نوجوانوں کا معاشرے میں عملی کردار

(Asif Jaleel Ahmed, India)

نوجوان کسی بھی قوم کا ایک اہم اثاثہ ہوتا ہے۔ قوموں کے عروج اور ترقی میں نوجوانوں کا بہت بڑا کردار ہے کیونکہ جوان بلند عزائم کے مالک ہوتے ہیں، جہد مسلسل اور جفاکشی ان کا امتیاز ہوتا ہے، بے پناہ صلاحیتیں ان میں پنہاں ہوتی ہیں، بلند پرواز ان کا اصل ہدف ہو تا ہے، چلینجز کا مقابلہ کرنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ شاہینی صفات سے وہ متصف ہوتے ہیں، ایک بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ساحل پہ کشتیاں جلانے کو تیار ہو جاتے ہیں، وہ ہواؤں کا رُخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، باطل دوئی پسند ہے اور حق لا شریک جیسا عظیم اعلان کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔ میدان کارزار میں شکست کو فتح میں تبدیل کرنے کی قوت ان میں موجود ہوتی ہے۔ یہی نوجوان ہیں جو باطل پرستوں کے خیموں میں خوف و دہشت کو ہلا سکتے ہیں۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو ہر قوم و ملت اور تحریک کے لیے امید کی کرن ہوتے ہیں۔ اسی روشنی کے سہارے اقوام و ملل اور تحریکیں آگے بڑھتی ہیں اور اہداف کے مختلف منازل طے کرتی ہیں۔ یہ طبقہ تب ہی قوم و ملت کے لیے کارگر ثابت ہو سکتا ہے جب اس پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ یہ طبقہ ہی ملت کے لیے سایہ دار اور ثمرآور درخت بن سکتا ہے جب ملت کا ہر طبقہ ان کی تعلیم و تر بیت اور اصلاح کے لیے اپنی تمام صلاحیتوں اور ذرائع کو بروئے کار لانے کا تہیہ کر لے۔مگر معاملہ اس کے برعکس ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل کا زیادہ تر وقت میڈیا ، انٹر نیٹ ،کے آگے گزرتا ہے، جہاں انھیں مغربی تہذیب کی چمک دمک اپنی طرف گھیرتی نظر آتی ہے۔ نوجوان اردو بولنے کے بجائے انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مشرقی طرز زندگی اپنانے کے بجائے، مغربیت کی طرف راغب ہیں۔یہی وجہ ہے کہنسل نَو سست اور آرام طلب ہو گئی ہے ۔طرز زندگی ہی کچھ ایسا بنا بیٹھے ہیں کہ بیٹھے بٹھائے سب پا لینے کی طلب ان کے اندر پیدا ہوگئی ہے۔ایمانی و اخلاقی اور روحانی اقدار کا وجود ہی عنقا ہوگیا ہے۔لہٰذا نوجوانوں کی تربیت اور کردار سازی کو حرزِجاں بنا کر ہی ہم معاشرے میں تبدیلی لانے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی خطوط پر ان کی بہترین تربیت ہو، اور جو والدین اپنے نو نہالان کو صحیح تعلیم و تربیت سے محروم رکھتے ہیں، وہ ایک عظیم جرم کا ارتکاب کر تے ہیں۔ جو بچہ اپنے ماں باپ کی تعلیم و تربیت سے محروم رہے، وہی حقیقی معنوں میں یتیم کہلاتا ہے۔ بقول ایک عربی شاعر: ’’یتیم وہ نہیں ہے جس کے والدین فوت ہو چکے ہوں اور اس کو تنہا اور بے سہارا چھوڑ گئے ہوں، یتیم تو وہ ہے جس کی ماں نے اس سے بے اعتنائی برتی ہو اور باپ دنیا کے کام دھندے میں مصروف رہا ہو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Jaleel

Read More Articles by Asif Jaleel: 183 Articles with 126248 views »
WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More
10 Dec, 2018 Views: 480

Comments

آپ کی رائے