ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب کے لطائف اور ثواب دارین برگیڈ

(Amir jan haqqani, Gilgit)

کراچی کے سفر میں حاملین علم و عمل اور صاحبان فکر و نظر کے ساتھ بڑی طویل ملاقاتوں اور نشستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسی ہی ایک نشست جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب کے ساتھ21 جنوری2017 کوہوئی۔ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر تعارف کروایا تو بیٹھنے کا حکم جاری کیا۔۔ بہت سارے مہمان تھے وہ رخصت ہوئے۔ کشمیر کے قاضی محمودالحسن بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب نے خیریت کے ساتھ گلگت کے احوال پوچھ لیے۔ جامع نصرۃ الاسلام کی تعلیم کے متعلق بھی سوالات کیے۔ پھر اچانک اپنے ایک خادم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ’’ یہ میرے خادم خاص ہیں، جب بھی میرے پاس حاضر ہوتے ہیں تو اپنی وائف کو اپلیکیشن دیتے ہیں۔اگر وہ اس اپلیکیشن پر لکھے You Can go تو پھر یہ ہمارے پاس آتے ہیں بصورت دیگر ان کے لیے ہماری خدمت مشکل ہوجاتی ہے‘‘ مجلس کشت زعفران بن گئی۔ پھر حضرت نے چائے کا آڈر دیا۔ واقعتا بہترین چائے تھی بلکہ خاندانی چائے پلائی گئ جس کا ذائقہ دیر تک باقی رہے گا۔ حضرت لطائف پر لطائف سنائے جارہے ہیں، اچانک میں نے بھی مداخلت کرکے ایک واقعہ نما لطیفہ سنا دیا تو حضرت خوب محظوظ ہوئے۔ پھر ڈاکٹر صاحب نےحیا ڈائجسٹ کا نیا شمارہ نکالا اور اس کے لطائف پڑھ کر سنانے لگے اور ساتھ تبصرہ بھی کرتے رہے۔۔عجیب بات یہ تھی کہ اکثر لطائف میاں بیوی کے متعلق سنائے جارہے تھے۔۔کافی دیر تک یہ مجلس چلتی رہی۔ حضرت کی خدمت میں کچھ غیر ملکی طلبہ حاضر ہوئے تو ان کو لفافے میں ڈال کر بطور ہدیہ کچھ رقم بھی دی اور نصائح بھی فرمائی۔ میں نے حضرت سے خصوصی دعائیں لی اور رخصت ہوا، پھر دیر تک سوچتا رہا کہ ہمارے بزرگ اور بڑے حضرات ، اتنے باذوق ہیں کہ آخری عمر میں بھی لطائف سنارہے ہیں اور دوسروں سے سن بھی رہے ہیں، حضرت شیخ سلیم اللہ خان نوراللہ مرقدہ بھی لطائف کے شیدائی تھے۔ آخری عمر میں کچھ لوگ حضرت ؒ کوخصوصی لطائف سنانے پر مامور تھے۔ حضرت باقاعدہ ان سے لطائف سنتے تھے اور خوب محظوظ ہوتے تھے۔ کئی بزرگوں کو جانتا ہوں جو لطائف کے بڑے شوقین ہیں، تاہم مقام افسوس یہ ہے کہ جو لوگ اکابرین کی نمائندگی کرنے کی ناکام سی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں وہ اپنے عمل اور اپنی ثواب دارانہ چالوں سے بزرگوں کو ایک خلائی مخلوق بناکرپیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں اتنی قلابازیاں کھاتے ہیں کہ انسان سوائے افسوس کے کچھ نہیں کرسکتا۔۔ اہل علم و عمل کی خوش گپیوں پر مبنی سینکڑوں کتابیں عربی میں موجود ہیں اردو بھی بھی بڑا مواد ہے۔تاہم یہ لوگ کبھی بھی اکابرین کی سوانح اور ان کے ذوق و مزاج کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے بلکہ خودساختہ خدائی فوجدار بن کرجب بزرگوں اور بڑوں کا چہرہ / نمائندہ بننے کی کوشش کرتے ہیں تو بخدا بڑے بونے لگتے ہیں اور بعض دفعہ تو ناواقف لوگ ان خدائی فوجداروں کی وجہ سے بزرگوں سے بھی بدظن ہونے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔مگر خیر
احباب کیاکہتے ہیں۔۔؟

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 395 Print Article Print
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 265 Articles with 128856 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Reviews & Comments

Language: