ڈوبتی ہوئی معیشت پاکستان کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ

(Hanif Lodhi, )

تحریر: محمد توصیف الحق صدیقی

راقم الحروف 2011؁ء سے ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت کے بارے میں اور سابقہ حکومتوں کی ناقص پایسیوں کے بارے میں حقائق پر مبنی کالم لکھتا رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو تباہ و برباد کرنے اور معیشت کی بحالی نہ تو سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے کی اور نہ ہی پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے، کرپشن، لوٹ مار اور بیرونی و اندرونی قرضوں نے پاکستان کی معیشت کوتباہ و برباد کرکے چھوڑا ہے اور بجٹ میں الفاظوں کے گورکھ دھندوں اور جعلی اعداد و شمار نے پاکستان کی ساکھ و عزت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس وقت معیشت لڑکھڑا رہی ہے۔ 2001؁ء میں دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو 20 کھرب روپیہ سے زیادہ کا نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ پاکستان تقریباً 75 ہزار سے زیادہ قربانیاں دے چکنے کے بعد بھی امریکہ کی نظر میں زیر عتاب ہے۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بیرونی قرضے 55 ارب ڈالرز سے زیادہ کے ہو گئے تھے اور اندرونی قرضوں کی ایک ہوشربا داستان ہے۔ 2013؁ء میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی اور میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان بن کر تیسری مرتبہ آئے تھے۔ انہوں نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا تھا کہ چھ ماہ میں بجلی کی لود شیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ برسراقتدار آنے کے تین سال بعد انہوں نے اپنے سمدھی محمد اسحاق ڈار کو سینیٹر منتخب کرا کر وفاقی وزیر خزانہ بنایا تھا جنہوں نے معیشت کی بحالی کے سلسلے میں کوئی کام نہیں کیا تھا صرف آئی ایم ایف ورلڈ بینک، ایشین بینک اور پاکستان کے تمام کمرشل بینکوں بمعہ اسٹیٹ بینک سے قرضوں کی بھرمار کر دی تھی۔ ایکسپورٹ مسلسل ناکام تھی اور امپورٹ حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے اسٹاک ایکسچینجوں کو یکجا کرکے معیشت کی ترقی کے ہر سال جعلی ادادو شمار پیش کئے جاتے تھے اور ان کے اپنے اثاثہ جات میں بے انتہا اضافہ ہو گیا تھا۔سابق نااہل وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو نیب عدالتوں سے دو کیسوں میں سزا بھی ہو چکی ہے جبکہ ان کے دونوں بیٹوں اور اسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دیا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وفاقی سیکریٹری خزانہ طارق جاوید باجوہ کو سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مشورے پر اور سابق صدر پاکستان ممنون حسین کی منظوری سے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان مقرر کیا تھا جنہوں نے میاں محمد نواز شریف اور اسحاق ڈار پر نیب کیسوں کا بدلہ لینے کے لئے پاکستان کے روپیہ میں جان بوجھ کر قدر کم کی تھی اور پاکستان کی معیشت کو مزید جھٹکا اس وقت زیادہ لگا ہے جب 25 جولائی 2018؁ء کو انتخابات میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف کی حکومت برسراقتدار آئی ہے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر معیشت کے بالکل ماہر نہیں ہیں وہ شہباز شریف کے زیر سایہ ایک کمپنی میں چیف ایگزیکٹو رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 2010؁ء سے لے کر 2012؁ء تک کمپنی میں کام کیا تھا۔ انہوں نے معیشت کی بحالی اور ترقی کے لئے کوئی خاص فریم ورک نہیں بنایا تھا۔ انہوں نے پاکستان کے لوٹے ہوئے پیسے کو لانے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔ اب تک کرپشن میں لوٹی ہوئی دولت کا ایک روپیہ بھی سرکاری خزانے میں واپس نہیں آیا ہے اور نیب کے افسران و اسٹاف کی کارکردگی بالکل ناقص ثابت ہو رہی ہے جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے برہمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستانی معیشت کی تباہی و بربادی کے ذمہ دار سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری، ان کے وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، مسلم لیگ (ن) کے سابق وزرائے اعظم میاں محمد نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور اسحاق ڈار ہیں۔ پاکستان پر اندرونی قرضہ 30 ہزار ارب سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی معیشت ڈوب چکی ہے۔ عوام سخت مہنگائی سے پریشان ہیں۔

اس وقت پاکستان کا بجٹ خسارہ کرنٹ اکاؤنٹ 16 ارب ڈالرز سے زیادہ کا ہے اور آئی ایم ایف کڑی شرائط پر قرضہ دے گا جس میں سی پیک کے ساتھ ایٹمی تنصیبات کو بھی خطرہ ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک طارق جاوید باجوہ ، اسحاق ڈار کے خاص آدمی ہیں انہوں نے جان بوجھ کر پاکستانی روپیہ کہ قدر کم کی تھی اور امریکی ڈالر کے ریٹ بڑھنے سے پاکستان کے کمرشل ایکسپورٹرز کو سخت جھٹکا لگا ہے اور پاکستان کے صنعتی و اقتصادی ترقی کی شرح رُک گئی ہے۔

میری وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کہ گورنر اسٹیٹ بینک کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، تاجر برادری کو ریلیف دیں اور عوام کو مزید مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلائیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 84 Print Article Print
About the Author: Hanif Lodhi

Read More Articles by Hanif Lodhi: 43 Articles with 15735 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: