جوانی نیند بھرسویا .... بڑھاپا دیکھ کر رویا ؟

(Aslam Lodhi, Lahore)

" بچپن کھیل کر کھویا‘ جوانی نیند بھر سویا ‘ بڑھاپادیکھ کر رویا " محمد رفیع کا گایا ہوا یہ نغمہ ہم بچپن ہی سے سنتے چلے آرہے ہیں ۔یہ گیت کس شاعر نے لکھا اس کانام تو یادنہیں ‘ لیکن اس گانے کے بول اب تک ذہن میں محفوظ ہیں۔اس نغمے کی حقیقت اس وقت مجھ پر عیاں ہوئی جب میں خود بڑھاپے کی دہلیز پرآ کھڑا ہوں ۔ میرے وہ تمام جسمانی اعضا جن پر کبھی مجھے ناز ہوا کرتا تھا ‘ بار ی باری سب دھوکہ دیتے جارہے ہیں ۔کبھی وہ وقت بھی تھاکہ سردیوں کے موسم میں جب گھاس پر برف جمتی تو ہم اس برف کے ٹکڑوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے بلکہ اسی برف کو ایک دوسرے پر پھینک کر دل خوش کیا کرتے تھے ۔اب گھاس پر برف نہیں جمتی پھر بھی ہماری قلفی جمی رہتی ہے ۔آج سے 45 سال پہلے کی بات ہے ‘ سردی کی شدت سے بے نیاز گرم گرم بستر سے نکل کر اذان کے وقت ہم ریلوے یارڈ کی جانب دوڑ لگا رہے ہوتے جہاں کوئلے کے ڈھیر موجود ہوتے ۔یہ وہ وقت تھا جب سوئی گیس کاتصور بھی نہیں تھا ۔فیکٹریوں ‘ہوٹلوں اور گھروں میں لکڑیاں یا کوئلہ ہی جلانے کا رواج تھا ۔ بلوچستان سے ریل کے ڈبوں میں بھر کر کوئلہ لایاجاتا ۔لاہور کینٹ کے یارڈ میں اس کوئلے کو اتارا جاتا پھر وہاں سے ٹرکوں اور ٹرالیوں کے ذریعے منزل مقصود پرپہنچایا جاتا ۔کوئلہ اٹھنے کے بعد نیچے جو کیری بچتی وہ ہم جھاڑو سے اکٹھی کرکے بوریوں میں بھرکر گھر لے آتے ۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد ہم ٹھنڈے پانی سے نہاکر سکول چلے جاتے ‘ کبھی سردی کواپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا ۔ ہاں والدہ ہمیں سردی سے بچانے کے لیے دو دو قمیض اور باندر ٹوپہ پہنا دیتیں ۔ یاد بھی نہیں کہ کبھی سردی نے ہمیں ڈرایا ہو ۔لیکن اب سردی ابھی گوجرانوالہ ہوتی ہے اور میں لاہور میں کانپنے لگتا ہوں ۔ واش روم جانابھی ایک خوفناک خواب بنتا جارہا ہے ۔

سکول سے واپسی پر ایک بار پھر ماں کا حکم ہوتا کہ روٹی کھاؤ اور جاکر اپنے والد کا ہاتھ بٹاؤ۔یادرہے کہ والد صاحب ریلوے میں ملازم تھے جن کی تنخواہ اتنی کم تھی ‘کہ گزارا نہیں ہوتا تھا‘ چنانچہ آمدن میں اضافے کے لیے لکڑیوں سے بھرے ریل کے ڈبے اتارنے شروع کردیئے ۔ایک ڈبے میں کم ازکم پانچ سو من لکڑیاں توہوں گی جبکہ پورا ڈبہ خالی کرنے پر صرف 3 روپے مزدوری ملتی تھی۔ یہی تین روپے ہماری تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے کام آتے ۔ والدصاحب او ر دو بڑے بھائی لکڑیاں اتارنے کا کام شروع کردیتے ۔ سکول سے واپسی پر میں بھی وہاں پہنچ جاتاجہاں لکڑیاں اتارنے کا کام جاری ہوتا ۔ہم تینوں بھائی‘ والد کے ساتھ مل کر شام تک بمشکل ایک ڈبہ خالی کرتے اور خوشی خوشی 3 روپے جیب میں ڈال کر گھر چلے آتے ۔ ہفتے میں سات دن یہی روٹین جاری رہتا ۔ ان دنوں بھی اتوار کی چھٹی ہوا کرتی تھی تو چھٹی والے دن آرام کرنے کی بجائے لکڑیاں پھاڑنا ہمارا کام تھا ۔ایک جانب کہلاڑا پکڑ کر میرا بڑا بھائی (اکرم ) کھڑا ہوتا تو دوسری جانب میں۔ کبھی وہ بھاری بھرکم لکڑی پر ضرب لگاتا ‘اس کے بعد کہلاڑا مارنے کی باری میری ہوتی۔اس طرح کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد ہم دو تین من لکڑیاں پھاڑ ہی لیتے ۔ جسے والدہ بہت احتیاط کے ساتھ گھر کے اس کونے میں محفوظ کرلیتی۔ جہاں بارش کے دوران چھت نہیں ٹپکتی تھی ۔ سوکھی ہوئی یہ لکڑیاں بطور خاص موسم برسات میں کام آتیں ۔ ملازمت ملنے تک یہی روٹین جاری رہی۔

کوارٹر وں کے پیچھے کچھ جگہ خالی تھی وہاں ایک کمرہ تعمیر کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ قریبی جوہڑ سے ہم مٹی نکال کر لاتے اور والد صاحب اس مٹی سے دیواریں اٹھانے کا کام کرتے ۔ جب دیواریں اٹھ گئیں توچھت ڈالنے کا مرحلہ درپیش ہوا ۔ جب چھت کی تیاری مکمل ہوگئی تو مٹی ڈالنے کامرحلہ درپیش ہوا۔ ایک ٹرالی مٹی کی منگوائی گئی ۔والد صاحب یہ حکم دے کرڈیوٹی پر چل دیئے کہ شام تک یہ مٹی کمرے کی چھت پر ڈالنے کاکام اسلم ( میں)کرے گا ۔ اﷲ تعالی کے فضل سے اس وقت میں اتناطاقت ور تھا کہ بانس کی بنی ہوئی سیڑھی کو چھت سے لگایا اور شام ہونے سے پہلے ٹرالی کی مٹی چھت پر پہنچا دی ۔شام ڈھلے جب والد صاحب گھر آئے تو وہ دیکھ کر خوش ہوئے ۔ایک مزدورکی مزدوری تو بچی ۔ وہ بھی کیا وقت تھا جب کوئی بھی مشکل سے مشکل کام بھی میرے لیے مسئلہ نہیں بنتا۔ اب جبکہ میں 64 سال کی عمر کو پہنچ چکا ہو تو پانچ سات کلو کا وزن اٹھا کر گھر لانے اور سیڑھیاں چڑھنا محال ہوچکا ہے ۔

مسجد ‘گھر سے( جو بمشکل 200 گز دور ہوگی) وہاں تک پیدل جانا مشکل ہوچکا ‘کبھی بایاں گھٹنا چلنے سے انکار کردیتا تو کبھی جسم چلنے سے انکاری ہوجاتاہے ۔اس لیے باامر مجبور ی بائیک پر سوار کر مسجد جانا پڑتا ہے۔ جوانی میں پیدل چلنے اور دوڑ لگانے میں میرا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ سودا لانے کے لیے دن میں کتنی بار مجھے بازار جانا پڑتا جو گھر سے ایک کلومیٹر تودورہوگا۔ پھر کرکٹ کھیلنے کا جنون بھی مجھ پر اس قدر طاری تھا۔ زندگی کے 35 سال کرکٹ کی نذر کردیئے ۔پہلے ریلوے کوارٹروں کی ٹیم میں شامل تھا پھر جب PIDB میں ملازمت ملی تو 18 سال وہاں بھی کرکٹ ٹیم کا کھلاڑی اور کپتان رہا ۔ایک جنون تھا تو صحت مند سرگرمیوں میں لینے کے لیے مجھے اکساتی تھیں ۔اس کے برعکس اب یہ حال ہے
کہ کسی غمی و خوشی میں شامل ہونے کے لیے چلا جاؤں تو واپسی پر کتنے ہی گھنٹے جسمانی طور پر نڈھال رہتا ہوں۔ شاز ملک پیرس سے لاہور آئیں ان کی کتاب کی رونمائی میرے گھر سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر قذافی سٹیڈیم کے قریب ایک لائبریری میں تھی اس کااصرار تھا کہ میں ضرور اس فنکشن کواٹنڈکروں ۔میں نے اپنی جسمانی کیفیت سے آگاہ کیالیکن اس کااصرار جاری رہا ۔دو گھنٹے فنکشن میں رہنے کے بعد جب میں گھر پہنچا تو یوں محسوس ہوا کہ میلوں کی مسافت پیدل طے کرکے آیا ہوں ۔ دو دن تک بستر سے نہیں اٹھ سکا ۔ میرا بہت ہی پیار ا دوست افتخار مجاز ان دنوں پہلے فالج اور بعد میں دل کے شدید عارضے میں مبتلا ہے ‘ دل چاہتا ہے اس کی عیادت کے لیے جاؤں لیکن گھر سے پاؤں نکالتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ واپسی پر جو مجھ پر کیفیت طاری ہوگی اس کے تصور سے ہی کانپ جاتا ہوں۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ عمر کے اس مقام پر جوانی کی تمام علامتیں اختتام پذیر ہوچکی ہیں اور خوفناک بڑھاپا مجھ سے دن بدن زیادہ شدت سے طاری ہوتاجارہا ہے ۔ زندگی کا چراغ ٹمٹا تو رہا ہے لیکن اس کی لو میں خطرے کی حدتک کمزور ہوتی جارہی ہے ‘ معمولی سے تیز ہوا بھی اسے بجھا سکتی ہے ۔ شاید یہی نظام قدرت ہے ۔سدا رہنے والی ذات اﷲ کی ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔

اﷲ تعالی نے جوانی عطا کی تھی تو بے مثال عطا کی۔ جس کا میں بھر پور فائدہ بھی اٹھتا رہا ۔ پھر جب مکہ کالونی گلبرگ تھرڈ لاہور میں نیاگھر تعمیر کرنے کا مرحلہ آیا تو مستری کے ساتھ مزدور کا کام کرنا میں نے خود ہی قبول کرلیا ۔کچھ آسودگی حاصل ہوئی تو دو مزدور بھی لگا لیے لیکن تھکاوٹ کبھی محسوس نہیں ہوئی ۔ اپنے گھر تو نلکا نہیں تھا ۔ہمسائے کے گھر میں نصف ہینڈپمپ سے پانی نکال کر بغیر چھت والے غسل خانے میں سردیاں اور گرمیاں نہاتے رہے ‘زبان پر کبھی شکوہ نہیں آیا ۔اب نئے گھر کا واش روم چھت والا ہے اور اس میں تمام ضروری سہولتیں میسر ہیں پھر واش روم میں جاتے ہوئے خوف آتا ہے ۔

جن دنوں ہم مکہ کالونی میں رہائش پذیر تھے ‘ گیس کا کنکشن تو موجود تھا لیکن گیس ناپید تھی ۔وہاں بطور خاص سردیوں کا موسم بہت ہی اذیت ناک گزرتا ۔ دردیوار اور بستر سب برف جیسے ٹھنڈے محسوس ہوتے ۔وہاں تازہ پانی میسر نہیں تھا رات دو تین بجے اٹھ کر موٹر کے ذریعے ٹینکی بھرنی پڑتی ‘ جس دن آنکھ نہ کھلتی اس نے دو فرلانگ دور سے جاکر پانی بھر کر لانا پڑتا ۔ چھت پر بنی ٹینکی کا پانی سردیوں میں کیساہوگا اس کا تصور کرکے ہی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں ۔اتنے ٹھنڈے پانی میں نہانا تو درکنار منہ دھونا بھی محال تھا ۔ کئی مرتبہ یہ کام بھی میں بنک جاکر ہی کرتا ۔ ایک نمازجمعہ نہائے بغیر ہی مجھے پڑھنی پڑی ۔آج بھی جن علاقوں میں گیس نہیں آتی وہ کے بزرگ لوگ سخت پریشان ہوں گے لیکن حکمرانوں اس سے کیا ۔ان کے ہاں تو گیس اور بجلی بلا تعطل آتی ہوگی۔

جب تک میں بنک میں رہتا تو زندگی پرسکون رہتی ۔ لیکن گھر میں دوچھٹیاں گزارنا محال ہوجاتا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی اس علاقے کو چھوڑنا پڑا ۔ اب بھی سردی سے کانپتا ہوا جب میں نماز فجرکی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچتا ہوں تو وہاں مجھے ایک بابا (جس کا نام محمد شریف ہے) کچھ اس حالت میں دکھائی دیتا ہے کہ میں حیران رہ جاتا ہوں ۔ باریک سی چادر سے باندھی ہوتی ہے جو گھٹنوں سے کچھ نیچے ہوتی ہے ۔آدھی ٹانگیں ننگی ہوتی ہیں اس بابا کی عمر ماشاء اﷲ 80 سال ہے ‘ سر پر اس نے کپڑا باندھا اور جسم کو گرم چادر سے ڈھانپا ہوتا ہے۔نہ پاؤں میں کوئی جراب اور ٹانگوں کو سردیوں سے بچانے کے لیے کوئی گرم پاجامہ زیب تن کیا ہوتا ۔اس کے برعکس میں نے دو جرابیں ‘ گرم پاجامہ شلوار کے نیچے ‘ دو جرسیاں قمیض کے اندر اور باہر اس پر بھی گرم چادر سے جسم لپیٹا ہوتا ہے جبکہ سر پر گرم پشاوری ٹوپی ہوتی ہے ۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود سردی پھر بھی جسم میں گھستی دکھائی دیتی ہے ۔

ایک دن میں نے اس بابے سے پوچھ ہی لیاکہ آپ کو سردی نہیں لگتی ۔اس نے جواب دیا مجھے پاؤں اور ٹانگوں میں سردی نہیں لگتی ۔میں توسردی میں بھی ٹھنڈے پانی سے نہا بھی لیتا ہوں ۔ اﷲ ہی جانتا ہے وہ بابا کیا کھاتا ہے بظاہر تو وہ دکان پر بیٹھ کر حقہ ہی پیتا دکھائی دیتا ہے ۔اب یہ طاقت حقے سے ملتی ہے یا کسی اور چیز سے میں اس بات سے بے بہرہ ہوں ۔گھر گھر دودھ فروخت کرنے والوں کا لباس بھی بابا شریف جتنا ہی ہوتا ہے وہ علی الصبح گاؤں سے دودھ لے کر موٹرسائیکل پر سوار ہوکر نکلتے ہیں اور آدھے لاہور کاچکر لگا کر واپس جاتے ہیں ‘شاید ان کے نچلے حصے کوبھی سردی نہیں لگتی ۔میں نے کسی دودھی کے پاؤں جراب نہیں دیکھی اور نہ ہی کسی کی ٹانگوں پر کپڑا دکھائی دیتا ہے ۔

اسلم آرائیں میرے کلاس فیلو ہیں ہم اکٹھے سکول میں پڑھتے رہے ‘ پھر ایسے بچھڑے کہ سیاہ بال سفید ہوگئے لیکن قدرت نے زندگی کے آخری پہر ہمیں ایک بار پھر ملا دیا ہے ۔وہ بے حد مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ‘ وہ سنتے سب کی ہیں لیکن اپنی دل میں ہی رکھتے ہیں۔ سکول سے نکل کر بڑھاپے کی دہلیز پر کیسے پہنچے یہ امر ہم سب پر ابھی تک مخفی ہے ۔وہ میرا خیال بھی رکھتے ہیں اور کھلاتے پلاتے بھی رہتے ہیں تاکہ میں جوان اور توانا ہوجاؤں ۔‘ انہوں نے واٹس اپ پر ایک ویڈیو بھیجی جس میں ایک دیہاتی بوڑھا تیز رفتار موٹرسائیکل پر الٹے پلٹے کرتب دکھا رہا تھا کبھی وہ ہینڈل چھوڑ کر بائیک پر کھڑا ہوجاتا تو کبھی اپنا رخ پچھلی جانب کرلیتا لیکن ان کرتبوں کے دوران بائیک کی رفتار کم نہیں ہوئی ۔ اس ویڈیو کے نیچے لکھا تھا "آپ بھی کسی سے کم نہیں ہیں "۔میں نے جواب دیا اب تو دونوں ہاتھوں سے ہینڈل کو تھام کربھی بائیک چلانا مشکل ہوتا جارہا ہے کیونکہ قوت سماعت میں خرابی کے باعث اکثر چکر آنے لگتے ہیں کبھی آنکھوں سے بہنے والا پانی منظر کو دھندلا دیتا ہے۔ ہمارے محبوب امام قاری محمد اقبال صاحب ( جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور میں ان سے بھی دوگنی محبت کرتا ہوں ) ایک دن میں نے ان سے کہا قاری صاحب بڑھاپا بہت ظلم چیز ہے ۔ میری بات سن کروہ مسکرائے اور کہا لودھی صاحب ابھی تو ہم جوان ہیں -

جب بوڑھے ہوں گے ‘پھر دیکھیں گے ‘ ابھی ہم بڑھاپے کے مسائل سے بے نیاز ہیں۔وہ جس مسجد کے امام ہیں اس مسجد کا شمالی حصہ بابوں سے ہی بھرا رہتا ہے ایک دن انہوں نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہیں اس مسجد کا نام "بابوں والی مسجد " نہ پڑ جائے۔

دن ‘ مہینے ‘ سال گزرتے جارہے ہیں ۔پہلے گھٹنوں نے جواب دے دیا ‘ پھر قوت سماعت گئی ‘ پیشاب میں رکاوٹ اور پروسٹیٹ کے آپریشن کی تکالیف برداشت کرنی پڑیں ‘ بواسیر کا آپریشن الگ ہوا ۔ قبض اندرونی نظام کو مسلسل جکڑتی جارہی ہے ‘ سفید موتیے کی وجہ سے باری باری دونوں آنکھوں کا آپریشن کروانا پڑا ۔ ہلمٹ پہنوں تو کچھ سنائی نہیں دیتا اگر ہلمٹ نہ پہنوں تو آنکھوں سے آبشار کی طرح پانی بہنے لگتا ہے ۔بلڈ پریشر نے بھی سراٹھانا شروع کردیا ہے ۔ ایک گھٹنے کا آپریشن کروایا تو واش روم کا مسئلہ پیداہوگیا ‘ عام گھروں میں کموڈ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے غمی و خوشی میں جانا بھی مشکل ہوچکا ہے ۔ زیادہ دیر کھڑا رہنا ناممکن ‘ نماز کرسی پر بیٹھ کے ادا کرتا ہوں ۔ کچھ نہ بھی کروں تو جسم نڈھال ہوجاتاہے ۔یہ سب کچھ بتانے کا مقصدہے کہ بچپن کھیل میں کھایا ‘ جوانی نیند بھر سویا اور بڑھاپا دیکھ کر رویا ۔ محمد رفیع کے گانے کا ہر ہر لفظ اب سچ ثابت ہورہا ہے ۔ جوانی ایک خواب کی طرح گزر چکی ہے ‘ بڑھاپا جسم کے ہر اعضا سے عیاں ہورہا ہے ۔چال میں کافی مستی پیدا ہوچکی ہے ۔بے بسی کا عالم طوفان اٹھا رہا ہے ۔اپنے اور بیگانوں کے تلخ رویے تکلیف دیتے ہیں۔ جن کوسہارا بننا چاہیئے تھا وہ مصروفیت کی چادر اوڑھ کر اپنے اپنے گھروں تک محدود ہوچکے ہیں جو بچے ہیں وہ پہلو بچا کر قریب سے گزر جاتے ہیں ۔ میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ لوگ دولت کو زندگی کی خوشی سمجھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں زندگی کی حقیقی خوشیاں صحت ہے ۔ اچھی صحت انسان کے لیے قدرت کا سب سے قیمتی تحفہ ہے جو لوگ صحت کی قدر نہیں کرتے زندگی ان کے لیے پچھتاوا بن جاتی ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہاہے کہ بیماری آنے سے پہلے صحت کی قدر کرو ‘ غربت آنے سے پہلے خوشحالی کی قدر کرو اورموت آنے سے پہلے زندگی کی قدر کرو ۔ میں اﷲ تعالی کا بے حد شکور گزار ہوں کہ اس نے زندگی کی ہر آزمائش میں سرخرو کیا اور ہر موذی بیماری سے محفوظ رکھا ۔موت توبرحق ہے لیکن یہی دعا ہے کہ موت آنے سے پہلے ہسپتالوں کی خجل خواری اور ڈاکٹر وں کی چیر پھاڑ سے محفوظ رہوں ۔ جس طرح اﷲ نے زندگی میں آسانیاں عطا فرمائیں اسی طرح آخرت بھی آسان کردے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 561 Articles with 282894 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jan, 2019 Views: 585

Comments

آپ کی رائے