*غامدی بمقابلہ جامدی*

(Amir jan haqqani, Gilgit)

جناب جاوید احمدی غامدی صاحب کو آج کل جامدیوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔۔۔ ایک طویل عرصے سے متقیان فیس بک اور خودساختہ خدائی فوجداروں کی طرف سے یہ سننے میں آرہا ہے کہ ’’فتنہ غامدیت‘‘ امت یعنی دیوبندیت کو لے ڈوبے گا۔۔۔۔۔۔۔غامدی صاحب کی خوش قسمتی دیکھیں کہ پاکستان بھر میں اس کی مخالفت ایسے لوگ کرتے ہیں جن کو چار علمی جملے لکھنے نہیں آتے۔۔آج تک کوئی علمی شخصیت نے باقاعدہ غامدی صاحب کی تردید یا تنقید پر قلم نہیں اٹھایا۔(تردید یا تنقید سے مراد تحقیقی کتابیں یا مقالےہیں جن میں باقاعدہ تحقیق و دانش کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر کام کیا گیا ہو، فیس بک پوسٹیں، ویب سائٹ اور اخبارات کے مضامین مراد نہیں،)۔البتہ اردو کی چند ناولوں کا مطالعہ کرنے والے نوجوانوں نے رد غامدیت و فتنہ غامدیت پر چند مزاحیہ یا نافیہ مضامین لکھا اور اپنے بڑوں کے نام سے شائع کروایا، افسوس کہ ان بڑوں نے بھی اس کا نوٹس نہیں لیا بلکہ’’ السکوت کالرضاء ‘‘ والا معاملہ فرمایا۔۔ اگر غامدی صاحب واقعی فتنہ بنتا جارہا ہے توبیس ہزار مدارس میں لاکھوں اساتذہ و محدثین ہیں اور ہزاروں مدارس میں دارالتحقیق و التصنیف ہیں، ان میں غامدی صاحب کے افکار و حوادث پر باقاعدہ تحقیق اور مثبت تنقید کا آغاز کیوں نہیں کیا جاتا۔۔۔۔۔۔۔؟پھتیاں کسنے اور مزاحیہ چٹکلوں سے تو علمی تنقید ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔یہ سچ ہے کہ جن جن لوگوں نے رد غامدیت پر لکھا ہے انتہائی کمزور اور غیرجاذب لکھا ہے۔اگر کوئی عام قاری، غامدی صاحب کی کتابیں اور ردغامدیت پر لکھی گئی کتابیں پڑھے گا تو غامدیت کے سحر میں کھوجائے گا۔۔۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ ردغامدیت پر لکھنے والے معمولی لوگ ہیں، بے شک ان مضامین یا کتابوں پر لکھنے والا نام کوئی بھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر غامدیت واقعی کوئی فتنہ ہے تو پھر لاکھوں علماء و مدرسین ان کے افکار کا باقاعدہ تنقیدی جائزہ لینا شروع کریں، اسم جامد کی طرح جمے رہنے سے کام نہیں بنے گا، غامدیت بمقابلہ جامدیت نہیں چلے گی۔۔۔۔۔۔۔۔کم از کم کسی نامورعلمی شخصیت کو کمرکس کر آگے آنا چاہیے۔۔غامدی صاحب کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے مدارس اور نامور علماء کو نہال ہاشمی جیسے لوگوں کو ترجمانی کے لیے آگے کرکے جان چھڑانے کے بجائے خود آگے آنا چاہیے۔۔۔۔۔۔بصورت دیگر ’’فتنہ غامدیت‘‘ فتنہ غامدیت فتنہ غامدیت کا رٹ لگانا فضول ہے۔۔۔۔۔۔اس باب میں خاموشی ہی بہتر حکمت عملی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یاد رہےویسے ہی ڈھونڈورا پیٹنے سے غامدی صاحب کی شخصیت مزید نوجوانوں میں مقبولیت اختیار کرے گی اور آپ پھتیاں کستے رہیں گے۔۔ہمارے اکابر نے تو قادیانیت پر بھی پھبتیاں نہیں کسی بلکہ سنجیدہ علمی تنقید کی ہے۔۔۔اکابر علماٸے دیوبند کا تردیدی اسلوب بہت ہی پیارا اور عادلانہ ہونے کساتھ جاذبانہ بھی ہے۔۔۔۔۔۔تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟
8جون 2017

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 435 Print Article Print
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 264 Articles with 128000 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Reviews & Comments

Language: