کراچی میں کچرے کا ڈھیر

(Aqsa Abid, )

کل جب میں یونیورسٹی کے لیے سفر کر رہی تھی تو میں نے ایک عالی شان گاڑی کو روڈ پر دوڑتے دیکھا اور اِس میں سفر کرتی گوری کو ویڈیو بناتے دیکھا ۔ پہلے تو میں حیران ہوئی کہ کون سی اتنی عالی شان جگہ ہے جس کی ویڈیو یورپ جیسے ممالک سے آنے والی گوری بنا رہی ہے ۔پھر جب میں نے غورکیا تو کراچی شہر کی سڑک کے کنارے کچرے کا ڈھیر اورکچرا کنڈیاں اس کی ویڈیو کا محور تھی یہ دیکھ کر میں شرم سے پانی پانی ہو گئی کہ کراچی جیسا عظیم شہر جو ستـر کی دھائی میں خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا وہ آ ج کچرے کی نظر ہے۔ ویسے کراچی کا دل بہت فراخ ہے یہ نہ صرف پاکستان بھر سے آنے والے لوگوں کو اپنے دل میں جگہ دیتا ہے بلکہ اس کے دل کی طرح اس کا دامن بھی بہت وسیع ہے یہ لوگوں کے ساتھ کچرے کو بھی اپنے دامن میں جگہ دیتا ہے۔ کچرا پھینکنے پر نہ کراچی بُرا مانتا ہے اور نہ کراچی کی سرکار۔ ان دنوں شہر کی گلیوں سمیت بڑی شاہراہوں پر کچرہ ہی کچرہ دکھائی دے رہا ہے, بعض مقامات پر تو کچرے کے لگے ڈھیر سے سڑکیں تک بند ہوگئیں ہیں۔ جس سے پیدل چلنے والے افراد سمیت گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں کو سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، شہر کے گلی کوچوں میں کچرے کے ڈھیر اور ان سے اٹھتا تعفن شہریوں کی زندگی اجیرن کر رہا ہے , چھوٹی بڑی شاہراہوں پر جا بجا کچرے کے ڈھیر راہگیروں اور علاقہ مکینوں کی صحت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں, بیماریاں پھیلنا معمول بن گیا۔ عوامی خدمت کی دعویدار سیاسی جماعتیں , شہر میں کچرا اٹھانے کے ذمہ دار ادارے غفلت کی نیند سو رہے ہیں. ہر کوئی شہر کی صفائی ستھرائی کے حوالے سے غافل ہی نظر آتا ہے۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ شہریوں نے بھی غیر ذمہ داری کی انتہاء کر رکھی ہے جس کو جہاں جگہ ملتی ہے کچرا پھینک کر صفائی کے لئے انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرا دیتا ہے۔ اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ زمہ داری صرف ایک فرد کی ہے یا ہر اس شخص کی جو اس شہر کا باسی ہے۔اب صرف زمہ داری کا احساس ہونا باقی ہے ورنہ شہرِ کراچی کی سڑکیں تو اب بھی کچرے سے صاف ہو سکتی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqsa Abid

Read More Articles by Aqsa Abid: 3 Articles with 1682 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Dec, 2018 Views: 242

Comments

آپ کی رائے