ کیا جائے تویہ زخم کینسر کی صورت اختیار کر جاتا ہے اور کینسر ذدہ حصے کو آپریشن کی مدد سے منہ کے متاثرہ حصے کو کاٹ دیا جاتا ہے، اگر منہ کا کینسر بڑھ جائے تو مریض کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔

اگر شہر کراچی کی بات کی جائے تو یہاں لگتا ایسے ہے کہ شہر میں دوائیں کم جبکہ گٹکے،چھالیہ اور مین پوری وغیرہ کے برانڈ ذیادہ میسر ہیں،قابل ذکر بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق میٹھی اور اچھے قسم کی چھالیہ بھی سرطان جیسے موذی مرض کا باعث بنتی ہیں چھالیہ کا رس کارسنوجن نامی مادہ کی پیداوار کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے منہ کا کینسر ہوتا ہے،شہر میں کئی برانڈ کی چھالیہ مختلف خوبصورت پیکنگ میں بکتی ہیں جو کہ بھارت سے غیر قانونی طور پر بر آمد کی جاتی ہیں،مقامی تاجر سستی چھالیہ منگوا کراس میں کپڑے رنگنے والامصنوعی رنگ اورمصنوعی شکر استعمال کرتے ہیں۔کراچی جا کہ گنجان آبا د شہر ہے گٹکا ،مین پوری وغیرہ فراہم و استعمال کرنے والو ں کے لئے جنت بن گیا ہے،اس کی وجہ سے آج گٹکے کا غیر قانونی کاروبار ایک صنعت کی صورت اختیار کر گیا ہے ،سندھ حکومت کئی بار دفعہ144کے تحت پابندی لگا چکی ہے،لیکن یہ پابندی عارضی ہونے کی وجہ سے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔

پچھلے دور حکومت میں ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والے کچھ ممبران سندھ اسمبلی کے توسط سے خوردنی تمباکو پر پابندی عائد کرنے کے لئے ایک کوشش کی گئی تھی، ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والی ممبر سندھ اسمبلی محترمہ حمیرہ علوانی کی جانب سے ایک پرائیوٹ بل سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا جوـــ "دی مین پوری اینڈ گٹکا ایکٹ،"2009 کہلاتا ہے،مگر افسوس کہ اس بل پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور نہ ہی اس بل پر اسمبلی میں بحث ہوئی،بل کے مقاصد میں مین پوری، گٹکاجیسی مضر صحت اشیاء پر پابندی لگانے کے لیے قانو ن سازی کرنا تھا،بل میں مزید یہ بھی دلائل دیئے گئے تھے کہ تمباکو کا استعمال عوام کو درپیش بڑے چیلنجوں میں سے ایک بن گیا ہے،کیونکہ منہ کے کینسر کے 82 سے 90 فیصد کیسزاسی کے باعث ہوتے ہیں اور منہ کے کینسر میں سے صرف 50 فیصد 5 سال تک ذندہ رہ پاتے ہیں،جبکہ 48 فیصد ایسے مریض ہیں جو کینسر کی تشخیص کے بعددس سال تک ذندہ رہتے ہیں۔

بلکل اسی طرح گزرشتہ ماہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی روبینہ سعادت قائم خانی کی جانب سے ـ"دی سندھ پروہیبیشن آن مینوفیکچر ،پروموشن اینڈ سیل آف گٹکا اینڈ مین پوری بل،2017ـ"کے نام سے پرائیوٹ بل پیش کیاگیا ہے،اگر بل منظور ہوجاتا ہے تو سندھ بھر میں گٹکا اور مین پوری کے بنانے اور خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہوسکتی ہے اور خلاف ورزی کر نے والے کو سات سال کی قید اور ایک لاکھ سے ذائد کا جرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔ امید ہے کہ اس بار سندھ اسمبلی کے ارکان روبینہ سعادت قائم خانی کے اس بل کو کثرت رائے سے منظور کر کے سندھ کی عوام کے صحت مند ماحول فراہم کریں گے۔

چونکہ صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل کر دیا گیا ہے لہذا خوردنی تمباکو کے انسداد کے لئے عوام میں آگہی کے فروغ کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔سگریٹ نوشی کے حوالے سے وفاقی وزارت صحت کی طرف سے چلائی گئی ابلاغیاتی مہم نے تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے لوگوں کو آگہی فراہم کرنے کے ضمن میں متاثر کُن کردار ادا کیا ہے۔اسموک لیس تمباکو گٹکا،ماوا وغیرہ کے مضر صحت اثرات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے اسی طرح کی ایک حکومتی سطح کی مہم ترتیب دینے اور اس کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔
معاشرہ کا المیہ ہے کے دہشتگردی اور دیگر مسائل کیلئے تو عوام سرآپا احتجاج نظر آتے ہیں مگر بیماریوں سے لبریز گٹکا، پان اور چھالیہ جیسی جان لیوا اشیاء کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھائی جاتی ، ان تمام مضر صحت اشیاء کی روک تھام کے لئے حکومتی سطح پرخاطر خواہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asmara chaudhry

Read More Articles by Asmara chaudhry: 3 Articles with 1055 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Dec, 2018 Views: 473

Comments

آپ کی رائے