شیخ چلّی اور ملا نصرالدین سے ملیے

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: فخر الدین پشاوری
کچھ دنوں پہلے ایک کارٹون ڈنکی راجہ کے نام سے ریلیز ہوئی تھی۔ معلوم نہیں کہ اس میں کیا خاص بات تھی کہ بعض لوگوں کی طرف سے مایوس کن تاثرات سامنے آئے اور اس میں تو کسی کا نام تک نہیں لیا گیا تھا، پھر بھی بعض لوگوں نے اپنی طرف منسوب کر کے غم و غصے کا اظہار کیا۔ یہ بات تھی کہ ڈنکی راجہ اتنے مشہور ہو گئے کہ ہر کسی کی زبان پر ایک ہی نام تھا اور سوشل میڈیا پر تو ہر پوسٹ میں ڈنکی راجا ہی نظر آتے تھے۔ قصہ مختصر یہ کہ کچھ ہی دنوں میں ڈنکی راجہ کو اتنی پذیرائی ملی کے عام سے خاص اور خاص تر ہو گئے۔ یہ قصہ بادل کی طرح منڈلاتی ہوئی آئی اور کچھ ہی وقت گزرنے کے بعد ایسے ہی غائب ہو گئی جیسے موسم گرما میں آسمان سے بادل کا نام و نشان۔

اسی طرح شیخ چلّی جو کسی زمانے میں بہت ہی مشہور تھے، اتنے مشہور کے بچپن میں ہمیں بھی اکثر انہی کی کہانیاں سننے کو ملتی۔ پھر ہوا کچھ یوں کہ وہ بھی منظرعام سے غائب ہو گئے۔ آج صبح جب سوشل میڈیا پر دیکھا تو ہر طرف انڈے ہے انڈے اور شیخ چلّی کا نام تو اس طرح لیا جا رہا تھا گویا وہ شام کو ایک بڑے جلسے سے خطاب کے لیے سوشل میڈیا پر تشریف لا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں بچپن میں سنی ہوئی ملا نصرالدین کے گدھے کی کہانی اور شیخ چلی کے خیالی پلاؤ والی کہانی یاد آ گئی تو سوچا کہ کیوں نہ اسے صفحہ قرطاس کی زینت بنا کر قارئین کو محظوظ ہونے کا موقع فراہم کریں۔

شیخ چلّی کچھ دنوں سے بے روزگار تھے انہیں رزق کمانے کے لیے کوئی کام نہیں مل رہا تھا۔ بے روزگاری اس حد تک بڑھ گئی کہ گھر میں فاقہ ہو گیا۔ یوں وہ حالات سے پریشان ہوکر گھر سے باہر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔ خدا کا کرنا یوں ہوا کہ کچھ ہی وقت گزرنے کے بعد اسی راستے پر ایک دودھ والے کا آمد ہوا اور اسے دودھ کی بالٹی شہر تک لے جانے میں دشواری درپیش تھی۔ موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس نے شیخ چلی سے بات کی کہ اگر وہ اس کے ساتھ شہر تک یہ بالٹی لے جانے میں مدد کرے گا تو اسے دو آنے اور کچھ دودھ بطور معاوضہ ملے گا۔ شیخ چلی کے ساتھ سوچنے کا وقت کب تھا۔ وہ بولتے ہیں نا ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ معاوضے کی بات سن کر شیخ چلّی نے دودھ سے بھری بالٹی سر پر اٹھا لیں اور اس آدمی کے ساتھ شہر کی طرف روانہ ہوئے۔

