نوجوان نسل میں منشیات کا بڑھتا رحجان!

(Abid Hashmi, Azad Kashmir)

پاکستان کو درپیش مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ نوجوان نسل کا منشیات کی طرف راغب ہونا ہے۔ ہمارے نوجوانوں خاص کر تعلیمی اداروں کے طلبہ میں منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کی صلاحیتیں متاثر ہورہی ہے اور ان کا مستقبل تاریک ہورہا ہے۔ مختلف اداروں کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریبا 46 فیصد مرد اور 9 فیصد خواتین سگریٹ نوشی کرتی ہیں جو روزانہ تقریبا 18 کروڑ سگریٹ پی جاتے ہیں جن پر مجموعی طور پر75 کروڑ روپے روزانہ خرچ ہوتے ہیں۔تعلیمی اداروں اور نوجوان نسل میں منشیات کا استعمال فیشن بن گیا ۔ منشیات کے عادی افراد میں صرف مرد ہی شامل نہیں ہیں بلکہ خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی نشے کی عادی ہے۔ نوجوانوں میں تمباکو، چرس، شیشہ، افیون، شراب و دیگر جدید قسم کی منشیات عام ہیں اور وہ ان کے نقصانات سے بے خبر بطورِ فیشن اور خود کی تسکین کیلئے منشیات استعمال کر رہے ہیں۔ منشیات کے استعمال سے شرح اموات میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور اس سے بے شمار خاندان اجڑ چکے ہیں۔ دنیا بھر میں 80 فیصد منشیات کا استعمال ترقی پذیر ممالک میں کیا جا رہا ہے جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سرفہرست ہیں۔امریکا سمیت دیگر یورپی ممالک نے منشیات پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نشہ کرنے والوں کی زیادہ تعداد 13سے 24سال کے لوگوں کی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ایک یا ایک سے زائد بار نشے کی طرف مائل ہوئے ہیں۔اسی لیے پاکستان میں اپر کلاس اورمڈل کلاس کے لوگوں کے نشے میں واضح فرق موجود ہے۔ اپر کلاس میں لوگ آئس کرسٹل، حشیش، ہیروئن کے ساتھ ساتھ مختلف ادویات کا استعمال کرتے ہیں جبکہ مڈل کلاس کے لوگ فارماسیوٹیکل ڈرگز، شراب، چرس، پان، گٹکا، نسوار اور سگریٹ وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں منشیات کا استعمال کرنے والے نوجوانوں میں زیادہ تر کا تعلق پڑھے لکھے طبقے سے ہے اور یہی نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں منشیات کی فروخت کے گھناونے دھندے میں ملوث افراد چند پیسوں کے لالچ میں ملک کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ کئی تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کرنے والے گروہوں کو گرفتار بھی کیا گیاجن اداروں میں مستقبل کے معمار تیار ہوتے تھے، جہاں سے ملک کا روشن مستقبل پروان چڑھتا تھا، وہاں اب منشیات نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور انہی نوجوانوں کی زندگی میں زہر انڈیلنا شروع کردیا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان جس تیزی کے ساتھ نشہ آور اشیاء کی طرف مائل ہورہے اس رجحان سے جہاں نوجوانوں کی صحت پر انتہائی مہلک اثرات مرتب رہے ہیں، وہیں ان کی پڑھنے لکھنے اور کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہورہی ہے۔ 18 ماہ کے سروے کے بعد ہمیں پتا چلا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات استعمال کرنے والے طلبہ و طالبات کی شرح 43 سے 53 فیصد ہے، جن میں بالعموم سرکاری اور بالخصوص نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات شامل ہیں۔ملک کی 22 فیصد دیہی آبادی اور 38 فیصد شہری آبادی منشیات کا شکار ہے۔منشیات سے سب سے زیادہ 13 سے 25 سال کے نوجوان لڑکے لڑکیاں متاثر ہورہے ہیں۔ اور لرزا دینے والی بات یہ ہے کہ ان میں 50 فیصد نوجوان لڑکیاں شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات کے 2014ء کے سروے کے مطابق پاکستان میں 80 لاکھ سے زائد افراد نشے کے عادی ہیں۔ جو لوگ گٹکا، نسوار، پان، چھالیہ، سگریٹ اور ایسی ہی دیگر نشہ آور اشیاء استعمال کرتے ہیں ان کی تعداد ابھی الگ ہے۔ منشیات کا رجحان اتنا بڑھ گیا ہے کہ پان، نسوار، گٹکا، چھالیہ سگریٹ جیسی نشہ آور اشیاء کو نشہ تصور ہی نہیں کیا جاتا، جب کہ انہی سے دیگر نشہ آور اشیاء کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 35 کروڑ سے زائد افراد اس وقت مختلف اقسام کی منشیات کا استعمال کر رہے ہیں۔اور ان کی تعدار میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 40 لاکھ افراد منشیات کے استعمال کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں منشیات اور نشہ آور ادویات کا غیر قانونی استعمال کرنے والوں کی تعداد قریب 90 لاکھ ہے،اور ان میں بڑی تعدار پچیس سے لیکر انتالیس برس تک کی عمر کے افراد کی ہے۔مشہور امریکی جریدے''فارن پالیسی''کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ڈھائی لاکھ افراد منشیات کے استعمال کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔منشیات پاکستان کے لئے کتنا بڑا مسئلہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں پچھلے دس سال میں دہشتگردی کے نتیجے میں 60 ہزار سے زائد افراد نے اپنی جانیں قربان کیں،لیکن اس سے چار گنا زیادہ تعدار میں ہر سال پاکستان میں منشیات کی وجہ سے ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال سگریٹ اور شراب کے علاوہ منشیات جن میں چرس،افیون،ہیروئن وغیرہ شامل ہیں پر چالیس ارب روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔منشیات کا استعمال صرف یہی نہیں کہ مذہبی اور اخلاقی طور پر ممنوع ہے بلکہ اس کی پیداوار اس کی خریدوفروخت کرنے والے بھی مذہبی اور اخلاقی جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔منشیات کے استعمال سے دل،جگر،معدہ،پھیپھڑوں کی بیماری،فالج،ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسے موذی امراض کا شکار ہو کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے ہیں۔نشہ آور اشیائباآسانی دستیاب ہیں۔ایک شخص دوسرے شخص کو اس کا عادی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اعدادو شمار کے مطابق منشیات استعمال کرنے والے 73 فیصد افراد 60 سال کی عمر سے پہلے انتقال کر جاتے ہیں۔موجودہ حالات میں جب معاشی بدحالی کا دور دورہ ہے، ایک بہت بڑا طبقہ بے روزگاری کی زندگی گزار رہا ہے، اور مایوسی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے، اور یہ کرب بعض اوقات اسے اپنے غم غلط کرنے کے لیے شراب و نشہ کے مہلک راستے پر لے جاتا ہے۔ نوجوانوں میں نشے کا آغاز ایڈونچر، کچھ مختلف کرنے اور دوستوں کے دباؤ اور ذہنی الجھنوں سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن ان میں 70 فیصد ذہنی پریشانی یا اقتصادی بحران سے نجات پانے کے لیے نہیں بلکہ محض شوقیہ نشہ کرتے ہیں، اور پھر اس دلدل سے نہیں نکل پاتے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف 2013ء اور 2014ء کے درمیان شوقیہ نشہ کرنے والوں کی تعداد میں سو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔منشیات میں سگریٹ، چھالیہ، نسوار، پان، چرس اور شیشہ وغیرہ کی مقبولیت کے بعد اب ’’آئس‘‘ نامی مہنگے نشے کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سے دو سال قبل شیشہ کی وبا آئی تھی، لیکن اب آئس کی وبا ہماری نوجوان نسل کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں۔

نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی ایک وجہ فلموں اور ڈراموں میں شراب، چرس اور دیگر نشہ آور اشیاء کا سرعام استعمال بھی ہے۔ کیونکہ نوجوانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ لباس، حلیہ وغیرہ تمام چیزوں میں انہی فلمی اداکاروں کی نقل کرتا ہے۔ شراب و منشیات کے فروغ میں فلموں اور ڈراموں کا کردار بہت نمایاں ہے۔ کسی نہ کسی شکل میں نشہ خوری کے مناظر تمام فلموں، ڈراموں میں دکھائے جارہے ہیں۔ یہ چیز نوجوانوں میں منشیات کی لت پیدا کرنے کا ایک بنیادی سبب ہے۔وطن عزیز میں اگر نوجوان نسل کو اس لت سے نجات نہ دلائی گئی تو نسل نو کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ نشہ سب برائیوں کی جڑ ہے ۔ جس کے لیے نصف صدی پہلے ایک جرمن ڈاکٹر نے یہ بات کہی تھی کہ ’’تم شراب کی آدھی دکانیں بند کردو تو میں تمہیں آدھے ہسپتال، جرائم کے اڈے اور جیلوں کے بند ہوجانے کی ضمانت دیتا ہوں۔ اور پھر ہمارے ہاں کئی افراد نشہ دوا کہ طور پر استعمال کرتے ہیں وہ بھی زیر قاتل ہے جس کی ابتداء 1920ء میں جرمنی اس نشے کے ذریعے مختلف بیماریوں کا علاج دریافتکیا 1930ء تک دمہ‘ بخار اور سردی کے بچاؤکیلئے استعمال ہونے والے اس نشے سے امریکہ نے میتھاڈرین کی گولیاں بنانا شروع کیں تو امریکہ میں طلباء ڈرائیور اور کھلاڑی اس نشہ کا استعمال کرنے لگے۔ 1970ء کی دہائی میں اس خطرناک نشے کے انجکشن مارکیٹ میں فروخت ہونے لگے۔ پانی اور الکوحل میں فوری حل ہونے والی میتھافینامن سے تیارکردہ آئس نشے کا استعمال پاکستان میں مختلف طریقوں سے کیا جا تا ہے۔ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ہمیں بھی آگاہی مہم اور اداروں میں موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک سے اس لت کا خاتمہ کیا جا سکے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 165 Print Article Print
About the Author: Abid Hashmi

Read More Articles by Abid Hashmi: 24 Articles with 4266 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: