پتنگ باز سجناں

(Ch Dilawar Hussain, Multan)

صحتمند رہنے کیلئے نصابی سر گرمیوں کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں نہایت ضروری ہیں۔ماحول میں چہل پہل ان ہی کی مرہون منت ہے ۔کھیل دراصل دماغی فرحت کا دوسرا نام ہے قومیں وہی ترقی یاب ہوتی ہیں جو دماغی طور پر پْر سکون و خوشحال ہو تی ہیں۔جہاں پارک آباد ہوں اور ہسپتال ویران ہوں وہ قوم صحت زیور تصور کیجاتی ہے ۔معاشرہ میں بسنے والے افراد اپنی روزمرہ مصروفیات سے وقت نکال کر تفریح کا سامان ضرور کرتے ہیں۔ہر ہفتے کے اختتام پر ایک دن جسے چھٹی کا نام دیا جاتا ہے سکون اطمینان کیلئے متعین کیا جاتا ہے ۔جس کا بنیادی مقصد صرف تھکاوٹ دور کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ آئندہ کیلئے خود کو تیار کرنا ہوتا ہے ۔چونکہ آج کا دور تیز رفتار ہے اور اس تیز رفتاری کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں ہر لمحہ صحت و عافیت کے ساتھ خود کو چاک وچوبند رکھنا ہے ۔اس جدید دور نے جہاں انسان کو روبوٹ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے وہاں تھوڑی سی عجلت بندہ خدا کو کہیں کا کہیں پہنچا دیتی ہے ۔بے پناہ مصروفیت کی وجہ سے ہر ذی روح اچھی صحت اور درست نظام انہضام کو فراموش کر رہی ہے ۔ماضی میں بزرگ نہ صرف اپنی صحت کا خاص خیال رکھتے تھے بلکہ نوجوانوں کی صحت بارے درست رہنمائی اپنا طرہ امتیاز گردانتے تھے ۔مرد وخواتین ہوں یا بچے ورزش ہر ایک کیلئے ازحد ضروری ہے ۔ورزش کا اوّلین مقصد جسم میں قو ت مدافعت کو بڑھانا اور بیماریوں کے خلاف روک تھام کرنا ہے ۔یوں توکھیل کئی نوعیت کے ہیں ۔زیادہ تر ہمارے ملک میں کرکٹ کو فوقیت دی جاتی ہے ۔چونکہ یہ بین الاقوامی سطح کا کھیل ہے اس لئے اس پر خاص توجہ مرکوز کیجاتی ہے بشرط کہ یہ سٹے سے پاک ہو ۔ہاکی بھی اپنی نوعیت کا منفرد کھیل ہے لیکن روز بروز تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی ڈائن نے کھیلوں کے سامان کے علاوہ ہر شے کو انسانی دسترس سے دور کر دیا ہے ۔گذشتہ رات عوامی حکومت نے عوام کے ذوق و شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی میں لگائی گئی بسنت پرپابندی "پتنگ بازی"ختم کردی اور ساتھ ہی بسنت منانے کااعلان کیا گیا ہے ۔یوں پتنگ بازو کی خوشی کی انتہا قابل دید تھی لیکن وہ مائیں نہایت افسردہ تھیں جن کے معصوم گل اس بسنت کی بھینٹ چڑھ چکے تھے۔ ماہ فروری کے آغاز میں "مہنگائی، بے روزگاری، ہسپتالوں میں کمی ادویات"کا عذاب سہنے والی عوام کو ذہنی سکون و فرحت کیلئے بسنت کا تحفہ عطا فرمایا ہے تاکہ عوام پکوان پکا کر چھتوں اور میدانوں میں تیز ترین میوزک کی پاداش میں جمہوری دْکھ بھول کر رنگین پتنگوں کی فرفراہٹ کے مزے لے سکیں۔اب پھر گلی ، محلوں میں "بو کاٹا"کا شور عروج پا رہا ہے ۔مثل مشہور ہے کہ موسیقی روح کی غذا ہے ۔گذشتہ ادوار میں ساز اور ساززندوں نے کمال مہارت سے ایسے سْریلے نغمے تیار کئے جن کو آج کئی سال بیت جانے کے بعد یاد رکھا گیا ہے ۔شہنشاہ غزل مہدی حسن خان و سْروں کی ملکہ نورجہاں کے گیتوں نے آج بھی سینہ قلوب پر راج قائم رکھا ہوا ہے ۔لیکن بدقسمتی سے آج کے نظام نے اونچی اْڑان کے شوق میں موسیقی کا انداز یکسر نو بدل کر رکھ دیا ہے ۔جو فرحت کی بجائے دماغی سکون کو بے سکون کرنے کے مترادف ہے ۔دین اسلام میں پڑوسی کو خاص فوقیت دی گئی ہے ۔اگر پاس پڑوس میں دْکھ ہو اور دوسری طرف تیز ساز کے ساتھ پتنگ بازی کی جارہی ہو ۔ایسی تفریح سے ہمارے دین نے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے جس پر کاربند رہنا ہم سب کیلئے نہایت ضروری ہے ۔اس میں کچھ شک نہیں کے تفریح انسانوں کیلئے ازحد ضروری ہے لیکن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم ہر سہولت کا ناجائز فائدہ حاصل کرتے ہیں اور اس کے مثبت اثرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے منفی اثرات کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں جس سے اردگرد کے افراد شدید پریشانی میں مبتلا ہو کر پورا سال نقصان اْٹھاتے ہیں۔ یوں چاروں ا طراف پتنگ کی تیاری کے مراحل اس تیزی سے طے کیے جا رہے ہیں اور یوں مقابلہ ہو رہا ہے جیسے اگر خدانخواستہ کوئی پیچھے رہ گیا تو شاید وہ بھاری نقصان کا ذمہ داری قرار دیا جائے گا ۔اس نقصان کا شکار خاص طور پر وہ لوگ ہو تے ہیں جو دھاتی تار و شیشہ سے لگائے گئے مانجھا سے سوتی گئی ڈور کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔ماضی میں ایسے گھناؤنے واقعات رونما ہوئے جس سے کئی معصوم بچے و راہ گیر قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن کے لواحقین آج بھی خون کے آنسو بہانے پر مجبور ہیں اور پْرسان حال صرف اﷲ کریم کے بعد کوئی نہیں ہے ۔اس ہندوانہ رسم کو اپنے دلی سکون کیلئے عوا م کی تفریح کا نام دینا کسی بھی طرح درست نہ ہے ۔چونکہ فروری ، مارچ طلبا/طالبات کیلئے نہایت اہم ہوتے ہیں اور اس دوران سیکنڈری سکول سر ٹیفکیٹ کا امتحان ان کے مستقبل میں اہم کردار کا حامل ہوتا ہے ۔ایسے میں اگر ذہن کسی غیر جانب متوجہ ہو جائے تو والدین کے سپنے چْکنا چؤر ہو جاتے ہیں لہذا یہ ضروری ہے کہ ماضی میں لگائی گئی پتنگ بازی پر پابندی بحال رکھی جائے اور اس پر سختی سے عمل کروایا جائے تاکہ پھر کسی ماں کے گلستان کے گل ، چراغ ِگل کہیں بجھ نہ جائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ch Dilawar Hussain

Read More Articles by Ch Dilawar Hussain: 6 Articles with 2796 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Dec, 2018 Views: 218

Comments

آپ کی رائے