حسد ایک مہلک روحانی بیماری

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

مولانا نصیر احمد
انسان بنیادی طور پر دو چیزوں یعنی روح اور جسم کا مرکب ہےاورجس طرح انسان جسمانی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے ایسی طرح روحانی بیماریوں کا بھی شکار ہوتا ہے۔اگر انسان کی جسمانی بیماریوں کی طرح اس کی روحانی بیماریوں کا علاج نہ کیا جائے تو وہ بھی خطرناک صورت اختیار کر جاتی ہیں ۔انھی بیماریوں میں سے ایک بیماری حسدہے۔حسد دنیا کی غالباً اولین روحانی بیماری ہےاس کی وجہ سےشیطان نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا، قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا،یوسف ؑ کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں پھینک دیا تھااوریہود نے سرکارِدوعالمﷺ کو زہر پلایااور کفار مکہ کے ساتھ ملکر آپ کو قتل کرنے کی سازش بھی کی وجہ محض یہی تھی کہ آپﷺ کا تعلق ان کے خاندان سے نہیں تھا۔یہود کا مسلمانوں کے ساتھ حسد کرنا آج بھی نمایاں ہےکیونکہ اگر غور کیا جائے تو دنیا میں سب سے کم اسلام قبول کرنے والے یہود ہی ہیں یہی سلسلہ دنیا میں چلتاآ رہا اور دنیا کے بہت سارے لوگ خواہ ان کا تعلق زندگی کے جس شعبے سے بھی ہو اس سے متأثر نظر آتے ہیں۔

حسد کی حقیقت:
حسد کی حقیقت یہ ہے کہ ایک آدمی کو اللہ تعالی نے اپنے فضل سے کوئی چیز عطا کی ہے اور دوسرا اس کو دیکھ کر دل ہی دل میں گھٹتے ہوئےیہ سوچنے لگ جائے کہ یہ چیز کسی طریقے سے اس سے چھن جائے اور مجھے مل جائے۔اب اگر کوئی بات اس کے خلاف دیکھتا ہے تو خوش ہوتاہےلیکن اگراس کو مزید ترقی کرتا ہوا دیکھتاہے تو اس کو برا لگتاہے۔یہی حسد ہے جسکی قران اور احادیث مبارکہ میں بہت مذمت آئی ہے۔

حسد کی مختلف صورتیں:
حسد کی تین صورتیں ہیں۔
۱۔پہلا درجہ یہ ہے کہ فلاں کے پاس جو چیز ہے اب اگر وہ اس کے پاس رہتے ہوئے مجھے مل جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے چھن جائے اور مجھے مل جائے۔
۲۔حسد کی دوسری صورت یہ ہےکہ جو چیز فلاں کے پاس ہے وہ بہرصورت اس سے چھن جائے اور مجھے مل جائے۔
۳۔حسد کی تیسری صورت یہ ہے کہ فلاں کے پاس جو چیز ہے وہ اس سے چھن جائے پھر چاہے وہ مجھے ملے یا نہ ملے۔حسد کی یہ تینوں صورتیں ناجائز اور حرام ہیں۔

حسد کی مذمت قرآن مجید کی روشنی میں:
قرآن مجید میں ارشادِباری تعالیٰ ہے: ،،ام یحسدون الناس علٰی ما اتھم من فضلہ،،ترجمہ:یا یہ لوگوں سے اس بنا پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا فضل (کیوں) عطا فرمایا ہے؟یہود سرکار دوعالم ﷺ کے علم و فضل اور جاہ وجلال کو دیکھ کر جلتے تھےاللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت میں اس کی شدید مذمت کی ہےاور ان کے حسد کو غیرمعقول قرار دیا ہے کہ اپنی نااہلی کے باوجود یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے جس انعام کی آس لگائے بیٹھے تھے اس انعام سے اللہ تعالیٰ نے جب دوسروں کو سرفراز فرما دیا تو یہ ان کے ساتھ حسد کررہے ہیں کہ یہ چیز ان کو کیوںمل گئی ہے۔

