قتل یا خود کشی (قسط نمبر ٢)

(Kanwal Naveed, Karachi)

سوال پر فروا نے ایک نظر اس کی طرف دیکھامگر چپ رہی۔ حیدر نے شاپر میں سے گلاب کے پھولوں کے گجرے نکالتے ہوئے کہا۔ اچانک سے تیری رخصتی ہو گئی ۔ اس لیے پریشان ہے تو نہ ہو۔ میں تیرا خیال رکھوں گامگر زیادہ کسی امید میں نہ رہیو۔ مجھے عورت کا سر پر چڑھنا پسند کوئی نہ ہے۔ فروا نے دل ہی دل میں ایک گالی دی جبکہ حیدر گجرے نکال کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے فروا کا ہاتھ پکڑا تو فروا نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچتے ہوئے کہا۔ میری طبعیت ٹھیک نہیں ۔

حیدر ہنسا۔ ارے آج ہی۔ فروا خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔ حیدر نے ہنس کر کہا۔ گجرے پہن لے گی تو کچھ نہیں ہو گا۔ اس نے زبردستی ہاتھ پکڑ کر گجرے اس کی کلائی پر پہنا دیئے۔ وہ ابھی تک ہنس رہا تھا۔ ساتھ ہی بولا ۔ تیری طبعیت دیکھنی پڑھے گی کتنی خراب ہے۔ فروا نے پریشانی سے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ جس طرح سے حیدر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گجرے کلائی میں ڈال دیئے تھے وہ سکتے کی سی حالت میں اسے دیکھتی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کے تین ماہ گزر چکے تھے۔ فروا ہر چڑھتے دن کے سے کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ وہ حیدر سے کوئی بات نہ کرتی ، جو وہ کہتا خاموشی سے کرتی جاتی۔ حیدر اس رعب اور دبدبہ سے بات کرتا کہ خوف نے اس کے اندر گھر کر لیا تھا۔ وہ شادی کے دن سے ہر روز خود کشی کا سوچتی ۔اس کے دل میں موت کا خوف نہ تھا بلکہ اس بات کی فکر تھی کہ اگر وہ زندہ بچ گئی تو کیا ہو گا۔ رابیل ایک صبح اس کے پاس آئی ،وہ رو رہی تھی۔ فروا نے افسردگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ یا تو رو لے یا پھر بول ایسے روتی رہے گی تو کیا خاک پتہ چلے گا ہوا کیا۔ رابیل نے روتے ہوئے کہا۔ ارشادنے مجھے شراب پی کر بہت مارا ۔ فروا نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔ کوئی نئی بات تھوڑی نہ ہے۔ تو ،تو ایسے رو رہی ہے ،جیسے شیدا مر گیا ہو۔

رابیل نے روتے ہوئے کہا۔ مر ہی جاتا ،اس سے تو اچھا تھا۔ میں پیٹ سے تھی، میرا بچہ۔ فروا نے رابیل کو گھور کر دیکھا۔ کیا کہا۔ رابیل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ تین ماہ ہو گئے تھے۔ میری اماں نے کہا تھا ،کسی کو بتائیو نہیں ،نظر لگ جاتی ہے۔فروا کے چہرے پر تمسخر خیز مسکراہٹ آ کر گزر گئی ۔نظر ۔اس نے دھیرے سے کہا۔ رابیل نے روتے ہوئے کہا ۔کتا ،کیڑے پڑھیں گئے اُسے مرے گا تو۔ فروا اب با قاعدہ ہنسی ، اس نے رابیل کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ یہ تو ہے۔ ویسے وہ تو تجھے بھی پڑھیں گئے۔ بلکہ سب کو پڑھیں گئے۔رابیل نے فروا کو گھور کر دیکھا۔ فروا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ چھوڑ نا یار ۔ جو ہوا سو ہوا۔ اور بیج بو لینا ۔فصل ہو ہی جائے گی۔ روئے گی تو کیا ہوا گا۔ ایک لحاظ سے اچھا ہی ہے ،تو دیکھ تو ۔ اب تک تو صرف شیدے کی خدمت کر رہی تھی ،پھر اس کی اولاد کی بھی کرنی پڑے گی۔ رابیل نے حیرت سے فروا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ کیا کہا تو نے۔ اس کی اولاد ۔ کیا وہ میری اولاد نہیں ہو گی۔ پاگل ۔بیٹا ہو گیا تو سوچ ،خود بھی خدمت کرئے گا میری اور اپنی بیوی سے بھی کروائے گا۔ بیٹی ہو گی تو میرے دُکھ درد کی ساتھی ہو گی۔ تجھے نہیں چاہیے اولاد۔

فروا نے ہنستے ہوئے کہا۔ اپنا آپ تو اپنا ہے کوئی نہ ہے اور تو کہتی ہے اولاد ۔ کوئی کسی کا نہ ہے یہاں ۔ مجھے تو یہ دنیا ہی اب نہیں بھاتی، جی میں تو آتا ہے ۔فروا خاموش ہو گئی ۔ رابیل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ تو اپنی ضد بھول جا۔ حیدر اچھا ہے ، نماز پڑھ کر نیک اولاد کی دُعا کیا کر۔ فروا نے ہنس کر کہا۔ چل تیرے لیے دُعا کروں گی۔ رابیل کا دل ہلکا ہو چکا تھا ۔ وہ واپس اپنے گھر لوٹ گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس انسپکڑ مریم نے رابیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ کچھ اور جو آپ فروا کے متعلق بتانا چاہتی ہوں ۔ جو ہمیں ان کے کیس کے متعلق کوئی ثبوت فراہم کر سکتا ہو۔ رابیل نے افسردگی سے کہا ۔ اور تو کچھ نہ ہے بی بی جی۔ بس یہی آخری ملاقات تھی جو میری اس سے ہوئی ۔ بس یہی کچھ تھا جو میں فروا کے متعلق جانتی تھی۔

پولیس انسپکڑ نے ہلکے سے ناک کو کھجایا اور پھر رابیل کو دیکھتے ہوئے کہا۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ وہ خود کشی کر سکتی ہے۔ رابیل نے کچھ دیر سوچتے ہوئے کہا۔ نہیں ۔ اس طرح کی خود کشی نہیں کر سکتی ۔ اگر وہ کر سکتی تو اس وقت کرتی جب حیدر سے اس کا نکاح ہو رہا تھا۔ وہ تکلیف سے گھبراتی تھی۔ اس طرح کی موت۔ توبہ توبہ

مریم نے رابیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ فروا کے والد کہہ رہے ہیں ، اس کے بھائی کہہ رہے ہیں کہ اس نے خود کشی کی ،حیدر بے گناہ ہے۔ اگر تمہاری بات پر یقین کر لیا جائے تو ،وہ کیا وجہ ہو گی جس کی وجہ سےفروا کے اپنے، اس کی موت کی وجہ اس کو قرار دے رہے ہیں ،انہیں تو حیدر کے خلاف ہونا چاہیے۔ رابیل نے مریم کی طرف دیکھ کر کہا پولیس آپ ہیں ،یہ تو آپ کو پتہ کرنا چاہیے ۔ میں تو بس اتنا جانتی ہوں فری اپنے لیے ایسی موت کا انتخاب نہیں کر سکتی ۔ وہ بہت ڈر پوک تھی۔

مریم نے ایک لمبی سانس بھری ۔ اور چار پائی سےاُٹھتے ہوئے کہا۔ وہ تو میں ضرور پتہ کرواوں گی۔ مجرم کچھ دیر چھپ تو سکتا ہے بچ نہیں سکتا۔ مریم نے جاتے جاتے رابیل کی طرف دیکھا اور بولی ،کیا تم جانتی ہو کہ فروا امید سے تھی۔ مریم نے حیرت سے کہا ۔ نہیں ،اس نے مجھے تو نہیں بتایا۔

مریم سر کو اثبات میں ہلاتی ہوئی اس گھر سے باہر نکل گئی جبکہ رابیل افسردگی سے اپنی چارپائی پر ہی بیٹھی تھی۔ حیدر ابھی تک لاک اپ میں تھا۔ فروا کی تدفین کے بعد اسے واپس تفتیش کے لیے رکھ لیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق ،فروا کی موت نازک ٹشوز کے جل جانے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اس کا جسم ستر فیصد جل چکل تھا۔ وہ دو دن تک ہوسپٹل میں رہنے کے بعد مری تھی۔ اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ بیان دے کہ اس کا جسم کیسے جلا۔ پولیس کو ڈاکٹر نے ہی اطلاع دی تھی۔ مریم کے لیے یہ کیس اس لیے مشکل تھا کہ فروا کو ہوسپٹل لے کر آنے والا اس کا اپنا بھائی خاور تھا۔ اس نے بیان دیا کہ جب وہ گھر میں داخل ہوا تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ حیدر گھر میں نہیں تھا اور فروا باورچی خانے میں جلی ہوئی پڑی تھی۔ حیدر کو اس نے فون کر کے بلایا ،جو فروا کی حالت دیکھ کر سکتے میں آگیا ۔ فروا کو لے کر وہ ہوسپٹل پہنچا۔ اس کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ۔۔۔۔دو دن کے بعد وہ مر گئی۔

مریم کو شک اس لیے تھا کہ باورچی خانے کی ہر شے کو ہٹا دیا گیا تھا۔ کوئی ثبوت نہیں چھوڑا گیا تھا ۔ حیدر کا کہنا تھا کہ ہر چیز جل گئی تھی اس لیے اس نے کچرے میں پھینک کر جگہ صاف کروا دی۔سب سے بڑی بات یہ تھی کہ محلے میں کسی نے ایک جلتے انسان کی چیخیں نہیں سنی تھیں ۔ یہ کیسے ممکن ہے مریم کا دماغ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ ایک انسان اس طرح سے جلے اور جلنے کے دوران دانستہ آواز بھی باہر نہ نکالے۔ حیدر اور خاور دنوں ایک جگہ ہی بند تھے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 454 Print Article Print
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 154446 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More

Reviews & Comments

Language: