خوں کے پیاسے ہو گئے ہیں میرے وطن کے پاسبان

(Hafeez Chohdury, )

دہشت گردی کے نام پر بے گناہ انسانوں کے قتل ناحق کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے واقعات مملکت خداداد پاکستان میں آئے دن پیش آتے رہتے ہیں ۔اگرچہ یہ ملک اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا اور حصول ملک کے وقت پاکستان کا مطلب کیا’’ لا الہ الا اﷲ ‘‘کا نعرہ لگایا گیا مگر 1947 سے 2019 تک کوئی ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا کہ جس کے مجرموں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا گیا ہو۔ملک بھر میں ہر آئے دن بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے اور ان پر دہشت گردی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ کل ساہیوال میں قادرآباد ٹول پلازہ کے قریب پیش آیا ،جس میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد اور ڈرائیور کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ اﷲ کاکرم یہ ہوا کہ ان میں سے تین بچے بچ گئے جن میں سے بڑے بچے کا یہ بیان ہے کہ ہم لوگ اپنے چاچو کی شادی کے لئے لاہور سے بورے والا جا رہے تھے کہ اچانک پولیس والے انکل نے ہماری گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی اور میرے والد محترم منتیں کرتے رہے، چلاتے رہے اور پولیس والے انکل کو بار بار یہ کہتے رہے کہ ہم سے پیسے لے لو مگر ہمیں گولیاں نہ مارو، لیکن پولیس والے انکل نے میرے پاپا کی ایک بھی نہ سنی اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہی میرے پاپا، مما، اور آپی کو گولیوں سے بھون دیا گیا بچے کا یہ بھی کہنا ہے لاہور سے شادی کے سلسلے میں نکلے تھے مگر اب سمجھ نہیں آرہی کہ مما پاپا ہمیں کیسے ملیں گے...؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔

آج ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والوں سے ہر پاکستانی یہ پوچھتا ہے کہ کیا ریاست مدینہ میں بھی اس قسم کے واقعات ہوتے تھے ...؟کیا نبی رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کبھی یہ حکم صادر فرمایا تھا کہ بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ کو قتل کر دیا جائے، تو یقینا اس کا جواب نفی میں ہوگا، نبی رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم تو صحابہ کرام ؓ کی مقدس جماعت کو یہ درس دیا کرتے تھے کہ’’ جب بھی جنگ میں شریک ہوں بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو ہرگز نشانہ ،نہ بنانا‘‘ مگر آج ریاست مدینہ کی دعوے دار حکومت ایک دن میں نامعلوم کتنے بیان بدل چکی ہے ،پہلے یہ کہا گیا کہ یہ لوگ اغوا کار تھے ،پوچھنا یہ تھا کہ اپنے بچوں کو کون اغوا کرکے لے جاتا ہے ،پھر یہ کہا گیا کہ یہ لوگ ڈاکو تھے ،جب کوئی بات نہ بنی تو پھر دہشت گردی کا لیبل لگا کر پیش کیا گیا ،کل شام تک سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے اپنے بیانات بدل بدل کر پیش کئے۔
ہر شخص چیخ چیخ کر رو رو کر دہائی دے رہا ہے کہ سنو... سنو... ارے ظالموں سنو... وہ ننھے بچوں کو گود میں لیے وہ مسافر دہشت گرد نہیں تھے35... سال سے اس محلے میں رہ رہے تھے...بچوں کے ہمراہ شادی کی تقریب میں جانے والے نہتے خاندان کو معصوم بچّوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا گیا...قانون کے رکھوالوں نے کسی کی فریاد کو نہ سنا...۔

آخر ماجرا کیا ہے ...؟اتنا ظلم آج سے پہلے سنتے تھے کشمیر، فلسطین اور شام میں ہوا کرتا ہے مگر آج معلوم ہوا قانون اندھا ہوتا ہے اور رہبر رہزن بھی بن جاتے ہیں ۔جن کو دہشت گرد کہاگیا تھاان بچوں کے ہاتھوں میں پوری قوم نے کوئی کھلونا پستول بھی نہیں دیکھا ،بلکہ ایک معصوم ننھی سی کلی جس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا فیڈر تھا، جس سے اس کی دوسری بہن اسے بہلا رہی تھی ،انہیں دہشت گردوں کے بچے کہا جارہا ہے ۔

مگر ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات محترم فواد چوہدری اور صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب جناب فیاض الحسن چوہان کا موقف یہ تھا کہ وہ کوئی بڑے دہشت گرد لگتے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لگنے اور ہونے میں بھی بڑا فرق ہے ،اب کوئی یہ کہے کہ فیاض الحسن چوہان وفاقی وزیر اطلاعات لگتا ہے، جب کہ وہ ہے نہیں ،اسی طریقے سے کوئی یہ کہے کہ فواد چوہدری صاحب وزیر اطلاعات پنجاب لگتے ہیں جبکہ وہ وفاقی وزیر اطلاعات کے منصب پر فائز ہیں ۔اس لئے وزیر اطلاعات صاحبان کو قوم کے سامنے حقائق کو لانا ہوگا اور قوم کو یہ باور کرانا ہوگا کہ دہشت گردوں کے خلاف حکومت ،فوج ۔آئی ایس آئی، ایم آئی اور پنجاب پولیس ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ہیں، مگر میرا اور پوری قوم کا یہ مطالبہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرور کیا جائے ،انہیں نشان عبرت بنایا جائے مگر مملکت خداداد پاکستان کے پرامن باشندوں کو ٹارگٹ نہ کیا جائے۔

سی ٹی ڈی کے بیانات کے مطابق اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ دہشت گرد تھے تو انہیں زندہ بھی گرفتار کیا جاسکتا تھا انہیں زخمی بھی کیا جا سکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا آخر کیوں......؟۔

بہت اچھی بات ہے کہ وزیراعظم پاکستان محترم عمران خان صاحب نے وزیراعلی پنجاب جناب عثمان بزدار صاحب کو ہدایات کی اور وہ ساہیوال پہنچے اور انہوں نے زخمی بچے کی عیادت کی اور اس موقع پر اس بچے کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا ،لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بچے کو اس وقت زخمی حالت میں پھولوں کے گلدستے کی ضرورت بھی تھی کہ نہیں...؟ کیونکہ وہ بچہ اگرچہ بظاہر زندہ ہے مگر اندر سے وہ مرچکا ہے کیونکہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی ماں ،بہن اور والد کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا ہے۔یہ بچے سرخ پھولوں کا گلدستہ نہیں بلکہ اپنے والدین کے سرخ خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔

انہیں انصاف چاہیے انصاف ،ایسے موقع پر ہر شخص کو سایہ شفقت ،دست شفقت اور سائبان کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس موقع پر اس بچے کے پاس وہ سایہ نہیں کہ جس کو دیکھ کر وہ اپنے دکھ ،درد،غم، اور زخموں کو بھلا سکے۔

میں خود چار بچوں کا باپ ہوں اور اس درد کو، اس کرب کو ،اس دکھ کو ،اس پریشانی کو نہ صرف محسوس کر رہا ہوں بلکہ دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ آخر ان معصوم کلیوں کا کیا قصور تھا...؟ کیوں ان سے ان کے ماں باپ کو چھین لیا گیا...؟ یہ بچے بڑے ہو کر کیا سوچیں گے کہ ہمارے باپ ماں ،باپ کا دفاع کرنے والے محافظوں نے کیوں ہمارے ماں باپ کو درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے ہماری آنکھوں کے سامنے شہید کیا...؟۔

معصوم بچیاں، دو گڑیاں، دونوں کے ایک جیسے کپڑے،کتنے چاہ سے خریدے گئے ہوں گے، اب ان کپڑوں پہ خون ہے ، کچھ معلوم نہیں ماں کا ہے یا باپ کا...؟ آج تبدیلی تعفن دے رہی ہے۔تمہارے سلمان اور قاسم آئیں تو ریاست انہیں سیکیورٹی دے اور جو ریاست کے شہری ہیں وہ یوں قتل ہو جائیں،آخرایسا کیوں ،دونہیں ایک پاکستان کا نعرہ بھی آج کھوکھلا لگ رہا ہے ،

آج ہر آنکھ اشک بار ہے، ہر دل غمگسارہے،صد افسوس الفاظ ہی نہیں ہیں جن سے ان معصوم بیٹیوں کو تسلی دے سکیں اﷲ پاک انصاف کرے ان معصوم بچیوں کے ساتھ۔
آخری گزارش
سر سلمان صدیقی لکھتے ہیں کہ
عوام الناس کے لیئے احتیاطی تدابیر :
جب بھی گھر سے نکلیں اور آپ کے بچے آپ کے ساتھ ہوں تو سب سے پہلے متعلقہ تھانے سے ایک این او سی لیں جس پر موجودہ ایس ایچ او کے دستخط ہوں
کہ آپ اپنی فیملی کے ساتھ ہیں اور آپ کا کوئی کریمنل ریکارڈ بھی نہیں ہے
اپنی گاڑی کے بونٹ پر ایک اشتہار ٹائپ چیز چپکا دیں کہ میں اپنے بچوں اور اپنی ہی فیملی کے ساتھ جا رہا ہوں ، ورنہ آپ دہشتگرد بنا کے بھون دیئے جائیں گے ،
گھر سے نکلتے وقت جتنے پیسے آپ کے پاس موجود ہوں ساتھ رکھ لیں راستیمیں موجود چیک پوسٹوں پر جو شریف ڈاکو موجود ہوں ان کا چائے کا خرچہ بھی تو آپ کے ذمہ ہے ورنہ آپ اگلی چیک پوسٹ یا اگلے ناکے تک نہیں پہنچ پائیں گے
اس سے پہلے ہی آپ کا نان نفقہ بندکر کے آپ کا اوپر کا ٹکٹ کاٹ دیا جائے گا
اور ہمارے نیوز چینلز پر ہیڈ لائن چلا دی جائے گی کہ ایک خطرناک دہشت گرد
اپنی بیوی اور دو معصوم بچوں کے ساتھ پولیس مقابلے میں پار کر دیا گیا ہے
یہ میسج پبلک کے لیئے فری جاری کیا گیا ہے
اس پر خود بھی عمل کریں اور اپنے جاننے والوں کو بھی بتائیں
تاکہ آپ کچھ سانسیں اور لے سکیں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez Chohdury

Read More Articles by Hafeez Chohdury: 11 Articles with 4538 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jan, 2019 Views: 355

Comments

آپ کی رائے