حسد کی مذمت احادیث مبارکہ کی روشنی میں:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ.
ترجمہ :حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ قطع تعلق کرو اور کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی نہ کرو کسی سے بغض نہ رکھو اور کسی سے حسد نہ کرو اور خالص اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بن جاؤ۔ مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع کلامی کا جائزہ نہیں۔
ترمذی شریف میں روایت ہے کہ:‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعَرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، ‏‏‏‏‏‏أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَاكُمْ لَكُمْ ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ۔
ترجمہ :رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمھارے اندر پچھلی امت کا مرض داخل ہوجائے گا اور وہ حسد اور بغض کا مرض ہے اور بغض مونڈ کر رکھنے والی چیز ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ بالوں کو مونڈ کر صاف کردیتاہے؛ بلکہ دین کو مونڈ کر ختم کرکے بے دین بنادیتا ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم اُس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک مومن نہ بن جاؤ، اور اُس وقت تک مومن نہیں بن سکتے جب تک آپس میں محبت کا ماحول پیدا نہ کرو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتلادوں جو تمھارے لیے محبت کا ماحول پیدا کردے، وہ یہ ہے کہ تم آپس میں سلام کو خوب رواج دو۔(ترمذی، رقم الحدیث: ۲۵۱۰، أبواب الورع)

دل کو حسد سے پاک رکھنے کی فضیلت:
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں آپ نے فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا۔ تو اتنے میں ایک انصاری آئے جن کی ڈاڑھی سے وضو کے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور انھوں نے بائیں ہاتھ میں جوتیاں لٹکا رکھی تھیں۔ اگلے دن حضورﷺ نے وہی بات فرمائی تو پھر وہی انصاری اسی طرح آئے جس طرح پہلی مرتبہ آئے تھے۔ تیسرے دن پھر حضورﷺ نے ویسی ہی بات فرمائی اور وہی انصار ی اسی حال میں آئے۔ جب حضورﷺ مجلس سے اٹھے تو حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ اس انصاری کے پیچھے گئے اور ان سے کہا: میرا والد صاحب سے جھگڑا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے میں نے قسم کھالی ہے کہ میں تین دن تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو آپ مجھے اپنے پاس تین دن ٹھہرا لیں۔ انھوں نے کہا: ضرور۔

پھر حضرت عبد اللہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ان کے پاس تین راتیں گذاریں لیکن میں نے ان کو رات میں زیادہ عبادت کرتے ہوئے نہ دیکھا۔ البتہ جب رات کو ان کی آنکھ کھل جاتی تو بستر پر اپنی کروٹ بدلتے اور تھوڑا سا اللہ کا ذکر کرتے اور اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہتے اور نمازِ فجر کے لیے بستر سے اٹھتے، ہاں جب بات کرتے تو خیر ہی کی بات کرتے۔ جب تین راتیں گذر گئیں اور مجھے ان کے تمام اعمال عام معمول کے ہی نظر آئے (اور میں حیران ہوا کہ حضورﷺ نے ان کے لیے بشارت تو اتنی بڑی دی لیکن ان کا کوئی خاص عمل تو ہے نہیں) تو میں نے ان سے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا والد صاحب سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا، نہ کوئی ناراضگی ہوئی اور نہ میں نے انھیں چھوڑنے کی قسم کھائی۔ بلکہ قصہ یہ ہوا کہ میں نے حضورﷺ کو آپ کے بارے میں تین مرتبہ یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے اور تینوں مرتبہ آپ ہی آئے۔ اس پر میں نے سوچا کہ میں آپ کے ہاں رہ کر آپ کا خاص عمل دیکھوں اور پھراس عمل میں آپ کے نقشِ قدم پر چلوں۔ میں نے آپ کو کوئی بڑا کام کرتے ہوئے تو دیکھا نہیں تو اب آپ بتائیں کہ آپ کا وہ کون سا خاص عمل ہے جس کی وجہ سے آپ اس درجہ کو پہنچ گئے جو حضورﷺ نے بتایا؟ انھوں نے کہا: میرا کوئی خاص عمل تو ہے نہیں، وہی عمل ہیں جو تم نے دیکھے ہیں۔ میں یہ سن کر چل پڑا۔ جب میں نے پشت پھیری تو انھوں نے مجھے بلایا اور کہا: میرے اعمال تو وہی ہیں جو تم نے دیکھے ہیں۔ البتہ یہ ایک خاص عمل ہے کہ میرے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں کھوٹ نہیں ہے، اور کسی کو اللہ نے کوئی خاص نعمت عطا فرما رکھی ہو تو میں اس پر اس سے حسد نہیں کرتا۔ میں نے کہا: اسی چیز نے آپ کو اتنے بڑے درجے تک پہنچایا ہے۔
حسد کے مذموم ہونے کی وجہ:

حسد کے مذموم ہونے کی کئی وجوہات ہیں:
۱۔حسد کے مذموم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حاسدگویا ایک طرح سے اللہ کی تقسیم پر معترض ہے،کہ اللہ تعالیٰ فلاں کو یہ چیز کیوں دی ہے اور بعض اوقات یہ حسد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ آدمی ہدایت سے ہی محروم ہوجاتا ہےجیسے کہ ابوجہل کو اس بات پر حسد تھا کہ نبوۃ بنی عبدمناف میں کیوں ہے؟
۲۔حاسد ایک طرح سے ناشکری یا بے صبری کا بھی شکار ہوتا ہے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اگر کچھ دیا بھی ہے تو دوسرےسے حسد کرنے کا واضح مطلب یہی ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے جو انعام کیا ہے وہ اس کو نظر نہیں آرہا ورنہ یہ ہر گز یہ نہ سوچتا۔اور اگر اس کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے کے مقابلے میں آزمائش میں رکھا ہو ا ہےتو اس پر یہ صبر نہیں کرتا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نعمتوں سے نواز کر یا آزمائش میں ڈال کر ان کا امتحان لیتا ہے کہ آیا نعمتوں پر یہ شکر کرتےہیں یا نہیں اور آزمائش پر یہ صبر کرتے ہیں یا نہیں یہی ساری حقیقت ہے۔
۳۔حسد کرنے والا بعض اوقات جھوٹ اور الزام تراشی کا بھی سہارا لیتا ہے کیونکہ جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت دی ہے حسد کرنے والے کا چونکہ اولین مقصد اس کو ایذا پہنچانا ہوتا ہے اس کو نیچا دکھانا ہوتا ہے پھر اس کیلئے وہ جھوٹ بھی بولتا ہےاور الزام تراشی بھی کرتا ہے۔
۵۔حسد کرنا بعض اوقات ناانصافی کا سبب بن جاتا ہے۔

حسد کے نقصانات:
حسد یہ مہلک مرض ہے جس کو لگ جائے وہ تباہ ہوجاتا ہےاس کی جسمانی اور روحانی صحت متاثر ہوتی ہےوہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہےاس کو سکون نہیں آتا۔کیا اچھا کلمہ حکمت ہے جو کسی نے کہا ہے:کَفٰی بِالْحَاسِدِ اَنَّہٗ یَغْتَمُّ وَقْتَ سُرُوْرَکَ۔’’حاسد سے انتقام لینے کے خیال میں پڑنے کی ضرورت نہیں، یہی انتقام کافی ہے کہ تم کو خوشی ہوتی ہے تو اس خوشی کی وجہ سے اسے رنج پہنچتا ہے۔‘‘بعض حضرات نے فرمایا: اَلْحَسْدُ حَسَکٌ مَنْ تَعَلَّقَ بِہٖ ھَلَکَ۔’’حسد ایک کانٹاہے جس نے اسے پکڑا ہلاک ہوا۔ "

حسد کا علاج:
حسد کا علاج علماء نے لکھا ہے کہ حسد کرنے والے کو یہ سوچنا چاہیئے کہ حسد کرنے میں تو میرا اپنا نقصان ہے کیونکہ اس سے وہ نعمت محسود کے پاس سے ختم تو ہوگی نہیں البتہ میں حسد کرکے اپنے آپ کو ہی جلاتا رہوں گا دوسرا یہ کہ حسد کرنے کی وجہ سے میری نیکیاں اس کے پاس جاتی رہیں گی جب یہ سوچے گا تو حسد سےباز رہے گا دوسرا یہ کہ جس سے بھی ملے محسود کی تعریف ہی کرتا پھرے اور جبھی اس سے ملاقات ہو تو احترام سے اس کے ساتھ پیش آئے رفتہ رفتہ اس سے محبت ہوجائیگی اور حسد کا بھی خاتمہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حسد سے محفوظ رکھے آمین

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 137652 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
14 Dec, 2018 Views: 653

Comments

آپ کی رائے