ماں کی دعائیں اور والد کی راہنمائی ہی کامیابی کی ضمانت ہے

(Aslam Lodhi, Lahore)

محمد اقبال قرشی چیف ایگزیکٹو ‘قرشی انڈسٹریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ لاہور
تحریر : محمد اسلم لودھی
جہاں طب یونانی کی بات ہوتی ہے وہاں قرشی کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ قرشی کو مطب سے انڈسٹریز تک پہنچانے میں محمد اقبال قرشی کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ بے شک وہ پیشہ کے اعتبار سے کیمیکل انجینئر ہیں لیکن اُنہوں نے محنت ، پر عزم جدو جہد اورمہارت سے قرشی انڈسٹریز کو ایک بین الاقوامی ادارہ بنا دیا ہے۔ ان کی کاوش کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو شمس العلما کے خطاب سے نوازا گیا۔ اِن کی تربیت میں نہ صرف اُن کی عظیم ماں کا ہاتھ ہے بلکہ توبہ گزار دادی اور نیک سیرت نانی کی دعاؤں کا بھی بڑا دخل ہے۔ آپ1945ء کو لاہور میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم ادبستان صوفیہ سکول سے حاصل کی۔ میٹرک مسلم ماڈل ہائی سکول سے کیا۔ ایف ایس سی اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے کر کے بی ایس سی اور ایم ایس سی کیمیکل کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے نمایاں پوزیشن میں پاس کیا۔ آپ شفائے الملک حکیم محمد حسن قرشی کے سب سے چھوٹے صاحبزادے ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت قرشی انڈسٹریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں آپ کے بقول تمام کامیابیاں ماں کی دعاؤں ہی کا نتیجہ ہیں۔ جبکہ رول ماڈل (قابل تقلید) کی حیثیت سے والد گرامی حکیم محمد حسن قرشی ہیں۔
آپ کی شاندار قیادت میں قرشی انڈسٹریز نےISO 1440, ISO 9001,ISO 17025 Norway/PNAC HACCPاور Organic Certificateسمیت چھ بین الاقوامی سرٹیفکیٹ اور اعزازات حاصل کیے جا چکے ہیں۔
آئیے ان کی کامیابیوں کی کہانی خود ان کی زبانی سنتے ہیں:
میرے آباؤ اجداد کا تعلق وادی کشمیر سے تھا۔ میرے دادا فضل الدین کا شمار اپنے وقت کی برگزیدہ شخصیات اور ممتاز علماء میں ہوتا تھا۔ میرے دادا نہ صرف ایک درویش صفت انسان تھے بلکہ شعر و ادب سے بھی ان کو خاصی دلچسپی تھی۔ بالخصوص فارسی کے قادر الکلام شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے نثر نگار بھی تھے۔ جبکہ میرے والد حکیم محمد حسن قرشی کا شمار بھی اپنے وقت کے جید علماء اور طبیبوں میں ہوتا تھا۔ والد گرامی کو شعبہ طب سے گہری دلچسپی تھی۔ بلکہ انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں یونانی طب کو بام عروج پر پہنچانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ قومی سطح پر خدمات کے حوالے سے انہیں شفائے الملک کا خطاب دیا گیا۔ اُنہوں نے باقاعدہ مطب کا آغاز بمبئی سے کیاپھر اپنی والدہ کے حکم پر آپ1920میں لاہور تشریف لے آئے آپ کا شمار حکیم محمد اجمل خاں کے ہونہار شاگردوں میں ہوتا تھا۔ والد گرامی کو قرشی کا لقب مسیح الملک حکیم محمد اجمل خان نے دیا۔ درحقیقت قرشی، تاریخ اسلام کے ایک مایہ ناز طبیب علامہ علاؤ الدین کا لقب تھا۔ جو نہ صرف میرے والد گرامی کے نام کا مستقل حصہ بنا بلکہ مجھ سمیت میرے تمام بھائی‘ خود کو قرشی کہلانے میں فخر محسوس کرتے رہے ہیں۔ ہم اس لقب کو اعزاز تصور کرتے ہیں۔
میری والدہ کا شمار قرن اولیٰ کی پاکباز اور نامور مسلم خواتین میں ہوتا تھا۔ لباس نہایت سادہ اور پروقار، چہرے پر نورانیت، آنکھوں میں محبت شفقت کی جھلک، آواز میں شیرینی اور مٹھاس، گفتگو میں ٹھہراؤ اور دھیما پن میری والدہ ان خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ والدہ اکثر بتایا کرتی تھی کہ ان کے والد اور میرے نانا کریم الدین محکمہ جنگلات کے بڑے کنٹریکٹر تھے۔ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر شہروں میں فروخت ان کا کاروبار تھا۔ گجرات ہمارے خاندان کا آبائی شہر تھا میری والدہ کے دادا اپنے وقت کے تعلیم یافتہ عالم اور فاضل تھے۔ ان کی گجرات میں بیکری تھی۔ میری والدہ چھ بھائی اور چار بہنیں تھیں میرے ایک ماموں جن کا نام امیر خسرو تھا۔ اپنے دور کے بہت بڑے وکیل تھے۔ جسٹس (ر) زیڈ اے کیکاؤس میرے ماموں امیر خسرو کے ہی بیٹھے تھے۔ جبکہ میرے ایک اور ماموں شجاع ناموس کا شمار ممتاز دانشوروں، سائنس دانوں اور علما میں ہوتا تھا۔ جبکہ تیسرے ماموں سیٹھ جمشید انگریز دور میں آنریری مجسٹریٹ تھے۔ انہیں شکار کا بے حد شوق تھا۔ وہ اپنے وقت کے بہترین اور ممتاز نشانہ باز شکاری تصور کئے جاتے تھے۔ ان کی شخصیت اور فن پر امریکہ میں ایک کتاب لکھی گئی کئی امریکی اکثر شکار کھیلنے کیلئے ان کے پاس آیا کرتے تھے۔ جبکہ میرے باقی ماموں اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔
میری ماں اپنے والد کی سب سے پیاری، ذہین اور لاڈلی بیٹی تھی۔ چوتھی جماعت میں انہیں سکول کی طرف سے سکالر شپ ملا۔ جب چھٹی جماعت پاس کر کے وہ ساتویں میں پہنچیں تو ان کا سکول میں یہ کہہ کرجانا بند کر دیا گیا کہ اب تعلیم سے زیادہ گھر کو ان کی ضرورت ہے۔میری ماں ابھی چار سال کی ہی تھیں کہ اُن کے والد پر فالج کا حملہ ہو گیا۔ ذاتی توجہ ، خاندانی افراد کی محبت اور مستند ڈاکٹروں اور حکیموں کے علاج سے وہ خود چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے میرے نانا کو پودوں سے جنون کی حد تک پیار تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ یہ پودے مجھے اولاد کی طرح عزیز ہیں۔ بیماری کے بعد پودوں کی دیکھ بھال ان کی تراش خراش ہی ان کا محبوب مشغلہ رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پودوں سے پیار کے حوالے سے نانا کا اثر مجھ پر آج بھی حاوی ہے۔ میں بھی پھولوں اور پودوں سے بے حد پیار کرتا ہوں۔ جون1922ء کو گجرات شہر میں میری والدہ بلقیس بیگم اور والد حکیم محمد حسن قرشی رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ اُ س وقت والدکی عمر 27سال جبکہ ماں کی 16سال تھی۔
میری دادی بی بی جان بھی بڑی نیک‘ صابرہ اور تہجد گزار خاتون تھیں۔ اپنی زندگی میں انہیں اپنے شوہر‘اکلوتی بیٹی اور بڑے صاحبزادے کی نگہانی موت کا صدمہ جانکا سونا پڑا۔ ان پے درپے صدموں نے ان کو بے حال کر کے رکھ دیا۔ وہ اپنا زیادہ وقت عبادت، وظائف اور درود پاک کے وِرد ہی میں گزار دیتیں۔
وہ اپنی بساعت کے مطابق غریبوں اور مستحق افراد کو دل کھول کر خیرات صدقات کرتیں۔ جب والدہ‘ میری دادی کے گھر میں بیاہ کر آئیں تو گھر کی تمام ذمہ داریاں ابتداء میں ہی انہی سنبھالنی پڑیں۔ میرے والد حکیم محمد حسن قرشی گھریلو ذمہ داریوں سے ہمیشہ الگ تھلک ہی رہے۔ ماں اور دادی کے مابین تعلقات اتنے خوشگوار تھے کہ ان کو ساس بہو کے تناظر میں بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ ماں کی شادی کے بعد دادی 20سال زندہ رہیں اس کے باوجود کہ گھر میں بے شمار نوکرانیاں موجود تھیں دادی کی ہر خدمت بجا لانا ماں نے اپنا فرض اولین تصور کر رکھا تھا پھر جب دادی کو اپنی وفات سے دو سال قبل فالج کے شدید حملے کا سمنا کرنا پڑا تو وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئیں۔ ان حالات میں ماں نہ صرف میری دادی کی ہر لمحے خدمت بجا لاتی بلکہ بچوں کو سکول بھجوانا۔ گھر آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر ممدارت کرنا۔ اپنے شوہر کے معاملات کو احسن و خوبی سر انجام دینے میں کبھی گھبراہٹ یا پریشانی کا شکار نہ ہوئیں ۔ وہ علی الصبح اٹھتیں نماز فجر ادا فرماتیں تلاوت کلام پاک کرتیں حتیٰ کہ پھر شام تک تمام امور کی انجام دہی میں ایسے جُت جاتیں کہ رات کا ابتدائی حصہ رخصت ہو چکا ہوتا۔ جب گھر کے تمام افراد رات کا کھانا کھا کر اپنے اپنے بستر پر دراز ہو جاتے تب ماں سونے کیلئے اپنے کمرے کا رخ کرتیں۔
میں1945کو لاہور میں ہی پیدا ہوا میں نے جس دور میں آنکھ کھولی اس وقت تحریک پاکستان عروج پر تھی۔ آزادی کا سورج طلوع ہونے والا تھا مسلمان اپنی منزل کے حصول کیلئے انتہائی پر اُمید اور پرُ جوش تھے۔ میرے والد شفائے الملک حکیم محمد حسن قرشی اور برادر کبیر حکیم آفتاب قرشی نے حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت تحریکی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا جب میں شعور کی حالت کو پہنچا تو دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک آزاد اور خود مختارملک کی حیثیت سے معرض وجود میں آ چکا تھا۔
ابتدائی تعلیم میں نے ادبستان صوفیہ سکول بہاولپور روڈ لاہور سے حاصل کی یہ سکول تین نیک سیرت بہنوں نے ایک خاص مقصد کیلئے قائم کیا تھا۔ دراصل ان کے پیش نظر مملکت خداداد میں رہنے والوں کی بہترین ذہنی، تعلیمی اور مذہبی تربیت تھی۔ اس سکول میں ڈسپلن کی سخت پابندی کا اہتمام کیا جاتا۔ ہر صبح ناخن یونیفارم جسمانی صفائی باقاعدگی سے چیک کی جاتی تھی۔
اس سکول کی ایک منفرد بات یہ تھی کہ ہیڈ مسٹریس کے دفتر کے باہر ہمیشہ ایک میز رکھی ہوتی۔ سکول کی حدود میں اگر کوئی لاوارث چیز مل جاتی تو دیکھنے والے کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اُسے اُٹھا کر مخصوص میز تک پہنچا دے۔ دوسری جانب جن بچوں کی کوئی چیز گم ہو جاتی وہ فارغ اوقات میں اسی میز پر رکھی ہوئی چیزوں میں سے اپنی کھوئی ہوئی چیز تلاش کرتے۔
میں سمجھتا ہوں یہ اساتذہ کی بہترین تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ ہر بچہ صرف اپنی ہی کھوئی ہوئی چیز اُٹھاتا۔ ہر بچے نے اپنی اپنی پنسل‘ ربڑ‘ تختی اور کتابوں کاپیوں پر مخصوص نشان لگائے ہوتے تھے۔ یہی نشانات پہچان کے وقت کام آتے۔ ہمارا سکول مکمل طور پر انگلش میڈیم تھا۔ جن دنوں میں آٹھویں میں زیر تعلیم تھا۔ اتفاق سے اسی سال حکومت نے اُردُو میں امتحان لینے کا فیصلہ کر لیا۔حکومت کا یہ فیصلہ تمام انگلش میڈیم سکولوں کے بچوں کیلئے انتہائی پریشان کن تھا۔ امتحان میں چونکہ وقت بہت کم تھا اس لیے گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی سکول انتظامیہ نے پڑھنے کیلئے۔ ہمیں سکول بلوانا شروع کر دیا۔ تاکہ اُردُو کی کمی کو بروقت پورا کیا جا سکے۔ ان دنوں سکول انتظامیہ اور اساتذہ اپنے پیشے سے اتنے مخلص تھے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اضافی پڑھائی کی کوئی فیس ہم سے وصول نہ کی گئی۔ بلکہ ہمیں آنے پرآمادہ کرنے کیلئے انتظامیہ نے ایک منفرد انداز اپنایا سکول کی حدود میں درختوں سے مالی کے ذریعے جامن اتروا کر ایک مخصوص جگہ پر رکھوادئیے جاتے یہ جامن‘ امتحان کی تیاری میں مصروف بچے ہی کھا سکتے تھے جن کو بطور خاص سکول بلایا جاتا تھا۔ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ جامن کھانے کا شوق بچوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پتھر مار کر انہیں حاصل کریں یا آنکھ بچا کر درخت پر چڑھ کر جامن کھائیں اس طرح بچوں کو چوٹ بھی لگ سکتی تھی۔ اس لیے بچوں کو ناگہانی چوٹ اور مصیبت سے بچانے کیلئے سکول انتظامیہ نے یہ قدم اُٹھا یا تھا۔
جب آٹھویں کا نتیجہ آیا تو پوری کلاس میں سے دو بچے ہی پاس ہوئے پھر ان کے نمبر بھی زیادہ نہیں تھے۔ اس لیے جب بھی کوئی ہم سے رزلٹ کے بارے میں پوچھتا تو ہم یہی کہتے کہ فرسٹ اور سیکنڈ آئے ہیں یعنی پاس ہونے والا پہلا بچہ فرسٹ اور میں سیکنڈ تھا۔
پھر جب میٹرک کا امتحان دینے کیلئے میں مسلم ماڈل ہائی سکول لوئر مال لاہور میں داخل ہوا تو اکثر اوقات لڑکے چھٹی سے پہلے ہی سکول سے نکل جاتے۔ یونیفارم کی بھی وہاں کوئی خاص پابندی نہیں تھی۔ ایک مرتبہ مجھے سکول پہنچنے میں کچھ تاخیر ہو گئی۔ تو بجائے آوارہ گردی کرنے کے میں سیدھا اپنے گھر آ گیا۔ ماں نے واپس آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے صاف بتا دیا جس پر ماں نے اس لیے کوئی سرزنش نہ کی کہ میں نے جھوٹ نہیں بولا تھا۔ حالانکہ میری ہی کلاس کے کئی لڑکے کرکٹ میچ دیکھنے کیلئے چلے جاتے اور جب سکول کا وقت ختم ہوتا تو اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔ چونکہ والدین مجھ پر اندھا اعتماد کرتے تھے اس لیے میں نے بھی کبھی ان کو دھوکہ دینے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس وقت ایک نظم بھی لکھی تھی جو درج ذیل ہے۔

یہ نظم مجھے نہیں دی گئی اگر میسر ہے تو یہاں لکھ دیں یا مجھے اس آرٹیکل کے ساتھ بھجوا دیں

روز مرہ زندگی کے دوران ماں مجھ سے زیادہ پوچھ گچھ نہیں کرتی تھی۔ اگر کبھی سکول سے واپسی پر تاخیر ہو بھی جاتی تو انہیں علم ہوتا کہ ضرور کوئی مجبوری ہو گی۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ ہم کھیل کود میں اس قدر مگن ہو گئے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا۔ جب شام ڈھلے گھر واپس پہنچا تو بھوک کے باوجود اس خیال سے کھانے کیلئے ماں کو زحمت نہ دی کہ گرمیوں میں ماں کو ایک بار پھر چولہا جلانا پڑے گا۔ لیکن ماں کی اولیانہ حِس اتنی تیز تھی کہ وہ چہرہ دیکھ کر ہی پہچان جاتی کہ میرا پیٹ خالی ہے۔ اُن کی نصیحت تھی کہ خالی پیٹ کبھی نہیں سونا چاہیے اس سے صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جن دنوں ہم دل محمد روڈ گوالمنڈی میں رہا کرتے تھے مجھے مٹی کی دھول میں گرا ہوا ایک پیسہ نظر آیا میں نے وہ پیسہ اُٹھایا اور چنے خرید کر کھانے لگا اسی حالت میں جب میں گھر پہنچا تو ماں نے پوچھا کہ چنے خریدنے کیلئے پیسے کہاں سے لیے ہیں میں نے جھوٹ بول دیا۔ اس وقت ہمارا گھر تین منزلہ تھا۔ درمیانی منزل کے کمرے میں ماں چارپائی بچھا کر بیٹھی ہوئی تھی۔ ماں نے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر مجھے منہ کھولنے کیلئے کہا۔ پھر میری زبان دیکھ کر فرمایا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے جس سے اس کی زبان سیاہ ہو گئی ہے پھر قریب ہی بیٹھی ہوئی میری پھوپھی زاد بہن کو آواز دے کر فرمایا کہ ذرا چولہے سے دہکتا ہوا سرخ کوئلہ لانا تاکہ میں اس کی زبان پر رکھوں ماں کی زبان سے ادا ہونے والے یہ الفاظ سنتے ہی میں رونے لگا۔ میری معصومانہ حالت کو دیکھتے ہوئے باجی رضیہ نے ماں سے سفارش کی کہ اسے معاف کر دیا جائے یہ آئندہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ تب میری جان چُھوٹی۔
چونکہ والد اپنی تمام تر توجہ حکمت، مذہبی شعار اور شاعر و ادب پر مرکوز رکھتے اس لیے وہ گھریلو معاملات سے ہمیشہ الگ ہی رہتے۔ اس حوالے سے تمام ذمہ داری ماں کے سپرد ہی تھی۔ ماں کی بھی کوشش ہوتی کہ ان کے شوہر کو گھر کے حوالے سے کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ماں نے اپنی ہمت، دانش اور بہترین منصوبہ بندی سے نہ صرف ہمارے گھر کے تمام افراد کو ہمیشہ ایک ہی چھت کے نیچے یکجا رکھا بلکہ خاندان کے دوسرے لوگوں کو بھی ہمیشہ اپنی شفقت سے نوازے رکھا۔ دوسرے لفظوں میں ماں صرف ہمارے گھر کی سربراہ نہ نہیں تھیں بلکہ ان کا اثر و رسوخ پورے خاندان پر یکساں تھا۔
خاندان کے بیشتر لوگ انہیں پھوپھی کے لقب سے پکارتے تھے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ماں مجھے سب سے زیادہ پیار کرتی تھی۔ ہر گزر درست نہیں بلکہ ان کا پیار ، شفقت اور توجہ ہر بچے کیلئے یکساں تھی۔ ہاں رات کو سونے سے پہلے ماں مجھے ایک لوری ضرور سنایا کرتی تھی جس کے بول مجھے آج بھی یاد ہیں۔
امی باجی کہتی ہیں چاند میں پریاں رہتی ہیں
بچے جب سو جاتے ہیں سہانے خواب دکھاتی ہیں
یوں ماں کی مدھر آواز میں لوری سنتا سنتا میں نیند کی آغوش میں چلا جاتا پھر جب اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے ایف ایس سی کرنے کے بعد1961ء کو بی ایس سی کرنے کیلئے گورنمنٹ کالج میں داخل ہوا تو دوران تعلیم ایک دن شعبہ کیمسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر اقبال سے ملا۔ ان سے اپنے مستقبل کے بارے میں مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا اگر تم اپنے مستبقل کو درخشاں کرنا چاہتے ہو تو ایم اے کیمسٹری یا ایم اے فزکس کر کے شعبہ تدریس سے وابستہ ہو جاؤ۔ بے شک مجھے پڑھنا پڑھانا اچھا لگتا تھا۔ لیکن اس کے لیے خطیر رقم کی ضرورت تھی۔ میں نے اپنے استاد کو ازراہ مذاق کہا کہ ایسا تووہ کر سکتا ہے جس کے والدین کے پاس دس مربع زمین ہو۔ ہمارے گھر میں توکھانے والے دس مربے دس ضرور ہوں گے، زمین والے نہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ بیالوجی میں ماسٹر کر لو۔ میں نے پوچھا اس میں کیا کرنا ہوتا ہے ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ اس شعبے میں عمر بھر پہاڑوں سے واسطہ رہے گا۔ میں نے کہا کہ مجھے ہاکنگ کا شوق ضرور ہے۔ لیکن اپنی ساری زندگی پہاڑوں کی نذر نہیں کرناچاہتا۔توپھر تم کیمیکل انجینئرنگ کر لو۔ میں نے پوچھا اس میں کیا کرنا پڑتا ہے اُستاد نے بتایا کہ اس شعبے میں گنے سے چینی اور پتھر سے سیمنٹ بنایا جاتا ہے چنانچہ کیمیکل کا شعبہ مجھے پسند آ گیا۔
