ملک میں سیاسی جنگ وفاق یا صوبہ بچے گا کوئی بھی نہیں ۔

(Rao Imran Suleman, )

چونکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف نیب اور مختلف تحقیقاتی اداررے سرگرمی سے ان کے خلاف شواہد کی تلاش میں سرکرداں ہیں اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ جلدہی یہ تمام لوگ جیل میں ہونگے دوسری جانب نوازشریف ان کے بھائی شہبازشریف اور ان کے خاندان سمیت پارٹی کے بہت سے سینئر رہنمابھی احتساب کی ذد میں ہیں جبکہ نوازشریف جیل میں اور شہبازشریف بھی گرفتار ہیں اس ساری صورتحال میں پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن کی ساری مشکلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چیئرمین سینٹ کے خلاف سینٹ میں تحریک عدم اعتماد لانے کا سوچ رہی ہے اور ایک زرائع کے مطابق اس سلسلے میں انہوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت سے رابطہ بھی قائم کرلیا ہے اب بات یہ سوچنے والی ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے سیاسی بحران اور ان کے قائدین کی گرفتاریوں کا چیئرمین سینٹ کی نشست سے کیا تعلق ہوسکتاہے ۔؟تو ایک پرانی کہاوت ہے کہ دشمن کو چوٹ وہاں مارو جہاں درد ہو،کیونکہ ان کی نظر میں جو کچھ سندھ میں ہورہاہے اس میں پی ٹی آئی کی بجائے ان کے خلاف کچھ نادیدہ قوتیں سرگرم ہیں اوروہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو انہوں نے چیئرمین سینٹ کے لیے اگر ان نادیدہ قوتوں کا ساتھ دیا ہے تو اب اس داغ کو دھولینا چاہیے ، اس عمل کو اپنے اردگرد دباؤ کو کم کرنے کاایک فارمولہ سمجھ لیا جائے یا حربہ دونوں ہی صورتوں میں اس کی اصل کنڈیشن کو آنے والا وقت ہی بتائے گاکہ آگے چل کرکیا ہوگا؟ مگر یہ طے ہے کہ اس امر کا پی ٹی آئی کی حکومت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے کیونکہ ان کی سینٹ میں سیٹیں ہی بہت محدود ہیں جبکہ اپوزیشن میں مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی ،بی این پی مینگل ،جمیت علماء اسلام اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے کل ملاکر اتنے نمبر ہیں کہ چیئرمین سینٹ کے خلاف یہ تحریک اٹھی تو 100فیصد کامیابی کے امکانات ہیں ۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن یہ سمجھتی ہے کہ ان کے خلاف جو کچھ ہورہاہے وہ پی ٹی آئی والے نہیں کررہے ہیں بلکہ کوئی اور ہی کررہاہے اور چیئرمین سینٹ بھی ان ہی کا لگایاہواہے،اس لیے یہ بے وقت کی راگنی لگادی گئی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کو شاید سمجھ میں نہ آئے مگر یہ طے ہے کہ ان دونوں جماعتوں کو ضرور سمجھ میں آرہی ہے،چند روز قبل بلاول بھٹو کا یہ بیان دیکھنے کو ملا کہ آصف زرداری کہیں تو حکومت کو جب چاہیں گرادینگے اور عمران خان جیل میں ہونگے وہ یہ ہی معاملہ ہے کہ تمام پی پی رہنما چیئرمین سینٹ کو رخصت کرکے اسمبلیوں سے استعفیٰ دیدیں اور اسکے بعد الیکشن کرواکرحکومت بنائیں اور کسی نہ کسی الزام میں عمران خان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جائے یہ بات کچھ اس طرح ہے تو پھر ٹھیک ہے وگرنہ بلاول ہی اس کی اصل تشریح کرسکتے ہیں ۔فی الحال یہ طے ہے کہ پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن کی مشکلات پر اپنے تجربات کررہی ہے یعنی پی پی یہ چاہتی ہے کہ ہمیں ایسی صورتحال سے نہ گزرنا پڑے جس سے مسلم لیگ ن کی قیادت گزرچکی ہے وہ جیلوں میں جانے اور عدالتوں کے چکر نہیں لگانا چاہتے اور ساری صورتحال سے بچنے کے لیے یہ فارمولہ اپنایا جا رہاہے کہ احتساب کرنے والے اداروں پر دباؤبڑھایاجائے تاکہ وہ اپنے کسی بھی منصوبے سے باز رہیں اور چیئرمین سینٹ کو ہٹانا بھی اسی بات کی کڑی ہے اب ہم آتے ہیں دوسری جانب سندھ میں کیا ہورہاہے اور پی ٹی آئی کی اچھل کود کیا ہے اور کیا واقعی پی ٹی آئی سندھ حکومت بنانے جارہی ہے ؟ یا پھر سندھ میں گورنر راج قائم ہوسکتاہے جہاں تک پی ٹی آئی کی جانب سے سندھ میں حکومت بنانے کی بات ہے وہ بلکل بلاول بھٹو کے ٹویٹ کی طرح ہیں کہ آصف زرداری کہیں تو عمران خان جیل میں ہونگے ،یعنی انوکھی بات ! پی ٹی آئی کا یہ اگر دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ پی پی کے درجنوں ایم پی اے ساتھ چلنے کو تیار ہیں اگر یہ بات درست بھی ہے تو پی ٹی آئی نے ایک بہت بڑی غلطی یہ کی ہے کہ وقت سے پہلے ہی اس قدر شور مچادیاگیاہے کہ جن کی چوری ہونی ہے انہوں نے اپنے اپنے پہرے بڑھادیئے ہیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی رسم چل پڑی ہے یعنی جہاں سندھ حکومت کو کچھ ہواوہاں ساتھ ہی وفاقی حکومت کے پاؤں کے نیچے سے بھی زمین کو کھینچ لیا جائے و۔زیراعظم عمران خان صاحب کے ساتھ بھلے ہی اس ملک کی قوم کا ساتھ میسر ہو مگر انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سیاست کی شطرنج میں جو مہرے پی پی اور نوازلیگ کے پاس ہیں وہ ان کی چالوں سے بہت تیز ہیں اور دوسری جانب یہ بات بھی پلے باندھ لینا ہوگی کہ ٹی ٹونٹی میچ کا کھلاڑی پچ پر زیادہ دیر ٹکتا بھی نہیں ہے ایک بات یہ بھی درست ہے کہ کبھی کبھی شہ سوار گھوڑوں سے گر بھی جاتے ہیں اور کبھی شطرنج کی چالیں بھی الٹی ہوجاتی ہیں ان تمام تر صورتحال میں نتیجہ یہ برآمد ہوتاہے کہ نقصان مارنے والے اور مرنے والے دونوں کو ہو نہ ہو مگر اس بحرانی کیفیت سے عوام کا جو حال ہورہاہے اسے یہ تحریر پڑھنے والا اپنی زاتی مشکلات سے اندازہ لگاسکتاہے ، خیرآگے بڑھتے ہیں پی پی کے پاس جو چالیں ہیں ان میں ایک سندھ کا رڈ ہے اور پاکستان کھپے اور نہ کھپے کا نعرہ ۔ جس کا فائدہ وہ پہلے بھی اٹھاچکے ہیں اور ا ب مزید بھی اٹھایا جاسکتاہے آصف زرداری کی مسکراہٹ بتاتی ہے کہ جیسے وہ کہہ رہے ہوکہ ہم تو ڈوبیں گے صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے ، مجھے اچھی طرح یادہے جب محترمہ بے نظیر کی شہادت ہوئی اس وقت بے نظیر کے انتقال کے فوری بعد لاڑکانہ میں کچھ لوگوں نے جوش میں آکر پاکستان نہ کھپے کا نعرہ لگایا تھا ان نعرہ لگانے والوں میں کچھ پی پی کے بڑے رہنما بھی شامل تھے اور اس سے قبل کے حالات کچھ کشیدہ ہوتے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگادیاتھااور وہ کئی سال گزرنے کے باوجود بہت سے مقامات پر یہ دہرابھی چکے ہیں کہ پاکستان کھپے کا نعرہ انہوں نے لگوایا تھا، یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس نعرے سے 2008میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بھی بنائی اور اس ملک کے صدر بھی بنے ،مگر شاید اب ایسا نہ ہو کیونکہ وہ لمحات محترمہ بے نظیر کی شہادت کے تھے جس کا اثر اب زائل ہوچکاہے۔اب آجاتے ہیں سندھ میں پی ٹی آئی کی حکومت سازی یا گورنرراج کی جانب کہ کس طرح سے یہ ممکن ہوگا فی الحال حکومت بنانے کا معاملہ میرے سیاسی ادراک سے کوسوں دور ہے اور جہاں تک گورنر راج کا تعلق ہے اس کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جب پیپلزپارٹی کی تمام چالیں اور حربے ناکام ہوگئے تو پی پی رہنماؤں کی گرفتاریوں میں جو سیاسی بھونچال پیدا ہوگا اس کا ساتھ دینے میں جہاں پی پی کے جیالے ہونگے وہاں سندھ حکومت خود بھی پیش پیش ہوگی اس بحرانی کیفیت میں وفاق سندھ میں گورنر راج کا نفاز قائم کرسکتا ہے مگر جو وفاق کی سب سے بڑی غلطی ہے وہ یہ ہے کہ وہ بچہ پید اہونے سے پہلے ہی بتادیتے ہیں کہ لڑکا ہوگا یا لڑکی جس سے ان کی سیاسی مشکلات خود ان کی ہی کی وجہ سے بڑھ رہی ہے یعنی جہاں سندھ میں سندھ حکومت کی تبدیلی کاشور مچا وہاں وفاقی رہنماؤں کی جانب سے بریکنگ نیوز کی جنگ نے بھی وفاق کی مشکلات کو بڑھارکھاہے اور کہیں یہ نہ ہوکہ سندھ حکومت کوگرانے کے شوق میں پی ٹی آئی کی حکومت اپنی ہی بریکنگ نیوز کے بوجھ تلے دب کر گرجائے ۔ آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Imran Suleman

Read More Articles by Rao Imran Suleman: 17 Articles with 11150 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jan, 2019 Views: 420

Comments

آپ کی رائے