سینما کی ابتداء

(Ramsha Urooj, )

سینما کیا ہے؟سینما سے مراد فلم اور ویڈیو ہے جس میں بہت ساری تصاویر کو چلتے پھرتے اور حرکت کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے جس میں جذبات کا عنصر پایا جاتا ہے سینما سے مراد ایک ایسا تکنیکی آلہ ہے جہاں پر رنگینیوں کو ایک بڑی سی تصویر میں ڈھال کر واضح طور پر لوگوں کے سامنے دکھا نا ہے سینما کی ابتداء کی بات کی جائے تو سینما کی تاریخ اتنی ہی طویل ہے جتنی انسانی تاریخ سینما کا ابتداء میں کوئی نام و نشان نہ تھا اداکار اپنی فنکاری کو لوگوں کے سامنے پیش کرکے داد وصول کیا کرتے تھے لوگ اپنے جسم کی بناوٹ کی حرکات سے لوگوں کا دل بہلاتے اور انہیں اپنی طرف مائل کرتے تھے ان میں اہم کردار ادا کرنے والا تھیٹر ہے1809ء میں قائم ہونے والا تھیٹروالنٹ اسٹریٹ ہے اسی کو مدِنظر رکھ کر فلموں کی دنیا وجود میں آئی تھیٹر کی ابتداء کا سلسلہ کچھ اس طرح سے تھا کہ اسے براہ ِراست دکھا یا جاتااور با ر بار کرنا پڑتا تھامطلب کہ ہر شخص کو ہمیشہ اداکاری کے جوہر دکھانے پڑتے تھے کوئی ایک ایسا آلہ موجود نہ تھاجو ان فن پاروں کو کسی ڈبے میں بند کرلے اور جب جب لوگ بولیں تو سامنے ڈبہ کھول کر رکھ دیا جائے لہذااس عمل کے لئے 1824ء میں پیٹرو گیٹ نے ایک نظریہ پیش کیااس نظریہ کو استقرار بصارت کہتے ہیں اور اسی کے تحت تصاویری دور شروع ہواجس میں ابتداء میں کیلیفورنیا میں بھاگتے ہوئے گھوڑے کی تصویر کو عام سے کیمرے میں بند کرلیا گیایہ تصویری خاکہ پردے پر دکھانے کا آغازایملی ریناڈنے کیا1880ء میں ریناڈ نے اس آلے کو کیمرے میں نصب کیا ابتداء میں پروجیکٹر کے ذریعے تصاویر کو دکھایا جاتا تھاجس کی وجہ سے وقت ضائع ہوتااور کام کرنے کا عمل بھی سست تھالہذا1889ء میں فلیکس سیبل سیلولیڈفلم ایجاد کی گئی جس سے فلم کی حرکت کا کام تیزی سے جاری ہونے لگا1896ء کے عرصے میں ڈلکس نے ایک مختصر فلم ایجاد کی جس کو باقاعدہ فلم کا نام دیا گیااور ساتھ ہی اسے باقاعدہ طور پر سینما میں پیش کیا گیا اس وقت سینما کی کارکردگی بہتر نہیں تھی کیوں کہ سینما کو ابتداء میں تھیٹر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا1896ء میں جو فلم پیش کی گئی اس کی ٹکٹ بھی پہلی بار لوگوں سے وصول کی گئی جس سے نہ صرف سنیما کی کارکردگی بہتر ہو ئی بلکہ عوام کو پروجیکٹر پر فلم دیکھے کا مزہ بھی آتا1876-1900ء چھوٹی موٹی فلموں کوسینما گھر میں دکھایا جانے لگااس طرح آہستہ آہستہ تھیٹر کی جگہ سینما نے لے لی ابتداء میں موسیقی کا نظام وغیرہ موجود نہ تھاجو فلمیں دکھائی جاتی وہ بغیر آواز کے تھی سنجیدہ فلمیں بھی بغیر آواز کے دکھائی جانے لگی جس کی وجہ سے شائقین کواکتاہٹ محسوس ہونے لگی پھر مزاحیہ فلموں کو جب سینما گھروں میں لگایا کیا تو سینما کی رونق پھر سے بحال ہو گئی مگر خاموش فلمیں بھی کبھی مکمل خاموش نہ تھی مکمل آکسٹرا،بھاری بھرکم ساز صوتی اثرات اورحضرات کی آواز موجود تھی یورپ میں پہلی جنگ ِعظیم کی تباہ کاریاں عروج پر تھی اس وقت امریکی صنعت اہم قوت بن گئی 1931ء کی دہائی کے بعدفلم میں رومان کا ہلکا پھلکا عنصر بھی شامل ہوگیا اس کی ابتداء میں ہدایت کار فرینک کیپرو نے کہاکہ :1931ء فلم بینوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی جو 1932ء میں مزید کم ہوگئی چنانچہ فلم سازوں نے فلم بینوں کی توجہ کے حصول کے لئے نئی تخلیقات کی ضرورت محسوس کی اس طرح چھوٹے چھوٹے سینما قائم کئے گئے تھیٹروں میں ایک ٹکٹ میں دو فلمیں دکھانے کا رواج عام ہوافلمی صنعت کو پورا کرنے کے لئے چار سو 400ء فلمیں سالانہ بننے لگیں 1938ء میں فلم بینوں کی تعداداور اس صنعت کے اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا وہ پوری عالمی جنگ کے دوران برقرار رہا 1946ء اس حوالے سے اہم ہے کہ اس سال فلم بینی اپنے عروج پر نظر آئی یہ وہ وقت تھا جب سینما میں شائقین فلم کی اوسطاہفتہ وار حاضری نو کروڑ تک پہنچ چکی تھی 1947سے پھر صورتحال بدلنا شروع ہو گئی تھی 1950ء میں ہالی وڈ نے اپنے ناظرین کو متوجہ کرنے کے لئے نئی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تھری ڈائی مینشن فلم کو متعارف کرایا جن کو خاص پو لیرائیڈزگلاسس کے تحت دیکھا جاتا مگر یہ ناظرین اور سینما گھر کے مالکان کے لئے نقصان کا سبب بنا اس کے بعد فلم سازوں نے ایک دوسری تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے پردہ،سینما کی قامت اور انداز میں تبدیلی کی اور پروجیکٹر وغیرہ کو متعارف کرایا مگر یہ مہنگا عمل تھا اس کے بعد دوسری تکنیکوں مثلاًسینما اسکوپ وسیع النظر اور بعیدالنطر کو استعمال میں لایا گیا 1970-1980ء کے عرصے میں سینما گھروں کی رونق کو مزید اینی میلرز فلم نے چار چاند لگا دئیے اور شائقین سے خوب داد وصول کی فر می نیٹرز سیریز جوکہ مار دھاڑاور تھرل سے بھرپور تھیں ہر فلمی سینما گھر کی زینت رہیں یہ فلمیں پسندیدگی اور بزنس دونوں لحاظ سے کامیاب ترین ثابت ہوئیں دوسری طرف سینما گھروں کو مزید پذیرائی اس وقت حاصل ہوئی جب بچوں کے لئے والٹ ڈزنی فلمیں جاری کی گئی جو رنگین دنیا پر مشتمل تھیں جن میں مشہور لوائن کنگ،بیسٹ وغیرہ 1990-2000ء تک سینما گھروں کی زینت بنی رہیں دنیا میں سینما انڈسٹری کی مشہور کمپنیاں ہالی وڈ چائنا ،بالی وڈ جاپان ،نائیجیریا ،ہانگ کانگ ،تامل،ویسٹ فریم ورک سینما وغیرہ سے جنہوں نے نہ صرف سینما انڈسٹری میں اپنی بہترین کاوشوں کے جوہر دکھائے بلکہ دنیا کے مانے جانے والے2015-2016ء کے اہم اور مشہور سینما ؤں نے بھی اپنے قدم جمائے آج انیسویں صدی میں بھی سینماگھروں میں خوب رونق ہوتی ہے ہر سینما گھر پر نئی آنے والی فلم زینت بن جاتی ہے اور ہر طبقہ شائقین کی بڑی تعداد انہیں دیکھنے بھی آتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ramsha Urooj

Read More Articles by Ramsha Urooj: 5 Articles with 2626 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Dec, 2018 Views: 917

Comments

آپ کی رائے