جب میں نے تعلیمی میدان میں شعبہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا تو مشکل یہ پیش آئی کہ بی ایس سی کیمیکل کرنے کیلئے مجھے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ کیمیکل میں داخل ہونا تھا۔ جبکہ میں گورنمنٹ کالج میں بھی فیس جمع کروا چکا تھا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے جب میں نے پنجاب یونیورسٹی کے متعلقہ شعبے سے رجوع کیا تو انہوں نے اعتراض لگا دیا کہ کالج سے یونیورسٹی میں مائیگریشن نہیں ہوتا۔ سفارش ڈھونڈنے نکلا تو سفارش نہ ملی۔ پھر ایک خدا ترس ہیڈ کلرک کی مہربانی سے مجھے انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا۔ جس کی وجہ میں بنا۔ پہلے بی ایس سی آنر کیمیکل کا امتحان پاس کیا۔ پھر ایم ایس سی کیمیکل کی ڈگری بھی حاصل کی۔ مشکلات کے ان لمحات میں ماں کی سرپرستی ہر لمحے مجھے حاصل رہی بہن بھائیوں میں چونکہ میں سب سے چھوٹا تھا اس لیے سب سے اپنے حصے کی محبت، شفقت وصول کی۔
ملازمت کے حصول میں مجھے کبھی دلچسپی نہ تھی۔ والد سمیت تمام بھائیوں نے کاروبار میں ہی اپنی تمام توانیاں صرف کی تھیں اس لیے میری بھی پہلی ترجیح کاروبار ہی تھا۔ میں نے جب کاروبار میں عملی طور پر قدم رکھا تو بھائی آفتاب قرشی کا مطب ہی میرا ابتدائی دفتر بنا۔ والد نے اپنی زندگی میں یہ نصیحت فرمائی تھی کہ بینکنگ کے کاروبار میں چونکہ سود کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے اس لیے بینک سے سود پر قرض نہیں لینا۔
بارہا بینکوں سے قرض کے حوالے سے قابل رشک پیشکش بھی ہوئیں۔ لیکن والد سے کیے ہوئے وعدے سے انحراف کسی صورت ممکن نہ تھا۔ خدا کے فضل و کرم سے آج تک میں اس عہد پر قائم ہوں۔ ماں اکثر مجھے کہا کرتی تھی کہ تم ہمدرد کی طرح ترقی کرو گے۔ حالانکہ باقی بھائیوں نے اس حوالے سے حتی المقدور کوشش کی لیکن ترقی کے حوالے سے جو کامیابی خدائے بزرگ و برتر نے مجھے عطا فرمائیں۔ وہ یقینا ماں کی ان دعاؤں کا ہی نتیجہ تھیں۔ جو وہ اکثر میرے لیے کیا کرتی تھیں۔ پھر دل کی موذی بیماری نے ماں کو آگھیرا۔1994کو اس بیماری کے ہاتھوں ماں دنیا سے کوچ کر گئیں۔ ماں کے چہلم کے دن ہم نے ایک منفرد انداز اپنایا خاندان کے تمام لوگ اکٹھے ہو کر جی بھر کے ان کی باتیں کرتے رہے۔ جس سے دلوں کو بڑی حد تک تسکین ملی۔ میں سمجھتا ہوں ایسے لوگ بدقسمت ہیں جنہوں نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور ان کی مناسب دیکھ بھال نہ کی۔ ہماری تہذیب کلچر اور اخلاقی قدریں اس بات کی ہر گز اجاز ت نہیں دیتیں۔ مجھے ایک واقعہ یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں امریکہ سے پاکستان واپس آ رہا تھا۔
