گھر سے بیٹی کو نکالا نہیں کرتے لوگو

(Aleena Arshad, )

تاریخ کے جھروکوں اور ماضی بعید میں حالات حاضرہ کا چشمہ اتار کر دیکھا تو سمجھ آئی کہ اردو کو اپنی قومی زبان بنانے کے لئیے کس حد تک تگ و دو کی گئی ،دنیا کا ہر ملک اپنی قومی زبان کا احترام کرتے ہوئے اسے سرکاری حیثیت دیتا ہے ۔مگر افسوس صد افسوس کہ پاکستان میں زبان برائے نام رہ گئی ہے۔سرکاری زبان تو اردو رہی ہے مگر اعلیٰ و ادنیٰ سطوط میں فیصلوں کی درجہ بندی کے لئیے دو لسانی قلمدان استعمال ہوتا رہا اردو کو کاغذی طور پر دفتری زبان کا درجہ دیا گیا مگر عملی طور پر محروم رکھا گیاہم کوئی اور زبان پڑھ تو سکتے ہیں، سیکھ تو سکتے ہیں مگر اس میں کچھ تخلیق نہیں کر سکتے ،اردو زبان کی خوبصورتی یہ کہ اس نے سر سید احمد خان، فیض، غالب، اقبال، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، پروین شاکر جیسی ہستیوں کو جنم دیا۔وہ زبان کے جس میں انشاء کی غزلوں کی مٹھاس ہے، میرا جی کے گیتوں کا ترنم ہیمگر آج ہم نے کسی اور زبان کو اپنی قابلیت کا معیار بنا لیاہے ۔افسوس جسکی چھاؤں میں بیٹھے ہیں اسکی جڑ کو کاٹ رہے ہیں۔ہماری آنے والی نسل اردو کو اپنی عملی و دفتری زبان بناے جانے پر شرمندگی محسوس کرتی ہے ۔مانا ارتقاء اچھا عمل ہے، زبان بھی ارتقائی مراحل طے کرتی ہے مگر اپنی زبان کو پس پشت ڈال دینا ناانصافی ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے تو وہ اردو ہی ہو گی۔
اب کا نہیں یہ ساتھ صدیوں کا ساتھ ہے
تشکیل ارض پاک میں اردو کا ہاتھ ہے

قیام پاکستان سے قبل ماتحت عدالتوں میں اردو کو فوقیت حاصل تھی۔اگر آج بھی معروف لائبریریوں کی بات کی جائے تو قدیم ترین زبانوں کے مجموعات اس دور کی قوموں نے محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ مگر پاکستان میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے ۔قومی زبان اردو مگر سرکاری زبان انگریزی کا ہونا ہماری غلامانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔سرکاری سطح پر قومی زبان کی پذیرائی نہ ہونے کے باعث ہماری قوم گومگوں کا شکار ہے71
سال گزر جانے کے باوجود قومی زبان سرکاری سرپرستی سے محروم ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ َہم اپنی زبان کے فروغ کے مناسب اقدامات کریں مباحثہ تقاریر مشاعرہ وغیرہ کے ذریعہ اس زبان کو آنے والی نسل میں متعارف کروایا جائے تاکہ یہ زبان زندہ و جاوید رہے
جس طرح بھی رہے اردو کو یہیں رہنا ہے
ہمکو اردو کے حریفوں سے یہی کہنا ہے
اپنی تہذیب کو سنسار میں رسوا نہ کرو
یعنی اردو کو مٹانے کا ارادہ نہ کرو
اپنی پگڑی کو اچھالا نہیں کرتے لوگو
گھر سے بیٹی کو نکالا نہیں کرتے لوگو

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aleena Arshad

Read More Articles by Aleena Arshad: 5 Articles with 1529 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jan, 2019 Views: 357

Comments

آپ کی رائے