عزت نفس اور ہمارا کردار

(Babar Alyas, Chichawatni)

تم صرف باتیں ہی کر سکتے کیونکہ عزت نفس نام کی چیز کے اصل حق دار اور مالک پاک فوج ہی ہیں.
ﮐﻞ ﺷﺎﻡ ﺩﺭوﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻭﺩﮪ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ،
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﻮﻥ ﭘﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺆﺩﺑﺎﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻓﻮﻥ ﭘﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ،
ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﺑﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻨﺲ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﺳﺮ ﭘﮧ ﭼﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ،
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺩﺑﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﺩﺭﺍﺯﯼ ﮐﯽ ﺟﺮاﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻢ ﺳﮑﺘﺎ۔
ﺧﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﻭﺍﻻ ﺑﺮﺗﻦ ﭘﮑﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻣﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ۔
ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﭘﺮ ﺍُﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﻭﮎ ﭨﻮﮎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﮯ ﻋﺰﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﮧ ﺍِﺱ ﮐﺎ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮨﮯ۔
ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺟﺎ ﮈﺍﻧﭧ ﺩﯾﺎ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺑﮯ ﻋﺰﺕ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﺎ ﮐﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮨﮯ،
ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﻗﺎﺭ ﮐﮭﻮ ﺩﯾﺎ-
ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺑﭽﺎ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﺭﻭﺋﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮨﯽ ﺑﭽﮧ ﺍﮔﺮ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﭼﻮﭦ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ۔۔۔
ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﻣﺠﺮﻭﺡ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ،
ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﻣﺠﺮﻭﺡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐا ﺩِﻝ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ،
ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ،
ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ حضرت علی ابن ابی طالب ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
"ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﺳﻧﻮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ مزید ﺑﮕﺎﮌ ﺩﯾﺎ"
پاک فوج کے خلاف روز کی بنیاد پر باتیں کرنے والے, بکواس کرنے والے یہ کم عقل کیا جانیں کہ ٹارچر سیلز کی سختی ہوتی کیا ہے ، یہ کیا جانیں کہ پلاس سے ناخن کھینچنے سے کیا ہوتا ہے یہ چلتی ڈرل دیکھ کر ہی بے ہوش ہوجانے والے اسکا کیا مقابلہ کریں گے کہ جس کی دائیں ٹانگ کی ہڈی کو پہلے باریک ورمے سے آر پار سوراخ کیا گیا ، پھر ورمے کے سائیز بڑھتے گئے اس حد تک کہ ٹانگ خود ہی الگ ہوگئی پر اسکے ہینڈلر کا نام اسکی زبان پہ نا آیا ، اسکے مشن کے بارے میں وہ ایک لفظ نا جان سکے.
جاو جا کے دیکھو دہلی کی تہاڑ جیل کے وارڈ سی ، ڈی ، ای ، ایف سے لیکر کابل کی پل چرخی اور غزنی جیل تک ۔۔۔ پاکستان کے بیٹوں کی بیسیوں داستانیں ایسی ہیں جو اگر منظر عام پر آجائیں تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس قوم کے اشک نا رکیں ، ان جیلوں کی بیرکوں کی دیواریں اس بات کی گواہ ہیں کہ وطن کے یہ بیٹے جیت گئے اور دشمن ہار گیا ، استقامت کے یہ پہاڑ معمولی نا تھے ، استقامت میں یہ عبداللہ بن حذافہ کے بیٹے تھے ، جھکے نہیں ، برداشت میں یاسر و سمیہ کے فرنزد ثابت ہوے ، کہ اف تک نا کہا
آج میں اگر کسی فیس بکئیے کی دو انگلیوں کے درمیان پینسل رکھ کر انہیں دبانا شروع کروں تو وہ تیس سیکنڈ سے پہلے ہی اپنے لیڈر کو اپنی زبان سے گالیاں دینے لگ جائے ، یہ جزبوں سے محروم ہیں ، جوش و ہوش سے محروم ہیں،
یہ رات کے اندھیرے میں اپنے ہی کمروں میں ڈر جانے والے کیا جانیں کہ خوف ہوتا کیا ہے ، وہ خوف کہ جس میں جنگلی جانور یا بھوت پریت نہیں ہوتے،
گولیاں ، گرنیڈ ، آر پی جیز و مائنز کا خطرہ میٹر نہیں کرتا ، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کہیں زبان نا پھسل پڑے ، ایک لفظ نا نکل جائے جو اسے مجاھد سے غدار بنا ڈالے ،
انکو کیا پتہ کہ دنیا بھر کی ایجنسیوں کے ایجنٹ اپنے ساتھ زہر رکھتے ہیں پر یہ اللہ کے شیر شدید اذیت کو آسان موت اور آسانی پہ ترجیع دیتے ہیں ،
پل چرخی میں اس اس مرد مجاہد کے ہاتھ پہ پسٹل سے فائیر شروع کیا گیا ہر سوال کے بعد اسکے ہاتھ سے کندھے تک تین تین انچ بعد سوراخ کئے گئے پر وہ ڈٹا رہا ، آخری سانس تک
انکی وجہ سے بڑے آرام سے جب تم پرسکون کمرے میں جب انکے ہی خلاف بولتے ہو تو واللہ دل کرتا ہے کہ تمہیں چوکوں میں لٹکا دیا جائے
وہ جو تمہیں باقی رکھنے کے لئے اپنوں سے اپنی باقیات چھین لیتے ہیں
یہ وہ ہیں کہ جو ہیں تو تم ہو
یہ نا ہوں تو تمہارا نشان نا ہو ،
یہ وہ ہیں جو تمہاری نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں. کبھی یہ چرسی کے روپ میں تو کبھی یہ بزنس مین کے روپ میں کبھی یہ شاگرد کے روپ میں تو کبھی یہ کسی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر بیٹھا تمھاری حفاظت پر مامور ہو گا.
عزت نفس کا احساس کمزوری سے , ناتوانوں کو ذلت و پستی کی گمراہیوں سے نکالتا ہے یہ احساس ستاروں کی بلندی اور چمک سے روشناس کراتا ہے۔
یاد رکھیے! انسانی معاشرے میں ذلت اور پستی کا علاج سر اٹھانے میں ہے، دنیا کی سروری، شمشیر و سناں میں ھے, قوم کا رعب قوم کے آپس کے اتحاد میں پوشیدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ (اسراء: ۰۷)
’’ اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی ‘‘
میرے برادران اسلام!
یاد رکھو دینی عزت, اسلام کا شرف وہ قیمتی احساسات ہیں جن کا بیج شریعت ربانی نے چودہ سو چالیس سال قبل ہماری کشت جان میں بویا ,مسلمانوں کو ذلت و پستی کے گڑھوں میں گرنے سے محفوظ رکھا ہے۔ ایک مسلمان فطری طور پر صاحبِ حمیت ؤ غیرت مند ہوتا ہے، وہ کبھی ذلت و پستی کو گوارا نہیں کرتا۔ وہ کسی سرکش کے سامنے سر نہیں جھکاتا، وہ کسی زبان دراز سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور نہ الزام تراشی کو خاطر میں لاتا ہے۔ وہ کسی بھی جابر کے سامنے کمزور نہیں پڑتا، وہ کسی کی خوشامد نہیں کرتا، کسی کی مکاری میں نہیں آتا ,کسی کمینے اور بزدل کی رفاقت اختیار نہیں کرتا ,اس لیے کہ عزت نفس اللہ پاک کی رحمت خاص سے مسلمانوں کے خون میں گردش کرتی ہے۔ اللہ وحدہٗ کی توفیق سے اس میں اضافہ ہی ہوتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ یہ کم نہیں ھوتی ۔ اس راہ میں دینِ ربانی اس کا مددگار اور حقیقی ایمان اس کا سرمایہ ھوتا ھے.
یہ ہندو پلید ، نصرانی غلیظ یہ تمہیں کھا جائیں ، تمہاری بہنوں کو باندیاں بنا لیں ، تمہاری ماؤں کی چھاتیاں کاٹ دیں ، تمہاری نسلیں مٹا دیں
بنی اسرائیل کی طرح نا شکریاں کرنے والو
اٹھو اور ذرا سا جھانک لو کہ شام سے لیکر لیبیا تک جن کے اتنے دشمن بھی نا تھے وہ سب کیوں مارے گئے اور تم چاروں طرف سے گھرے ہونے کے باوجود زندہ کیوں بچے ہو.
اہل مغرب کی نقل میں ہم بہت دور نکل گۓ ہیں عصر حاضر کے لگاتار حادثات میں، فتنوں کی ان متواتر آندھیوں میں,روز کے دل شکن واقعات کے ہجوم میں، ہم اعلیٰ اقدار سے انحراف کر چکے ہیں, ان کے بلند ؤ اعلی مقاصد سے منہ موڑا چکے ہیں. میں کہتا ھوں کہ اب ایک بار مسلمانوں کو جھنجھوڑا جائے، انھیں یاد دہانی تاریخ اسلام کی روشنی کرائی جائے اور ان کی ہمت بھی تاریخ اسلام کے مضبوط نظریہ کی بنیاد پر بندھائی جائے۔ انکو واقفیت ان اعلیٰ اقدار سے کروائی جاۓ کہ جن کے بارے میں عقل و فہم کجی کا شکا ہو چکی اور جن کی موسلادھار بارش بے مینہ کے بادل کا روپ دھار چکی، عزتِ نفس و کرامت کا احساس اس لیے کہ عزت نفس کا احساس زندگی کی روح اور اس کا ستون ہے، اسی کی بدولت ہی انسانیت کی عزت و تکریم ہے، اگر یہ نہ رہے تو سمجھئے کہ گویا معاشرے کے فنا ہونے کا بگل بج چکا۔لہذا اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے.

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 260 Articles with 92416 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
09 Dec, 2018 Views: 312

Comments

آپ کی رائے