اسی جہاز میں ستر پچھتر سال کے بوڑھے مرد اور عورتیں بھی خاصی تعداد میں موجود تھیں یہ عمر رسیدہ لوگ دنیا کے خیر سگالی دورے پر نکلے ہوئے تھے۔ ایک عمر رسیدہ انگریز عورت میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھی ہوئی تھی۔ دوران گفتگو اس نے بتایا کہ اس کا شوہر مر چکا ہے وہ موٹر گاڑی کے پیچھے لگئے ہوئے خالی ڈبے (چھکڑے) میں رہتی ہے۔ اس کی ایک بیٹی اور بیٹا بھی ہے جو سال میں ایک دو مرتبہ اس کیلئے کوئی تحفہ بھجوا دیتے ہیں۔ اس طرح اس کی زندگی گزر رہی ہے۔ پھرا س عمررسیدہ خاتون نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے ہاں عمر رسیدہ لوگوں سے کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اور وہ بڑھاپا کیسے گزارتے ہیں میں نے اسے بتایا کہ ہمارے ہاں عمر رسیدہ عورت ہو یا مرد وہی خاندان کا سربراہ کہلاتا ہے۔ پوتے، پوتیوں، نواسے اور نواسیوں کی تربیت اور نگہداشت کا فریضہ وہی انجام دیتا ہے۔ شادی بیاہ سمیت خاندان کے بنیادی فیصلے انہی کی مرضی اور منشاء سے کیے جاتے ہیں۔ خاندان کا بزرگ، بچوں کی شکایتوں کا ازالہ کرتے ہیں حتیٰ کہ خاندان میں مرکزی کردار بزرگوں کا ہی ہوتا ہے۔
میری باتیں سن کر بوڑھی انگریز عورت نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا کہ پاکستان میں اولڈ پیپلز ہوم نہیں ہیں میں نے کہا ہرگز نہیں کیونکہ ہمارے مشرقی معاشرے میں بزرگوں کو خاندان کے لیے باعث رحمت اور برکت خیال کیا جاتا ہے۔ بلکہ ان کی دعائیں ہی چھوٹوں کے لیے سرمایہ حیات بنتی ہیں۔میری یہ باتیں سن کر انگریز عمر رسیدہ خاتون کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے گلو گیر لہجے میں کہا ’’’ مجھے خوشی ہوتی اگر میں پاکستان میں پیدا ہوتی‘‘۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ والدین کی دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے کہ جس ادارے کی بنیاد میرے والد گرامی شفائے الملک حکیم محمد حسن قرشی نے1920میں اپنے دست مبارک سے رکھی تھی۔ میں نے خدا کے فضل و کرم سے اسے ترقی کی نئی منزلوں سے آشنا کر دیاہے۔ پاکستان اور پاکستان سے باہر خالص اور مؤثر ادویات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کیلئے قرشی انڈسٹریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کمپنی کی بنیاد رکھی گئی پھر حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک نئی فیکٹری پچاس ایکڑ پر مشتمل قائم کی۔ جہاں آلودگی سے پاک ماحول میں اشیاء کی تیاری ہوتی ہے۔ یہاں ہر بل گارڈن کے ساتھ ساتھ ایک ہزار سے زائد افراد مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے ہیں۔یہاں بین الاقوامی معیار کی ایک ریسرچ لیبارٹری بھی قائم کی گئی جس کا الحاق ملکی اور غیر ملکی بہترین لیبارٹریز سے ہے ۔ہم نے ایک منفرد کام یہ بھی کیا کہ اپنی مصنوعات کی پیکنگ نہ صرف عالمی معیار کے مطابق کی بلکہ ہر پیکنگ پر انہی اجزاء کی تفصیل لکھ دی تاکہ استعمال کرنے والے کو علم ہو کہ وہ ٹانک ‘ دوائی یا شربت استعمال کر رہا ہے۔ اس میں کون کونسے اجزاء شامل ہیں۔ اس طرح ہم نے حکمت کو سینوں میں دفن کرنے کی بجائے ہر اس شخص تک پہنچا دیا ہے جو اس سے اپنی صوابدید کے مطابق استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کیساتھ ہمارے پیش نظر طیبی دواخانہ ، حکیم اجمل خاں اشرف لیبارٹریز اور ہمدرد جیسے اعلیٰ طح کے ادارے بھی تھے ہمیں اپنے معیار کو بہتر بنا کر ان کے برابر لانا تھا بلکہ ہربل میڈیسن میں تحقیق کو مزید آگے بڑھانا تھا۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ہم نے تمام ٹارگٹ بخیرو خوبی حاصل کر لیے ہیں۔
خدا کے فضل و کرم سے قرشی انڈسٹریز وہ واحد ادارہ ہے جس نے یکے بعد دیگرے ISO 9001(کوالٹی مینجمنٹ سسٹم)ISO 14001 (ماحولیاتی مینجمٹ سسٹم)HACCP (غذائی معیار کی ضمانت کا نظامNorway)ISO 17025-PANAC (مصنوعات کے سائنسی تجزئیے کا نظام ا ور Organiz Certification جیسے چھ بین الاقوامی سرٹیفکیٹاور اعزازات حاصل کر رکھے ہیں۔
علاوہ ازیں قرشی انڈسٹریز میں دو سو سے زیادہ مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ جبکہ جام شیریں اور جوہر جوشاندہ مارکیٹ لیڈر ہیں۔
قرشی وژن 2005کے تحت قرشی انڈسٹریز نے معیار‘ مقدار‘ افرادی قوت؍ نظام میں مسلسل بہتری‘ نیشنل و انٹر نیشنل مارکیٹنگ اور سماجی خدمات جیسے شعبہ جات میں مطلوبہ ٹارگٹ کامیابی سے حاصل کیے ہیں۔
خدا کی دی ہوئی توفیق سے میں نے اپنی عظیم ماں ’’ بلقیس بیگم‘‘ کی سرپرستی میں 1994میں قرشی فاؤنڈیشن کے نام سے ایک سماجی فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اس فاؤنڈیشن کے تحت صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تیزی سے کام جاری ہے۔
عوام کو طبی سہولتیں بہم پہنچانے کیلئے اس وقت لاہور میں 21ڈسپنسریاں کام کر رہی ہیں۔2010تک ان کی تعداد200تک بڑھانے کا عزم ہے۔ ناروال روڈ پر زچہ و بچہ صحت مرکز بھی کام کر رہا ہے جہاں پانچ بیڈ پر مشتمل وارڈ۔ لیبر روم اور ایک ایمبولینس کی سہولت موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں خصوصی وارڈ قائم کیے گئے ہیں بلوچستان ’’سبی‘‘ میں خطیر رقم سے واٹر سپلائی پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا صاف پانی کے اس منصوبے سے29دیہاتوں کے پچاس ہزار افراد استفادہ کر تے ہیں۔ جہاں تک شعبہ تعلیم کا تعلق ہے 12ایکڑ پر مشتمل مرید کے ماڈل کمپلیکس کے علاوہ قرشی انسٹیٹیوٹ فار طب اینڈ ہربل میڈیسن قائم کئے گئے۔ اس ادارے میں ماہر ڈاکٹر اطباء، سائنس دان ‘ نو آموز اطبا کو جدید عصری تقاضوں کے مطابق زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔ یہاں سیمینار کے علاوہ شارٹ کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ کمپیوٹر ٹریننگ سینٹرز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جہاں سینکڑوں طلبا و طالبات کمپیوٹر کی جدید تعلیم‘ فن اور تکنیک سے آراستہ ہو رہی ہیں۔
میں سمجھتا ہوں یہ سب کچھ ماں کی بہترین تربیت ‘دعاؤں اور والد گرامی شفائے الملک حکیم محمد حسن قرشی کی راہنمائی ہی کا نتیجہ ہے۔ کہ آج قرشی انڈسٹریز کا نام نہ صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان سے باہر بھی ہربل میڈیسن کے حوالے سے بڑے ادب اور احترام سے لی اجاتا ہے نئی اور آنے والی نسلوں کیلئے تو میرا یہی پیغام ہے کہ اگر انہوں نے اپنے شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کرنی ہے تو اپنے والدین بالخصوص ماں کو رول ماڈل بنا کر ان کی تقلید کریں۔ یہی راستے کامیابی اور منزل کی طرف جاتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280054 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jan, 2019 Views: 401

Comments

آپ کی رائے