چلتے چلتے شیخ چلی کے ذہن میں خیالی پلاؤ تیار ہونا شروع ہو گیا کہ معاوضہ ملتے ہی دودھ سے پیٹ کی آگ بجھاؤں گا اور دو آنے کے عوض مرغی خرید لونگا۔ جو روزانہ انڈے دے گی اور وہ انڈے بیچ بیچ کر اتنے پیسے جمع کروں گا کہ دوسری مرغی خرید لونگا۔ ظاہر سی بات ہے انویسٹمنٹ دگنی تو آمدنی بھی دگنی۔ پھر انڈے بیچ بیچ کر اور پیسے جمع کر،کر کے ایک بکری، پھر بکری کے بچے، پھر آمدنی بڑھے گی تو ایک پورا ریوڑ، پھر گائے، پھر ایک پورا فارم۔ یو کماتے کماتے میں امیر بن جاؤں گا اور اپنے لیے ایک محل بناؤں گا اور ساتھ ہی ایک بہت ہی خوبصورت مسجد۔ میری ایک خوبصورت سی بیوی اور بہت سارے بچے ہوں گے۔ شام کے وقت میں جب مسجد میں ذکر اذکار میں مصروف رہوں گا تو میرے بچے آکر مجھے کہیں گے پاپا، پاپا آئیے کھانا تیار ہے اور میں ذکر اذکار میں اتنا مشغول رہوں گا کہ منہ کھولے بغیر سر سے اشارہ کروں گا کہ نہیں بیٹھے مجھے بھوک نہیں۔ اسی کے ساتھ ہی نفی کے انداز میں سر ہلانا شروع کردیتا ہے اور یوں جھٹ سے ہی دودھ سے بھری بالٹی زمین پر آ گری اور دودھ کی نہریں بہنے لگی۔ دودھ والے نے غصے میں آکر کہا کہ آپ نے تو میری ایک بالٹی دودھ کو تباہ و برباد کردیا۔ شیخ چلی نے مسکرا کر جواب دیا: آپ کو ایک بالٹی دودھ کی پڑی ہے میرا تو سارا خاندان کاروبار سمیت تباہ ہو گیا۔

زیادہ سوچنے کا وقت نہیں بس دوسری کہانی بھی سن لیجئے۔ ایک دن ملا نصرالدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے۔ پھر جب نیچے اترنے لگے تو گدھا نیچے اترنے سے مانع ہو گیا، بہت کوشش کی لیکن گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آخر کار ملا حوصلہ ہار کر خود نیچے آگئے اور انتظار کرنے لگے کہ گدھا خود کسی طرح نیچے آجائے۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد ملا نے دیکھا کہ گدھا چھت کو لاتوں سے توڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ ملا پریشان ہوگئے کہ چھت تو بہت نازک ہے اتنا مضبوط نہیں کہ اس کی لاتوں کو سہہ سکے۔ وہ دوبارا اوپر گئے اور گدھے کو نیچے لانے کی کوشش کی لیکن گدھا اپنی ضد پر اڑاہوا تھا۔ملا کوشش کرتے ہوئے اسے دوبارہ دھکا دے کر سیڑھیوں کی طرف لانے لگے کہ گدھے نے ملا کو لات ماری اور ملا نیچے گر گئے۔ گدھا پھر سے چھت کو توڑنے لگا بلآخر گدا چھت سمیت زمین پر آگیا۔ملا کافی دیر تک اس واقع پر غور کرتے رہے اور پھر خود سے کہا کہ کبھی بھی گدھے کو مقام بالا پر نہیں لے جانا چاہیے ایک تو وہ خود کا نقصان کرتا ہے، دوسرا اس مقام کو بھی خراب کرتا ہے اور تیسرا اوپر لے جانے والے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

ان واقعات میں کوئی تشبیہ نہیں کہ لوگ سوچنے لگے کہ یہ تو حکومت وقت کے بہترین معاشی پلان پر تنقید کر رہا ہے۔دراصل ایسی کوئی بات نہیں میں تو اس انڈوں والی معاشی پلان کا اس طرح معترف ہوں کہ بعض اوقات دوستوں سے کہتا ہوں کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ہم صراف کو ایک انڈا دے کر کئی ڈالر حاصل کر سکیں گے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1232 Articles with 502592 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Dec, 2018 Views: 1563

Comments

آپ کی رائے