پیغام مدارس کانفرس جہلم

(Abdul Quddus Muhammadi, )

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام پیـغام مدارس کانفرنسوں کا سلسلہ جاری ہے ۔15 جنوری بروز منگل کو اس سلسلے کی عظیم الشان اور فقیدالمثال کانفرنس جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں منعقد ہوئی ۔اپنی نوعیت کی ایک منفرد ،یادگار اور مثالی کانفرنس ……جہلم شہر میں واقع جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام علاقے میں علماء اہل حق کا مرکز ہے ۔یہ ادارہ حضرت مولانا قاضی عبداللطیف جہلمی ؒ کی یاد ہے جسے حضرت علامہ قاضی خبیبؒ نے اپنے خون جگر سے سینچا اور ان دنوں فاضل نوجوان برادر گرامی مولانا ابوبکر صدیق اس ادارے کے انتظام وانصرام کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں ۔چونکہ پیغا م مدارس کانفرنسوں کا انعقاد دینی مدارس کی ضرورت واہمیت اور کردار وخدمات کو اجاگر کرنے کے لیے کیا جارہا ہے اور خود جامعہ حنفیہ کے قیام کی داستان ایسی ایمان افروز اور حیرت انگیز ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں دینی مدارس اور وفاق المدارس کا وجود اﷲ رب العزت کی کتنی بڑی نعمت اور اسلامیان پاکستان کی دینی ضروریا ت کے لیے کس قدر ضروری ہے ۔

یہ 1945 ء کی بات ہے جب حضرت مولانا قاضی عبداللطیف ؒ دارالعلوم دیوبند سے کسب فیض کرکے تشریف لائے۔ آپ نے جہلم شہر کو اپنی خدمات کا مرکز بنایا ۔ماہ رمضان المبارک آیا تو علاقے کے لوگوں نے تراویح میں قران کریم سننے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن اس دور میں حافظ قران ڈھونڈنا بڑا مشکل تھا اور خال خال ہی حفاظ قران اس خطے میں پائے جاتے تھے۔کسی نے بتایا کہ گجرات شہر میں ایک حافظ قرآن ہیں انہیں تراویح کی امامت کے لیے مدعو کیا جاسکتاہے چنانچہ حضرت قاضی صاحب ؒ اپنے دو رفقاء خان یار محمد اور امام دین صاحب مرحوم کو ساتھ لے کر حافظ صاحب کی تلاش میں گجرات جا پہنچے ۔جب ان سے ملے تو اندازہ ہو اکہ ان کی وضع قطع سنت کے مطابق نہیں اور وہ داڑھی کٹواتے ہیں۔ اس پر یہ تینوں حضرات واپس لوٹ آئے اور رمضان المبارک میں تراویح میں قران کریم نہیں سنایا گیا بلکہ آخری پارہ کی سورتیں پڑھنے پر اکتفاء کیا گیا لیکن حضرت قاضی عبدا للطیف صاحب ؒ اور ان کے رفقاء نے سوچا کہ کیوں نہ علاقے کی دینی ضروریات بالخصوص حفاظ قران کریم کا بندوبست کرنے کے لیے اپنی مسجد میں ہی حفظ قران کریم کا مدرسہ قائم کیا جائے چنانچہ انہوں نے مدرسہ کی بنیاد رکھی اور آج الحمدﷲ اس ادارے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام کی 100 سے زائد شاخیں ہیں جن میں 5000 سے زائد طلباء وطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔بنات کا دینی ادارہ الگ ہے جس میں زیر تعلیم طالبات کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہے اور حنفیہ ایلمنٹری سکول کے نام سے دینی وعصری تعلیم کا مستقل ادارہ الگ سے قائم ہے۔ حضرت مولانا قاضی عبداللطیف صاحبؒ ،ان کے صاحبزادے حضرت مولانا قاضی خبیب احمد صاحبؒ اور ان کے صاحبزادے علامہ ابوبکر صدیق صاحب کے تین ادوار میں تین نسلوں پر محیط جہلم اور قرب وجوار میں اس ادارے اور اس ادارے کے منتظمین کی جو خدمات ہیں وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں بلکہ آج جہلم اور گرد ونواح ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر ،اندرون وبیرون ملک اس ادارے کے فیض یافتگان اور ان کی دینی وملی خدمات کی ایک طویل فہرست ہے ۔کہاں وہ دور کہ پورے خطہ جہلم میں کوئی ایک حافظ قران نہیں مل رہا تھا اور کہاں یہ عالم کہ ہزاروں کی تعداد میں حفاظ قران صرف اس ایک ادارے کی وساطت سے امت کو نصب ہوئے…… صرف حفاظ نہیں علماء کرام…… صرف علماء وحفاظ نہیں عالمات وحفاظ بھی……وفاق المدارس کے ناظم قاضی عبدالرشید صاحب اپنے مخصوص انداز میں کیا ہی خوب ارشاد فرمایا کرتے ہیں کہ’’ دینی مدارس اور علماء نے جس کام کا بیڑہ اٹھایا اس میں نہ صرف یہ کہ اپنا فرض ادا کیا بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کوسب سے زیادہ حفاظ تیار کروانے والا ملک ہونے کا اعزاز عطا فرمایا …… ایسی خدمات جس میں کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ،کوئی تعطل نہیں، کوئی بحران نہیں ،کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ لوگوں کو امامت وخطابت اور امور دینیہ کی رہنمائی کے لیے رجال کار نہ ملیں،رمضان المبارک میں قران کریم سنانے کے لیے حفاظ نہ ملیں اور جہلم والے حفاظ تلاش کرنے گجرات جائیں ۔جب کہ حکمرانوں نے جن کاموں کی ذمہ داری لی ان میں لوڈ شیڈنگ ہے ،بحران ہے ،مسائل ہیں ،آٹا ہے تو دالیں نہیں ،دالیں ہیں تو گھی نہیں ،آٹاکبھی ملے تو پکانے کے لیے گیس نہیں ،گیس ملے تو کھاتے وقت بجلی میسر نہیں جبکہ علماء نے جس کام کا بیڑہ اٹھایا اس کا حق ادا کردیا……صرف ایک قاضی عبداللطیف صاحب کی مثال لے لیجیے ایسی لاتعداد مثالیں ہیں …… جہلم میں ہی خادم القران برادرم قاری خالقداد عثمان کی کئی عشروں پر محیط قران اور دینی خدمات ہی ایسی ہیں کہ اس خطے کے باسیوں کے ماتھے کا جھومر ہیں،طالبات کے لیے ہمارے دوست مولانا ثمین الرشید کے والد گرامی مولانا محمد حسین مرحوم نے طویل جدوجہد کے بعد جامعہ امینیہ کے نام سے ایسا عظیم الشان ادارہ قائم کیا کہ اس ادارے کی پر شکوہ عمارت اور اس کے فیوض وبرکات کے بارے میں سن کر انسان حیران رہ جاتا ہے…… ہوش ربا مہنگائی کے اس دور میں ،بے بنیاد پروپیگنڈے کے باوجود ،طعنے سن کر ،گالیاں سہ کر اﷲ کے یہ نیک بندے کیسے دین کی شمعیں روشن کیے بیٹھے ہیں ……جامعہ حنفیہ میں منعقد ہونے والی پیغام مدارس کانفرس اہل علاقہ کے سامنے ان دینی مدارس کی خدمات کو اجا گر کرنے ،مدارس کی ضرورت واہمیت سے آگاہ کرنے ،مدارس سے وابستگی کا پیغام پہنچانے اور معاشرے کی تعلیم وتربیت کے لیے مدارس دینیہ کے کردار پر روشنی ڈالنے کے لیے منعقد ہوئی ـکانفرنس سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ناظم مولانا قاضی عبد الرشید،ترجمان فاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا عبد القدوس محمدی،جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا قاری ظفر اقبال،وفاق المدارس العربیہ پاکستان ضلع جہلم کے شعبہ حفظ کے مسؤل قاری خالقداد عثمان، وفاق المدارس العربیہ پاکستا ن گجرات سے مسؤل مولانا الیاس احمد،مولاناحافظ عبد الرشید کوٹلی، مولانا قاری ضیاء اﷲ ککرالی، مولانا قاری محمد اسحاق ڈومیلی،مولانا قاری عطاء اﷲ طارق،مولانا قاری نورحسین،مولانا غلام جیلانی،مولانا ثمین الرشید، مولانا حافظ حسین احمد مدنی،مولانا عبدالواحداور دیگر سمیت علماء کی بڑی تعداد ،تمام مدارس کے ذمہ داران ،اساتذہ وطلبہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کا تاحد نگاہ مجمع تھا ……برادرم مولانا ابوبکر صدیق اور ان کی ٹیم کا حسن انتظام ……ترجمان اہل حق حضرت مولانا قاضی عبدالرشید صاحب کا جامع ،وقیع اور منفرد خطاب ……برادرم مولانا قاری خالقداد اور دیگر باہمت علماء کرام کی جہد مسلسل نے جہلم کی تاریخ کا ایک شاندار اور یاد گار پروگرام منعقد کروایا جس کے اثرات مدتوں محسوس کیے جاتے رہیں گے اور جس کی برکات سے اہل علاقہ ہمیشہ استفادہ کرتے رہیں گے ……اس پروگرام نے جہلم بھر کے اہل علم کو جمع ہونے،مدارس کے اساتذہ وطلبہ کومل بیٹھنے ،دین کا درد رکھنے والوں کا مورال بلند کرنے کا سامان کیا ……پروگرام کے دوران موجودہ دور میں دینی مدارس کو درپیش مسائل ومشکلات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی بالخصوص مولانا قاضی عبدالرشید صاحب نے حکومتی طرز عمل اور پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ریاست مدینہ میں دینی مدارس بنائے جاتے تھے گرائے نہیں جاتے تھے ،ریاست مدینہ میں بے حیائی نہیں بلکہ عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کا ماحول ہوتا تھا ،ریاست مدینہ میں شراب پر بابندی تھی منشیات اور شراب نوشی کو رواج نہیں دیاجاتا تھا، انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ محض زبانی دعووں سے نہیں بلکہ کردار وعمل سے قائم ہوگی۔ کانفرنس کے آخر میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان ضلع جہلم کے (شعبہ کتب) کے مسؤل اور مہتمم جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام مدنی محلہ جہلم مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک جسم کی مانند ہے اور اسلام اسکی روح ہے ہم نے پہلے بھی ملک اور دین کیلئے قربانیاں دیں آئندہ بھی ان شاء اﷲ دیتے رہیں گے دینی تعلیمات پوری انسانیت کی بقاء اور فلاح کی ضامن ہیں۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اکابر اور مجلس عاملہ کے فیصلے کے مطابق منعقد ہونے والے ان پروگراموں کی وجہ سے الحمداﷲ ملک بھر میں بیداری کی لہر دوڑ گئی ہے اور ملک بھر کے اہل علم عملی طور پر اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ وطن عزیز کو حقیقی طور پر ریاست مدینہ کا نمونہ بنانے والے یہی تعلیمی ادارے اور حضرت قاضی عبدا للطیف جہلمی جیسے اہل علم کے ورثاء ہیں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 242 Print Article Print
About the Author: Abdul Quddus Muhammadi

Read More Articles by Abdul Quddus Muhammadi: 104 Articles with 63040 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: