آرٹسٹ کی دنیا میں رضیہ ملک کی داستان

(Osama Siddique, )

تین ماہ پہلے رضیہ ملک سے چند لمحوں کی ملاقات ہوئی تھی جس میں ہم نے موبائل نمبر ایکسچینج کیے اور انکی زندگی میں کیا چل رہاہے کونسے ڈراماز اور فلمز میں کام کیا ،یہ سب جاننے کے لیے ایک بار دوبارہ ملاقات کرنے کا وعدہ کیا ۔پھر کچھ دن پہلے انہوں نے کال کرکے کہا کہ میں کنول عزیز کے گھر آئی ہوں آپ ادھر ہی آجائیں ،کنول عزیز مسلم لیگ ن کی ایم پی اے بھی رہ چکی ہیں اور اچھی اداکارہ بھی ہیں ،میں جب انکے گھر پہنچا تو رضیہ ملک دروازے پر مجھے لینے کے لیے آئیں ہم اندر کمرے میں جا کر بیٹھے تو چائے منگوا لی چائے پینے کے دوران میری عادت ہے کہ بات چیت ہوتی رہے میں نے انکی زندگی کے بارے میں پوچھا تو بتایا کہ میرے دو بچے ہیں اور دو بچے اپنی بہن کے بھی ہیں جنکی پرورش اور دیکھ بال میرے ذمہ ہے انکو پڑھا بھی رہی ہوں اسکے علاوہ ایکٹنگ ہی میرا ذریعہ معاش ہے اور زندگی کا مقصد بھی ،میری اماں مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں مگر مجھے ایکٹنگ کا شوق تھا ،شروعات میں نے پاکستان ٹیلیویژن سے کی مگر پی ٹی وی کا جب زوال شروع ہوا تو اسکے بعد اتنی مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ باقی نجی چینلز پر کام جاری تھا جہاں میں اور باقی آرٹسٹ کو کام باآسانی مل جاتا تھا ،لیکن ایک بات جب رضیہ ملک نے کی تو سن کر بہت دکھ ہوا کہ اتنے سینئر آرٹسٹ کو بھی کہیں ناکہیں مجبوریاں گھیر لیتی ہیں ،الحمراء آرٹ کونسل لاہور میں ہر آرٹسٹ کسی مشہور رائیٹر کے ڈئیلاگ کے ساتھ اپنا ایکٹ کرتا ہے اور اپنی پرفارمنس دکھاتا ہے لیکن اسکا طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ پہلے کسی رائیٹر کے لکھے سکرپٹ کے ساتھ ایک اشٹام پیپر جس پر رائیٹر سائن کرنے کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ میرا لکھا سکرپٹ یہ آرٹسٹ کچھ دنوں کے لیے الحمراء آرٹ کونسل کے ہال میں پرفارم کر سکتا ہے اور یہ اسکرپٹ الحمراء میں موجود فتر میں مطلوبہ فیس کے ساتھ جمع کروایا جاتا ہے ۔

مگر یہ صرف ایک کاغذی کاروائی ہوتی ہے وہاں پر پرفارم کرنے کا موقع صرف اسے ہی ملتا ہے جسکی وزیر ثقافت اور الحمراء کے چئیرمین سے ڈیل ہو جائے ،رضیہ ملک کا کہنا تھا مجھے تیس سال سے صرف لارے لگا رکھے ہیں ایک دفعہ بھی میرا اسکرپٹ پاس نہی کیا ،میں پیسوں کی ڈیل تو کر سکتی ہوں مگر جو انکی اسکے علاوہ ڈمانڈز ہیں انکو پورا کرنے کی غیرت مجھ میں نہیں ہے میں سمجھ تو گیا لیکن افسوس اتنا تھا کہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ان بڑے عہدوں پر بیٹھے چھوٹے لوگوں کے لیے کیا لفظ استعمال کروں اس بارے میں کچھ باقی آرٹسٹ سے بات بھی کی جو الحمراء میں پلے کرتے ہیں انکا بھی بالکل یہی کہنا تھا مگر امید کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی گورنمنٹ آئی ہے شاید کوئی تبدیلی آجائے ۔رضیہ ملک نے بات بدلی اور کہا کہ زندگی کو اپنے کام کے ساتھ بہت مصروف رکھا ہوا ہے اس وقت مختلف نجی چینلز پر مختلف ڈراماز چل رہے ہیں جن میں ناگن،رانجھا رانجھا کردی،لشکارا،اور اسکے علاوہ آنگن ڈرامہ ہے جو عوام میں بہت ہی پسند کیے جا رہے ہیں ،اسکے علاوہ دنیا ٹی وی پر حسب حال پروگرام میں بھی میرا کریکٹر ہوتا ہے جسکا میرے دیکھنے والوں کے طرف سے بہت اچھا فیڈ بیک آتا ہے ،جو نئے آرٹسٹ انڈسٹری میں آرہے ہیں رضیہ ملک سے انکی بہت تعریف سنی کہ نئے آنے والے اپنے اندر چھپے فن کا اظہار بہت اچھے انداز میں کرتے ہیں جنکی بدولت ڈرامہ انڈسٹری آج پاکستان میں بہت ترقی کر رہی ہے ۔رضیہ ملک کا مزید کہنا تھا کہ سینئیر آرٹسٹ کو نوجوان ایکٹر ،ایکٹرس کو ایپریشیٹ کرنا چاہیے اور دل سے خوش آمدید کہنے سے ہی پاکستان کی ڈرامہ اور فلم انڈسٹری اس سے بھی زیادہ ترقی پا سکتی ہے کیونکہ نئے آرٹسٹ میں کام کرنے کا جذبہ اور لگن شاید ہم سے زیادہ ہوتی ہے اس لیے کسی کا راستہ روکے بغیر اپنے کام کی طرف توجہ دینا چاہیے،’’حسب حال‘‘ کی ٹیم کی بھی بہت ساری تعریفیں رضیہ ملک کی جانب سے سننے کو ملیں کہ ہم سب اس پروگرام کو اپنے بچوں کی طرح پال رہے ہیں اور لوگوں کو ایک منفرد انداز میں اپنے ڈائیلاگ کے ساتھ ہنساتے ہیں اور سب سے خاص بات یہ کہ فیملیز بھی ایسے شو بہت شوق سے دیکھتی ہیں ،اور یہی ہماری خوشی کی بڑی وجہ ہے کہ عوام ہمارے کام کو پسند کرتے ہیں ۔

اور بھی بہت ساری گفتگو ہوئی مگر آخر میں یہی بات سمجھ آئی کہ آرٹسٹ کی زندگی میں چاہے جتنی بھی مشکلات کیوں نہ آجائیں وہ انہیں ہنس کر برداشت کرتا ہے اور چہرے پر پریشانی کے اثرات نہیں آنے دیتا اور کسی کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ جنکو ہم ٹی وی یا فلموں میں دیکھ رہے ہیں انکی نجی زندگی کن مشکلات سے بھری ہوتی ہے،یہ صرف رضیہ ملک ہی نہی بلکہ اور بہت سارے پاکستانی فلم انڈسٹری ،ڈرامہ انڈسٹری ،اور رائیٹر حضرات سے ملاقات ہوتی رہتی ہے جب وہ اپنی پرسنل لائف ڈسکس کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انکے دل میں بہت سارا غم چھپا ہے جسے وہ اپنے دل میں ہی دبا کر اپنی ایک الگ کی دنیا بسائے بیٹھے ہیں ۔۔!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Osama Siddique

Read More Articles by Osama Siddique: 35 Articles with 13593 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jan, 2019 Views: 469

Comments

آپ کی رائے