عورت کا داغ ہی داغ کیوں

(محمد اطہر طاہر, Haroonabad)
معاشرے میں امن کے قیام کے لیے، عورت کو وہ مقام دیں جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے عطا کیا ہے،

جس طرح ہر مرد شادی کے لیے باحیاء عورت کو پسند کرتا ہے، اسی طرح ہر عورت بھی باحیاء باکردار مرد کو پسند کرتی ہے

جس طرح ہر مرد شادی کے لیے باحیاء، باکردار، اور ایسی عورت کو پسند کرتا ہے جس کا ماضی بے داغ ہو، عین اسی طرح ہر عورت بھی یہی پسند کرتی ہے کہ اس کا جیون ساتھی ایسا ہو کہ اس کا ماضی شیشے کیطرح صاف و شفاف ہو، نیک ہو شرافت کا علمبردار ہو، شرم و حیاء کا پیکر ہو،
لیکن المیہ یہ ہے کہ عورت مرد کے ماضی کا داغ بڑی جلدی معاف کر دیتی ہے،
بلکہ شادی کے بعد بھی شوہر کسی برائی کا ارتکاب کرے، یا اس کی محبت میں کسی غیر کو ناجائیز شریک کرے تو بھی وہ رشتے کو سمیٹنے کی کوشش کرتی ہے، درگزر کر جاتی ہے، اور شاید اس معاشرے میں عورت کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا،
لیکن اس کے برعکس مرد کو عورت کے ماضی کے بارے میں ذرا سا شبہ بھی ہو جائے تو مرتے دم تک معاف نہیں کرتا اور ساری زندگی عورت کی سزائیں ختم نہیں ہوتیں، حالانکہ لعن طعن میں ہمیشہ سے عورت ہی بدنام رہی ہے لیکن یہ مرد بھی لعن طعن کرنے میں کم نہیں ہے، ساری زندگی سزا کو جاری رکھتا ہے، ساری حدیں عبور کرجاتا ہے، ہر انتقامی کارروائی کرنے کو تیار رہتا ہے، اور عورت طلاق کے دھبے سے بچنے کے لیے ساری زندگی اس کا ہر ستم برداشت کرتی ہے، سو سو بار جیتی ہے سو سو بار مرتی ہے، اور جب تک اسکی روح جسم سے پرواز نہیں کر جاتی تب تک اس کی سزا ختم نہیں ہوتی اور یونہی چپ چاپ سب کچھ سہہ جاتی ہے،
عورت کی ایک لاکھ مجبوریاں بیڑیوں کی شکل میں اس کے پاؤں میں پڑی ہوتی ہیں، اولاد کی مجبوریاں، میکے کا بھرم، معاشرے میں مقام، اور اس کے علاوہ سب سے اہم محفوظ چھت، حقوقِ نسواں کے علمبرداروں کے دعوے تو بہت بڑے بڑے ہیں، اور دکھاوا بھی بہت کرتے ہیں، کبھی خواتین کا عالمی دن، کبھی مدرز ڈے، ڈے پر ڈے منائے جا رہے ہیں مگر عورت کے حقوق کی زبوں حالی جوں کی توں،
الغرض نتیجہ یہ نکلتا ہے، عورت کا داغ داغ، چاہے وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو، وہ بہتان ہی کیوں نہ ہو، اور مرد داغدار ہوکر بھی صاف و شفاف، یہ ظلم ہے ناانصافی ہے،
اے قوم کے بیٹو! اگر دل میں خوفِ خدا رکھتے ہو، معاشرے میں امن و سلامتی چاہتے ہو، اور دنیا و آخرت میں اچھا مقام چاہتے ہو، تو انصاف کیا کرو، اپنے اندر ظرف پیدا کرو اور صنفِ نازک جس کو رب العالمین نے تمہاری محکوم بنایا ہے، اس کیساتھ رحم اور درگزر والا معاملہ کیا کرو، اگر اہنے لیے نیک اور پارسا بیوی کو پسند کرتے ہو تو اپنے دامن کو بھی پاک وصاف رکھو، اور انسان ہونے کے ناتے اگر ان سے کوئی خطا ہو جائے تو ان کو معاف کرکے سدھرنے کا موقع دیا کرو، اور اپنے گریبان میں بھی جھانک لیا کرو، اگر تم سے خطا ہوسکتی ہے تو وہ بھی انسان ہیں ان سے بھی خطا ہو سکتی ہے، عورت کا بھی وہی رب ہے جو مرد کا ہے اور وہ بہترین انصاف کرنے والا ہے،
اور اللہ تعالیٰ جو مالکِ کائنات ہے وہ شرک جیسے ظلمِ عظیم کو ایک توبہ پر معاف کر سکتا تو تم تو انسان ہو، ایک انسان کو معاف نہیں کر سکتے؟ تم بھی معاف کرنے کا ظرف رکھو، اور اللہ تعالیٰ معافی کو پسند فرماتا ہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ سے ایک دعا ثابت ہے،
حضرت ﻋﺎﺋﺸﮧ صدیقہ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺐ ﻗﺪﺭ ہے، ﺗﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺩﻋﺎ ﭘﮍﮬﻮﮞ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮩﻮ
ﺍَﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺍِﻧَّﻚَ ﻋَﻔُﻮٌّ ، ﺗُﺤِﺐُّ ﺍﻟْﻌَﻔْﻮَ ﻓَﺎﻋْﻒُ ﻋَﻨِّﻲ ‏( ﺗﺮﻣﺬﯼ ‏)
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ،،
تو ثابت ہوا اللہ تعالی معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے،
مرد ہو یا عورت جو یہ چاہتا کہ اس کا جیون ساتھی نیک ہو اور باکردار ہو، وہ اپنے کردار کو بہتر بنائے، اور دوسرا یہ کہ اس بات پر کامل یقین کے ہم سے ہمارے رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا، حقوق و فرائض کی پوچھ گچھ ہوگی، لہذہ موت کو یاد رکھو اور انصاف کیا کرو،
اور شرعیت کے مطابق اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے اس کو یقینی بنانے کی کوشش کرو، ان کے حقوق دو اور پھر دیکھو زندگی کیسے خوشگوار بنتی ہے اور گھر کیسے جنت بنتا ہے،

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 305 Print Article Print
About the Author: Athar Tahir
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: