زنگر برگر

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:عظمی ظفر
پارک کی روش پر دوڑتے دوڑتے اس کی سانس پھول رہی تھی لاکھ دل نے کہا کچھ دیر سانس لے لے مگر نہ،زنگر برگر کی پلیٹ خواب میں کئی بار نظر آچکی تھی اس لیے رملہ نے خود سے تعبیر نکال لی کہ آج رات اسی سے پیٹ کے ارمان بھرے گی۔ورنہ دل کے ارماں تو آنسوؤں میں لٹ گئے تھے، جب سے ڈائٹنگ پلان شروع کیا تھا۔بس ایک چکر اور لگالو رملہ، اس نے خود سے کہا۔مگر آج تو اتنی کیلوریز برن ہوئی ہیں، زنگر کھا کر ڈبل ہو جائیں گی تو؟؟ دل نے ٹوکا۔ خیر ہے !باری باری آنی، دادی، امی اور انس نے اتنا مذاق اڑانا ہے، دل کے جلنے سڑنے سے خود ہی جل جائیں گی کیلوریز۔خود کو طفل تسلیاں دے کر آخری راؤنڈ اتنی تیزی سے مکمل کیا کہ واکنگ ٹریک پر جاگنگ کرنے والوں کی آنکھوں میں دھول اڑنے لگی۔

’’اے لڑکی! کیا آندھی آنے والی ہے‘‘؟ایک اس سے مزید موٹی آنٹی نے پوچھا۔’’پتانہیں آنٹی! ابھی تک تو بس تبدیلی آنے ہی والی کا سنا ہے‘‘۔رملہ کے منہ کے آگے تو ویسے بھی خندق تھا بول کر زن سے چلتی بنی اور وہ بے چاری ہکا بکا ابھی تک وہیں بینچ پر بیٹھی رہ گئیں۔تیز گام سی رفتار کو سامنے سے آتا منحنی سا وجود نظر نہیں آیا اور رملہ اس سے جا ٹکرائی۔’’آوچ !‘‘ اس چالیس پینتالیس کلو وزن والی لڑکی سے زور دار ٹکر پر بھی ایسی ہی آواز نکلی اور رملہ کا تو بال بھی بیکا نہ ہوا۔’’سوری سوری، میں نے دیکھا نہیں تھا‘‘۔’’اٹس اوکے !‘‘اس نے ناک پر گرتے چشمے کو ٹکایا۔’’میں رملہ ہوں، سامنے والے بلاک میں رہتی ہوں‘‘،رملہ نے اپنی خفت مٹاتے ہوئے کہا۔’’اور میں صبا ہوں‘‘، اگلے نے بھی مروت دکھائی۔’’صبا، وہ بیس روپے کا بیلنس والی صبا،تم تو بیلنس کھا کھا کر بھی موٹی نہیں ہوتیں‘‘،رملہ کی رگ شرارت پھڑکی۔صبا کی بے ساختہ ہنسی کے فوارے چھوٹے۔

’’مجھے لگتا ہے دوستی چل پڑے گی موٹو اور پتلی کی‘‘، صبا نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔’’میں پیچھے والی گلی میں رہتی ہوں ۔آج سے ہی واک شروع کی ہے کیونکہ آدھا کلو وزن بڑھ گیا ہے میرا کیا بتاؤں کتنا برا لگ رہا ہے۔ اتنی شادیوں میں شرکت کرکے مرغن کھانے، میٹھے،آئسکریم، بس نہ پوچھو اتنا وزن بڑھ گیا ہے‘‘، صبا بھی اس کے ہم قدم ہوگئی۔رملہ کی اشتہاء شادی والے کھانوں کا سن کر ہی پیٹ میں دوڑیں لگانے لگی تھی۔زنگر پھر سے آنکھوں کے آگے آگیا تھا۔عجیب لڑکی ہے، میں ایسے کھانوں کے لیے مر رہی ہوں اور یہ دور بھاگ رہی ہے۔’’اچھا دوست پھر ملیں گے مجھے گھر جانا ہے، میں روز آتی ہوں پارک میں ٹکر ہو ہی جائے گی‘‘،رملہ کو یاد آیا نانی کو تو فوارے کے پاس ہی چھوڑ کر آئی تھی، انھیں بھی لینا تھا۔

انس سے کہوں گی لانے کا تو وہ آدھا خود ہی کھا جائے گا، کیا کروں؟؟نانی سے بولتی ہوں وہ دلا دیں بلکہ یہیں سے لیتی جاؤں گی مگر یہ مانیں گی کیسے؟یہ بھی ایک محاذ تھا خود سے بولتی وہ فوارے تک آگئی۔’’نانی گھر چلیں‘‘،اس نے ان کی وہیل چیئر گھماتے ہوئے قدرے اونچا بولا۔’’کدھر چلیں،ائے لڑکی مطلب کیا ہے تمہارا؟ دو گھنٹے سے ہمیں یہاں بٹھاکر اپنی چربی پگھلانے چل پڑیں،اب آکر کہتی ہو کدھر چلیں؟ چڑیا گھر لائی ہو جو اگلے پنجرے کو چلیں،چل گھر چل، بچے،،کینڈی کرش کھیل کھیل کر آنکھوں میں ترمرے ناچ گئے ایک لیول تو اس بچے سے کروایا‘‘،نانی اپنی بپتا سنانے لگیں۔’’افففف نانی!آپ بھی نا بھی فل ٹائم انٹرٹینمنٹ ہیں گھر ہی چل رہی ہوں ایک بات بتاؤں آپ کو وردہ مامی کی‘‘،رملہ نے ان کے کان کے قریب جاکر کہا۔’’وردہ کی‘‘؟ نانی نے بہو کے نام سنتے ہی سماعت تیز کرلی ۔’’ہاں بول کیا ہوا‘‘،نانی پہلے ایک وعدہ کریں زنگر کھلائیں گی تب بتاؤں گی۔

’’رملہ! تو کون سی مٹی کی بنی ہے؟ تیری ماں تیرے ایک سو بیس گز کے پھیلتے حدود اربعہ سے پریشان ہو ہو کر شوگر کی مریض بن گئی ہے اور تیرے کھاپے ختم نہیں ہوتے۔ایک ہفتہ نہیں ہوا تیری ڈائٹنگ شروع ہوئے، اب تجھے زنگر کی مڑوڑ اٹھ رہی ہے‘‘۔’’اﷲ نانی!وہ قریب بینچ پر ہی بیٹھ گئی ن لیگ جیسے طعنے مت دیں سو دن پورے تو ہونے دیں، ہو جاؤں گی دبلی پتلی،دیا سلائی،،بس آج کھلا دیں قریب والی شاپ سے لے لیتے ہیں کوالٹی میں کم ہوگا تو کیا ہوا،ہوگا تو زنگر ہی نا۔رملہ نے لجاجت سے کہا،مگر آج رملہ کا دن نہیں تھا۔ اس کی باتوں میں نانی آنے والی نہیں تھیں اوپر سے صبا نے غلط وقت پر انٹری دے دی۔

’’تم گئیں نہیں ابھی تک،صبا نے مسکراتے ہوئے کہایہ تمہاری‘‘؟یہ میری نانی ہیں۔’’نانی نے بھی سر تا پاؤں صبا کو دیکھا،نانی نے جب حسرت بھری نظروں سے پہلے صبا اور پھر رملہ کا موزانہ کرنا شروع کیا، تو قبل اس کے وہ کچھ کہتیں رملہ نے وہیل چئیر آگے بڑھا دیا‘‘،اوکے اﷲ حافظ صبا،وہ جلدی سے آگے بڑھ گئی۔’’ہائے رملہ! یہ تیری دوست ہے تم اس سے سبق لے لو۔ کیا کھاتی ہے پوچھ تو سہی‘‘،نانی کی ہائے لمبی تھی۔’’کھاتی نہیں ہے نانی! سونگھتی ہے بس۔دو قدم اور چلے گی تو غش کھا کر گر جائے گی،تیز ہوا چلے گی تو اڑ جائے گی، مٹی پاؤ اس صبا پر نانی‘‘۔جب کہ نانی مڑ مڑ کر اس کی رفتار دیکھنے لگیں۔دو قدم چل کر رملہ تو ایسے ہچکولے کھاتی ہے جیسی اب گری تب گری۔بچے،چل چل گھر چل،تیری ماں سے باتیں نہیں سننی مجھے۔

’’نانی آج کھلا دیں زنگر،میں عیدی کے پیسوں سے دے دوں گی گھر جاکر پیسے۔ ایک ہفتے سے لوکی، ٹینڈے، دال چپاتی کھا کھا کر پاکستانی عوام جیسی حالت ہوگئی ہے۔یہ کوئی جینا ہے؟ شادی نہ ہونے کے ڈر سے بندہ بھوکا مر جائے۔انس کو دیکھیں یہ بھر بھر کے چاولوں کی پلیٹ کھاتا ہے۔آنی کل مزے سے نوڈلز کھا رہی تھیں،امی نے بھی فوزی کی شادی میں دو گلاب جامن سب سے چھپ کر کھائے تھے،ایک میں ہی ملی ہوں سب کو سختی کرنے کے لیے‘‘،رملہ نے جذباتیت کی انتہا کرتے ہوئے چند موٹے موٹے آنسو بھی گرا ڈالے۔نانی نے کچھ سنا،کچھ نہ سنا، سنی ان سنی کر تو دی مگر دل پسیج ہی گیا تھا۔

پارک سے باہر نکل کر جیسے فاسٹ فوڈ کی دکان آئی رملہ نے مایوس ہوکر نگاہ غلط بھی نہ ڈالی۔’’سن رملہ ایسا کر،دو زنگر لے لے۔ ایک میں کھاؤں گی، ایک تم کھا لینا‘‘،نانی نے حل نکالا ۔’’کیاسچ! نانی آپ بہت اچھی ہیں‘‘،رملہ کو یہ خبر آئی ایم ایف سے ملنے والی قرضے جیسی لگی۔’’مگر میری ایک شرط ہے اگلے پورے ہفتے جھاڑو پونچھا تم لگاؤ گی اور ایک گلاس کریلے کا جوس بھی پیو گی بولو منظور‘‘، نانی نے مسکراتے ہوئے کہااور رملہ پر زنگر کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھابامشکل سر ہلا کر حامی بھری کیوں کہ ڈائیٹنگ بھی تو بہرحال کرنی تھی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1252 Articles with 527064 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Dec, 2018 Views: 473

Comments

آپ کی رائے