میرا گھر میری جنت

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: صدف نایاب
نازیہ جب تک پڑوسیوں کے گھر پہنچی تب تک ہاجرہ آپا کا درس شروع ہوئے بیس منٹ گزر چکے تھے۔ خیر نازیہ بھی جلدی سے اپنی ڈائری اور پین کھول کر بیٹھ گئی۔ ہاجرہ باجی شاید اپنی بات کا آغاز کر چکی تھیں اس لیے جو جملے نازیہ کے کانوں سے ٹکرائے وہ کچھ یوں تھے۔’’میری پیاری بیٹیوں! ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا عورت گر چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے‘‘۔یہ جملہ سننا تھا کہ نازیہ کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ نازیہ جس کی شادی کو محض دو سال ہی ہوئے تھے مگر سکون نام کی چیز اس کی زندگی میں نہ تھی۔ وہ تو اﷲ بھلا کرے اس کی پڑوسن کا جو اس کہ ہر دکھ درد کی ساتھی تھی۔ اسی نے آج اپنے گھر میں ہونے والے درس میں نازیہ کو شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس لیے اب نازیہ بھی ہاجرہ باجی کا درس سننے جاتی تھی۔ جو کہ ہر ہفتے ہوتا تھا۔ یہاں آکر وہ کافی سکون محسوس کرتی۔

نازیہ کی ساس اس سے بہت کام کرواتیں سارا سارا دن کمرے میں نہ جانے دیتیں۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر نازیہ بھی اب زبان دراز ہو چکی تھی۔ توقیر نازیہ کا میاں روز روز کی اس لڑائی سے تنگ آگیا تھا۔ آئے دن کی یہ ہی باتیں گھر میں فساد پیدا کرنے لگیں تھیں۔ نازیہ اب امید سے بھی تھی اس لیے اس سے ویسے ہی کوئی کام نہ ہوتا تھا۔ جس پر مستقل اس کی ساس اسے پھوہڑ اور نکمے ہونے کے طعنے دیتیں۔آج بھی توقیر گھر سے لڑ کر نکل گیا تھا۔ بات تو معمولی سی ہی تھی مگر تماشہ اس کا دنیا نے دیکھا تھا۔ ساس کی باتیں نازیہ سے برداشت نہ ہوئیں تو جا کر توقیر پر برس پڑی وہ بھی کیا کرتی بیچاری اس کی بھی اپنی طبیعت خراب تھی۔ جس پر توقیر کو غصہ آیا اور گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ توقیر غصے میں بہت کچھ غلط تھا جو کہہ آیا تھا۔

توقیر کو ابھی گھر سے نکلے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اسے یاد آیا آفس سے آنے کے بعد اس نے کچھ نہیں کھایا پیا۔ بھوک کا احساس بڑھ رہا تھا مگر غصے میں وہ بٹوہ تو گھر ہی بھول آیا تھا۔ اس نے جیبیں ٹٹولیں تو اتفاقا کچھ پیسے کھنکھنائے جس سے اس نے ایک برگر اور بوتل خرید کر اپنے پیٹ کی پیاس بجھائی۔ کچھ دیر توقیر من ہی من میں اپنے آپ سے باتیں کرتا رہا۔ ’’شاید اتنی بھی بڑی غلطی نہیں تھی نازیہ کی،کیا ہو گیا اگر وہ دن بھر کام نہیں کر پاتی۔ بیمار بھی تو ہے۔ امی کا رویہ بھی صحیح نہیں بات بے بات جھگڑا شروع کر دیتیں ہیں۔ مجھے انھیں بھی کہنا چاہیے‘‘۔ توقیر یہ سب سوچتے سوچتے ایک پارک میں جا بیٹھا۔ وہاں دو میاں بیوی آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ توقیر انھیں دیکھ کر اپنے رویے پر نادم ہوتا رہا اسے رہ رہ کر یہ خیال آرہا تھا کہ اس نے نازیہ پر کیوں ہاتھ اٹھایا۔

ویسے تو یہ کوئی پہلی بار نہ تھا وہ غصے میں ایسے ہی آپے سے باہر ہو جاتا تھا مگر آج اس کا دل بہت اندر سے بے چین تھا۔ توقیر پھر دل ہی دل میں بڑبڑانے لگا، ’’ہاں میں مانتا ہوں میں نے غلط کیا مگر نازیہ بھی تو بدتمیزی کرتی ہے۔ بس آج میں گھر نہیں جاؤں گا‘‘۔ یہ سوچ کر توقیر وہیں بینچ پر لیٹ گیا مگر تھوڑی دیر میں اسے سخت سردی لگنے لگی۔ سردی میں ٹٹھرتے نجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ رات بھر وہ لوہے کے سخت بینچ پر پڑا رہا۔

چڑیوں کی چہچہاہٹ اور مؤذن کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی تو اسے بخار محسوس ہوا۔ ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ آج تو اس کی ایک بہت ضروری میٹنگ تھی جس کے بعد اس کی ترقی کے بھی امکانات تھے۔ یہ سب سوچ کر وہ گھر کی طرف جانے کے لیے تیزی سے اٹھا مگر پھر اندر سے ایک آواز آئی، ’’کہاں جا رہے ہو جہاں تمھاری کوئی اہمیت نہیں! چھوڑو روز روز کے جھگڑوں سے اچھا ہے سکون سے یہیں پڑے رہو‘‘۔ اس سوچ کے بعد توقیر مذید دو دن سڑکوں پر دھکے کھاتا رہا۔ دوسری طرف نازیہ اور اس کے گھر والے بھی بے حد پریشان تھے۔ نازیہ کی حالت بگڑ رہی تھی۔ نازیہ کو رہ رہ کر اپنے رویوں پر دکھ ہو رہا تھا۔ سو طرح کے وسوسوں نے اسے گھیرا ہوا تھا۔ ساس سمیت سب لوگ نازیہ اور توقیر کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے۔ نازیہ کی ساس روتی ہوئی نازیہ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں، ’’بیٹا مجھے معاف کر دو میں نے تمھارے ساتھ بڑی زیادتی کی۔ میری وجہ سے تم دونوں میاں بیوی کو یہ دن دیکھنا پڑا۔ نجانے توقیر کہاں ہو گا‘‘؟

نازیہ کی حالت زیادہ بگڑی تو گھر والے فورا اسے ہسپتال لے گئے۔ اﷲ نے انھیں چاند سا پوتا دیا۔ ایک طرف خوشی تھی تو دوسری طرف پریشانی کے گہرے سائے تھے جو سب کہ چہروں پر چھائے ہوئے تھے۔’’ارے توقیر تم یہاں فٹ پاتھ پر کیا کر رہے ہو؟ مبارک ہو بھئی بیٹا ہوا ہے‘‘، یہ ارسلان تھا۔ جو تویر کا قریبی جاننے والا تھا۔ ’’بیٹا! ‘‘، توقیر کی حالت اتنی غیر ہو چکی تھی کہ وہ اٹھ بھی نہ سکا۔ ارسلان نے اسے بمشکل پکڑ کر ہسپتال پہنچایا۔ جہاں اس کا بیٹا ہوا تھا۔ توقیر کو ایمرجنسی میں کچھ دیر رکھا گیا۔ ارسلان نے جب اس سے سارا معاملہ دریافت کیا تو اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

’’دیکھو توقیر یہ تو ہمارے نبیﷺ کا بھی فرمان ہے کہ، ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے‘‘ اور دوسری بات کہ قرآن میں اﷲ تعالی نے غصہ پی جانے والوں اور درگزر کرنے والوں کو اپنا محبوب ترین بندہ قرار دیا ہے۔ گھروں میں یہ سب باتیں چلتی رہتی ہیں مگر قوام ہونے کے ناطے تمھارا یہ فرض ہے کہ اپنے منصب کو پہچانو۔ توازن قائم کرو۔ ماں اور بیوی کو ان کا مقام دو۔ اب جاؤ جا کر اپنے گھر والوں سے ملو۔جب توقیر کی حالت سنبھل گئی تو وہ اٹھ کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا۔ توقیر کو دیکھ کر گھر والوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔’’بیٹا تم کہاں چلے گئے تھے۔ گھر کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے تھوڑی روٹھ جاتے ہیں۔ اپنے بیٹے اور بیوی کی طرف دیکھو جو تمھاری محبت کے منتظر ہیں‘‘، توقیر کی امی نے روتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا۔

’’مجھے معاف کر دو نازیہ میں نے بہت غلط کیا تمھارے ساتھ تم نے مجھے اتنی بڑی خوشی دی۔ آج میں سمجھ گیا ہوں میرا گھر ہی میری جنت اور میرا سکون ہے۔ اس گھر کے بنا میں کچھ بھی نہیں‘‘، توقیر کی آواز بھر آئی تو نازیہ کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی۔’’واقعی میرے لیے بھی میرا گھر ہی میری جنت ہے۔ میں اپنے رویوں پر بہت شرمندہ ہوں۔ آپ بھی مجھے معاف کر دیں اور امی بھی‘‘۔لو بھئی اس خوشی کے موقع پر یہ رونا دھونا چھوڑو۔ اب ہمیں پوتے سے باتیں کرنے دو۔ دادا جان نے پوتے کو توقیر سے گود میں لیتے ہوئے کہا۔ جس پر سب نے ایک ساتھ خوشی میں قہقہہ لگایااور شکر بجا لائے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 360 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1115 Articles with 345376 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: